خدائی اصول صرف سادہ انصاف ۔ محمود فیاض

0
  • 148
    Shares

سوشل میڈیا کیا بیچتا ہے؟ ہم جیسے کونوں کھدروں میں دبکے اپنی مصیبتوں میں الجھے کسی کی کیا مدد کر سکتے ہیں؟ کوئی ٹرینڈ، کوئی تحریک لفظوں اور نعروں سے نہیں اٹھتی۔ جانے کتنے مظلوموں کی لاشیں بےحسی کے کنوئیں میں گرتی ہیں اور پانی کی جگہ خون نکلنے لگتا ہے تو انسانیت کی مندی آنکھ ذرا وا ہوتی ہے۔

محمود فیاض

کس ماں کی آہ عرش چیر جاتی ہے، یا کس باپ کی گھٹی سسکی اسکے رومال کے پیچھے سے سیدھی معلیٰ کی راہ لیتی ہے، یہ سب میرے آپکے سمجھنے سے باہر کی بات ہے۔ قبولیت، مقبولیت اور انسانوں کے دلوں کو اپنی انگلیوں میں پھیرنے/پلٹنے والا ایک ہی ہے، ذات باری تعالیٰ، جس کا سارا بھید میں آپ کبھی نہیں پا سکیں گے۔ بس آنسوؤں کا سلیقہ اور درد بانٹنے کا ڈھنگ ہی سیکھ لیں تو ہمارے اردگرد کے انسانوں پر زندگی ذرا قابل برداشت ہو جائے۔

ہوتا یوں ہے کہ بات انسانیت پر ظلم سے شروع ہوتی ہے اور دھیرے دھیرے ہمارے بیچ ہی کچھ شقی القلب انسان طرح طرح کی تاویلیں دینے لگ جاتے ہیں۔ انسانی نفس کا زرا سا بھی تجزیہ ظاہر کردیتا ہے کہ ایسے لوگ محض ایک مختلف بات کر کے اپنے نفس کو پھلانے پر آمادہ ہیں، ان کو نہ مظلوم سے ہمدردی ہے نہ ظالم اور ظلم سے نفرت۔

ہمارے اردگرد ساری دنیا کے دو سو ملکوں میں ہر جگہ صرف ایک ہی اصول نظر آتا ہے، جس سے کسی بھی انسانی زیادتی و ظلم کا ہاتھ روکا جاتا ہے۔ تاریخ میں بھی ہابیل و قابیل کے فیصلے سے لیکر نوشیرواں و ہارون الرشید کی مثالوں سے ہوتے آپ خلفا راشدین کے دور تک آ جائیں تو وہی اصول کارفرما نظر آتا ہے جس سے انسانوں کی بستی محفوظ و مامون نظر آتی ہے۔ اور وہ اصول انصاف، فوری انصاف اور بغیر کسی استثنا کے انصاف کا ہے۔

موجود دنیا میں بھی کسی ملک کے جرائم کے اعدادوشمار اٹھا کر دیکھ لیں، آپ کو ایک ہی نشست میں پتہ چل جائیگا کہ جن ممالک میں قانون و انصاف کی عملداری ہے وہاں جرائم کم ہیں اور انسانیت مسخ کردینے والے ظلم کم ترین۔ اور جن ممالک میں بڑے طبقات قانون و انصاف کو اپنی باندی بنائے بیٹھے ہیں، وہاں جنگل سے بھی برا قانون رائج ہے اور ہر کوئی ظالم ہے ہر کوئی مظلوم۔ انسانیت وہاں سسک رہی ہے۔

ہم یہی ڈھنگ سیکھ لیں کہ مظلوم کی بیٹی کا نعش پڑی ہو تو کونسی بات نہیں کہنی، تو ہم ایک درجہ انسان تو بن ہی جائیں گے۔ اور اگر ہم یہ بھی سمجھ سکیں کہ مظلوم کے ساتھ بلاشرط کھڑے ہونے میں ہی ہماری بقا ہے تو شائد ہم ایک بہتر معاشرے کی طرف دوسرا قدم لے پائیں۔ اور آخر میں اگر ہم وہاں تک پہنچ پائیں کہ بغیر تاویلوں کے صرف اور صرف قانون و انصاف کی حکمرانی کے ایک نکتے پر اکٹھے ہو سکیں تو ہم بھی دنیا کے باقی صحتمند انسانی معاشروں کی طرح جینے لگیں گے۔

کیا ہم یہ نہیں کر سکتے کہ اپنی صفوں سے ایسے لوگوں کو بازو پکڑ کر اٹھا دیں جو صف ماتم پر مظلوم ہی پر برسنے لگتے ہیں اور اپنی غیر انسانی فطرت کا اظہار اپنے ایسے تجزیوں میں کرتے ہیں کہ مظلوم سوائے مزید آنسو بہانے کے کچھ نہیں کر پاتا۔ کیا ایسے دریدہ دہن لوگوں کو ، جن کو محفل سوگ میں اپنی تجزیاتی غلاظت بکھیرنے کی لت ہوتی ہے، انکے دوست احباب سمجھا نہیں سکتے کہ یہ انسانی معاشرے میں رہنے والا رویہ ہرگز نہیں۔

اگر ہم اس فسادی کو اپنے بیچ سے نکال دیں جو انصاف کی فراہمی کو کسی دوسرے رویے سے جوڑتا ہے، تو شائد ہم انصاف کو اپنے معاشرے میں رائج کر پائیں۔

اگر ہم یہ بھی نہیں کر سکتے تو کم از کم ایسے لوگوں سے اظہار برات ہی کردیں۔ چہ جائیکہ ہم میں سے بہت سے ایسی بے وقت راگنی کو نہ صرف سنیں بلکہ اپنے اصل مقصد یعنی مظلوم کی داد رسی سے ہی کنارہ کشی کر لیں۔

کیا ہم قانون و انصاف کی حکمرانی پر یکسو نہیں ہو سکتے؟ جو خدائی اصول پوری دنیا پر حکمرانی کر رہا ہے ہمیں اس سے بھٹکانے والے کیسے ہمارے رہنما ہو سکتے ہیں؟ اور خدائی اصول سادہ ہوتے ہیں۔ کشش ثقل ایک سادہ اصول ہے۔ چیزیں زمین پر گرتی ہیں۔ پانی نشیب کو بہتا ہے۔ یہ کہیں نہیں ہوتا کہ فلاں پانی نشیب اور فلاں پانی فراز کو جائیگا۔ نہ ہی کچھ چیزیں نیچے کو اور کچھ چیزیں اوپر کو گرتی یا اٹھتی ہیں۔ سادہ اصول کا سادہ اطلاق ہی زندگی ہے۔ انصاف بھی ایک ایسا ہی سادہ اصول ہے۔

ایک مظلوم کی آبرو ریزی کی جاتی ہے تو انصاف کا تقاضا سادہ ہے۔ ظالم کو سزا اور شدید سزا جو معاشرے میں چھائے خوف کو دور کر دے۔ مظلوم نے کس رنگ کا لباس پہنا تھا، وہ کس راستے سے جا رہی تھی؟ ظالم نے اس شام ٹی وی پر کونسا پروگرام دیکھا تھا؟ ظالم کے محلے میں کس فرقے کی مسجد ہے؟ ان سارے سوالوں کا تعلق انصاف سے ہرگز نہیں ہے۔

واپس دنیا میں چلتے ہیں۔ ایک معاشرے میں عورتیں سر سے پاؤں تک ڈھکی ہوئی ہیں، مگر وہاں اگر انصاف نہیں تو وہ ڈھکی ہوئی عورتوں کی عزت بھی محفوظ نہیں۔ اور ایک معاشرے میں بے حیائی بھی عام ہے، اور لہو و لعب کے دیگر کارخانے بھی کھلے ہوئے ہیں۔ مگر قانون کے ہاتھ سب کے لیے سخت ہیں۔ وہاں کمزور اور مظلوم بھی آسانی سے زندہ ہیں۔ سر ڈھانپنے والی بھی اور ادھ ننگی بھی۔ تو حساب کے قاعدے سے استخراج کا عمل بھی کیا جائے تو معلوم ہو جاے گا کہ اصول انصاف کی فراہمی ہے، جس معاشرے میں بھی انصاف کا چلن ہو جائیگا۔ قانون کی بالادستی ہو جائیگی، ظلم رک جائیگا۔

اب یہاں رک کر ایک سوال کر لیں۔ جب ہم پر ظلم کی انتہا ہو جاتی ہے۔ جب ہماری بیٹیوں کی چادریں تار تار ہوتے ہوتے دیکھ کر عرش کانپ جاتا ہے اور انسانیت کی بچی کھچی رمق کے ساتھ ہم صف ماتم میں ایک جیسے دکھ کے ساتھ کھڑے ہو ہی جاتے ہیں تو یہ کون لوگ ہیں جو ادھر ادھر کی بات کر کے ہمیں تقسیم کر دیتے ہیں؟ یہ کون ہیں جو ہمیں اس ایک اصول پر اکٹھا نہیں ہونے دیتے جو باقی ساری دنیا میں چل رہا ہے؟ جو تاریخ میں ایسے ہی موجود رہا ہے۔ اور جو خدائی اصولوں میں ایک بڑا اصول ہے، کہ معاشرے کفر پر قائم رہ سکتے ہیں بے انصافی پر نہیں۔

اگر ہم ایسے لوگوں اور رویوں کو پہچان سکیں تو شائد ہم اگلے سانحے سے بچ پائیں۔ اگر ہم اس فسادی کو اپنے بیچ سے نکال دیں جو انصاف کی فراہمی کو کسی دوسرے رویے سے جوڑتا ہے، تو شائد ہم انصاف کو اپنے معاشرے میں رائج کر پائیں۔ اگر ہم سب مل کر قانون و انصاف کی عملداری کرنے والے اداروں کے لیے کوشش کریں اور اس کوشش کو کسی سیاسی مذہبی یا لسانی ایجنڈے سے پاک رکھیں۔ تو شائد ہم کامیاب ہو سکیں۔ ناکام تو ہم ہیں ہی۔

About Author

محمودفیاض بلاگر اور ناول نگار ہیں۔ انکے موضوعات محبت ، زندگی اور نوجوانوں کے مسائل کا احاطہ کرتے ہیں۔ آجکل ایک ناول اور نوجوانوں کے لیے ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اپنی تحریروں میں میں محبت، اعتدال، اور تفکر کی تبلیغ کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: