سیکولرازم اور لبرل ازم : وقت کی ضرورت؟ داود ظفر ندیم

0
  • 135
    Shares

جو دوست سیکولرازم اور لبرل ازم کے خلاف لکھ رہے ہیں ان کے دلائل سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اسلام کی ایسی سیاسی تعبیر کی وکالت کرتے ہیں جو ایک مخصوص ریاست میں اپنا سیاسی نظام نافذ کرے۔ مگر یہ دوست دنیا بھر میں پھیلے ان مسلمانوں کے بارے سوچنے کی کوشش نہیں کرتے جو ایک مختلف دنیا میں رہتے ہیں۔

دنیا میں براعظم یورپ کے مختلف ممالک، براعظم امریکہ کے مختلف ممالک خصوصا امریکہ اور کینیڈا، براعظم آسٹریلیا کے مختلف ممالک، براعظم ایشیا میں چین، انڈیا، جاپان اور بہت سے چھوٹے بڑے ممالک جہاں مسلمانوں کی ایک کثیر تعداد رہتی ہے۔ ان مسلمانوں کے سامنے سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ ایک تکثیری معاشرے میں مسلمانوں کو کیسے رہنا چاہیئے ان کو سیاسی اور سماج طور پر کیا رویہ اپنانا چاہیئے اور ان کا اکثریت اور دوسری سماجی اور مذہبی اقلیتوں سے کیا رویہ ہونا چاہیئے۔

میں حیران ہوں کہ جو لوگ سیکولرازم اور لبرل ازم کو مکمل طور پر رد کرتے ہیں وہ ان مسلمانوں کے لئے کیا لائن آف ایکشن تجویز کرتے ہیں؟ یہ تو شکر ہے کہ ان ممالک میں ایسے مسلمان سکالر موجود ہیں جو سیکولر اور لبرل جمہوریت کی وکالت کر رہے ہیں اور یہ تقریبا اتفاق ابھر رہا ہے کہ غیر مسلم دنیا میں رہنے والے مسلمانوں کو سیکولر اور لبرل جمہوریت میں اپنا سیاسی کردار ادا کرنا چاہیئے۔

مسئلہ پاکستان میں ہے پاکستان کے علاوہ مختلف مسلم ممالک نے اپنا اپنا کوئی لائحہ عمل تشکیل دیا ہوا ہے۔ ایران اور سعودیہ نے اپنی اپنی فقہی تعبیرات کو بالادست بنایا ہوا ہے۔ ترکی، مصر، بنگلہ دیش، انڈونیشا اور ملائیشیا نے تقریبا سیکولر سیاست کو نافذ کیا ہوا ہے۔

پاکستان میں ہمارے جو دوست سیکولر سیاست کی مخالفت کرتے ہیں وہ سیکولر اصطلاح کے معنی، اس کے پس منظر اور ارتقا پر کافی زوردار بحث کرتے ہیں۔ ان کا موضوع سیکولر سیاست کے موجودہ استعمال کی بجائے اس کا ماضی ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ دوست سیکولر غیر مسلم دنیا سے ایسی مثالیں ڈھونڈ لاتے ہیں جو تعصب اور مذہبی اور نسلی امتیاز پر مبنی ہوتی ہیں مگر کسی بھی ملک میں شدت پسندوں کو موجودگی اور طاقت سے سیکولر ازم کی اہمیت کم نہیں ہوتی۔

ہمارے یہ دوست اس بنیادی سوال کا جواب نہیں دے پاتے کہ سیکولرازم کے متبادل کے طور پر ان کے ذہن میں کیا ماڈل ہے؟ پاکستان میں مختلف اسلامی سیاسی جماعتیں مختلف سیاسی ماڈل کا تذکرہ کرتی ہیں جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہر مذہبی سیاسی جماعت اپنے مسلک یا مذہبی سکالر کی سیاسی و مذہبی تعبیر کو نافذ کرنا چاہتی ہے۔

بعض دوست یہ بھی دلچسپ دلیل دیتے ہیں کہ سیکولر ازم کا مطلب دنیاوی زندگی کو اخروی زندگی پر ترجیح دینا ہے۔ میرے دوست یہ نہیں بتلا پاتے کہ تمام مذہبی احکامات بھی اسی دنیاوی زندگی کے زندہ انسانوں کی اصلاح اور ہدایت کے لئے ہیں ان کے نزدیک بھی یہ دنیاوی زندگی اہم ہے، اخروی زندگی چاہے ابدی اور ہمیشگی والی ہو، وہاں انسان کے پاس اختیار نہیں ہوگا، اختیار اور انتخاب اسی دنیا کی نعمت ہے اور اسی دنیا میں آپ کا عمل یہ فیصلہ کرے گا کہ دوسرے عالم میں منتقلی کے بعد آپ کس طرح کی زندگی گزاریں گے یعنی یہ دنیا اور اس کا عمل بہت زیادہ اہم ہیں اور آپ اس کو نظر انداز نہیں کر سکتے، اگر ایسا ہے جو ہم کو اس دنیا کے سیاسی نظام کے بارے میں تفکر کرنا چاہیئے جیسے انسان سائنسی علوم میں بہتر سے بہتر کے لئے سوچتا رہتا ہے ویسے سماجی علوم میں بھی تفکر کرنا اس کا خاصہ ہے۔

بہرحال اگر آپ یہی چاہتے ہیں کہ قوم خلافت یا جمہوریت میں سے کیا بہتر ہے، کسی مذہبی امتیاز کے بغیر ایک تکثیری معاشرے کا قیام بہتر ہے یا ایک مخصوص مسلکی تعبیر کی بالادستی والا معاشرہ بہتر ہے

وغیرہ قسم کے سوالات میں پھنسی رہے تو آپ کی مرضی ہے مگر میرا موقف یہ ہے کہ اس دور میں مسلمان سکالر کے سامنے سب سے بڑا سوال یہی ہے۔

ایک تکثیری معاشرے میں مسلمانوں کا سیاسی اور سماجی کردار کیا ہونا چاہیئے؟

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: