پی ٹی آئی ٹائیگرز : اخلاقیات کا شکوہ — سمیع اللہ خان

0
  • 100
    Shares

آپ تحریک انصاف پر الزام لگاتے ہیں کہ ان کے کارکنان بدتمیز ہیں تو یہ نہ عمران خان کا قصور ہے اور نہ ہی تحریک انصاف کا، کیونکہ ہم نوجوانوں کی تحریک انصاف سے وابستگی جمعہ جمعہ آٹھ دن کی بات ہے۔ ہماری تربیت تو ان والدین نے کی ہےجو مسلم لیگ، پیپلز پارٹی یا کسی دوسری جہاندیدہ پارٹی کے ووٹر یا حامی رہے ہیں یا پھر اس معاشرے نے کی ہے جس کو تشکیل دینے میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کا کلیدی کردار رہا ہے۔ فوج کے دست و بازو بھی یہی سیاست دان رہے ہیں۔ عمران خان کی گود تو تیس اکتوبر کو ہری ہوئی ہے، اب ہم شیر خواروں سے کیا گلہ اور کیسا گلہ؟ تحریک انصاف

ہاں ہمیں الطاف بھائی سے گلہ ہے جو زبان وہ استعمال کرتے رہے ہیں۔ ہاں ہمیں گلہ ہے جناب شہباز شریف سے جو علی بابا جیسے افسانوی ہیرو کو چوروں کا سردار کہتے آئے ہیں۔ ہمیں گلہ ہے ان دانشوروں سے جن کی رائے ان کی جیبوں میں تشکیل پاتی ہے۔ ان کالم نگاروں سے جو اپنے ہم پیشہ بھائیوں کو امریکہ، انڈیا اور افغانستان کا ایجنٹ کہتے ہیں۔ ہمیں گلہ ہے ان علماء کرام سے جو انتخابی جنگ کو کفر اور اسلام کی جنگ بنا دیتے ہیں اور زبردستی مسلمان کو یہودی بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک کالم نگار کو لگتا ہے کہ سفیر بننا اُن کا حق ہے اور وہ ہمارے ہی روپوں سے خریدے گئے اخبار میں اپنے حق کے حصول کے لیے اخلاقیات کی ساری حدیں پار کرجاتے ہیں مگر وہ ہماری مذمت کرتے ہیں کہ ہم بدتمیز ہیں۔

ہم آپ ہی کے لگائے گئے درخت کا پھل ہیں۔ بس فرق یہ ہے کہ ہم ٹھیک ہوناچاہتے ہیں مگرآپ کو اپنا آپ ٹھیک نہیں کرنا۔ اور یہی ہے وہ  “سٹیٹس کو” جس کو ہم توڑنا چاہتے ہیں۔

ہمیں شکوہ ہے ان سیاست دانوں، جرنیلوں اور ججز سے جو اپنے حلف کی لاج نہیں رکھتے۔ ہم نے آپ بڑوں کو یہی کرتے دیکھا کہ جہاں فائدہ نظر آیا اپنی رائے بدل دی اور جہاں خطرہ نظر آیا وہاں خاموشی اختیار کرلی۔ آپ ہمیں درس دیتے آئے ہیں کہ الیکشن کے نتائج نہ ماننا غیر جمہوری عمل ہے مگر آپ یہ نہیں کہتے کہ دھاندلی ایک بہت بڑا جرم ہے۔ ہمارے ووٹ اور نوٹ چوری ہوگئے ہیں مگر ہمیں درس دیا جارہا ہے کہ جمہوریت کے وسیع تر مفاد میں اس چوری پر خاموشی اختیار کرلو۔

آپ نے پاکستان بگاڑا اور توجہ ہٹانے کے لیے آپ ہم پر بگاڑ کا الزام دھرتے ہیں۔ مگر ہم آپ ہی کے بگاڑے ہوئے پاکستان کو ٹھیک کرنا چاہتے ہیں۔ آپ کا وطیرہ یہ ہے کہ دیوار پر شیرہ لگا کر مخلوق کو باہم “شیر و شیر” کرکے ایک طرف کھڑے ہو کر اخلاقیات اور تقدیس مشرق کے نوحے پڑھتے ہیں۔ تو جناب اگر ہم آپ ہی جیسے ہیں تو پھر پریشانی کس بات کی ہے؟ ہم آپ ہی کے لگائے گئے درخت کا پھل ہیں۔ بس فرق یہ ہے کہ ہم ٹھیک ہوناچاہتے ہیں مگر آپ کو اپنا آپ ٹھیک نہیں کرنا۔ اور یہی ہے وہ “سٹیٹس کو” جس کو ہم توڑنا چاہتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: