جنسی رجحان اور مذہبی اخلاقیات : ان کی جدوجہد کا احترام کیجیے ۔۔۔۔۔ اطہر وقار

0
  • 26
    Shares

عموماً مسلم معاشروں میں جنسی رجحانات اوراخلاقیات کے بارے میں بات کرنا نہایت الجھا ہوا مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔ کیونکہ اس معاملےمیں، جتنی زیادہ بات واضح انداز سے کرنے کی کوشش کی جائے، اتنی ہی زیادہ الجھن اور دورخہ پن بڑھنے کا اندیشہ رہتا ہے۔ اس متذبذب صورتحال میں، بظاہر عافیت کا راستہ یہی دکھائی دیتا ہے کہ، کچھ نہ سنو، کچھ نہ دیکھو اور کچھ نہ بولو کی ”سنہری پالیسی‘‘ پر عمل پیرا رہا جائے، گویا خاموشی اختیار کی جائے۔ یا پھر ایک خاص سخت گیر رویے پر مبنی اور عکاس، معاشرتی و مذہبی فقہی تعبیر کے تحت جزا و سزا کا فیصلہ کرنے کے سلسلے کو جاری رکھا جائے۔ کیونکہ سہولت بھی تو اسی راستے پر چلنے اور اسی سلسلے کو جاری رکھنے میں ہے۔ لیکن مذکورہ بالا طریقوں سے، انسانی نفسیات پر مبنی، اس مسئلے کے سیاق و سباق پر غور کیے بغیر، جب فیصلہ سنایا جاتا ہے، تو اس کے مثبت سے زیادہ منفی اثرات سامنے آتے ہیں۔ ان اثرات کی نوعیت کو تفصیل کے ساتھ سمجھنے کے لیے ضروری ہے، کہ اس باب میں معروضی انداز سے تحقیق کو فروغ دیا جائے۔ بہر حال اگر معاشرتی رجحانات کے سرسری مطالعے کو بھی سامنے رکھا جائے، جو کہ مسلم معاشرے کی موجودہ جنسی رجحانات و اخلاقیات کو سامنے رکھ کر مرتب کیے گئے ہوں، تو کم از کم، یہ پہلو کھل کر سامنے آتا ہے کہ یہ حکمت عملی اور پالیسی قطعاً ناکام ہو چکی ہے۔

کاش وہ دن لوٹ سکتے، جب نہ تو انٹرنیٹ تھا اور نہ ہی والدین اور اولاد کے مابین فاصلے اس قدر بڑھے ہوئے تھے۔ بڑے بوڑھوں کی دلچسپیاں بھی محدود تھیں اور نوجوانوں کو جدید رجحانات کا علم بھی، بہت عرصے بعد، جا کر ہوتا تھا۔ لیکن جس طرح وقت کے پہیے کو الٹا نہیں گھمایا جا سکتا اور نہ ہی جدید ذرائع مواصلات کی آئے روز بدلتی ہوئی اشکال پر، لمبے عرصے کے لیے قدغنیں لگائی جا سکتیں ہیں، تو پھر آخر کس طرح اس باب میں رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے؟ کیا محض فقہی اور نقلی علوم ان رجحانات کے تحت اٹھنے والے سوالات اور اس سے جڑی مختلف کیفیات کو سمجھنے اور ان کا جواب دینے کے لیے کافی ہیں؟ یا پھر ہمارے لیے ان کے ساتھ ساتھ کچھ اور جدید آلات (مختلف علوم) سے بھی لیس ہونا ضروری ہے؟ کیونکہ ہم یہ اکثر بھول جاتے ہیں کہ انسان کے جنسی رجحانات و ترغیبات کا گہرا تعلق، اُس فرد کی مخصوص نفسیات، اور اُس کے ارد گرد تنے ہوئے ماحول کے ساتھ بھی ہوتا ہے، حتیٰ کہ فلسفے کا درست علم بھی، اس باب میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ سائنس (انسانی حیاتیات) پر مبنی علم کا اپنا کردار ہے۔ کیونکہ اگر ہم اس مسئلے کے حیاتیاتی مبادیات سے ناواقف ہیں، تو ہم اس مسئلے پر ٹھوس رائے قائم نہیں کر سکتے۔ اس طرح اگر ہم فلسفے سے ناواقف ہیں تو ہم آخر کیسے سمجھ سکتے ہیں کہ کسی بھی زیر بحث مسئلے کے بارے میں غور و فکر اور تدبرکرنے کا زیادہ درست، طریقہ کار کیا ہے؟ اور ہم ایسا کیا کریں، کہ ہمارے تعصبات اور عصبیتیں، زیربحث معاملے کے حوالے سے؛ کم از کم جگہ گھیر سکیں۔ اگر ہم علم نفسیات کے بنیادی علم الکلام سے ہی ناواقف ہیں، تو آخر ہم کس طرح ان رجحانات کو ہمدردی، خلوص اور محبت کے ساتھ دیکھ اورسمجھ سکتے ہیں؟ اور کسی شخص کی جنسی اخلاقیات و رجحانات کے بارے میں غیر جذباتی، مدلل اور ٹھوس رائے قائم کر سکتے ہیں؟ اور کسی شخص کی ذہنی کیفیات کو باریک بینی کے ساتھ سمجھ سکتے ہیں؟ آخر آپ کیسے جان سکتے ہیں کہ کمزور لمحوں میں کس حد تک ضبط نفس، بناے رکھنے کا داعیہ، کسی فرد کے اندر موجود ہے؟ اور یہ کہ ضبط نفس کی جدوجہد میں اُس کا اپنا آپ کتنا ہے؟ اور کتنا بیرونی ماحول کا جبر ہے؟

اس لیے، یہ نہایت تکلیف دہ امر ہے کہ سائنس (انسانی حیاتیات)، نفسیات اور فلسفےجیسے بنیادی طبیعی علوم کی غیر موجودگی میں، مسلم معاشرے میں کسی فرد کےجنسی رجحانات اور ترغیبات کو نشانہ بناتے ہوئے بُرا بھلا کہا جاتا ہے۔ اور لعن طعن کے اس سفر کا آغاز ہی، شدید نوعیت کی حتمی سزائوں کے اطلاق کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ اور یہ ایسے ہی ہے، جیسےہم ہر مریض کو آنکھیں بند کر کے ایک ہی دوا دیتے چلے جائیں۔ سر درد کا علاج کینسر کی کیمو تھیراپی کے ذریعے کرنے کی کوشش کریں، یا پھر کینسر کا علاج ڈسپرین کی گولی کے ساتھ کرنے کی کوشش کریں۔

اس تمہید کے بعد، اصل موضوع کی طرف آتے ہوئے، ایسے ہی جنسی رجحان کے بارے میں بات کی جائے گی، جو مسلم معاشرے میں اس قسم کے رد عمل کی بہترین مثال بن سکتا ہے اور بن رہا ہے۔

یہ رجحان، مسلم معاشرے میں کسی فرد کا اپنی ہی جنس/ صنف کے لیے، انتہائی ابتدائی اوائل عمر سے فطری طور پر کشش محسوس کرنا ہے۔ عموماً ایسا ہوتا ہے کہ ایسا فرد، اپنے اس رجحان پر انتہائی شرمندہ، رنجیدہ، آزردہ، اداسی بھرا اور کھویا کھویا سا رہتا ہے، وہ اپنے اس رجحان پر خود ہی اپنے آپ کو دل ہی دل میں لعنت ملامت کرتا رہتا ہے۔ کیونکہ بیشتر حالات میں، وہ اپنے والدین تک پر بھی، اپنی دل کی بات نہیں پہنچا پاتا، دوست کیونکہ اُسی کے ہم عمر ہوتے ہیں اور اس قسم کے صورتحال سے نپٹنے کے حوالے سے غیر تربیت یافتہ ہوتے ہیں۔ اس لیے ایسی صورتحال میں متاثرہ فرد کے دوست کسی قسم کی حوصلہ افزائی کرنے سے قطعاً قاصر نظر آتے ہیں۔ اور نہ ہی اساتذہ اتنے حساس اور باشعور ہوتے ہیں کہ وہ ان ننھی ننھی زخمی روحوں کا نوحہ پڑھ سکیں، جو کہ اُن کے چہروں پر بھی عیاں ہوتا ہے۔ اس جنسی رجحان کا شکار فرد، جب ذرا بڑا ہوتا ہے تو کسی مذہبی عالم کے پاس جانے کی کم ہی ہمت کر پاتا ہے۔ کیونکہ ان معاملات میں دی گئی، فقہی اسلامی سزائوں کے علاوہ، تذکیر، تلقین اور تدبیر کا کوئی پہلو، اُن کی گفتگو سے سامنے نہیں آتا جو ان زخمی روحوں کے زخم مندمل کر سکے۔ گویا وہ کوئی ایسا کندھا نہیں پاتے، جہاں سر رکھ کر وہ دل کا بوجھ، بغیر کسی خوف کے ہلکا کر سکیں۔ یوں وہ مزید ٹوٹ کر رہ جاتے ہیں۔ حالانکہ وہ صرف یہ چاہ رہے ہوتے ہیں کہ اُن کو ہمددردانہ بنیادوں پر سنا جائے، اُنہیں بھی خود کو بہتر بنانے کے مواقع دیئے جائیں، جو عام حالات میں غیر ذمہ دار، آوارہ لڑکوں کو سدھرنے کی مد میں دیے جاتے ہیں۔ ان کے بارے میں کسی سخت حکم کے اطلاق (Judge) کرنے سے پہلے، خود کو اُس جگہ پر رکھا جائے اور پھر ردعمل کا اظہار کیا جائے، یا کم از کم یہی سوچ لیا جائے اور ہمدردانہ رویہ اختیار کر لیا جائے، کہ تمام بیرونی عوامل (تعلیم، خاندان، دوست، جغرافیائی ماحول، ثقافت، تقدیر، جینز (Introvert Personality) اور اُس خاص مخصوص عہد کا جبری ماحول (انٹرنیٹ، گلوبلائزیشن وغیرہ) بھی جنسی رجحانات کی تشکیل میں کردار ادا کر رہے ہیں، یوں اس جبری ماحول کی سزا بھی اُس مخصوص متاثرہ فرد کو نہ دے دی جائے۔

اس لیے، یہ نہایت تکلیف دہ امر ہے کہ سائنس (انسانی حیاتیات)، نفسیات اور فلسفےجیسے بنیادی طبیعی علوم کی غیر موجودگی میں، مسلم معاشرے میں کسی فرد کےجنسی رجحانات اور ترغیبات کو نشانہ بناتے ہوئے بُرا بھلا کہا جاتا ہے۔ اور لعن طعن کے اس سفر کا آغاز ہی، شدید نوعیت کی حتمی سزائوں کے اطلاق کے ساتھ کیا جاتا ہے۔

دوسرے لفظوں میں بیان کیا جائے، تو ان ڈری سہمی، خود سے شرمندہ شرمندہ، لرزی لرزی، حساس روحوں کو اُن کا جائز مقام دیجیے، یہ جو خدا کے خوف میں، ابھی تک ’’Closet‘‘ میں بند ہو کر، اپنے جنسی رجحانات سے لڑ رہے ہیں، ان کی جدوجہد کا احترام کیجیے۔

مغربی ممالک میں ’’Gay Pride Festival‘‘ کے دوران انتہائی نا شائستہ لباس میں گلا پھاڑ پھاڑ کر ’’It is ok to be Gay‘‘ پڑھنے والوں اور مسلم معاشروں میں موجود، ان ڈری سہمی حساس روحوں میں (جو اپنی ہی صنف کی طرف کشش محسوس کرتے ہیں اور رو رو کر سجدوں میں اپنے خدا سے اپنی حالت کو بہتر بنانے کی دعائیں مانگ رہے ہیں) زمین آسمان کا فرق ہے، اس لیے، اُنہیں فوراً مجرم بنا کر ایک کٹہرے میں کھڑا نہ کر دیا کریں کہ، جیسے ہم سب کو حد نافذ کرنے کی جلدی ہو حالانکہ سب جانتے ہیں، اسلامی سزائوں کا نفاذ صرف اُس وقت ہو سکتا ہے، جب کوئی عملاً ایسا کام سر انجام دے۔ محض احساسات، محسوسات اور ڈرے سہمے رجحانات کو قابل تعزیر سزائوں کے بجائے، درست تفہیم، ہمدردی اور بتدریج تربیت سے بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ رویہ انسانی نفسیات، فلسفے اور سائنس کو پڑھے بغیر نہیں سیکھا اور اپنایا جا سکتا۔ اور جس ہمدردی کی بات کی جا رہی ہے، اُس کے لیے بہت بڑا دل چاہیے۔ جب تک کسی صاحب حکمت کا دماغ اور صوفی کا دل، اس مسئلے پرمل کر غور و فکر نہیں کریں گے، زیادہ بہتری کی امید نہیں ہے۔ اور بدقسمتی سے اس قسم کے انتظامات کا شائبہ، بھی مسلم معاشروں میں موجود نہیں ہے۔

ان ڈری سہمی، خود سے شرمندہ شرمندہ، لرزی لرزی، حساس روحوں کو اُن کا جائز مقام دیجیے، یہ جو خدا کے خوف میں، ابھی تک ’’Closet‘‘ میں بند ہو کر، اپنے جنسی رجحانات سے لڑ رہے ہیں، ان کی جدوجہد کا احترام کیجیے۔

علمی دیانتداری سے بھی دیکھا جائے، چند مثالیں یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں کہ ’’Gay Life Style‘‘ ’’گے لائف سٹائل‘‘ کو فخراً اختیار کرنا، ایک انتہائی اقدام ہوتا ہے، جو اس کشمکش میں مبتلا شخص زیادہ تر ردعمل میں، اختیار کرتا ہے، اس سے پہلے بھی بہت سے مراحل ہیں، جنہیں سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔ ذرا سوچئے تو سہی، کہ ایسے افراد کتنی بڑی آزمائش میں ڈال دیئے گئے ہیں۔ اگر ہم کسی Straight شخص کو ایسے مخلوط ماحول، میں کچھ دیرکےلیے مقید کر دیں، جہاں اُن کے پاس اپنی خواہشات (Temptations and Urges) کو پورا کرنے کے آزادانہ مواقع موجود ہوں، اور پھر ہم ان سے مطالبہ کریں کہ وہ ضبط نفس کا مظاہرہ کریں، تو بہت کم ہی ایسے بچیں گے، جو اس آزمائش میں کامیاب رہ سکیں۔ یہ ہمارے سامنے کی بات ہے، عام افراد ایسی صورتحال میں 5منٹ بھی صبر نہیں کر سکتے، کم از کم گھورنے اور چھیڑ چھاڑ کرنے پر تو اتر ہی آتے ہیں۔ فون نمبر مانگنےکی کوشش کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ لیکن ذرا ٹھنڈے دل سے سوچیے؛ ایسے افراد جو اپنی ہی جنس کے لیے کشش محسوس کرتے ہیں، اور جو خود کو ضبط نفس کے ذریعے بہتر انسان بنانے کی کوشش میں بھی مصروف ہیں، انہیں اپنی 24 گھنٹے کی زندگیوں میں کس قدر آزمائش سے گزرنا پڑتا ہو گا۔ ایسے افراد تو کسی اعلیٰ اخلاقی مقصد یا معیار تک پہنچنے کی چاہت میں، ضبط نفس کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ کبھی بھول چوک کی کوئی غلطی، لغزش یا گناہ ہو جائے تو Proud to be Gay، کلچر کی طرف بڑھنے کی بجائے، فوراً توبہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بے تاب ہو کر اپنے رب کی طرف لوٹتے ہیں، آخر اللہ اُن کا بھی تو رب ہے۔ لہٰذا اُن کی جدوجہد کا احترام کیجیے۔ خدا جانے وہ اپنی اس جدوجہد کے نتیجے میں، اختیار کیے گئے ضبط نفس کی بدولت، عام لوگوں سے زیادہ اجر کے مستحق ٹھہراے جائیں۔ ان کا احترام، اس لیے بھی ہم پر واجب ہے کیونکہ ہمارے ایسے بھائی ’’Gay Pride‘‘ پر یقین رکھنے کے بجائے Closet میں رہنے پر فخر کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ ’’Closet‘‘ انہوں نے خود اپنے لیے منتخب نہیں کی ہے۔ اور نہ ہی خود اپنے لیے بنائی ہے۔ لہٰذا اپنی نفرت، غصے، انتقام اور دیگر غیر انسانی جذبات و افعال کے ذریعے سے انہیں ’’Out‘‘ ہونے کی طرف نا دھکیلیں۔ اُن کے لیے ’’Closet‘‘ میں رہتے ہوئے، ان کی زندگی آسان بنائیں، انہیں سمجھیں، خود کو سمجھیں، Closet میں تو Straight بھی ہیں۔ اُنہیں بھی زنا سے بچنے اور اپنی آنکھیں نیچے کرنے کا حکم ہے۔ لیکن کیونکہ زیادہ تر ’’Straight‘‘ اس Closet کو توڑ کر، جب چاہتے ہیں، اپنی نفسانی خواہشات کی تکمیل کر سکتے ہیں، بلکہ اپنی مردانگی ثابت کرنے کے لیے کرتے پھرتے ہیں۔ آخر ہم ان کے بارے میں اتنے حساس کیوں نہیں ہوتے؟ ورنہ گناہ تو دونوں ہیں۔ سزا و جزا کی وعید بھی دونوں کے لیے ہیں۔

جب تک کسی صاحب حکمت کا دماغ اور صوفی کا دل، اس مسئلے پرمل کر غور و فکر نہیں کریں گے، زیادہ بہتری کی امید نہیں ہے۔ اور بدقسمتی سے اس قسم کے انتظامات کا شائبہ، بھی مسلم معاشروں میں موجود نہیں ہے۔

ایسے متاثرہ افراد کی جدوجہد کا احترام اس لیےبھی ضروری ہے، کیونکہ مسلم معاشرے اپنے اسلامی تصور جہاں کے تحت؛ ان سوالات کے شانی و معروضی جوالات تلاش نہیں کر سکے، کہ کچھ افراد میں؛ آخر انتہائی چھوٹی عمر میں، ہم جنس پرستی پر مبنی جذبات و احساسات کیوں پرورش پانے لگ جاتے ہیں؟ اتنی چھوٹی عمر میں کسی طور پر متاثرہ شخص کو قصور وار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ تو ایسی صورتحال میں مذہبی اخلاقیات کا مقدمہ کیا ہے؟ کیونکہ انسان پر اُس کی استطاعت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالا جاتا۔ آخر رحمان و رحیم خود کیوں چاہے گا، کہ انسان کو ایسی آزمائش میں ڈالے، جس میں اُس کے ناکام ہونے کا امکان زیادہ ہو۔

مزید یہ کیا ہم ایسے رجحانات کا موازنہ، کسی ایسے مجرمانہ رجحانات کے ساتھ کر سکتے ہیں، جیسے بعض افراد میں چوری کرنے، قتل کرنے یا زنا کرنے کا زیادہ رجحان پایا جاتا ہے؟ موجودہ مذہبی مقدمہ، اسی قسم کے دلائل پر کھڑا ہے کہ جس طرح ان جرائم کا ارتکاب کرنے والا فرد، فطری رجحان کے باوجود مجرم ہی سمجھا جائے گا، اسی طرح ہم جنس پرستی میں مبتلا شخص بھی فطری رجحان رکھنے کے باوجود، مجرم ہی سمجھا جائے گا۔ گویا رجحانات کے فطری بہاو اور جبریت کی آڑ میں، اُن کے ساتھ سزا و جزا کا معاملہ کرنے میں کوئی رعایت نہیں کی جائے گی۔ لیکن اگراسلامی تربیتی و شعوری ماحول موجود نہ ہو، تو عصر حاضر کے تناظر میں، اسلامی تصور جہاں کے تحت، اس مسئلے کے ساتھ جڑے معاملات میں سرخ لکیر کہاں کھینچی جا سکتی ہے؟ یہ بات تو طے ہے کہ ایسے محسوسات، احساسات اور تصورات کا ذہن میں آنا قابل تعزیر اور قابل گرفت معاملہ نہیں ہے۔

جب اتنے سارے معاملات ادھورے اور حل طلب ہیں، تب تک کیوں نا اپنے ارد گرد ایسے افراد کی زندگیوں کو آسان بنانے کی کوشش کی جائے، کیوں نہ اُن کی جدوجہد کا احترام کیا جائے۔ کیوں نہ، انہیں بہتر انسان بننے میں اُن کی مدد کی جائے۔ کیونکہ اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو مسلم معاشرے میں ایسے افراد کو ہم ’’Out‘‘ اور ’’Gay Pride‘‘ مہمات کی طرف دھکیل دیں گے۔ انہیں باغی بنا دیں گے۔ وہ Closet سے باہر آتے آتے Religion سےبھی باہر آ جائیں گے۔ کیونکہ یہ ہمارے سامنے کی بات ہے، ایسے ٹھکرائے گئے کئی پاکستانی مسلمان، دوسرے ممالک جا کر، پہلےاپنی پہچان Gay کی حیثیت سے کروانے پر، سیاسی پناہ لیتے ہیں، اپنے ہم جنسوں سے شادیاں رچاتے ہیں اور GayPride پر مبنی سیاسی و معاشرتی تحریکوں کا، جوش و خروش سے حصہ بنتے ہیں اور کئی ایک تواسی کان کا نمک بنتےبنتے، مذہب سے بیزار اور لا تعلق بھی ہو جاتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: