پاکستان تحریک انصاف: ایک تجزیہ — محمد خان قلندر

2

پاکستان تحریک انصاف، اب ملک میں بلاشبہ نُون لیگ کے مقابل ایک بڑی پارٹی بن چکی ہے. ممکنہ طور پر اس سال کے الیکشن میں بڑا مقابلہ ان دو پارٹیوں کے درمیان ہی ہوگا۔ اب الیکشن کا سال شروع ہو چکا ہے تو یہ ضروری ہے کہ پی ٹی آئی کا بطور سیاسی پارٹی غیر جانبدارانہ تنقیدی جائزہ لیا جائے. اس کی ہیئت ترکیبی کو دیکھا جائے اور اب تک کی اس کی کارکردگی کو پرکھا جائے تاکہ عوام کو ووٹ دیتے وقت یہ فیصلہ کرنے میں آسانی ہو کہ وہ ایسی پارٹی کو ووٹ دینے جا رہے ہیں جو ملک مسائل سے آگاہ ہے اور عوام کی مشکلات کے ادراک کے ساتھ انہیں حل کرنے کی اہل ہے۔

پی ٹی آئی کو پانچ سال قبل لاہور میں یادگار پاکستان کے کامیاب ترین جلسے نے مہمیز دے کر عوامی مقبولیت کے عروج پر یکدم پہنچا دیا۔ اس کے بعد تواتر سے کئے جلسوں سے پچھلے الیکشن میں بھی پارٹی کے کلین سویپ کرنے کی فضا بن چکی تھی. لیکن نتائج حسب توقع نہ آئے۔ نُون لیگ نے پنجاب کی حد تک الیکشن مینیج کر لئے. ساتھ ہی پی ٹی آئی کو کے پی تک محدود کردیا،  مزید پیپلز پارٹی از خود ہی سندھ تک سُکڑ کر رہ گئی. متحدہ کی سندھ کے شہری علاقوں تک گرفت بدستور مضبوط رہی، نُون لیگ نے پنجاب میں سادہ اکثریت لے لی اور قاف لیگ سے ٹوٹنے والے آزاد ممبران کو پارٹی میں شامل کر کے پنجاب میں حتمی اکثریت سے اور مرکز میں جے یو آئی ایف کے ساتھ دیگر کو ملا کے دو تہائی سے زیادہ اکثریت کے ساتھ حکومت بنا لی۔

پی ٹی آئی کو پانچ سال قبل لاہور میں یادگار پاکستان کے کامیاب ترین جلسے نے مہمیز دے کر عوامی مقبولیت کے عروج پر یکدم پہنچا دیا۔ اس کے بعد تواتر سے کئے جلسوں سے پچھلے الیکشن میں بھی پارٹی کے کلین سویپ کرنے کی فضا بن چکی تھی. لیکن نتائج حسب توقع نہ آئے۔

پولیٹیکل سائینس یا میدان سیاست کے ادنی درجے کے طالب علم کو بھی آسانی سے یہ بات سمجھ آ سکتی ہے چونکہ نواز شریف اور شہباز شریف نے پاکستان کے فوجی ڈکٹیٹرجنرل ضیا الحق کی گود میں پرورش پائی ہے چنانچہ ان کا طرز حکومت بھی عین اس کی طرح آمرانہ ہے یہ ذاتی مفاد اور عناد اور سرمایہ دارانہ استبداد کے لئے اپنے استصواب سے حکومت حاصل کرتے اور چلاتے ہیں۔

یہ ریاستی نظام اور آئینی انتظام کی بجائے، دفاع، خزانہ اور خارجہ امور پر بھی ذاتی تسلط کو ترجیح دیتے ہیں. ان کو عوامی مسائل اور ملکی معاملات سے نہ غرض ہوتی ہے اور نہ ان کی سمجھ، ان کا پروگرام ،ترقی کے نام پر میگا پراجیکٹس بنا کے سرمایہ کاری کے لئے قرضے حاصل کرنا اور اس سرمایہ کاری سے اپنے اور اپنے حواریوں کے لئے منافع اور مالی فوائد لینے کے مواقع پیدا کرنے تک محدود رہتا ہے. اس کے لئے یہ ملک کے تمام اداروں پر اپنی ذاتی حاکمیت مسلط کرتے ہیں.ان سب امور سے عوام کی توجہ ہٹائے رکھنے کے لئے یہ کسی نہ کسی ادارے کو ولن بنا کے اس کے خلاف مہم جوئی سے ملک میں انتشار پھیلائے رکھتے ہیں. غور طلب پہلو یہ ہے کہ نُون لیگ نے پنجاب میں جس حکمت عملی سے الیکشن جیتا اس کے عین برعکس کے پی میں پی ٹی آئی کی الیکشن اور حکومت بنانے میں نہ مخالفت کی اور نہ مزاحمت سامنے آسکی۔

پچھلے الیکشن کے نتائج کو جب پی ٹی آئی نے چیلنج کیا تو میاں برادران کے ہاتھ نادر موقع آگیا. عمران خان کی مقبولیت کو اسی کے خلاف استعمال کرنے کا، تب شروع کے دو سال دھاندلی کے خلاف جلسے جلوس اور دھرنے کے شور شرابے میں گزر گئے. اس دوران ڈی آئی خان جیل ٹوٹنے اور پشاور میں اے پی ایس کے سنگین واقعات کے پی میں ہوئے، بڑھتی دہشت گردی سے تنگ آ کر فوج نے جنرل راحیل کی قیادت میں ضرب عضب شروع کرنے کے بعد نواز شریف کو نیشنل ایکشن پلان منظور کرانے پر مجبور کیا. تب کہیں جا کر دھاندلی والا قصہ دب گیا، دھرنا بھی ختم ہو گیا اور پی ٹی آئی وقتی طور پر فارغ ہو گئی.

اب ملک اور عوام کے حقیقی مسائل پر توجہ مبذول ہونے لگی، فوج کی طرف سے ایکشن پلان پر سول حکومت کو اپنے حصے کا عملی کام کرنے کا دباؤ بڑھنے لگا. اسی دوران  میاں صاحب کے ہاتھ پانامہ آ گیا، اس کیس کو روٹین کی عدالتی کاروائی کے حوالے کرنے کی بجائے نواز شریف نے دو مرتبہ اس موضوع پر قوم سے خطاب کرکے اسے خوب ہوا دی. ساتھ ہی پارلیمان میں رونا دھونا ہوا، اور عمران خان واپس جلسے جلوس کرنے میں لگ گئے، اب کیس سپریم کورٹ میں پہنچ گیا. میاں صاحب اس کی وجہ سے مرکز نگاہ تھے، بیماری کی خبریں میڈیا سے پھیلائی گئیں. اس دوران مریم صفدر کی بطور جانشین رونمائی ہوئی۔

اس وقفے کے دوران پی ٹی آئی نے اپنے تنظیمی امور کی طرف توجہ دی۔ پارٹی الیکشن کرائے گئے، لیکن اس کے نتیجہ میں پارٹی اسٹرکچر کی کمزوریاں نمایاں ہوئیں اور جسٹس وجیہ الدین پارٹی سے فارغ ہو گئے۔
بلدیاتی الیکشن میں پنجاب اور سندھ میں نتائج پچھلے جنرل الیکشن کے تناسب سے بہتر نہ ہو سکے، ضمنی الیکشن جتنے ہوئے، ان میں چند ہزار ووٹوں میں اضافے پر اکتفا کیا جاتا رہا، پارٹی تا حال الیکشن جیتنے کے کٹنگ ایج سے محروم ہے۔

اب عملی طور پر  الیکشن لڑنے کی تیاری کی ضرورت ہے، پی ٹی آئی کو اپنے دامن میں کافی مثبت کارکردگی ہونے کے ثبوت بھی جمع رکھنے ہوں گے، صرف پیپلز پارٹی اور دوسری جماعتوں سے لڑھکنے والے سیاست کاروں کو جمع کرنے سے کام نہیں چلے گا.

پانامہ کیس میں نواز شریف اگرچہ خود نااہل ہو گئے، لیکن اپنے موقع پرستی کے ہنر سے وہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے. پنامہ کو ہوا دینے کا بنیادی ہدف ‘انٹرنیشنل ایلیٹ کلب’ میں متعارف ہونا اور دنیا کے امیر ترین لوگوں میں شمولیت تھی. اب وہ مقصد بخوبی پورا ہو چکا، مریم کو بطور جانشین لانچ کر دیا گیا، مالیاتی مقدمہ سیاسی بن چکا. ملک کے دو اہم ترین اور طاقتور اداروں فوج اور عدلیہ کو چیلینج کر کے خود کو پاکستان کی اہم ترین اور طاقتور ترین شخصیت مشہور کرا لیا۔

اس ساری مہم جوئی میں عمران کو کسی نہ کسی طرح اپنے مقابل رکھا گیا، اور اس کی مقبولیت کو اداروں کے طفیلی ہونے کی وجہ کا تاثر پیدا کیا گیا۔ عمران خان نادانستہ طور ہی سہی لیکن نواز شریف کی مرضی کی پچ پر ہی کھیلتے رہے. پی ٹی آئی کو تو اس مدت میں اپنی تنظیم، منشور، تھنک ٹینکس کے قیام، خارجہ، خزانہ، سمیت ملکی معاملات پر اپنی پالیسی مرتب کر لینی چاہیئے تھی. بین الاقوامی امور پر اپنا بیانیہ تیار کرنا چاہئے تھا. الیکٹورل سسٹم کو سمجھ کے اس کے مضمرات کے مطابق اب تک ہر حلقہءانتخاب میں مرکزی اور صوبائی سیٹوں کے لئے وہاں کے زمینی حالات کے مطابق الیکشن سکیم ترتیب دے لینی چاہیئے تھین بلکہ نوجوان ورکرز کی توانائی کو چینلائز کر کے ممکنہ دیگر امیدواروں کے کوائف، انکی گروپ بندی، اور ان سے ممکنہ مقامی طور پر اتحاد اور الحاق کا جائزہ لے لینا چاہیئے تھا، لیکن ایسا کوئ کام ہوا ہے اور نہ ہوتا ہوا نظر آتا ہے.

ہمیں ڈر ہے کہ چکوال کے ضمنی الیکشن میں، بہترین تنظیم اور ورکرز کے باوجود اگر پی ٹی آئی الیکشن نہ جیت پائی تو یہ اگلے الیکشن کے لئے بہت برُا شگون ثابت ہو گا. جماعت جو پورے ملک میں الیکشن جیت کر حکومت بنانا چاہتی ہو تو اس کا پروگرام بھی ملکی مسائل کے حل پیش کرنے تک وسیع ہونا چاہیئے، جس کی عملیت  ظاہر ہو اور ممکن بھی نظر آئے۔

ہر معاملے پر سڑکوں پے نکل کے احتجاج کی دھمکی دینا، جلسے جلوس اور ابھی تک پروگرام کا ہدف نواز شریف، شہبازشریف آصف زرداری اور فضل الرحمن کو للکارنا، ان پر مسلسل تنقید، ان کو میدان سے باہر رکھنے کی کوشش، الیکشن لڑنے کا ایک محدود حربہ تو ہو سکتا ہے لیکن عملی طور پر الیکشن لڑنے کے لوازمات کے ادراک اور انتظام کا نعم البدل نہیں بن سکتا.

اب عملی طور پر  الیکشن لڑنے کی تیاری کی ضرورت ہے، پی ٹی آئی کو اپنے دامن میں کافی مثبت کارکردگی ہونے کے ثبوت بھی جمع رکھنے ہوں گے، صرف پیپلز پارٹی اور دوسری جماعتوں سے لڑھکنے والے سیاست کاروں کو جمع کرنے سے کام نہیں چلے گا. ابھی وقت ہے پارٹی کی بالغ نظر قیادت کو چاہئے کہ  سنجیدہ اور مرتب کارگزاری، مربوط نظم اور جامع پروگرام ترتیب دینے پر توجہ دیں۔ محنت کریں. ووٹ ہر حلقے کے لوگ دیں گے، میڈیا پر بیٹھے دانشوروں کے کہنے اور سوشل میڈیا پے لکھی اور چھاپی جانے والی تضحیکی اور تنقیدی پوسٹس کی گنتی نہی ہو گی. ووٹ کی پرچیاں گنی جائیں گی اور اس میں کافی کچھ اوپر نیچے کئے جانے کے امکان ختم نہی ہوئے. اکیلے عمران خان کی قد آور شخصیت کل حکومتی امور چلانے کی گارنٹی نہی ہو سکتی ہے۔

اس کے لئے بہترین مربوط ٹیم چاہیئے، جو پہلے سے موجود ہو اور بے حد منظم ہو۔ پاکستان تحریک انصاف: ایک تجزیہ

Leave a Reply

2 تبصرے

  1. ہمیں ڈر ہے کہ چکوال کے ضمنی الیکشن میں، بہترین تنظیم اور ورکرز کے باوجود اگر پی ٹی آئی الیکشن نہ جیت پائی تو یہ اگلے الیکشن کے لئے بہت برُا شگون ثابت ہو گا. جماعت جو پورے ملک میں الیکشن جیت کر حکومت بنانا چاہتی ہو تو اس کا پروگرام بھی ملکی مسائل کے حل پیش کرنے تک وسیع ہونا چاہیئے، جس کی عملیت ظاہر ہو اور ممکن بھی نظر آئے۔

  2. اب عملی طور پر الیکشن لڑنے کی تیاری کی ضرورت ہے، پی ٹی آئی کو اپنے دامن میں کافی مثبت کارکردگی ہونے کے ثبوت بھی جمع رکھنے ہوں گے، صرف پیپلز پارٹی اور دوسری جماعتوں سے لڑھکنے والے سیاست کاروں کو جمع کرنے سے کام نہیں چلے گا.

Leave A Reply

%d bloggers like this: