ایمبولینس کو راستہ، دو زندگی کو راستہ دو : شاہانہ جاوید

2
  • 96
    Shares

شہروں میں بڑھتی آبادی اور ٹرانسپورٹ کا متبادل نظام نہ ہونے کی وجہ سے سڑکوں پر گاڑیوں، موٹرسائیکلوں، اور مختلف قسم کے ٹریفک کا ہجوم ہے، جو بے ہنگم طریقے سے چل رہا ہے اور یہ ہجوم بڑھتا ہی جارہا ہے. جس طرف نکل جائیں ادھر گاڑیوں، رکشوں اور ہر قسم کے وہیکل کا اژدہام ہے۔ پہلے صرف صج و شام کے اوقات میں ٹریفک جام ہوتا تھا اب ہر وقت یہ صورتحال دیکھنے کو ملتی ہے۔ ایمبولینس کو راستہ دو 

اس تکلیف دہ صورتحال سے ہر ایک پریشان ہے چند منٹ کی تاخیر گھنٹوں پر محیط ہوجاتی ہے. سڑک پر چلنے کا کوئی قاعدہ یا قانون نظر نہیں آتا. مختلف قسم کی گاڑیوں کا سیلاب بے کراں ہے، جو سڑکوں پر بہہ رہا ہے. رواں دواں اس لیے نہیں کہ ہر دو منٹ بعد ٹریفک جام کا منظر ہوتا ہے. اس سے جہاں آفس، کاروبار پر جانے والے، اسکول جانے والے، پریشان ہیں وہیں سب سے اہم شعبہ حادثات سے متعلق ایمبولینسز اور فائر بریگیڈ بھی تنگ ہیں.

یہ منظر صبح شام دیکھنے کو ملتا ہے کہ ایمبولینس ٹریفک میں پھنسی سائرن بجارہی ہے، اب چاہ کر بھی راستہ دینا مشکل ہوجاتا ہے کیونکہ چاروں طرف چھوٹی بڑی ہر طرح کی گاڑیاں پھنسی ہوتی ہیں، ایسا لگتا ہے ٹریفک کا کوئی قانون ہے یا نہیں،  قانون ہے جناب لیکن عمل درآمد نہیں موٹر بائیک اور رکشہ الٹے ہاتھ پر چلنے چاہیئے، لیکن وہ سیدھے ہاتھ پر ہی چلتے ہیں مزید جہاں کوئی گیپ نظر آیا اس مین گھس جاتے ہیں اور ٹریفک جام کا سبب بنتے ہیں.

جب تک ہم شہری اپنے حقوق و فرائض نہیں پہچانیں گے، کچھ بہتری ممکن نہیں ہے۔

سب سے پہلا سبق ٹریفک کے اصولوں میں سے ہم جو سیکھتے ہیں کہ ایمبولینس اور فائر بریگیڈ کو پہلے راستہ دیں لیکن یہ ہم سے نہیں ہوتا، بے صبری کے نتیجے میں خود بھی پھنستے ہیں اور ایمبولینس کو بھی راستہ نہیں مل  پاتا.  زندگی کی اہمیت کو سمجھیں. حادثات ہر ایک کی زندگی میں ہوسکتے ہیں. کل کو اس ایمبولینس میں ہمارا کوئی پیارا بھی ہوسکتا ہے. سوچیں اس وقت دل پر کیا گزرتی ہے جب خود ایمبولینس میں ہو اور اپنا پیار تڑپ رہا ہو اور ایمبولینس  کو راستہ نہ مل رہا ہو تو دل کرتا ہے کہ ہسپتال اڑ کر پہنچ جائیں یا پھر ان پھنسی گاڑیوں میں غیب سے راستہ مل جائے. اس وقت برا بھلا سب کچھ منھ سے نکل رہا ہوتا ہے، اس لیے جب بھی ایمبولینس دیکھیں راستہ دیں اور رائٹ ٹریک خالی کردیں، یہ ضروری نہیں کہ ایمبولینس خالی ہو اور آپ راستہ نہ دیں کیونکہ ہوسکتا اسے حادثے کی جگہ پہنچنا ہو اور دیر نہ ہو جائے.

جب تک ہم شہری اپنے حقوق و فرائض نہیں پہچانیں گے ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ ٹریفک پولیس کو اپنی ذمہ داری دیانت داری سے ادا کرنی چاہیئے اور سڑکوں پر ٹریفک کے نظام کو بحال رکھنے کے لیے سختی کرنی چاہیئے، یہ نہیں کہ بائیک والے سڑک پر چاروں طرف روڈ پر دندناتے پھر رہے ہیں انھیں ایک  لائین میں الٹے ہاتھ پر رکھیں. جو خلاف ورزی کرے اس کا چالان ہو۔

ایسے ہی ہیوی ٹریفک کا ایک وقت مقرر ہے شہر میں داخلے ہونے کا، لیکن اس کے باوجود وہ بے وقت مصروف شاہراہوں پر چل رہے ہوتے ہیں اور ان کی وجہ سے حادثات اور ٹریفک جام ہوتا ہے. انھیں بھی پابند بنائیں، ایمبولینس کو دیکھتے ہی گاڑیاں سیدھے ہاتھ والا ٹریک خالی کر دیں تب آسانی سے راستہ مل جائے گا. لوگوں میں یہ شعور اجاگر کرنا ضروری ہے کہ خدا کے بندو! ایمبولینس کو راستہ دو تاکہ زندگی بچائی جاسکے، ان جاہلوں کے لیے بھی پیغام ہے، جو ایمبولینس  کو راستہ ملتے ہی اسکے پیچھے بھاگنا شروع کردیتے ہیں، اپنے اپنے تھوڑے سے فائدے کے لیے کہ اس کے ساتھ وہ بھی نکل جائیں گے جس کی وجہ سے دوسرے گاڑی والے بھی ریس لگاتے ہیں اور نتیجہ حادثہ یا پھر ٹریفک جام کی ہی صورت میں نکلتا ہے۔

عوام سے اپیل کی جاتی ہے کہ برائے مہربانی یہ ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ جب بھی روڈ پر ایمبولینس دیکھیں، اسے راستہ دیں تاکہ مریض یا زخمی کی زندگی بچائی جاسکے اور بروقت ہسپتال  پہنچ سکے. اسکولوں میں ایسے تربیتی سیشن رکھیں جائیں تاکہ بچوں کو یہ بات سکھائی جائے اور وہ ایک اچھے شہری بن سکیں. اسی طرح ڈرائیونگ اسکولوں میں یہ بات سکھائی جائے کہ کس طرح ایمبولینس  کو راستہ دینا ہے اور اس سے ریس نہیں لگانی ہے. جو گاڑیاں ایمبولینس کو راستہ نہ دیں انکا موقع پر چالان کیا جائے تاکہ سختی سے قانون پر عمل درآمد کروایا جاسکے.

ایک اور اہم کام جو حکومت کا ہے کہ شہر کی سڑکوں کو بہتر بنائیں تاکہ ٹریفک رواں دواں رہے،  ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کی مرمت کی جائے. پبلک ٹرانسپورٹ میں سے کھٹارا اور خستہ حال ویگنوں کو روڈ پر نہ آنیں دیں بلکہ نئی اور اچھی بسیں چلانے کو یقینی بنائیں تاکہ حادثات نہ ہوں اور عوام کی جان ومال محفوظ رہے. سڑک پر سیدھے ہاتھ پر ایک روڈ بنادی جائے کہ ایمبولینس کے سڑک پر آنے کی صورت میں دیگر ٹریفک وہ راستہ چھوڑ دے اور ایمبولینس  کو راستہ آسانی سے مل جائے۔  بقول حسن نثار “لوگ گاڑیوں میں بیٹھ کر تلاوت سننے میں اتنے محو ہوتے ہیں کہ ایمبولینس کو راستہ نہیں دیتے.” اس لیے مہربانی کرکے ایمبولینس کو راستہ دو زندگی کو راستہ دو. ایمبولینس کو راستہ دو زندگی کو راستہ دو : شاہانہ جاوید

Leave a Reply

2 تبصرے

  1. یہ منظر صبح شام دیکھنے کو ملتا ہے کہ ایمبولینس ٹریفک میں پھنسی سائرن بجارہی ہے، اب چاہ کر بھی راستہ دینا مشکل ہوجاتا ہے کیونکہ چاروں طرف چھوٹی بڑی ہر طرح کی گاڑیاں پھنسی ہوتی ہیں، ایسا لگتا ہے ٹریفک کا کوئی قانون ہے یا نہیں، قانون ہے جناب لیکن عمل درآمد نہیں موٹر بائیک اور رکشہ الٹے ہاتھ پر چلنے چاہیئے، لیکن وہ سیدھے ہاتھ پر ہی چلتے ہیں مزید جہاں کوئی گیپ نظر آیا اس مین گھس جاتے ہیں اور ٹریفک جام کا سبب بنتے ہیں.
    This is the major reason of Ambulance not to reach on time.

Leave A Reply

%d bloggers like this: