مین اسٹریم میڈیا، اخلاقی وعظ اور معاشرہ کا گٹر : عثمان سہیل

1
  • 152
    Shares

یادش بخیر، اخبارات اور ٹی وی چینلز کے ایک بڑے گروپ نے گذشتہ برس سوشل میڈیا کو صحافت کا گٹر قرار دیا تھا۔ اس قول غیر زریں کی سند میرِ صحافت امریکہ سے لائے تھے۔ ازبسکہ امریکہ علوم و فنون سے لیکر سیاست و صحافت یہاں تک کہ ثقافت کا امام دوراں سمجھا جاتا ہے لہٰذا میرموصوف کا قول بھی مسلمہ کلیہ سمجھا گیا۔ ستم ظریفی ہے کہ علی الترتیب سیارہ زہرہ و مریخ پر مقیم ثقہ خواتین و حضرات دانشوروں کو بھی کمتر زمینی مخلوق سے خطاب کے لیے آجکل سوشل میڈیا کے گٹر میں اترنا پڑتا ہے۔

دو روز قبل اسی کامیاب ادارے کے ایک کامیاب نوجوان صحافی نے ایک سیاسی لیڈر کی مبینہ شادی کا ‘ انکشاف’ فرمایا۔ بات یہیں تک محدود رہتی تو کچھ خاص مضائقہ نہیں تھا لیکن اس کے بعد دیس کے نیوز چینلز اور ایک عدد مشرقی روایات  کی ‘ امین و پاسدار’ جماعت کے سرکردہ لوگوں کے ہاتھ  گویا بچوں کی مانند ایک کھلونا آگیا ہے۔ مشرقی روایات کی امین اس جماعت کے رہنماؤں، جن سے آج تک قوم کو کسی سماجی یا معاشی معاملہ ہو یا ملکی و بین الاقوامی مسائل پر پُرمغز گتفتگو سننے کا اتفاق نہیں ہوا، یہاں وہاں اخلاقی وعظ کرتے پائے جارہے ہیں. بعینہ یہی فریضہ اس پارٹی کے سوشل میڈیا پرسرگرم کارکنان مع چند مذہبی پارٹی احباب کے ہمراہ سوشل میڈیا پر سرانجام دیتے پائے جا رہے ہیں۔

اس سماچار سے اس کم علم کو ذیل کی باتیں معلوم پڑیں۔

اول کسی خاتون کے جوان العمر صاحبزادے سے بالاصرار کہنا کہ ہمیں معلوم ہے آپ کی والدہ نے دوسری شادی کر لی ہے عین مشرقی روایات کا خاصہ ہے۔ ہمیں اس سے غرض نہیں ہے کہ ہمارا معلوم (بظاہر) دراصل  قیاس و ظن پر مبنی ہے۔  جس کا دستاویزی ثبوت یا معلوم گواہ اگر کوئی ہے بھی تو اس کا پوشیدہ رکھا جانا کسی نامعلوم “اخلاقی و صحافتی قدر” کی بنا پر لازم ٹھہرتا ہے۔

دوم خاتون کے سابقہ شوہر اپنے منہ سے کہتے رہیں کہ ہماری طلاق کا بعد ازاں آنے والے رشتہ کے پیغام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس کے باوجود ہم اپنی پوری قوت سے سابقہ شوہر کے من گھڑت بیان کا ہی ڈھونڈورا پیٹتے رہیں گے۔ غالبا یہ بھی ضرورت شعری کی طرز کا صحافتی استحقاق ہے۔ ویسے بھی نیک مقاصد کے لیے حکایت کا گھڑ لینا آخر ایک تاریخی روایت ہے۔

سوم کسی شخص کا، کسی خاتون سے بغرض شادی نامہ و پیام ایک غیر اخلاقی نوعیت کا فعل ہے۔ یہاں ہم خود کو زیر بحث معاملہ تک محدود رکھتے ہوئے یہ قیاس آرائی نہیں کریں گے کہ اس موقف کے حاملین کے ہاں شادی کیلیے نامہ و پیام براری کا کیا طریقہ مروج ہے۔  یا یہ کہ ایک پارہ صفت سیاستدان جو ازدواجی رشتے قائم کرنے میں مشاق ہیں ایسے مواقع پر سلسلہ جنبانی (شروعات) کیلیے کیا حیلہ بروئے کار لاتے ہیں۔

چہارم ان ‘صائب الرائے’ خواتین و حضرات کے نزدیک اس معاملہ کے ملکی سیاست اور عوامی مفاد پر گوناگوں اثرات اسقدر ہمہ گیر ہیں کہ ایران و توران اور عرب و عجم میں میں برپا سیاسی بےچینیوں اور قتل و غارت کے معاملات اس کے آگے ہیچ ہیں۔

پنجم یہ کہ سیاسی لیڈر کی گھریلو زندگی کی اطلاعات بہم پہچانے کے لیے کسی غیرسیاسی شخصیت کی ذاتی زندگی کو موضوع گفتگو بنانا مکمل طور پر جائز فعل ہے.

ششم یہ کہ کیا رشتہ بھیجنے کے فوری بعد پریس ریلیز کا اہتمام نہ کیے جانے سے صحافتی حلقوں کی حق تلفی ہوتی؟

آخر میں ایک ضروری بات یہ معلوم ہوئی ہے کہ معاشرہ میں صدق و صفا کو فروغ دینے میں مین اسٹریم میڈیا کا کردار تابناک ہے۔

(اس ترتیب میں تقدیم و تاخیر کسی نقطہ کی فوقیت پر مبنی نہیں ہے)۔

بارے کچھ بیان سوشل میڈیا پر واعظان اخلاق کا ہوجائے۔ جدید علوم کیساتھ مدرسہ کے سند یافتہ ایک ’مبلغ‘  نے حال ہی میں حلالہ کا حل بذریعہ ارتداد پیش کرتے ہوئے ایجاد کی ٹہنی پر فقہ کا ایک نیا پھول کھلایا۔ نہ جانے کیوں کچھ اہل علم اس پران صاحب کے (بجاٰ) درپے ہوئے۔

ہمیں تو لگتا ہے اس میں حسد کا عنصر کارفرما ہے کہ یوں سامنے کی بات ان اہل علم کو کیونکر معلوم نہ ہوسکی۔ صاحبان من، شخصیت مذکور نے بھی آجکل سوشل میڈیا پر ‘ نامعلوم ذرائع’ کے حوالے شادی کے اس قصہ پر مختلف روایات کے ابلاغ کا حق بخوبی ادا کر رہے ہیں۔ انہی نے آجکل سوشل میڈیا پر سرکاری شخصیات کے پریس ریلیز نشر کرنے کا فریضہ بھی رضاکارانہ طور پر اپنے مضبوط شانوں پر سنبھال رکھا ہے. ہمہ جہت و پارہ صفت شخصیت ہیں.

ایک جماعت جس کا رکن ہونا بذات خود صالح ہونے کا ثبوت ہے، کے کچھ سرگرم سوشل میڈیا کارکنان بھی اس بہتے دریا سے مستفید ہونے ہوتے پائے گئے ہیں۔

عرض گذارش ہے کہ سوشل میڈیا نے ہر خاص و عام کو اپنی رائے ظاہر کرنے کا موقع فراہم کیا ہے. چنانچہ یہ بحیثیت مجموعی قوم کے مزاج و مذاق کا عکاس بھی ہے۔ عوام اپنی رائے کا یہاں جو اظہار کرتے ہیں اس کا منبع مین سٹریم میڈیا کی خبریں اور گفتگو کے پروگرام ہی ہیں۔ اوپر پیش کی گئی گذارشات کی روشنی میں ہم یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتے کہ مین اسٹریم میڈیا دراصل معاشرے کا گٹر ہے۔ مین اسٹریم میڈیا، اخلاقی وعظ اور معاشرہ کا گٹر : عثمان سہیل

About Author

عثمان سہیل باقاعدہ تعلیم اور روزگارکے حوالے سے پیشہ و ور منشی ہیں اور گذشتہ دو دہائیوں سے مختلف کاروباری اداروں میں خدمات سر انجام دیتے چلے آرہے ہیں۔ ایک عدد زدہ مضطرب روح جو گاہے اعداد کی کاغذی اقلیم سے باہر بھی آوارہ گردی کرتی رہتی ہے۔دانش کے بانی رکن ہیں۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: