اسلام کا سیاسی کردار۔ منیر احمد خلیلی

0
  • 14
    Shares

مسلم ممالک سے ہوں یا یورپ اور امریکہ کے، اپنے لبرل خیالات کو اسلام کا تڑکا لگانے کے عادی ہوں یا کھلے لبرل اورسیکولر، کالم نگار ہوں یا مضمون نویس اور مقرر، پولیٹیکل اسلام کی بحث کو دم نہیں لینے دیتے۔ مدتیں گزر گئی ہیں عالمِ اسلام میں کہیں اسلام کی مکمل کارفرمائی نہیں ہے۔ کوئی ایک ملک ایسا نہیں جس کا اجتماعی نظام اسلام کی روشنی میں وضع ہوا ہو۔ اب تو اسلام کا نام لینے والی جماعتیں اور سیاسی شخصیات، غلبۂ اسلام، نفاذِ شریعت اور اسلامی انقلاب کے سارے نعروں کی نمی روایتی سیاست کے صحرانے چوس لی ہے۔ دینی جماعتوں نے سسٹم کے ساتھ جینے کا قرینہ سیکھ لیا ہے۔ مروج نظام میں انہیں جتناحصہ مل جائے وہ اس پر قانع اور خوش ہیں۔ بایں ہمہ ہم دیکھتے ہیں کہ ابتدائی سطور میںجن طبقات کا ذکر ہوا ہے ان کے اعصاب پر سیاسی اسلام یا اسلامی سیاست کا خوف سوار ہے۔ وہ اس کے رد میں اپنے فکری گھوڑوں کو مسلسل دوڑا رہے ہیں۔ مذہب اور مذہبیت سے وابستہ ان کی نفسیاتی الجھن کم نہیں ہوتی۔ اگرچہ اصطلاحاًلفظ مذہب محدود طور پر کسی فقہی مکتبِ فکر یامسلکی نقطۂ نظر کے لیے بولا جاتا ہے۔ زندگی گزارنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتابوں اور انبیاء و رُسُل کی تعلیمات کی صورت میں ہدایت کا جو سرمایہ دیا وہ ’دِین ‘ کے نام پر دیاہے۔

تخلیق آدم کا مقصد
سیکولر اور لبرل ہوں یا لبرل اسلامسٹ حضرات ’مذہبی لوگ‘ اور ’مذہبی طبقہ‘ اور ’مذہب وسیاست‘ جیسے الفاظ ’دِین ‘ کے مترادف کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ وہ سیاست یا عملی زندگی کے دیگر شعبوں میں جس چیز کی مداخلت کی مخالفت کرتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کا دیا ہوایہی دِینِ حق ہے۔ دین و مذہب کے مخالف عناصر کی فکر سے قطعِ نظر ہم اپنے طور پر اس موضوع کا جائزہ لیں تو پہلا سوال یہ ذہن میں آتا ہے کہ کیا اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ آدم ؑ و اولادِ آدمؑ کو پیدا کر کے ان کے معاملات سے بے تعلق ہو گیا تھا یا ان کی زندگی میں بحیثیت خالق اس نے اپنا کوئی کردار برقرار رکھا؟ اگر تو تخلیقِ آدمؑ محض بے مقصد کھیل ہوتا تو مٹی کے اس پتلے کو گوشت پوست کا جیتا جاگتا انسان بنا کر اور اس میں روح پھونک کر جہاں اور جیسا تھا وہیں پھینک دیا جاتا۔ پیدا کرنے والے نے تو اس کارخانۂ قدرت کی کسی بھی چھوٹی بڑی تخلیق کو کھیل تماشے کے لیے پیدا نہیں کیا۔ جنّ و انس جیسی ذمہ دار اور صاحبِ ارادہ و اختیار مخلوقوں کے بارے میں تواس نے دو ٹوک انداز میں فرمایا کہ یہ تخلیق کوئی فضول مشق نہیں ہے۔ فرمایا:وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنَ (الذٰریٰت:56 ) ’میں نے جن اور انسانوں کو اس کے سوا کسی کام کے لیے پیدا نہیں کیا کہ وہ میری بندگی کریں‘۔ یعنی جنوں اور انسانوں کو میں نے اس لیے پیدا کیا کہ ان کی زندگی کی ساری عمارت ہدایت کے اس نقشے پر کھڑی ہو جو میں نے اپنے انبیاء و رُسُل اور اپنی کتابوں میں دیاہے۔ گویا یہ امر طے ہو گیا کہ آدمؑ و بنی آدمؑ کو یہ حق حاصل نہیں کہ اپنی زندگی سے خالِق کو نکال باہر کر دیں اور اپنی زندگی من مانی پر استوار کریں۔

اگر تو تخلیقِ آدم محض بے مقصد کھیل ہوتا تو مٹی کے اس پتلے کو گوشت پوست کا جیتا جاگتا انسان بنا کر اور اس میں روح پھونک کر جہاں اور جیسا تھا وہیں پھینک دیا جاتا۔ پیدا کرنے والے نے تو اس کارخانۂ قدرت کی کسی بھی چھوٹی بڑی تخلیق کو کھیل تماشے کے لیے پیدا نہیں کیا

نیابت آدم کا آفاقی ںصب العین
انسان زمین پر بطورِ خلیفہ یا نائب پیدا کیا گیا۔ اسے مادّی اور دنیاوی زندگی سے تعلق رکھنے والی چیزوں کا عِلم عطا کیا گیا۔ ابلیس کو انسان کے اسی منصبِ خلافت و نیابت سے چڑ پیدا ہوئی اور اس نے انسان کے مستقل حریف کا کردار سنبھال لیا۔ شیطان آدمؑ کو جنّت سے نکوانے میں کامیاب ہو گیا لیکن ہبوطِ آدم ؑ کا مرحلہ آیا تو پھر ایسانہیں ہوا کہ آدم ؑ و اولادِ آدمؑ کو ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا ہو۔ یہ بتا دیا گیا کہ انسان کے دیے گئے اختیار و آزادی ِ عمل کے باوجود اسے یہ بتانے کا سلسلہ جاری رہے گا کہ اللہ کا قانون اور زندگی گزارنے کا اصل طریقہ کیا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوا : قُلْنَا اھْبِطُوْا مِنْھَا جَمِیْعًا ج فَاِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ مِّنِّیْ ھُدًی فَمَنْ تَبِعَ ھُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَ لَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ٭ وَالَّذِ یْنَ کَفَرُوْا وَ کَذَّبُوْا بِاٰیَاتِنَآ اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ج ھُمْ فِیھَا خٰلِدُوْنَ٭ (البقرۃہ َ38) ’ہم نے کہا تم سب یہاں سے اتر جائو۔ پھر میری طرف سے کوئی ہدایت تمہارے پاس پہنچے تو جو لوگ میری اس ہدایت کی پیروی کریں گے، ان کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہ ہو گا، اور جو لوگ قبول کرنے سے انکار کریں گے اور ہماری آیات کو جھٹلائیں گے، وہ آگ میں جانے والے ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ ‘یہاں پھریہ بات کھل کر سامنے آ رہی ہے کہ پیدا کرنے والے کو یہ منظور نہیں کہ انسان کے معاملاتِ زندگی سے وہ خودبے تعلق ہو جائے یا انسان اسے بے دخل کر دے۔ چنانچہ بتا دیا گیااب آدمؑ اور ان کی آنے والی نسلوں کا رہنا بسنا توزمین پر ہو گا لیکن اللہ کی ہدایت کا چشمہ جاری رہے گا۔ حلال و حرام، جائز و ناجائز اور صحیح اور غلط کے تعین میں انسانوں کو ان کے نفس اور اس ابلیس کے سپرد نہیں کردیا جائے گا جس نے ورغلا کرآدمؑ جنّت میں میری ہدایت کی پاسداری سے منحرف کیا اور جنّت سے نکلوایا۔ مفسرین کے نزدیک ھُدًیَ سے مرادآسمانی کتابیں اور انبیاء و رُسُل ہیں اور فَمَنْ تَبِعَ ھُدَایَ کا مطلب مَنْ اٰمَنَ بِی و عمل لِطَاعَطِی یعنی’ جو مجھ پر ایمان لائے گا اوراس کے اعمال میری اطاعت میں ہوں گے۔ ‘ انسان کو پیدا کرنے والے نے جب اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا یہ دیکھنا ضروری ہے کہ قُرآن و حدیث میں عبد، عبدیت اور عبادت جیسی اصطلاحات کتنے وسیع معنوں میں آئی ہیں۔ نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ عبادت کی قولی، فعلی اور مالی صورتیں ہیں جو ایک طرف روحِ بندگی کی ظاہری صورتیں ہیں اور دوسری طرف باطن میں رَب ِ کائنات کی غیر مشروط اطاعت، مکمل بندگی، ہمہ وقتی غلامی اور رضاکارانہ خود سپردگی کے شعورا ور احساس کو توانائی بخشنے کا کام بھی کرتی ہیں۔ یہ احساس و شعور جب قلب و روح کی گہرائی میں راسخ ہو جاتا ہے تو پھر زندگی کے اجتماعی، اخلاقی، عائلی، معاشی، معاشرتی، سیاسی اور عدالتی دائروں کو اللہ تعالیٰ کے احکام و ہدایات کا پابندبنانے کا مرحلہ آتا ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: