عمراصغر کے والد: فاروق عادل کی تحریر

0

اصغر خان سے میری ملاقات تو کافی پرانی تھی لیکن اس کی تجدید ذرا تلخ ماحول میں ہوئی، لہٰذا میں نے سوچا کہ اچھا ہی ہوا کہ یہ شخص ناکام رہا۔ عمراصغر کے والد: فاروق عادل

اصغر خان کا نام میں نے سب سے پہلے دیواروں پر لکھا دیکھا:
’’مُکہ اصغر خان دا، راکھا پاکستان دا‘‘۔

میں نے سوچا کہ ضرور یہ شخص باکسر ہوگا پھر میں نے انھیں اپنے گھر کے قریب میر مظاہر حسنین ۱؎ کی کوٹھی میں دیکھا جسے پولیس نے گھیر رکھا تھا اور کوٹھی کے احاطے میں بچ بچا کر چالیس پچاس لوگ ہی داخل ہوسکے تھے۔ میں نے سوچا کہ یہ شخص بہت ہی خطرناک ہوگا جس کاناطقہ بندکرنے کے لیے اتنی بڑی تعداد میں پولیس جمع ہے لیکن جب ہزارے کی مخصوص قراقلی ٹوپی پہنے اس لمبے تڑنگے آدمی کو میں نے دیکھا تو ذرا مایوسی ہوئی۔ یہ شخص نہ تو کہیں سے باکسر نظر آتا تھا اور نہ چہرے مہرے سے خطرناک دکھائی دیتا تھا۔

اس شخص سے میری دوسری ملاقات ایک جلسے میں ہوئی جہاں اس نے میرا دل جیت لیا۔ جلسے میں ہجوم بہت تھا لیکن اس کے باوجود میں کسی نہ کسی طرح اسٹیج پر پہنچنے میں کامیاب ہو ہی گیا اور پاکستان قومی اتحاد کے رہنماؤں کی کرسیوں کے بیچ خالی جگہ پر کارکنوں کے درمیان پھنس پھنسا کر بیٹھ گیا۔ ایسے میں ضیأالرحمن سیفی ۲؎ نے انھیں تقریر کی دعوت دی۔ اصغر خان اپنا نام سنتے ہی تیزی سے اٹھے لیکن جگہ چوں کہ تنگ تھی، اس لیے ان کا پاؤں میرے گھٹنے سے ٹکرا گیا، خان صاحب آگے بڑھنے کے بہ جائے رک گئے اور بیٹھ کر پہلے میرا گھٹنا سہلایا پھر معذرت کی۔ یہ میرے لیے ایک حیران کر دینے والی بات تھی۔ خان صاحب کے چہرے پر ندامت، دردمندی اور اخلاص کی پرچھائیاں تھیں، میں ان کے اعلیٰ اخلاق کا قائل ہوگیا۔

’’اس شخص کے سینے میں اتنا نرم و گداز دل ہے پھر یہ ’’مُکے بازی‘‘ کیوں کرتا ہے؟‘‘۔
مجھے دیواروں پر لکھے ہوئے نعرے کی ایک بار پھر یاد آئی، خیالات کے اسی ہجوم کے دوران میں نے ایک للکار سنی:
’’بھٹو! تم نے پاکستان توڑا، میں تمھیں کوہالہ کے پل پر لٹکادوں گا‘‘۔

الطاف حسن قریشی نے ایک بار بتایا کہ بھٹو صاحب کا خوف اتنا تھا کہ کوئی اونچی آواز میں بولتا تھا اور نہ کوئی بڑی بات سوچتا تھا، یہ اصغر خان تھے جنھوں نے خوف کی اس فصیل میں پہلا شگاف ڈالا۔ مجھے اس شخص کی اہمیت کا اندازہ ہوا لیکن یہ بات سمجھنے میں کچھ وقت لگ گیا، اس سے پہلے میری ان سے ایک اور ملاقات ہوئی۔

تحریک استقلال اس وقت تک قصۂ پارینہ بن چکی تھی اور ان دنوں اصغر خان کا نام بس پرانے لوگ ہی لیا کرتے تھے کہ ایک روز اطلاع ملی کہ خان صاحب پریس کانفرنس سے خطاب کریں گے، اتفاق سے اس روز میں مقررہ وقت سے کچھ دیر پہلے پریس کلب پہنچ گیا، کاؤنٹر پر اصغر خان کھڑے پریس کانفرنس کی فیس ادا کررہے تھے۔ انھیں دیکھ کر عبدالجبارخان ۳؎نے آگے بڑھ کرکہا:
’’خان صاحب، رہنے دیجئے، یہ میں دیکھ لوں گا‘‘۔

خان صاحب نے پلٹ کر ان کی طرف دیکھا اور مسکراتے ہوئے کہا:
’’ایسا کبھی ہوا ہے؟‘‘۔

’’Generals in Politics‘‘ ۴؎ میں لکھا ہے کہ۱۹۷۰ء کی انتخابی مہم کے دوران ایک حاضر سروس سرکاری ملازم ملنے کے لیے ان کے گھر پہنچا، سیلیوٹ کر کے سیدھا کھڑا ہوا اور کہا کہ جنرل آغا محمد یحییٰ خان کا آپ کے لیے ایک پیغام ہے۔ خان صاحب نے پوچھا کہ کیا پیغام ہے تو اس کے اشارے پر ایک ملازم آگے بڑھا اور اس نے ایک بڑی سی چوبی پیٹی خان صاحب کے سامنے رکھ دی۔
’’اس میں کیا ہے؟‘‘
جس پر ’’پیغام بر‘‘ نے بتایا کہ کچھ رقم ہے۔
’’وہ کس لیے؟‘‘۔
اصغر خان نے اس بار ذرا سختی کے ساتھ بات کی تو اس نے بتایا کہ اس طرح کی پیٹیاں تمام سیاسی جماعتوں کو بھیجی گئی تھیں جنھیں اکثر یت نے قبول کرلیا، اب آخر میں ہم آپ کے ہاں پہنچے ہیں۔ خان صاحب برہم ہوگئے، کہا کہ رقم اٹھاؤ اور بھاگ جاؤ۔ ہرکارے نے حکم کی تعمیل کی لیکن پیٹی وہیں چھوڑ گیا۔ خان صاحب نے لکھا ہے کہ ان کی وہ رات بڑی بے چینی میں گزری، امینہ ۵؎ اور وہ شب بھر جاگتے رہے کہ کہیں غلطی سے ہی کوئی اس میں سے کچھ رقم نہ نکال لے۔اگلی صبح وہی پیغام بر دوبارہ ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو خان صاحب پھر خفا ہوئے اور کہا کہ وہ رقم اپنے ساتھ لے کر کیوں نہیں گیا تھا؟
’’اس لیے کہ شاید یہ دولت آپ کو ارادہ بدلنے پر مجبور کردے؟‘‘
اس نے جواب دیا۔
اس ہرکارے کی طرح اس روز میرے دوست عبدالجبار خان بھی پوری نیک نیتی کے باوجود خان صاحب کے کام نہ آسکے۔

بھٹو صاحب کا خوف اتنا تھا کہ کوئی اونچی آواز میں بولتا تھا اور نہ کوئی بڑی بات سوچتا تھا، یہ اصغر خان تھے جنھوں نے خوف کی اس فصیل میں پہلا شگاف ڈالا۔

پریس کلب کی اس ملاقات نے مجھے خان صاحب سے خاصا بدظن کیا۔ کسی نے پوچھا:
’’خان صاحب! آپ کی اڑان تو خوب تھی پھر آپ ناکام کیوں ہوئے؟‘‘
سوال سن کر خان صاحب چلتے چلتے رک گئے لیکن سوال کرنے والے کی طرف دیکھے بغیر کہا:
’’ناکام میں نہیں ہوا، قوم ہوئی‘‘۔
خان صاحب کے اس ’’بے باکانہ‘‘ جواب پر سناٹا چھا گیا، کچھ دیر کے بعد کسی نے ہمت کرکے کہا:
’’اپنی ناکامی کا دوش آپ قوم کو کیسے دے سکتے ہیں؟‘‘۔
خان صاحب جو اس دوران چلتے ہوئے پریس کلب کے ٹیرس سے نکل کر باہر جانے والی راہ داری تک پہنچ چکے تھے، واپس پلٹے اور سوال کرنے والے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا:
’’بداخلاقی اور بدعنوانی کے جنگل میں قوم کو اجلے کردار کے لوگ دستیاب تھے، کیوں اس کی نظر انتخاب کسی دوسری طرف بھٹکی؟‘‘۔
’’پارسائی کا اتنا بڑا دعویٰ؟‘‘۔
میں اس شخص سے بدگمان ہوگیا، ملک محمد معظم ۶؎ نے یاددلایا:
بھٹوصاحب ایوب خان کے قیدی تھے اور اصغر خان ان کی رہائی کے لیے سڑکوں پر تھے۔ وہ رہا ہوئے تو ملتان میں ان دو بڑوں کے درمیان تاریخی ملاقات ہوئی۔ بھٹو صاحب نے کہا کہ پارٹی میں نے بنا لی ہے، اب آپ بھی آجائیں، ہم حکومت بنانے میں کامیاب ہوجائیں گے،اس میں آپ کا حصہ بھی کچھ کم نہ ہوگا۔ اصغر خان نے اس پیش کش کاشکریہ کے ساتھ جواب دیا اور کہا:

’’میں آپ کے ساتھ چل نہ سکوں گا‘‘۔
بھٹو صاحب یہ جواب سن کر حیران رہ گئے۔ اصغرخان نے کہا کہ آپ قوم کو روٹی، کپڑا اور مکان دینے کا وعدہ کر رہے ہیں، یہ وعدہ آپ پورا نہ کرسکیں گے۔
’’تو پھر؟‘‘۔
بھٹو صاحب نے تعجب کے ساتھ سوال کیا تو اصغر خان نے کہا کہ میں قوم کے ساتھ کوئی جھوٹا وعدہ نہیں کرسکتا۔ بھٹو صاحب نے جواب میں کہا کہ تم لوگ اپنی سچائی کو گلے سے لگائے رکھو، قوم تو میرے گن ہی گائے گی۔ خان صاحب نے کہا کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو پھر قوم کی قسمت۔ اس واقعے نے دو دوستوں کو آمنے سامنے لاکھڑا کیا اور ایک دن اصغر خان نے اسی بھٹو کو کوہالہ کے پل پر لٹکانے کا اعلان کرکے قوم کو اپنے گرد جمع کرنے کی کوشش کی۔اب یہ فیصلہ مؤرخ خود کرے کہ روٹی، کپڑے اور مکان کے نعرے کو ناقابلِ عمل قرار دینے والے شخص نے کوہالہ پر لٹکانے کی بات کیوں کی تھی۔

اصغر خان نے بھٹو صاحب کو بہادری کے ساتھ للکارا تھا، جواب میں قوم نے ان کی جھولی ووٹوں سے بھر دی۔ ۱۹۷۷ء کے انتخاب میں کراچی میں برنس روڈ کے حلقے سے انھیں اتنی بڑی تعداد میں ووٹ ملے کہ لوگ حیرت کرتے۔ وہ مقبولیت کے ساتویں آسمان پر جا پہنچے جس سے نیچے اترنا بعض لوگوں کے لیے مشکل ہوجاتا ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اصل مقبولیت بھٹو مخالف اتحاد کی تھی جس سے غلط فہمی پیدا ہوئی اور ہواباز نے تنہا اڑنے پر کمر باندھ لی مگر کامیابی ان سے روٹھ چکی تھی، یہی وجہ تھی کہ ۱۹۸۸ء کے انتخابات میں جب انھوں نے اسی حلقے سے قسمت آزمائی کی دوبارہ کوشش کی تو ان کے حصے میں صرف ۱۳۰۲ ووٹ آسکے۔

اس حادثے نے بڑے مسائل پیدا کیے،کبھی انھوں نے پارٹی کا منشور بدلا، کبھی درانتی ہتھوڑے ۷؎ سے مدد چاہی پھر بھی بات نہ بن سکی تو پارٹی ہی تحلیل کردی۔

وہ فوجی ضرورتھے لیکن انھوں نے ہمیشہ جمہوریت کے لیے جدوجہد کی، جی داری سے مار کھائی اور بہادری سے جیل کاٹی۔ پرویزمشرف کے زمانے تک حالات اور خان صاحب دونوں بدل چکے تھے، جمہوریت کا یہ سپاہی اب فوجی آمر کا حامی اور ان کا صاحب زادہ اس کا وزیر بن چکا تھا اور لوگ انھیں عمر اصغر کے والد کے نام سے پہچانتے تھے۔


حوالہ جات:

۱۔ میر مظاہر حسنین مرحوم، سرگودھا کے ایک پرانے سیاست داں۔

۲۔ ضیأالرحمن سیفی مرحوم، تحریک استقلال سرگودھا کے رہنماء اور مقامی قانون داں۔

۳۔ عبدالجبار خان، کراچی کے سینئر صحافی، بعد میں انھوں نے صحافت میں پی ایچ ڈی کر کے علمی دنیا میں نام پیدا کیا۔

۴۔ Generals in politics، اصغر خان کی پہلی کتاب جو جنرل ضیأالحق کے زمانے میں بھارت میں شائع ہوئی اور پاکستان میں اس پر پابندی لگا دی گئی۔

۵۔ بیگم امینہ اصغر خان،وہ رشتے میں مولانا مودودیؒ کی اہلیہ کی کزن ہیں۔

۶۔ ملک محمد معظم، سرگودھا کے ممتاز صحافی،وہ کچھ عرصے تک تحریک استقلال میں بھی شامل رہے۔

۷۔ ۸۰ء کی دہائی میں پارٹی کی تنظیم نو کر کے اصغر خان نے کمیونزم کے معروف علامتی نشان درانتی اور ہتھوڑے کو  تحریک استقلال کے جھنڈے کا حصہ بنا دیا تھا۔ عمراصغر کے والد: فاروق عادل

 

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: