​رہنمائی سے رونمائی تک – محمودفیاضؔ

1
  • 147
    Shares

افواہ ہے یا حقیقت، مگر عمران خان دنیا کا وہ پہلا حقیقت پسند مرد ہوگا جو پہلے سے ہی بیوی کی ہر بات مانتا چلا آتا ہے۔ میرا خیال ہے اگر پی ٹی آئی کی حکومت آئے تو پہلا بل اسی بات پر پاس ہونا چاہیے کہ ہر مرد شادی سے کچھ عرصہ پہلے اپنے ہونے والی دلہن کی مریدی کرے اور اس سے روحانی رہنمائی لیتا رہے۔ تاکہ اس کو بیوی کی ہربات پر سر جھکا کر عمل کرنے کی عادت ہو جائے۔ رہنمائی سے رونمائی تک

محمود فیاض

جہاں تک عمران خان سے متعلق اس خبر کا تعلق ہے تو پاکستانیوں کے لیے تین جملے اب کوئی سرپرائز کی حیثیت نہیں رکھتے، ایک “میرے عزیز ہم وطنو” ، دوسرا “حضور یہ ہیں وہ ذرائع” اور تیسرا “عمران خان نے پھر شادی کر لی”۔ میری عمر کے لوگ جنہوں نے عمران خان کے کرکٹ کیرئیر سے اس کو فالو کیا ہے، اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ جب سے یہ بندہ دلہا بننے لائق ہوا ہے، دنیا میں شادی کے حوالے سے ایک غیر یقینی کی صورتحال بنی ہوئی ہے۔ عمران خان کی جوانی اور کرکٹ کے عروج کے زمانے میں کونسی مشہور عورت نہیں جس سے عمران خان کی شادی کی افواہ نہیں چلائی گئی۔

ہماری ماضی کی مشہور گلوکارہ جنہوں نے بعد ازاں ایک صحافی پر “اکتفا” کر لیا، کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ صرف اور صرف عمران خان کے لیے اتنی دیر سے کنواری بیٹھی ہیں۔ ناہید اختر اس وقت کسی محفل میں لائیو گانے جاتیں تو گانے کی فرمائش سے زیادہ عمران خان کے نام کے آوازے لگتے ہیں اور وہ بھی گلال (شرم سے گلال، بےشرمی سے گلالئی نہیں) ہو ہو جاتیں، اور گاہے سر بہک بہک جاتے۔ مگر عمران خان کی “نامردم شناسی” آڑے آئی اور اسکو گھر بیٹھے اتنا اچھا رشتہ گوارا نہ ہوا۔

اللہ بخشے محترمہ بینظیر کے لیے جب ان کے بڑے مناسب جوڑ تلاش کر رہے تھے تو میرے جیسے بہت سے عوام کی دلی خواہش تھی کہ انکی نظر انتخاب عمران خان پر پڑے، اور اگر ایسا ہو جاتا تو شائد پاکستان کی تاریخ آج مختلف ہوتی۔ خیر تاریخ تو آصف زرداری سے شادی کر کے بھی پاکستان کی بدلی ہی گئی، یہ الگ بات کے زرداری صاحب کو گیارہ سال تک تاریخیں بھگتنا پڑیں اور بیچاری محترمہ عدالتوں میں دھکے کھاتیں رہیں اور اسکو محض سیاسی انتقام ہی سمجھتیں رہیں۔ آکسفورڈ کی پڑھی، اور بھٹو کی لاڈوں پلی بیٹی کبھی سمجھ نہ سکی کہ کچھ قصور اس کے “میاں مٹھو” کا بھی ہے جس کو چوری کی چوری کھانے کا چسکہ لگ چکا ہے۔ خیر بات عمران تک رہے تو بہتر ہے، اس جملہ معترضہ کو نظر انداز کر دیں۔

نہ صرف ملک میں بلکہ بیرون ممالک جہاں جہاں خان نے اپنے بلے کے جوہر دکھائے وہیں وہیں خوبصورت ماڈلز کی بیلز بھی اڑتی رہیں۔ کرکٹ میں تو خان اپنے بالز سے مخالفین کو کلین بولڈ کرتا تھا مگر لندن کی ایلیٹ کلاس میں خواتین خود بولڈ ہونے کے لیے خان کو کلین چٹ پیش کرتیں تھیں۔ مگر جس طرح عمران خان نے اپنے کرکٹ کیرئیر میں کبھی دھوکے بازی نہیں کی اور ہمیشہ فئیر گیم پلے کا مظاہرہ کیا، بالکل اسی طرح ان تمام افئیرز میں بھی خان صرف اور صرف وقتی دوستی تک محدود رہا اور کبھی کسی ماڈل کا یہ دعویٰ سامنے نہ آیا کہ خان نے اس سے شادی کا وعدہ کرکے اس کی “معصومیت” کا ناجائز فائدہ اٹھایا ہے۔ یہ لوگ مغربی تہذیب سے زرا بھی واقفیت رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ اس کو “جینٹل مین” ہونا سمجھا جاتا ہے۔ اس کے باوجود کئی ایسی خواتین تھیں جو خان کا مزاج جاننے کے باوجود اس بات کی شدید خواہش رکھتیں تھیں کہ کاش وہ چاند اس کے آنگن ہی کا ہو کر رہ جائے۔

بالاخر قرعہ جمائما خان کے نام پر نکلا اور یہ آج تک تقریباً راز ہی ہے کہ جمائما کی کونسی بات نے عمران خان کو اس حد تک متاثر کردیا کہ اس نے سب کو چھوڑ کر اس کے ساتھ دو بول بلا لیے۔ شہزادی ڈیانا کی سفارش اتنی تو نہ تھی کہ ازلی بھنورہ اپنے پر کاٹ کر پھینک دیتا۔ شائد اس وقت تک پلے بوائے مذہب کی طرف مائل ہو چکا تھا، شائد فورٹیز کی میچورٹی نے آخری اوور میں بلے باز کو احتیاط سے کھیلنے پر مجبور کردیا ہو۔ کچھ لوگ جمائما کی بے تحاشا دولت اور گولڈسمتھ خاندان کی شاہانہ رہداریوں میں شان و شوکت کو بھی ایک وجہ سمجھتے تھے، مگر گزرے ماضی نے ان تمام باتوں کی نفی کردی، عمران خان کو دنیا میں کسی بات سے مرعوب نہیں کیا جاسکتا، یہ بات طے ہو چکی۔

جمائما سے شادی ہی عمران خان کی اصلی تے وڈی شادی تھی۔ اس شادی کی گلک میں سارے سکے جمائما خان کے تھے، خان نے سوائے اپنی مشہور زمانہ مسکراہٹ کے علاوہ اس رشتے میں کچھ نہ ڈالا۔ جمائما نہ مذہب، کلچر، ملک، اور اپنے خاوند کے مستقبل کے تمام منصوبوں کو اپنا کر اپنی نفی کردی۔ یہی بنیادی وجہ رہی جس کی وجہ سے یہ شادی چلتی رہی اور آج عمران خان کی اگلی نسل کی رکھوالی اسی جمائما کے زمہ ہے۔ جمائما نے اپنا رشتہ پوری شدت اور وارفتگی سے نبھایا اور شادی کے غیر رسمی معاہدے کے مطابق عمران خان کو پانچ کی بجائے نو سال دیے سیاست میں کامیاب ہونے کے لیے۔ یہ جمائما کی قربانی تھی۔ اور عمران خان کی قربانی یہ تھی کہ اس نے اپنے خاندان کے ٹوٹنے کی قیمت پر پاکستان میں اپنی سیاست جاری رکھی۔ وہ سیاست جس میں اس کو ہر لمحہ الزامات کی سولی پر رکھنا تھا اور ایک پہاڑ جیسی جدوجہد اسکی منتظر تھی۔

شادی کے حوالے سے عمران خان کی زندگی میں خلا کو ہر طرف سے محسوس کیا جاتا رہا۔ خاصی طور پر گلالئی قبیلے کی ایک خاتون کے دل میں اسکا درد بہت زوروں سے اٹھتا رہا اور اس نے ایک پارٹی میٹنگ میں عمران خان سے پوچھ ہی لیا کہ اگر وہ وزیراعظم بن گئے تو خاتون اول کون ہوگی۔

یہاں تک تو ٹھیک تھا، مگر شادی کے حوالے سے عمران خان کی زندگی میں خلا کو ہر طرف سے محسوس کیا جاتا رہا۔ خاصی طور پر گلالئی قبیلے کی ایک خاتون کے دل میں اسکا درد بہت زوروں سے اٹھتا رہا اور اس نے ایک پارٹی میٹنگ میں عمران خان سے پوچھ ہی لیا کہ اگر وہ وزیراعظم بن گئے تو خاتون اول کون ہوگی۔ عمران خان نے اس کا جواب کچھ یوں دیا کہ اس خاتون کو بھی اس ممکنہ لسٹ میں رکھ لیا جن کو اس “عہدے” کے لیے وقت آنے پر منتخب کیا جا سکتا تھا۔

اس حوالے سے کچھ غیر رسمی بات چیت بھی ہوتی رہی جس کو گلالئی چار سال تک اچھے پیغامات سمجھتی رہی۔ مگر پانچویں سال کی کی ایک صبح جب عمران خان نے گلالئی کو اس کی ہزار کوششوں کے باوجود ایک حلقے کی ٹکٹ سے انکار کر دیا تو گلالئی کو ان میسیجز سے سخت بدبو آنے لگی۔ بجائے اسکے کہ وہ ان گلے سڑے بدبودار پیغامات کو فلش کر دیتی، وزیرستان کی “مخصوص غیرت” کی خودساختہ علمبرار نے ان گندے پیغامات کی بدبو کو پورے ملک میں پھیلا دیا۔ اسکی خواہش تھی کے ان پیغامات کی بدبو سے لوگ عمران خان سے گھن کھانے لگیں، مگر وہ یہ بھول گئی کہ جب عمران نے پیغام بھیجے تھے تو وہ تازہ تھے، بدبو تو وہ ان چار سالوں میں اسکے موبائل کے خودغرضانہ انباکس میں رہ کر دینے لگے تھے۔ تو الٹا لوگ گلالئی سے گھن کھانے لگے۔ ویسے بھی کوئی بھی ایسا پیغام کسی لالچ کے تحت بہت دیر تک سنبھال کر رکھا جائے تو وہ بدبو دینے لگتا ہے۔ یہ بات گلالئی کو ابھی بھی پتہ نہیں ہے۔

دھرنے کے ایک سو دن کنٹینر پر رہنے کے دوران خانصاب کی ملاقات ایک ایسی خاتون سے ہوئی جس کے بارے میں انکے جذبات کسی زمانے میں زیر و زبر ہو چکے تھے۔ انسانی فطرت ہے کہ اپنی جوانی کے زمانے کی ہیروئن ہی خوبصورت لگتی ہے اور اسی کے پرانے گانوں پر دل دھڑکتا ہے۔ شائد ایسا ہی کوئی لمحہ تھا جب کینٹینر پر ریحام خان نے انٹرویو کے لیے خان صاحب سے وقت مانگا۔ یہ ہم سب جانتے ہیں کہ کم نیند ، مسلسل تھکن اور گھر سے باہر کی بے آرامی سے انسان کی صلاحتیں ماند پڑ جاتی ہیں۔ اور پھر کینٹینر اتنا ساؤنڈ پروف بھی نہیں تھا جس کی وجہ سے ڈی جے بٹ کے ووفرز کی دھمک اور اسپیکروں کا شور بھی رک نہیں پاتا تھا۔ اور کان پڑی سنائی نہ دیتی تھی۔ اب اس میں خان صاحب کا کیا قصور کہ جب ریہام خان نے ان سے انٹرویو مانگا اور وہ دل دے بیٹھے۔ ایسے شورشرابے میں ایسی غلط فہمیاں ہو ہی جاتی ہیں۔

مگر ریہام خان جمائمہ نہیں تھی، جو خان کی کرشماتی شخصیت کی اسیر ہو کر دل دے بیٹھی ہو، بلکہ وہ ایک سمجھدار خاتون تھی جس کو پتہ تھا کہ رفتہ رفتہ کس طرح شوہر کو تابعدار پپی بنانا ہے۔ اس بات کا اشارہ ریہام خان ایک دن جیو کے ساتھ میں دے چکی ہیں کہ وہ شوہر کو بھی ایسا بچہ ہی سمجھتی ہے جس کو سدھارنے کی اشد ضرورت رہتی ہے۔ مگر خان اس مٹی کا بنا ہوا نہیں کہ جس کو جب مرضی بھگو کر اپنی مرضی کا بت بنا لیا جائے، وہ تو ساری زندگی حسن کے پانیوں میں ڈوب کر بھی اپنے خدوخال نہیں کھویا تھا، اور اسکی مٹی نے گھلنے سے انکار کر دیا تھا۔ اور پھر جمائما خان کی زاتی اور خاندانی جاہ و حشمت بھی اس کو مٹی کا مادھو نہ بنا سکی، تو ریہام خان کس کھیت کی مولی تھی۔ سو ایک صبح عمران خان نے اس مولی کو پراٹھے میں ڈالا، اور علیحدگی کے توے پر پکا کر کھا گیا۔ مگر مولی پوری طرح ہضم نہیں ہوئی، سنا ہے اب بھی عمران خان کو برے برے ڈکار آتے رہتے ہیں۔ اللہ ایسی مولیوں سے محفوظ رکھے۔

ریہام خان سے علیحدگی کے بعد یہ واضح ہو گیا کہ عمران خان مزید شادیوں کا خواہشمند ہیں۔ اگرچہ سیاست کی مصروفیات اسکو ایسا کرنے کا کوئی موقع فراہم نہیں کرتیں، مگر اس کے متعدد انٹرویو ایسے ہیں جس میں وہ شادی کے نام پر اب مختلف مسکراہٹ دیا کرتا تھا۔ اگر آپ فرق جاننا چاہیں تو جوانی کے زمانے میں معین اختر کے پروگرام میں شادی کے سوال پر عمران خان کی مسکراہٹ کو دیکھیں اور پھر حال ہی میں اینکرز کے شادی کے سوالات پر عمران خان کی مسکراہٹ سے موازنہ کریں۔ اول الذکر مسکراہٹ کہتی ہے کہ یہ اچھی ہے ، مگر میرا ارادہ نہیں ہے، اور آخرالذکر مسکراہٹ کہتی ہے، یہ بھی اچھی تھی، اور اگلی کا ارادہ بھی ہے۔​ رہنمائی سے رونمائی تک – محمودفیاضؔ

موجودہ افواہ جو عمران خان کی اپنی ہی روحانی رہنما سے شادی سے متعلق ہے، کچھ عرصہ پہلے بھی میڈیا پر آ چکی ہے۔ جس کا بدخواہ یہ مطلب بھی لے سکتے ہیں کہ دال میں کچھ نہ کچھ تو کالا ضرور ہے۔ مگر خیر خواہ بھی اب سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ ؎ جس کو ہو جان و دل عزیز انکی گلی میں جائے کیوں ، والا معاملہ تو نہیں ہے۔ اگر افواہیں باربار سامنے آرہی ہیں اور دال صاف ہے تو ایسی روحانی رہنما سے کچھ عرصے کی دوری اختیار کی جاسکتی ہے۔

دوسری صورت میں اگر یہ افواہ سچی ہے اور بالاخر کسی بھی روز عمران خان دوبارہ ٹی وی پر آ کر بتانے والے ہیں کہ انہوں نے یہ شادی کن مجبوریوں کے تحت کی تو میرا خیال ہے وہ خود اپنے مداحین کو ایک مشکل میں ڈالنے والے ہیں۔ اگر عمران خان نے شادی کرنا ہے تو یہ انکا جائز حق ہے۔ مگر اس کو اس طرح افواہوں کی زد میں لانا، چھپاتے چھپاتے بتانا، بتاتے بتاتے چھپانا اسی جائز حق پر لاتعداد سوال کھڑے کر دے گا۔ سب سے بڑا سوال یہی ہوگا کہ کیا ہم ایک جائز اور مناسب بات کو بھی مناسب انداز میں کرنے کے اہل نہیں ہیں۔ کیا عمران خان کی ہر شادی اسی طرح افواہوں، تردیدوں، اور پھر پریس کانفرنسوں کے شور میں ہوگی۔ آئیے اگلے دنوں میں اس کی عملی شکل دیکھتے ہیں۔ تب تک آپ میڈیا پر جاری ٹرینڈ میں پیر و مرید کے رشتوں پر ون لائنرز کا لطف اٹھائیے۔ ​رہنمائی سے رونمائی تک – محمودفیاضؔ

About Author

محمودفیاض بلاگر اور ناول نگار ہیں۔ انکے موضوعات محبت ، زندگی اور نوجوانوں کے مسائل کا احاطہ کرتے ہیں۔ آجکل ایک ناول اور نوجوانوں کے لیے ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اپنی تحریروں میں میں محبت، اعتدال، اور تفکر کی تبلیغ کرتے ہیں۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. عمران حیات on

    اللہ کرے زور قلم اور زیادہ
    موصوف نے جامع انداز میں حالات کی منظر کشی کرتے ہوئے خان صاحب کی زندگی کے اہم ترین حالات کو خوبصورتی سے الفاظ کا جامہ پہنایا ہے۔ ان کے اس کالم سے قاری کے سامنے واقعیاتی بیان کے ساتھ اسباب و علل اور ان کے پیدا ہونے والے نتائج بھی رہتے ہیں۔ اور یہی ایک بہترین تجزیاتی اندااز ہے۔ جس اچھوتے انداز میں موصوف نے تنقید کی وہ انداز ان کے اندر چھپے ایک نقاد پر دلالت کرتا ہے۔ عام طور پر کسی ایک پہلو کو لے کر تنقید کر دی جاتی ہے لیکن کالم ہذا میں جناب نے سکے کے دونوں رخ سامنے رکھے تاکہ جملہ پہلو سامنے رہیں اور قارئین کو معلومات کے ساتھ ساتھ ایک عمدہ تجزیہ پڑھنے کا موقع بھی میسر آئے۔ میں کوئی لکھاری نہیں اور یہ اس تبصرہ سے اندازہ ہو رہا ہو گا بس کالم پڑھنے کے بعد جو احساسات یا خیالات پیدا ہوئے ہیں ان منتشر خیالات کو مرتب کر رہا ہوں۔ تنقید کے ساتھ میں ان کی تحریر میں مزاح کی خاصیت بھی پاتا ہوں جس کی وجہ سے تحریر پڑھنے میں دلچسپی پیدا ہوتی ہے۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو اور دعا ہے کہ قلم کار کا زور قلم اور زیادہ ہو۔ آمین

Leave A Reply

%d bloggers like this: