امریکہ اور پاکستان ۔۔ چیلنجز اور چینلز : محمد خان قلندر

0
  • 62
    Shares

مادام ہیلری کلنٹن نے اپنے پاکستان کے ایک دورے کے دوران, میڈیا پر سوشل گفتگو میں پاک امریکہ تعلقات کو ساس اور بہو کے باہمی تعلق سے تشبیہ دی تھی۔ ان کی گفتگو کا ماحصل یہ تھا کہ ساس کے بغیر چارہ نہیں، ساس کے ساتھ گزارا نہیں. ظاہر ہے اس میں ساس کا رول امریکہ کا ہے. قیام پاکستان کے فوری بعد امریکہ نے سیٹو اور سینٹو کے ذریعے پاکستان کو اس کی جغرافیائی اور علاقائی اہمیت کی وجہ سے جو گود لیا تھا تو یہ تعلق، نشیب و فراز کے ہچکولے کھاتے، کبھی انتہائی قربت اور کبھی تلخ مناقشت کے باوجود اب تک برقرار ہے. حسب روایت اس ہفتے بھی صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ نے ناراض ساس کے انداز میں پاکستان پر ٹویٹ کے ذریعے سخت چڑھائی کی، جس کی تائید میں بطور خاص امریکی خواتین اہلکاروں نے نندوں کا کردار ادا کیا، ماحول ممکنہ حد تک کشیدہ ہے، پاکستان کی طرف سے میڈیا پر ساس گزیدہ بہو کی طرح جگت بازی جاری ہے.

ماضی میں بھی امریکہ نے 1965 اور 1971 کی پاک بھارت جنگوں میں یہی وطیرہ اختیار کیا تھا، پھر  ایٹمی ٹیکنالوجی کے حصول کی کوشش پر ہنری کیسنجر نے بھٹو مرحوم کو نشان عبرت بنانے کی دھمکی دی تھی، لیکن روس کے افغانستان پرحملے کے بعد دونوں شیر و شکر ہو گئے. اس افغان وار میں پہلی بار امریکہ نے فوجی اور دوسری امداد کا عوضانہ پاکستان کے ہمہ پہلو تعاون سے روس کو افغانستان میں زچ کر کے ہرانے کی صورت میں وصول کیا.

 کورین اور ویت نام کی جنگوں کے بعد عراق، شام، لیبیا میں مہم جوئی، ایران اور شمالی کوریا سے محاذ آرائی کے ساتھ اس وقت افغانستان کی جنگ طوالت اور اخراجات کی وجہ سے امریکی اعصاب پر بوجھ بن چکی ہے، لیکن اسے، اس کا حل نظر نہی آ رہا.

لیکن یہ پد اعتمادی اس وقت ختم ہوئی جب محمدخان جونیجو نے جنرل ضیاء کی مرضی کے بغیر اور خلاف افغانستان سے روسی فوجوں کے انخلاء کا معاہدہ امریکہ کی تائید سے کیا۔ جنرل ضیاء نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار امریکہ کو اعتماد میں لئے بغیر جونیجو کی حکومت اچانک اور سرعت سے ختم کر دی. اور یہاں موجود امریکی ذرائع کو بھی کانوں کان خبر نہ ہونے دی تھی. امریکہ کو پہلی بار ہزیمت اٹھانی پڑی تو ضیاءالحق اپنے درجنوں سینیئر ساتھیوں اور امریکی سفیر سمیت بہاولپور حادثے میں ہلاک ہو گئے. اب پاکستان پر قسط وار پابندیاں لگنی شروع ہوئی، بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں پاکستان نے امریکی دباؤ اور لالچ کو خاطر میں لائے بغیر جب ایٹمی دھماکے کئے، تب امریکہ نے رہا سہا دفاعی اور معاشی تعاون ختم کرکے پاکستان پرپابندیاں بھی لگا دیں.

9/11 کے بعد امریکہ اور اتحادی افواج کی براہ راست افغانستان پر یلغار کے بعد پاک امریکہ تعلقات کا ایک اور پیچیدہ اور پُر پیچ دور شروع ہوا جو تاحال جاری ہے۔ اس سارے عرصے کے دوران دنیا میں طاقت کا توازن بدلتا رہا، سوویت یونین کا غرور ٹوٹنےکے بعد ایک طرف امریکہ واحد سُپر پاور بننے اور رہنے کے لئے اور سابقہ روسی بلاک میں منڈیوں تک رسائی کے لئے نئے حلیف بنانے کی جدوجہد میں رہا. تاہم چین کی ابھرتی ہوئی معیشت، اسے سُپر پاور بننے اور اپنا اثر و رسوخ وسیع کرنے سے روکنے کی سعی بھی جاری ہے.

بھارت کا روس پر انحصار ختم ہونے سے اسے بھی تہہ دام رکھنا اور اسلحہ و دیگر سامان کی منڈی بنانا بھی سر فہرست ہے. روس نے دوبارہ اپنا کھویا ہوا مقام کافی حد تک واپس حاصل کر لیا ہے.  مشرق وسطی میں بدامنی سے فائدہ اٹھانے میں وہ بھی عامل فریق ہے۔ اس سارے انتشار میں امریکہ، سولہ سال کی طویل لڑائی اور اربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود افغانستان میں نہ جنگ جیت پایا اور نہ وہاں کی شورش پر قابو پا سکا۔ اس کے اتحادی کافی تعداد میں وہاں سے واپس جا چکے ہیں. بھارت نے افغانستان میں کافی انوسٹمنٹ کی، تاہم عملی طور پر زمینی کاروائی میں فوج دینے سے قاصر ہے.

گزشتہ الیکشن میں امریکہ میں ایک غیر روایتی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے نے وہاں کے عوام کی سوچ میں بھی انتشار پیدا کر دیا ہے. اب کھلے عام دفاعی اور انٹیلیجنس کے اداروں کے پوشیدہ اور ظاہر اخراجات پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں. دو سو سال سے زائد عرصہ کی اندرونی خانہ جنگی کے بعد بننے والی ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی قومی یگانگت خطرے میں نظر آتی ہے. کورین اور ویت نام کی جنگوں کے بعد عراق، شام، لیبیا میں مہم جوئی، ایران اور شمالی کوریا سے محاذ آرائی کے ساتھ اس وقت افغانستان کی جنگ طوالت اور اخراجات کی وجہ سے امریکی اعصاب پر بوجھ بن چکی ہے، لیکن اس کا حل نظر نہی آ رہا. چوں کہ مریکہ یہ جنگ ہارنا نہی چاہتا لیکن وہ جیتنے سے بھی قاصر ہے چنانچہ اس ناقابل علاج مسئلے کا سارا نزلہ اس میں شامل عضو ضعیف پاکستان پر ہی گرنا ہے.

پاکستان کو افغانستان کے کچھ مسائل تو برطانوی سرکار سے ورثے میں ملے تھے، جیسے ڈیورینڈ لائن اور آزاد قبائلی علاقہ جات میں سرحد کا نہ ہونا و دیگر، باقی مسائل ہماری مقتدر طاقتوں نے خود بھی پیدا کر لئے. تزویراتی گہرائی یا سٹریٹیجک ڈیپتھ کے چکر میں ہم شروع سے مبتلا ہو گئے، دوسرا امریکی کیمپ میں ہونے کی وجہ سے روس کی طرف سے گرم پانیوں تک رسائی کے لئے فرضی جارحیت کا خوف بھی ہمارے اعصاب پر ہمیشہ سوار رہتا.

افغانستان کے برصغیر کے ساتھ زمانہ قدیم سے روابط تھے اور فاتحین بھی کابل و طورخم کے راستے ہی ہندوستان میں داخل ہوتے تھے. تقسیم کے بعد بھارت افغان تعلقات پر ہمیں اعتراض رہنے لگا، اور کابل کی ہر حکومت کا رویہ بھی مخاصمانہ ہوتا تھا، جبکہ افغانستان رسد و رسل کے لئے بھی پاکستان کے زمینی راستے کا محتاج ہے.

ان سب عوامل کے سبب یہاں موجود امریکی افواج پاکستان کی محتاج ہیں، لیکن امریکی اس سے زیادہ تعاون کے طلبگار ہیں. ہم نے بھی یہ تاثر مضبوط کر رکھا ہے کہ امریکی ہماری مدد کے بغیر یہ جنگ جیت نہی سکتے، جواب میں امریکہ یہ تاثر پھیلا رہا ہے کِہ پاکستان ہماری امداد پر ہی چل رہا ہے۔ اور یہ تقاضا کرتا ہے کہ جو جنگ وہ خود نہیں جیت سکتے وہ پاکستان جیت کے ان کی جھولی میں ڈال دے، جبکہ ممکن یہ بھی نہیں ہے. دوسرا اہم ترین اور نازک ترین پہلو یہ ہے کہ امریکن یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں بننے والی یا بدلنے والی ہر حکومت ان کی آشیر باد سے ہو، اور یہ کافی حد تک یہ امکان درست ہوتا بھی ہے.

یہ وہ اصل کمزوری ہے کہ پاکستان کے سارے حکمران فوجی ہوں یا سویلین امریکہ سے سند قبولیت چاہتے ہیں. سو اسلام آباد میں امریکی سفیر، برطانوی راج کے وائسرائے سے زیادہ بااختیار ہوتا ہے. ورنہ ایک ڈیڑھ ارب ڈالر کی سالانہ امداد، امریکہ کے ملکی وسائل میں کوئی نسبت نہیں رکھتی ہے. ہمارے اپنے حکمران وائیٹ ہاؤس کی ایک ملاقات کے لئے اس کاروبار کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں، اور عوام کے لئے امریکہ کا ویزا جنت کا پروانہ ہے، تو ٹرمپ جیسا بندہ بھی اگر امریکہ کا صدر ہے تب پاکستان کی حکومت کو بے نقط سنا سکتا اور جھاڑ پلا سکتا، یا دھمکی دے تو بھی روا ہے.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: