سیکولرازم اور سیکولرائزیشن : اطہر وقار عظیم

1
  • 103
    Shares

کسی بھی نظریے (Ideology) یا تصور جہاں (Worldview) کی طرح، سیکولرازم کی تعریف بھی، ماضی قریب میں، مختلف حوالوں کے ساتھ کی جاتی رہی ہے۔ کبھی مذہبی دائرے کے اندر، کبھی مذہبی دائرے کے باہر، اور کبھی مذہبی دائرے سے لاتعلق رہتے ہوئے بھی۔۔۔۔ بہرحال ان تمام تعریفوں میںایک قدر مشترک، سیکولرازم کو زماں (Time) اور مکاں(Space) کے مفہوم میں بیان کرنارہا ہے۔ یہاں زماں سے مراد ــ اب (Now) ہے، اور مکاں سے مراد یہاں (Here) اور یہ دنیا یا دنیاوی ہے، ملایشیاء کے مشہور اسلامی سکالر، سید نقیب العطاس نے، قرآن میں سیکولر کی اصطلاح کے قریب ترین تصور ــ الحیات الدنیا کو ترجیح دینا قراردیاگیا ہے، یعنی اس دنیا کی زندگی یا دنیاوی زندگی کو آخرت کی ابدی زندگی پر ترجیح دینا، اس لحاظ سے دیکھا جائے توکہا جا سکتا ہے کہ کوئی بھی دنیا پرست، اور سیکولر فکر کا موئید، اگرآخرت کا منکر نہ بھی ہو، ملحد نہ بھی ہو، حتی کہ خدا پر ایمان بھی رکھتا ہو، لیکن اس میں ایک قدر مشترک ضرور ہوگی کہ وہ اخروی زندگی پر دنیاوی زندگی کو فوقیت دیتا ہو گا اور اس کی تمام تر کوششو ں کا محور اور امنگوں اور ولولوں کی حتمی منزل دنیاوی زندگی ہوگی۔

سیکولرازم کا نظریہ، اپنا عملی اطلاق، سیکولرائزیشن کی سرگرمی کے ذرئعیے کرتا ہے، کیونکہ سیکولرازم، سیکولرایئزیشن کو فروغ دیتا ہے۔ کسی بھی انسانی معاشرے میں، سیکولرائزیشن کی رفتار کو، درج بالا تین عوامل میں پیش رفت کے ذریعہ ناپا جاتا ہے:

۱)  فطرت (Nature)، کی غیر مذہبی تعبیرکرنا یا اسے خدائی منصوبے سے الگ تھلگ کر کے دیکھنا۔
۲)  سیاست (Politics)، کو دینی (مذہبی) رہنمائی سے الگ تھلگ کرنا۔
۳)  اخلاقی اقدار (Values)، کو مذہبی مفہوم سے علیحدہ کر کے ٓاضافی قدر یا مقامی قدر کی حیثیت سے پیش کرنا۔

ان اجزاء کا مرحلہ وار جائزہ لیا جائے، تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ مسلم اور غیر مسلم معاشروں میں، سیکولرائزیشن کی سرگرمی زور و شور سے جاری ہے۔

فطرت (Nature) کو سیکولرائز کرنے کا بابرکت کام، صرف سیکولر حلقے ہی نہیں کر رہے، بلکہ اس کار خیرمیں مذہبی جماعتیں بھی اپنا اپنا حصہ ڈال رہیں ہیں۔ اور یہی اصل المیہ ہے۔ مثلا جب کوئی سائنسی محقق، کسی فطری مظہر (Natural Phenomenun) کی سائنسی جزئیات کے مطالعے میں، خدا کی قوت بالفعل (Divine Action) کے امکان کو مسترد یا نظر انداز کر دیتا ہے، تو وہ ایک طرح سے فطرت کو سیکولرائزکر رہا ہوتا ہے۔ مثلا ہم سارا دن نیشنل جیو گرافک پر خدا کی تخلیقات دیکھتے ہیں، لیکن خدا کے تصور کے بغیر اور خدا سے کسی قسم کا تؑعلق قائم کئے بغیر۔۔ اسی طرح جب ہمارے مذہبی طبقات، کسی فطری مظہر کو سمجھے اور اس پر، غور و فکر کئیے بغیر، محض سادہ ٓانداز ہر طبعی مظہرکو خدا کی ذات کے ساتھ براہ ر است جوڑ دیتے ہیں، یا پھر ایسے لوگ، جو علوم کی اسلامائزیشن کئے بغیر، کھوکھلے نعروں اور محض سیاسی اقتدار کے ذریعے، اسلامی انقلاب لانے کی کوششوں میں مصروف ہیں، وہ بھی اپنے انداز سے سیکولرائزیشن کے لیئے زمین ہموار کر رہے ہیں۔ کیونکہ، اس طرح وہ اس، سنجیدہ سائنسی طریق کو مسترداور تبدیلی کے خدائی قانون کا انکار کر رہے ہوتے ہیں، جو کہ انسانیت کی مشترکہ میراث ہے اور اجتماعی دانش کا نچوڑ ہے۔ اس لیے، جتنا بڑا جرم، فطرت کو روحانی تعبیر سے محروم کرنا ہے، اتنا ہی، بڑا جرم سائنسی طریق کارکو سمجھنے سے انکار کوبھی سمجھنا چاہیے۔

ہر نظریے (Ideology) یا تصورجہاں (بشمول مذہبی یا غیرمذہبی) کے اطلاقی دائرے کو، نظری طور پر پوری کائنات تک پھیلایا بھی جا سکتا ہے، اور یا پھراسے ایک نقطہ میں سمیٹا بھی جا سکتا ہے۔ اب یہ اس نظریے (Ideology) یا تصور جہاں ((Worldview کے مخفی پوٹنشل پر منحصر ہے، کہ وہ نظریہ یا دین، عملی طور پر قطرے سے قلزم بننے کی صلاحیت رکھتا بھی ہے یا نہیں۔ سیکولرایئزیشن کی سرگرمی کے تناظر میں دیکھا جائے، سیکولر فکر کے تحت، انسان نے جب بتدریج فطرت کو آفاقی تعبیر اور خدائی نصب العین سے محروم کر دیا۔ تو اس کے بعد کا مرحلہ سیاسی تعبیر اور سیاسی اداروں سے خدا کے اقتدار اعلی کے تصور کو بے وقعت کرنے اور اس کے دائرہ کار کو محدود کرنے کا تھا۔ پس، جب سیکولر فکر کے موئید، دین حق سے سیاست کو علیحدہ کرنے بات کرتے ہیں، تو یہ لوگ دین حق کی ثابت شدہ مخفی توانائیاں اور ان جانچے امکانات، کو محدودکرنے کی حمایت کر رہے ہوتے ہیں۔ گویا سیاست کی مذہب سے علیحدگی، دین کو محدود تناظر میں سمیٹے کی تحریک ہے۔ اس مقصد کے لئے نت نئے ہتھکنڈوں کو استعمال کیا جا رہا ہے۔ لیکن کیا کسی ایسے تصورجہان کو، جودین حق کانمائندہ ہو اور پوری کائنات میں جاری و ساری ہو اور تحریف شدہ بھی نہ ہو، کیا اسے محدود کیا جا سکتا ہے؟ یا سیاست سے بے دخل کیا جا سکتا ہے؟ کیا سیاست کیساتھ تعلق کے باب میں تمام ادیان کو یکساں نظری حیثیت دی جا سکتی ہے؟ اور مجرمانہ حیثیت سے، کٹہرے میں کھڑاکیا جا سکتا ہے؟

ایسے لوگ، جو علوم کی اسلامائزیشن کئے بغیر، کھوکھلے نعروں اور محض سیاسی اقتدار کے ذریعہ، اسلامی انقلاب لانے کی کوششوں میں مصروف ہیں، وہ بھی اپنے انداز سے سیکولرائزیشن کے لیئے زمین ہموار کر رہے ہیں۔

اسی طرح، د ین حق سے جڑی اخلاقی اقدار، کی ابدی حیثیت کو ختم کر کے اسے اضافت اور مقامی دائرے میں مقید کرنا بھی، سیکولرائزیشن کی سرگرمی کا حصہ ہے۔ یہ انسانی اخلاقیات سے، آفاقی و مذہبی، نصب العین چھیننے کے تحریک ہے۔ چنانچہ ان کے نزدیک اب کوئی نیکی یا برائی اسلئے، نیکی یا برائی نہیں ہے، کیونکہ خدا یا الہامی ہدایت نے اسے نیکی بتلایا ہے، یا برائی گردانا ہے، بلکہ اب یہ فیصلہ اجتماعی دانش پر چھوڑ دیا گیا ہے، اور دانش بھی وہ جس کی پرورش سیکولر آب و ہوا میں ہوئی ہے۔ اور جسے آفاقی تصور جہاں سے کوسوں دور رکھا گیا ہے۔ سیکولر اجتماعی دانش کہتی ہے، کہ یا انسان کے اندرونی رحجانات کو طے کرنے دیں کہ اس کمزور لمحے میں، یا پھر کسی لمحہ موجود میں، اس کے لئے نیکی کیا ہے اور بدی کیا ہے؟ حلال کیا ہے اور حرام کیا ہے؟ حتی کہ خدا کون ہے؟ گویا ہوائے نفس کو مقام خدا دے دیا گیا ہے۔

انسانی معاشرے مرحلہ وار سیکولرائزیشن کے عمل سے گزر کر سیکولرلائز ہوتے ہیں، پہلے تصور فطرت کو سیکولر کیا جاتا ہے، اس کے بعد سیاست سے دینی ہدایت کو بے دخل کر کے اسے سیکولر کیا جاتا ہے، پھر جا کر اخلاقی اقدار کو محدود کر کے مقامی دائرے میں سمیٹا جا تا ہے۔ اس طرح انسانی دل و دماغ سیکولرائزیشن کو ایک نارمل ارتقائی سرگرمی کے طور پر قبول کر لیتے ہیں۔ سیکولرازم اور سیکولرائزیشن


 

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. مثلا ہم سارا دن نیشنل جیو گرافک پر خدا کی تخلیقات دیکھتے ہیں، لیکن خدا کے تصور کے بغیر اور خدا سے کسی قسم کا تؑعلق قائم کئے بغیر۔۔ اسی طرح جب ہمارے مذہبی طبقات، کسی فطری مظہر کو سمجھے اور اس پر، غور و فکر کئیے بغیر، محض سادہ ٓانداز ہر طبعی مظہرکو خدا کی ذات کے ساتھ براہ ر است جوڑ دیتے ہیں، یا پھر ایسے لوگ، جو علوم کی اسلامائزیشن کئے بغیر، کھوکھلے نعروں اور محض سیاسی اقتدار کے ذریعے، اسلامی انقلاب لانے کی کوششوں میں مصروف ہیں، وہ بھی اپنے انداز سے سیکولرائزیشن کے لیئے زمین ہموار کر رہے ہیں۔ کیونکہ، اس طرح وہ اس، سنجیدہ سائنسی طریق کو مسترداور تبدیلی کے خدائی قانون کا انکار کر رہے ہوتے ہیں، جو کہ انسانیت کی مشترکہ میراث ہے اور اجتماعی دانش کا نچوڑ ہے۔ اس لیے، جتنا بڑا جرم، فطرت کو روحانی تعبیر سے محروم کرنا ہے، اتنا ہی، بڑا جرم سائنسی طریق کارکو سمجھنے سے انکار کوبھی سمجھنا چاہیے۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: