میں قاضی حسین احمد کو دوست سمجھتا تھا: عمران خان کی یادیں

1
  • 258
    Shares

آج، قاضی حسین احمد ی برسی کے موقع پر عمران خان کی قاضی حسین احمد ے بارے میں یادیں، پیش خدمت ہیں۔ دیکھئے کہ کس طرح ایک قومی سیاستدان، دوسرے سیاستدان کے لئے گفتگو کررہا ہے۔ 


میں قاضی حسین احمد کو ایک دوست سمجھتا تھا۔ میں دوستی کی وجہ آپ کو بتانا چاہتا ہوں۔

ایک ایمان والا دوسرے مؤمن کو پہچان لیتا ہے۔ میں یہ دعویٰ تو نہیں کرتا کہ قاضی صاحب کی طرح میرا ایمان ہے، لیکن میں نے انہیں بڑی جلدی پہچان لیا تھا۔ ’’لا الہ الا اللہ‘‘ اگر یہ ایک انسان کو آزاد نہیں کرتا تو اس کا مطلب ہے کہ لا الہ اللہ آپ کے دل میں نہیں اُترا۔ میں سمجھتا ہوں کہ جو مومن ہے، اس میں تین خوبیاں ہوتی ہیں، جن سے وہ پہچانا جاتا ہے۔ سب سے پہلے وہ اپنے ’’میں‘‘ سے آزاد ہوچکا ہوتا ہے۔ اس پر قابو پاچکا ہوتا ہے۔ اس کے فیصلے اپنی ذات سے ہٹ کر ہوتے ہیں۔ دوسری چیز جو قرآن کی آیت ہے کہ جو لوگ ایمان لائے، میں ان کے خوف کو دور کردیتا ہوں۔ کبھی مؤمن بزدل نہیں ہوتا۔ اور تیسری چیز ایمان والا آدمی سچ بولتا ہے۔

قاضی صاحب کے ساتھ میرا بہت وقت گزرا، لیکن خاص طورپر میں نے اس دور میں انہیں بہت قریب سے دیکھا جب پارلیمنٹ میں ان کے ساتھ پانچ سال گزارے۔ قاضی صاحب اس وقت ایک ایسے اتحاد میں تھے، جہاں انہیں کئی ایسے فیصلوں میں شریک ہونا پڑا جو انہیں شاید گوارا نہیں تھے یا دل سے وہ نہیں چاہتے تھے، لیکن میں نے دیکھا کہ جو بھی فیصلہ ہوتا، قاضی صاحب اپنی ذات سے ہٹ کر کرتے تھے۔ ان کے سارے فیصلے ملک وملت اور اسلام کی خاطر ہوتے تھے۔ مسلمانوں کی آزادی اور بقا ان کے پیش نظر رہتا تھا۔ میری دوستی ان سے اسی بنیاد پر تھی۔

آپ یقین کریں میں جب پہلی بار پارلیمنٹ پہنچا اور میں نے وہاں حالت زار دیکھی تو میں اپنے سیاست دانوں کو دیکھ کر اتنا مایوس ہوا جس کی انتہا نہیں۔ میں سوچتا تھا کہ اے اللہ! کیا یہ ہمارے سیاست دان ہیں!؟ اگر ان لوگوں کے ہاتھ میں اس قوم کا مستقبل ہے تو پھر یہ کیسا مستقبل ہوگا؟ میں اسمبلی میں دیکھتا تھا، ایک دوسرے کے خلاف بڑی زبردست تقریریں چل رہی ہیں۔ اپوزیشن ارکان حکومتی ارکان کے خلاف بول رہے ہیں اور حکومتی ارکان اپوزیشن ارکان کو لتاڑ رہے ہیں۔ ایک دوسرے کو خوب برا بھلا کہہ رہے ہیں۔ ایک کہتا ہے تم کرپٹ ہو، تم نے قوم کا پیسہ لوٹا ہے، دوسرا کہتا ہے تم نے ملک کا بیڑا غرق کیا ہے، جبکہ کیفے ٹیریا میں جاکر دیکھتا تو یہی لوگ ایک دوسرے سے بغل گیر ہوتے۔ ان میں کوئی فرق دکھائی نہیں دیتا تھا۔ میں سوچتا تھا اے اللہ! یہ کیسی منافقت ہے؟ ان سب میں قاضی صاحب بہت مختلف تھے۔ اور قاضی صاحب کی عزت اسی لیے تھی کہ وہ جیسے باہر تھے، ویسے اندر سے تھے اور جیسے اندر تھے، اس طرح باہر تھے۔

ہم جب اے پی ڈی ایم کا حصہ تھے، اس وقت ایک بڑا امتحان ہمارے اوپر آیا۔ میری پارٹی کے پاس صرف ایک سیٹ تھی، جبکہ جماعت اسلامی کے پاس 28 نشستیں تھیں۔ ن لیگ سب کو کہہ رہی تھی کہ انتخابات کا بائیکاٹ کرو۔ ہم نے بڑی سوچ بچار کی۔ مشاورت کی۔ ہمیں معلوم تھا کہ چیف جسٹس کو بند رکھا ہوا ہے اور امریکا مشرف اور پیپلز پارٹی کے بیچ میں این آر او کروا رہا ہے اور یہ الیکشن پاکستان کی بہتری میں نہیں، اس لیے اس میں نہیں جانا چاہیے۔ اس پر تمام جماعتوں کی طرف سے گفتگو ہوئی۔ پہلے لندن میں میٹنگ ہوئی۔ جہاں ہم نے ن لیگ کی سربراہی میں بائیکاٹ کا فیصلہ کیا۔ پھر اسلام آباد میں ہم نے بائیکاٹ کے حوالے سے بات کی۔ قاضی صاحب کو میں داد دیتا ہوں کہ انہوں نے ہر مشکل میں دباو کا مقابلہ کیا۔ آسان وقت میں تو لیڈر بننا کوئی مشکل نہیں، لیکن قاضی صاحب کا کمال تھا کہ بائیکاٹ کے اتنے بڑے فیصلے پر دباو قبول کیا۔ دباو میں لیڈر کا پتا چل جاتا ہے کہ کہیں ایک ٹیلی فون کال پر ملک تو نہیں بیچ دیتا۔

مجھے اس کا اندازہ تھا کہ قاضی صاحب کے اوپر کتنا دباو ہوگا۔ 28 نشستیں ہیں اور فیصلہ کررہے ہیں کہ انتخابات کا بائیکاٹ کریں گے۔ پارٹی کے اندر بھی بہت پریشر تھا۔ اس کے باوجود قاضی صاحب نے اپنی ذات اور پارٹی کا نہیں، ملک کا سوچا۔ ہماری پارٹی کا بھی بہت پریشر تھا۔ پہلی مرتبہ ہم تیاری کے ساتھ الیکشن میں جارہے تھے، لیکن ہمارا یہ خیال تھا کہ جو الیکشن امریکا اسپانسر کررہا ہے۔ جو انتخابات این آر او کے زیرسایہ ہورہے ہیں۔ بڑے بڑے ڈاکووں کو الیکشن لڑنے کی اجازت مل رہی ہے، اس سے اچھائی کی توقع رکھنا بے کار ہے۔ آپ سوچیں جو الیکشن امریکا یہاں پاکستان میں کروارہا تھا، کیا وہ اپنے ملک میں ایسا کرواسکتا ہے؟ کیا وہ کسی ٹیکس چور، کرپٹ آدمی کو انتخاب لڑنے کی اجازت دے گا؟ لیکن ہمارے ملک میں یہ سب کچھ ہورہا ہے اور اس کی سرپرستی ہورہی ہے۔

یہ جو وقت گزرا ہے اس میں جو ظلم ہوا ہے، جتنا خون دوسروں کی جنگ کے نتیجے میں گرا ہے۔ جتنے ڈاکے پڑے ہیں، وقت نے ثابت کردیا کہ جو فیصلہ اے پی ڈی ایم، ہم نے اور قاضی صاحب نے بائیکاٹ کے حوالے سے کیا تھا، وہ بالکل درست تھا۔ قاضی صاحب نے جو کہا، اس پر کھڑے رہے۔ انہوں نے دباو برداشت کیا، لیکن جو دوسرے لوگ تھے، انہوں نے ہمیں پل پر بلایا اور اکیلے چھوڑ کر چلے گئے۔

اسی طرح خواجہ سعد رفیق نے مجھ سے پہلے بہت اچھی بات کہی جو مجھے بڑی پسند آئی کہ جماعت اسلامی میں الیکشن ہوتے ہیں۔ میں بڑے فخر سے کہتا ہوں کہ تحریک انصاف دوسری جماعت ہے، جس نے یہ فیصلہ کیا کہ پارٹی میں الیکشن ہوں۔ پاکستان کی اگر ہم نے سیاست ٹھیک کرنی ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ یہ خاندانی اور موروثی سیاست ختم ہو۔ ان لمیٹڈ کمپنیوں کا خاتمہ ہو۔ میں تو کہتا ہوں خدارا پوری پارٹی میں نہیں کراسکتے تو اپنے خاندانوں کے اندر ہی الیکشن کرالو۔ جمہوریت تو آئی ہی تھی بادشاہت کو ختم کرانے کے لیے۔ جتنی بہتر جمہوریت، اتنی ملک میں خوشحالی۔ آپ یورپ کو دیکھ لیں، وہی یورپی تھے۔ ایک طرف مغربی یورپ تھا اور دوسری طرف مشرقی یورپ۔ پچاس سال بعد آپ دیکھ لیں جہاں جمہوریت تھی، وہ ترقی کرگیا۔ جہاں جمہوریت نہیں تھی، وہ نیچے چلا گیا۔ جرمن ایک قوم تھی۔ ایک حصے میں جمہوریت تھی، دوسرے میں نہیں تھی۔ ترقی جمہوری حصے نے کی۔ میں کہتا ہوں جب تک آپ اپنی پارٹیوں میں جمہوریت نہیں لائیں گے، تب تک ملک میں بھی جمہوریت نہیں لاسکتے۔

قاضی حسین احمد ایسے سیاست دان تھے جن کی کوئی قیمت نہیں تھی نہ ہی کوئی قاضی صاحب کی قیمت لگاسکا۔

میں قاضی صاحب کے ساتھ اسمبلی میں پانچ سال تک رہا، میں یہی سمجھا ہوں کہ جب تک ہمارے ہاں ایسے سیاست دان نہیں آتے جن کے اندر ’’میں‘‘ نہ ہو۔ جو اپنی ذات سے بالاتر نہ ہوں۔ جو صرف اپنے مفاد کا نہ سوچتے ہوں۔ جن کا کوئی نظریہ ہو۔ کسی انگریزی کتاب میں پڑھا تھا کہ اگر آپ کا کوئی نظریہ نہیں ہے تو کسی بھی پارٹی میں چلے جائیں۔ یہ نظریہ قبلہ اور روڈ میپ ہے۔ یہ آپ کو اچھے اور برے کی تمیز دیتا ہے۔ جب ذات کی بات آتی ہے تو پھر قوم کے مفاد میں سیاست نہیں ہوسکتی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ملک تنزل کی طرف جاتا ہے اور سیاست دان ترقی کرتے چلے جاتے ہیں۔ آپ اپنے ملک میں دیکھ لیں اس وقت سیاست کا یہی انداز ہے۔ ملک کی حالت روز بروز خراب ہوتی جارہی ہے، جبکہ ہمارے سیاست دانوں کے اثاثے کروڑوں سے اربوں میں پہنچ رہے ہیں۔ بیرون ملک سرمایہ منتقل کیا جارہا ہے۔ یہی وجہ ہے ہمارے ملک میں سیاست دانوں کی قیمتیں لگائی جارہی ہیں۔ اس سیاست دان کی کتنی قیمت ہے؟ یہ کتنے پر راضی ہوسکتا ہے، لیکن میں آپ کو آخر میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ قاضی حسین احمد ایسے سیاست دان تھے جن کی کوئی قیمت نہیں تھی نہ ہی کوئی قاضی صاحب کی قیمت لگاسکا۔میں قاضی حسین احمد کو دوست سمجھتا تھا


یہ بھی پڑھیں: قاضی صاحب کو سلام : جے سالک… سابق وزیر اقلیتی امور

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: