جمہوریت، سیکولرازم اور الہامی احکام : مجاہد حسین

0
  • 1
    Share

جمہوریت کا سادہ سا مفہوم یہ ہے کہ ایک ملک کے شہری مل کر حکومت تشکیل دیتے ہیں جومعاشرے میں نظم وضبط قائم کرنے کے لئے قوانین مرتب کرتی ہے اور ان کا نفاذ یقینی بناتی ہے۔ کونسا قانون بنانا ہے اور کونسا نہیں بنانا، اس کا فیصلہ اکثریت سے ہوتا ہے البتہ اس کا نفاذ سب پر ہوتا ہے۔ اسی لئے جمہوریت کو بعض لوگ اکثریت کا جبر بھی کہتے ہیں۔ تاہم اپنی خامیوں کے باوجود اس وقت جمہوریت سے بہتر نظام کوئی اور موجود نہیں ہے۔ جمہوریت، سیکولرازم اور الہامی احکام : مجاہد حسین

یہ جمہوریت کی سادہ سی تعریف تھی۔ ہر تصوریا نظریہ کی طرح جمہوریت کو بھی جب گہرائی میں جانچا جاتا ہے تومعاملہ اسقدر سادہ نہیں رہتا اور پیچیدگیاں سامنے آنے لگتی ہیں۔

فرض کریں پاکستانی حکومت نائٹ کلب کو قانوناً جائز قرار دے دیتی ہے تو کیا یہ اکثریت کا فیصلہ ہونے کی وجہ سے جائز قرار پائے گا؟

فرض کریں حکومت قانون کے تحت ہر مرد کے لئے داڑھی لازمی کر دیتی ہے تو کیا عوام کی اکثریت کا فیصلہ ہونے کی وجہ سے اسے دل سے قبول کر لیا جائے گا؟

پہلی مثال پر دائیں بازو کے لوگ اعتراض کریں گے اور دوسری مثال لبرل افراد کے لئے ناپسندیدہ ہوگی۔

حقیقت یہ ہے کہ ہر معاشرے میں جمہوری اصولوں کے تحت قائم ہونے والی حکومت ہر قسم کے قوانین بنانے کے لئے آزاد نہیں ہوتی۔ اس پر کچھ حد بندیاں لازمی عائد ہوتی ہیں۔

پاکستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو ان پابندیوں کے حامیوں کو دو کیٹگریز میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ایک گروہ الہامی احکامات کے تحت ان کا حامی ہے جبکہ دوسرا گروہ فرد کی آزادی کی بنیاد پر پابندیاں لگاتا ہے۔ دونوں ہی جمہوریت کو کھلی اجازت دینے کے قائل نہیں ہیں۔

اگر گہرائی میں جائزہ لیں تو داخلی سطح پر دونوں طبقے مزید تقسیم کا شکار نظر آتے ہیں۔ فرض کریں کل ہماری فوج بھارت کے کسی ایسے قصبے پر قبضہ کر لیتی ہے جہاں ہندوؤں کی اکثریت ہے اور اسے پاکستان کا حصہ قرار دے دیتی ہے تو وہاں رہنے والوں کے بارے میں کیا قوانین بنائے جائیں گے؟ داعش کے حامی ان کے مردوں کو غلام اور عورتوں کو کنیزبنانے کے حامی ہوں گے جبکہ ایک طبقہ ان پر جزیہ نافذ کرنے پر ہی قانع ہوگا۔ تیسرا گروہ انہیں پاکستان کا شہری ہونے کی آزادی دے گا البتہ وہ ملک کے سربراہ نہیں بن سکیں گے۔ الہامی احکامات کے حامیوں میں بھی ایک بڑی داخلی تقسیم موجود ہے۔

اسی طرح لبرل طبقے میں بھی مختلف الخیال افراد موجود ہیں۔ کچھ توہین رسالت کے قانون کو یکسر ختم کرنے کے حق میں ہیں جبکہ دیگراس میں تبدیلیاں لا کریہ بات یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ کوئی بے گناہ اس کی زد میں نہ آئے۔ کچھ لوگ موت کی سزا کے خلاف ہیں اور وہ اس حوالے سے قانون پر تنقید کرتے ہیں۔

جو لوگ سیکولرازم کی حمایت کرتے ہیں، وہ دراصل ریاستی سطح پر مذہبی مداخلت کے خلاف ہیں۔ سیکولرازم کی لغات میں جو بھی تعریف موجود ہو، جب وہ عملی شکل میں معاشرے پر نافذ ہو گا تو ریاستی معاملات کی حد تک لا دینیت کا عنصراس پرغالب ہوگا۔

اسی طرح جو لوگ مذہبی احکامات پر اپنی فکر کی بنیاد رکھتے ہیں، وہ بھی تشریح کرتے ہوئے اپنی عقل کو ہی فیصلہ کن حیثیت دیتے ہیں۔ آخری تجزئے میں یہ افراد کی ذاتی رائے بن جاتی ہے جسے وہ الہامی احکامات قرار دینے پر مصر رہتے ہیں۔

یہ دونوں گروہ نہ جانے کئی دہائیوں سے اپنی رائے کا اظہارکررہے ہیں لیکن مسئلہ جوں کا توں موجود ہے۔ میرے خیال میں اس حوالے سے دو امور ایسے ہیں جنہیں بنیاد بنا کر آگے بڑھا جائے تو مناسب حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔

الہامی احکامات میں سماجی معاملات پر بہت سی گنجائش موجود ہوتی ہے۔ اس لئے قانون سازی کرتے ہوئے دو باتیں ذہن میں رکھنی چاہئیں۔ ایک دور جدید کے تقاضے ہیں جو فرد کی آزادی کو محور بناتے ہیں اوردوسرے ہمارا اپنا تہذیبی تشخص جس میں اسلام کی حیثیت ایک بنیادی عنصرکی سی ہے۔ ان دونوں کے درمیان ایک تخلیقی تطابق پیدا کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ یہ عمل ایک طرح سے جدید دورکی روشنی میں ماضی کی اصلاح کرنے کے مترادف ہے۔ چونکہ ایسا کرنے کے لئے گروہی عصبیت کو خیرباد کہنا پڑتا ہے اس لئے اسلامسٹ اور لبرل اس حل کی طرف نہیں آتے۔ دونوں کی بقا ایک دوسرے کے وجود سے منسلک ہے اس لئے اپنی اپنی بات پر اڑے ہوئے ہیں۔

عصر حاضر کی روح اور ماضی کے ورثے میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی ایک کوشش جاوید احمد غامدی صاحب اور ان کے رفقا کار کر رہے ہیں۔ وہ جن نتائج پر پہنچے ہیں ان پر بھرپور تنقید کی جا سکتی ہے لیکن جس اصول پر ان کی فکر قائم ہے وہ درست ہے۔ جدید و قدیم کا تطابق کوئی آسان کام نہیں بلکہ یہ ایک مسلسل عمل ہے جس میں ہر نسل کو اپنا حصہ ڈالنا پڑتا ہے۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ ٹھہرے پانی میں غامدی صاحب نے پتھر پھینک دیا ہے۔ اب نئی نسل کا کام ہے کہ اسے آگے بڑھائے، جہاں خامی نظر آئے اسے درست کرے اور جو بات بہتر لگے اسے اپنا لے۔

مستقبل میں صرف وہی گروہ کامیاب رہے گا جو اسی اصول کے تحت کام کرے گا۔ باقی تاریخ کی دھول بن کر رہ جائیں گے۔

About Author

مجاہد حسین خٹک کو سچائی کی تلاش بیقرار رکھتی ہے۔ تاریخ اور سماجی علوم میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اعتدال کا تعلق رویوں سے ہے، فکر کی دنیا میں اہمیت صرف تخلیقیت کی ہے۔ اسی لئے ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ مختلف موضوعات کا جائزہ لیتے ہوئے سوچ کے نئے زاوئیے تلاش کئے جائیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: