انگریز کی اصل وفادار کون ۔۔ کانگریس یامسلم لیگ؟ عارف گل (حصہ اول)

1
  • 140
    Shares

مسلم لیگ کے 1906ء سے پاکستان کے قیام تک اور پھر پاکستان کے قیام سے لے آج تک تقسیمِ ہند کا مخالف ہندؤں، انگریزوں اور قوم پرست علماء و اصحاب کا وسیع حلقہ مسلسل یہی پروپیگنڈا کرتا چلا آرہا ہے کہ مسلمان تو انگریز کے وفادار تھے اور خاص طور مسلم لیگ کا قیام ہی اسی لیے عمل میں آیا تھا تاکہ کانگریس جیسی انگریز کی باغی جماعت کا کاؤنٹر کیا جاسکے۔ 1906ء سے ہی کانگریس پریس کا طاقتور حلقہ یہی پروپیگنڈا کرتا رہا۔ جب سرسیداحمد خاں نے مسلمانانِ ہند کو کانگریس میں شمولیت سے روکا تب سے اس پروپیگنڈے کی ابتدء ہوگئی تھی۔ بعد میں اس کی زد میں ہر وہ راہنما آیا جس نے کانگریس سے ہٹ کر مسلمانانِ ہند کے حقوق کی بات کی۔ پھر جب قائدِاعظم کی قیادت میں مسلم لیگ ایک طاقتور جماعت کے طور پر ہندوستان کے منظرنامے پر ابھری تو پھر اس پروپیگنڈے میں تیزی آگئی۔ آخرِکار انگریز اور ہندؤں کی کوششوں اور خواہشوں کے برخلاف مسلمانانِ ہند اپنے علٰیحدہ وطن حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے اور پاکستان کا قیام عمل میں آگیا تو یہ پروپیگنڈا اسی طرح جاری رہا اور آج تک جاری ہے۔ بہت سی خفیہ دستاویزات کے منظر پر آجانے کے باوجود، جو ان کے پروپیگنڈے کی نفی کرتی ہیں، یہ پروپیگنڈا ہے کہ چل رہاہے۔

کانگریس اور کانگریس کے ہمنواؤں اور قوم پرست علماء و سیاستدانوں کا آج بھی یہی فرمانا ہے کہ کانگریس اپنے قیام سے ہی آزادی کی جنگ لڑ رہی تھی جبکہ مسلم لیگ کا کام قدم قدم پر کانگریس کی جدوجہد کو سبوتاژ کرنا اور انگریز کی خدمت سر انجام دینا تھا۔ مسلم لیگ نے ہندوستان کی آزادی کے لیے کوئی قربانی نہیں دی جبکہ کانگریس نے آزادی کی جنگ تن تنہا لڑی اور انگریز کو بھگانے میں کامیابی حاصل کی۔ چاہیئے تو یہ کہ مسلم لیگ کے یہ تمام مخالفین و معاندین اس حوالے سے کوئی ثبوت بھی فراہم کرتے۔ کم از کم کانگریس کی ان قراردادوں کے حوالے پیش کر دیتے جن میں ہندوستان کی آزادی کا ذکر کیا تھا۔ مگر کسی میں اتنی اخلاقی جرات نہیں کہ اس حوالے سے کوئی تاریخی شہادت ہی پیش کر دیں۔ مگر پروپیگنڈہ ہے جو چل رہا ہے گوئبلز کے اسی قول پر عمل ہو رہا ہے کہ جھوٹ اتنا بولو کہ سچ لگنے لگے۔

آئیے ذرا تاریخ کے اوراق میں جھانکتے ہیں اور یہ دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ مسلم لیگ اور کانگریس کا قیام کس طرح عمل میں آیا۔ پھر لیگ اور کانگریس نے کب کب کونسی قراردادیں پاس کیں جن کا مقصد ہندوستان کی آزادی تھا۔ اور دونوں جماعتوں نے آزادی کے لیے کب تحریک چلائی اور کیا کامیابیاں حاصل کیں۔مسلم لیگ کے قیام کا تو جو مقصد تھا اس پر بعد میں بات کریں گے پہلے ذرا کانگریس کے قیام کا مقصدبیان کر دیتے ہیں۔ حوالے بھی کسی مسلمان کے نہیں بلکہ خود کانگریس کے ہندو لیڈروں کے زبانی۔

انگریز اپنی حکومت کے استحکام و قیام کے لیے ہندوستانیوں کی ایک جماعت کے ساتھ اتحاد کرنے کے خواہش مند تھے۔ اس مقصد کے لیے 1885ء میں آل انڈین نیشنل کانگریس کی بنیاد رکھی گئی۔ 28دسمبر 1885ءکو بمبئی میں اس کا پہلا اجلاس ہوا جس کی سرپرستی اور صدارت مسٹر ایلن اوڈیان ہیوم نے کی۔ اس اجلاس کی پہلی تقریر میں ڈبلیو سی بینر جی نے کہا۔

“بہت کم لوگ اس حقیقت سے واقف ہیں کہ انڈین نیشنل کانگریس کا قیام کارکوئیس آف ڈفرن اور ان کی مسز ایوا کی حسبِ منشا اس وقت عمل میں آیا جب وہ ہندوستان کے گورنر جنرل کے فرائض سر انجام دے رہا تھا۔ لارڈ ڈفرن نے ایک ریٹائرڈ سول سروس آفیسر مسٹر اے او ہیوم سے کہا تھا وہ تعلیم یافتہ ہندوستانیوں کی مدد سے انڈین نیشنل کانگریس کے نام سے ایک جماعت تشکیل دینے کے لیے کام کریں”۔

کانگریس کے قیام کا مقصد کیا تھا۔ اس کو مسٹر ستیہ پال اپنی کتاب ‘‘کانگریس کے ساٹھ سال” میں یوں بیان کرتے ہیں۔

“مسٹر ہیوم نے کانگریس کی بنیاد رکھی۔ ہندوستان کی بہتری کے لیے نہیں بلکہ برطانوی راج کی بنیادوں کو مضبوط کرنے کے لیے۔ مسٹر ہیوم کا کوئی کتنا ہی شکریہ کیوں نہ ادا کرے کہ انہوں نے ایک ایسی تنظیم کی بنیاد ڈالی جو اپنی کوششوں سے شاہِ مِلوط کے درخت کی طرح پروان چڑھی۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہندوستان اس بات کو ملحوظ رکھے کہ اس کی پشت پر ہندوستان کو بیرونی حکومت کے جوئے سے آزاد کرانے کا مقصد نہ تھا بلکہ مقصد یہ تھا کہ برطانوی حکومت کی جڑیں ہندوستان میں اور مضبوط اور مستحکم ہوں۔ تاجِ برطانیہ سے وفاداری کانگریس کا مذہبی فریضہ تھا تعلیم یافتہ طبقہ برطانوی طرزِ حکومت کا دلدادہ تھا”۔

ہندووں کا کانگریس میں شمولیت کا خاص مقصد کیا تھا۔ اس کی نشاندہی کانگرس ہی کے نامور رہنما پٹا بھائی سیتار اماں اپنی کتاب “تاریخِ کانگریس” میں یوں بیان کرتے ہیں۔

“انڈین نیشنل کانگریس اس بڑے مقصد اور نصب العین کو حاصل کرنے کے لے قائم ہوئی کہ ہندو اپنے سارے اوہام اور خام خیالیوں کو ختم کر دیں۔ اور ہندو مت کی تطہیر کر کے وحدانیت کو عروج تک پہنچانے کا اہتمام کریں اور اسے نئے زمانے کی قومیت کے رنگ میں رنگنے کی کوشش کریں۔ ہندو کانگریس کے پلیٹ فارم سے یہ کام کر سکتے ہیں”۔

کانگریس کا دوسرا سالانہ اجلاس 1886ءمیں کلکتہ میں ہوا۔ اس کی صدارت دادا بھائی نوروجی نے کی۔ اپنے صدارتی خطبے میں انہوں نے فرمایا۔

“کیا یہ ممکن ہے کہ اس قسم کا اجتماع جس کا ہر فرد برطانوی حکومت کی نعمتوں سے واقف ہے کسی ایسے مقصد کے لیے منعقد ہو سکتا تھا جو حکومت کے خلاف ہو۔ اُس حکومت کے جس نے ہم کو یہ سب کچھ عطا کیا ہے۔ ہم کو صاف طور سے اعلان کر دینا چاہیے کہ ہم سر سے پیر تک وفادار ہیں”۔

اسی طرح 1893ءکے سالانہ اجلاس میں سردار دیال سنگھ نے کہا۔

“کانگریس اس ملک میں برطانوی حکومت کی چمکتی ہوئی یادگار ہے۔ ہم اس آئینی دور میں رہنے کا فخر رکھتے ہیں جس کا نعرہ آزادی ہے اور جس کا سب سے بڑا ستون رواداری ہے”۔

پھر 1896ءمیں صدر کانگریس نے خطبئہ صدارت میں فرمایا تھا۔

“اس آفتاب کے نیچے انگریز قوم سے زیادہ ایماندار اور ثابت قدم کوئی قوم موجود نہیں ہے”۔

اسی طرح 1898ء میں مدراس کانفرنس میں مسٹر آنند موہن بوس نے خطبئہ صدارت میں فرمایا۔

“ہندوستان کا تعلیم یافتہ طبقہ انگلینڈ کا دوست ہے نہ کہ دشمن اور اس کارِ عظیم میں فطری قوت سے اس کے ساتھ ہے جو اس کے پیشِ نظر ہے۔”

یہ ہیں قیامِ کانگریس کے مقاصد اور کانگریسی رہنماؤں کی شدید قسم کی انگریز دشمنی کے نمونے۔ پھر بھی فرمان ہے کہ مسلم لیگ کا قیام انگریز کی وفاداری کے لیے عمل میں آیا۔ کیا کوئی مسلم لیگ کے کسی اجلاس کی صدارت کرنے والے رہنما کے انگریزوں کی خدمت میں پیش کیے گئے ایسے جملوں کی مثال پیش کر سکتا ہے؟

فرمان ہے مسلم لیگ کے قیام کا دوسرا مقصد مسلمانوں کے حقوق کا فروغ اور مسلمانوں کے مفادات کی حفاظت کرنا تھا۔ تو کیا یہ جرم تھا۔ اس سےہندؤں کو تو پریشانی ہونی ہی تھی معلوم نہیں اس سے قوم پرست رہنماؤں اور ان کی موجودہ نسل کو کیوں تکلیف ہوتی ہے۔ مسلمانوں سے بہتر کون جان سکتا ہے کہ انگریز کے ہندوستان میں قدم رکھنے اور قابض ہونے سے پہلے یہاں کے مسلمانوں کی معاشی اور معاشرتی حالت کیا تھی۔ اور بعد میں ان کے ساتھ کیا ہوا۔ کس طرح انگریز نے ہندو کے ساتھ مل کر مسلمانوں کو اقتصادی اور عمرانی حوالے سے پیچھے دھکیلا۔ اس کی تفصیل سطور ذیل میں درج کی جاتی ہے۔ مسلمانوں نے ہندوستان کی فلاح و بہبود کے لیے جو کچھ کیا وہ ذرا مسزسروجنی نائیڈو کی زبانی سن لیں۔

“عربوں نے صرف ملک اور زمین فتح نہیں کیے بلکہ دل و دماغ بھی فتح کیے ہیں۔ مسلمان بھائیو! ہمارے خواب و خیال کو حقیقت کا جامہ تمہیں نے پہنایا اور ہمارے افکار و تخیل میں حرکت اور جان تمہیں نے ڈالی۔ آپ جانتے ہیں کہ مسلمانوں نے دنیا میں علوم و فنون کی کیا خدمات ِجلیلہ کی ہیں۔ انہوں نے ہندوؤں کی طرح بخل روا نہیں رکھا”۔

تجارت اورنگزیب کے وقت اس درجہ کمال کو پہنچ چکی تھی کہ ہندوستان کا بنا ہوا کپڑا یورپ کے بازاروں میں اس طرح چھایا ہوا تھا جس طرح آج جاپانی و چینی مصنوعات۔ مسٹر ڈینئل ڈفو 1708ء میں لکھتا ہے۔“اہلِ انگلستان ہندوستان کے بنے ہوئے کپڑوں کی خواہش کرتے ہیں۔ ہندوستان کی چھینٹیں اور چھپے ہوئے کپڑے پہلے فرش وغیرہ بنانے کے کام آتے تھے مگر اب ہمارے ملک کی شریف زادیاں تک ان کو پہننے لگی ہیں۔ اوروں کا تو ذکر کیا خود انگلستان کی ملکہ بھی چائنہ سلک اور ہندوستان کی چھنٹیس پہننا پسند کرتی ہیں۔ اس وقت چاروں طرف ہندوستان کا کپڑا نظر آتا ہے”۔اس زمانے کی تعلیمی حالت خود گاندھی کی 1920ء کی تقریر سے معلوم ہو جاتی ہے۔

انہوں نے بنارس میں کہا۔“برطانوی حکومت سے قبل ملک میں تیس ہزار مدرسے تھے۔ جن میں دو لاکھ طالبہ تعلیم پاتے تھے۔ آج حکومت دفتری بمشکل تمام چھ ہزار مدرسوں کا حوالے دے سکتی ہے”۔سلطنتِ مغلیہ کے آخری دور کے متعلق لارڈ میکالے کا مندر جہ ذیل نوٹ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ طوائف الملوکی کے زمانے میں بھی ہندوستان کی مالی حالت کیسی تھی۔

“باوجود مسلمان ظالموں اور مرہٹہ لٹیروں کے مشرقی ممالک میں صوبہ بنگال کو ارم سمجھا جاتا تھا۔ اس کی آبادی بے حد و غایت بڑھتی رہتی تھی۔ غلہ کی افراط سے دور دراز کے صوبہ جات پرورش پاتے تھے۔ اور لندن اور پیرس کے اعلیٰ خاندانوں کی بیبیاں یہاں کے کرگھوں کے نازک ترین کپڑوں میں ملبوس رہتی تھیں”۔

بقول مرمدار بنگال کے جگت سیٹھوں کا کاروبار بینک آف انگلینڈ کے برابر پھیلا ہوا تھا۔ اور بقول کپتان الگزنڈر ہمائن سورت کےایک تاجر عبد الغفور نامی کا سرمایہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے برابر یعنی اربوں روپیہ تھا۔ انہی وجوہات سے ہندوستان سونے کی چڑیا کہلاتا تھا۔ پھر آپس کی چپقلشوں، ہندو کی اندرونی اور انگریز کی بیرونی سازشوں کے نتیجے میں نہ صرف سیاسی اقتدار مسلمانوں کے ہاتھ سے جاتا رہا بلکہ معاشی اور معاشرتی حوالے سے بھی مسلمان پستی کے عمیق گڑھے میں جا گرے۔مسلمانوں کی حکومت کو تباہ کرنے میں جو کردار ہندوؤں نے ادا کیا اس کی جھلک ہندو اخبار ملاپ کی زبانی سن لیں۔

“لارڈبرکن ہیڈ اپنی تلوار کے نشہ میں کہتے ہیں کہ ہندوستان کے لوگ آپس میں لڑ رہے تھے تو انگریزوں نے آ کر حالت سدھار دی۔ لیکن ہم یہ کہتے ہیں کہ اس وقت ہندوستان کے لوگ ہمیشہ کے لیے پرامن زندگی بسر کرنے کے لیے آخری جدو جہد کر رہے تھے۔ ہندو مسلمانوں کی باہمی لڑائیاں ختم ہونے والی تھیں۔ ہندو ہر جگہ فتح یاب ہو چکے تھے اور ہندوستان میں ہندو راج کی ستھاپنا ہو رہی تھی۔ اگر اس وقت انگریز درمیان میں نہ کودتے تو یقیناً آج ہندوستان دنیا بھر کے لیے بے نظیر سلطنت ہوتا۔ لیکن کچھ ہندووں اور کچھ مسلمانوں کی غلطیوں یا یوں کہنا چاہیے کہ سیاسی گناہوں کی بدولت غلامی ہماری قسمت میں لکھی تھی اور گناہوں کا پھل بھگت رہے ہیں”۔

یعنی اگر انگریز نہ آتا تو ہندوستان میں ہندو راج قائم ہو چکا ہوتا۔جب ہندوستان میں انگریز کا راج قائم ہو گیا تو انہوں نے یہی کوشش کی کہ ہندوؤں کو ملک کی زندگی کے ہر پہلو میں آگے لایا جائے۔ اس پالیسی کے تحت ہندوستان کی تجارت، صنعت، زمینداریوں اور سرکاری ملازمتوں سے مسلمانوں کو محروم کرنے کے باقاعدہ منصوبے بنائے گئے اور ان کی جگہ ہندوؤں کی ہمت افزائی حکومت کی پالیسی کا اہم جزو قرار پایا۔ سوا سو سال کی مسلسل کوششوں کا یہ نتیجہ ہوا کہ بنگال میں لارڈ کارنوائس کے جاری کردہ بندو ستِ استمراری کے ذریعے کاشتکار زمیندار ہو گئے اور مسلمانوں کی زمینداریاں ختم ہو گئیں۔ ہندوستان کے دوسرے حصوں میں مہاجنوں کی قانونی ہمت افزائی کی وجہ سے مسلمانوں کی بڑی بڑی زمینداریوں کا بیشتر حصہ مہاجنوں کے سود در سود کی نذر ہو گیا۔ تجارت اور صنعت میں مسلمانوں کی جگہ ہندو آگے آگئے اور سرکاری ملازمتوں پر ہندوؤں کی اجارہ داری قائم ہو گئی۔ تعلیم کے میدان میں جو کچھ ہوا اس کا ذکر “ہندوستانی مسلمان”کے مصنف ڈبلیو ڈبلیو ہنٹر نے یوں بیان کیا۔

“سکولوں کی زبان ہندی اور ماسٹر ہندو مقرر کیے جاتے تھے۔ اس لیے مسلمان خود بھی ان سکولوں سے پرہیز کرتے تھے۔ نظامِ تعلیم مقرر کرنے میں ایسی سکیموں کو پیشِ نظر رکھا جاتا تھا جن سے مسلمان زیادہ فائدہ نہ اٹھا سکیں”۔

پنجاب مسلم اکثریت کا صوبہ تھا۔ اس کے متعلق محکمہ تعلیم کے ایک آفیسر کی رپورٹ بتاتی ہے۔

“ایک طرف تو مسلم استادوں کی تعداد تعلیم کے میدان میں گھٹائی گئی۔ دوسری طرف جو انگریزی سکول صدر مقامات میں قائم کیے گئے وہ بالکل غیر مسلموں کے ہاتھوں میں دے دیے گئے۔ چنانچہ ضلع سکولوں کے ہیڈ ماسٹر کی فہرست سے معلوم ہوتا ہے کہ 23 ہیڈ ماسٹروں میں سے صرف تین مسلمان تھے۔ گورنمنٹ کی یہ پالیسی اس قدر کامیاب ہوئی کہ پچیس سال کے عرصہ میں حالات بالکل بدل گئے۔ اور ان سے تعلیم کا عنصر بالکل خارج ہو گیا۔ چنانچہ1883ء سے 1890ء تک کے نقشوں سے واضح ہے کہ معائنہ کنندگان اور استاد سب کے سب ایک مذہب کے لوگ یعنی ہندو ہو گئے۔ کبھی کبھی کسی مسلمان کا نام شاذ و نادر نظر آتا تو وہ محض اس وجہ سے کہ اس وقت صوبہ سرحد بھی پنجاب کے ماتحت تھا اور وہاں ہندو استاد جانا پسند نہ کرتے تھے۔ اس لیے مسلمان وہاں بھیجے جاتے تھے”۔

اسی طرح مدراس گورنمنٹ نے بھی1873 ء میں تسلیم کیا کہ

“موجودہ طرزِ تعلیم کا قالب ہندوؤں کی ضروریات کے مطابق بنایا گیا تھا۔ اور مسلمانوں کو اس بارے میں اس قدر گھاٹے میں رکھا گیا تھا کہ سکولوں میں مسلمان بچوں کا کم تعداد میں ہونا حیرت انگیز امر نہیں ہے بلکہ ان حالات میں ان کا وجود ہی حیرت انگیز ہے”۔یہ تو تعلیم کی حالت تھی۔ سرکاری ملازمتوں، زمینداریوں اور صنعتوں میں بھی مخصوص طریقے سے ہندوؤں کو آگے لایا گیا۔ انگریز کی مسلم کش پالیسی کا احوال ذرا مشہور ہندو مضمون نگار میجر ڈی باسو کے قلم سے پڑھ لیں۔ وہ لکھتا ہے۔“حقیقت میں لارڈ النبرا گورنر جنرل 1842ء ہی میں اس پالیسی کا آغاز کر چکا تھا۔ اس کا حکم تھا کہ ہلالی مسلمانوں کو ہمیشہ نیچا دکھاتے رہو۔ انہیں ہرگز ابھرنے نہ دو۔ کسی طرح بھی ان کی ہمت افزائی نہ کی جائے”۔

یہی مضمون نگار لکھتا ہے کہ جب کابل اور غزنی کی فتح پر لارڈ النبرا نے شملہ سے ڈیوک آف ولنگٹن کو لکھا۔

“مجھے اچھی طرح ثابت ہو گیا ہے کہ وہ خاص لوگ جن کی گذر ہی ہماری روٹیوں کے ٹکڑوں پر ہے وہ دل سے ہمارے بدخواہ تھے۔ بخلاف اس کے ہندو ہماری فتح پر اظہارِ شادمانی کر رہے ہیں۔ جب ہمیں مسلمانوں کی دشمنی کا یقین کامل ہے جن کی تعداد10/1 ہے پھر کیوں نہ ہم ہندوؤں کا ساتھ دیں جن کی تعداد 10/9 ہے اور جو ہمارے وفادر رہے”۔

پھر وہ مضمون نگار بتاتا ہے کہ 18 جنوری 1842 ءکو لارڈ النبرا نے ڈیوک آف ولنگٹن کو لکھا۔

“میں اپنے اس عقیدے کے خلاف کیسے آنکھیں بند کر لوں کہ مسلمانوں کی یہ نسل دیوانہ وار ہماری دشمن ہے اور اس لیے ہماری سچی پالیسی یہ ہے کہ ہندوؤں کے ساتھ مہربانی کی جائے”۔

یہ تو حالات تھی 1857ء سے پہلے کی۔ 1857ء کی جنگِ آزادی ایک کوشش تھی انگریز کے چنگل سے نکل کر مسلم اقتدار کی بحالی کی۔ مگر اس وقت مسلم قوم میں اتنی سکت نہ رہی تھی کہ وہ انگریز کا مقابلہ کر سکتی۔ اگرچہ بعض ہندوؤں نے بھی اس موقع پر مسلمانوں کے شانہ بشانہ لڑائی میں حصہ لیا تھا مگر اصلاً یہ مسلمانوں کی ہی تحریک تھی۔ اس تحریک کی ناکامی کے بعد جن مظالم کا نشانہ مسلمان بنے اس کی مثالیں تاریخ میں کم ہی ملتی ہیں۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. نہایت عمدہ جناب آپنے purely academic اور scholastic کی سطح پر رکھ کر تجزیہ کیا ہے کہیں سے بھی کسی تعصب کی جھلک اور smell محسوس نہیں ہوئی اسی لیۓ تحریر میں تاثیر کا عنصر نمایاں ہے شاد رہیں آباد رہیں۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: