اے طفل خود معاملہ قد سے عصا بلند (ایک چھوٹی سی محققہ کی بڑی سی کتاب) : عزیز ابن الحسن

2
  • 166
    Shares

اردو لسانیات پہ تحقیقی کتاب پر ایسے اسلوب میں تبصرہ کہ عام قاری خود کو کتاب کے مطالعہ پہ مجبور محسوس کرے کچھ ہمارے عزیز ابن الحسن کا ہی خاصہ ہے، ذرا دیکھئے:


کبھی کبھی یوں ہوتا ہے کہ پاؤں پاؤں چلنے والا ایک بچہ شوخی سے اپنی جسامت سے بڑا کوئی کھلونا کوئی فٹبال کوئی ڈبہ اٹھا لیتا ہے اور بوجھوں لرزتے قدموں سے چلتا ہوا آکے یہ شے وہ آپکی جھولی میں ڈال دیتا ہے۔ بچے کی معصومیت بھری ادا پرآپ خوش بھی ہوتے ہیں آپکو اس پہ پیار بھی آتا اور آپ کےدل میں اسکے لیے وفورِ محبت سے دعائیں بھی نکلتی ہیں مگر سب سے بڑھ کے آپکو حیرت اس بات پہ ہوتی ہے کہ اس ننھی سی جان نے یہ سب کیسے کر لیا؟

کچھ ایسی ہی کیفیت میری اس وقت ہوئی جب ایک روز یونیورسٹی کے کارندے نے ڈاک سے آیا ایک وزنی سا لفافہ میرے سامنے لاکر میز پر رکھا میں نے اسے جب کھولا تو اس میں سے ”اردو میں لسانی تحقیق” عنوان کی ایک مضبوط کاٹھ کی لحیم و حجیم کتاب برآمد ہوئی جس پر مصنف کے طور پر فائزہ بٹ کا نام تھا۔ اگر آپ نے آج کی فائزہ بٹ کو دیکھا ہے تو قیاس کیجیے آج سے سات آٹھ برس قبل کی فائزہ کتنی سی رہی ہوگی۔

سال ۲۰۱۰ میں فائزہ پنجاب یونیورسٹی اوریئنٹل کالج میں میری PhD کی اسٹوڈنٹ تھی۔ ایک چھوئی موئی سی چپ چپ رہنے والی “سنجیدہ خاتون” نما لڑکی، جو خود تو کم کم بولتی مگر جس کی آنکھیں زیادہ باتیں کرتی تھیں۔ میں جب جب فائزہ کو دیکھتا میرے دماغ کے پردے پر ماضی کی ہندوستانی فلم ہیروئین سائرہ بانو رقص کرنے لگتی تھی۔ سائرہ بانو سے فائزہ کی حیرت انگیز مشابہت تھی۔ بہت بعد میں میں نے ایک دفعہ فائزہ سے اس کا ذکر کیا تو اس نے بتایا کہ ہاں اکثر ایسا ہی سمجھا جاتا تھا:

“دبئی میں سکول میں سب اور محلے میں آنٹیاں بھی یہی کہتی تھیں…کلاس تھری میں تھی جب سب سے پہلے اپنی سینیئرز سے یہ نام سنا میں نے اپنے لیے۔۔۔ انھوں نے مجھے گھیرے رکھا، دیکھتی اور پیار کرتی رہیں۔۔ گھر آ کر امی سی پوچھا یہ سائرہ بانو کون ہے؟ ہنستے ہوئے بولیں وہ تمہاری ایک ہم شکل ہے”!

فائزہ کم گفتار تو تھی مگر مشکل مشکل موضوعات پر اسائمنٹ بنانے کو فوراً تیار ہو جاتی تھی لیکن مجھے یہ تب بھی اندازہ نہیں تھا کہ یہ منحنی سی بالڑی ایک دن لسانی تحقیقات جیسے ادق موضوع کو اپنی جولان گاہ بنائے گی۔

ہم جب آج کے PhD طلبا کے مقالوں کے موضوعات دیکھتے ہیں تو وہ بڑی تندہی اور ثابت قدمی سے ‘‘فلاں کے فلاں میں فلاں’’ کے سے ‘‘ساختیاتی فارمولائی’’ انداز کے خطوط پر چل رہے ہوتے ہیں۔ سینکڑوں میں سے کوئی ایک آدھ ہمت والا ہی ان پِٹے راستوں سے باہر نکلنے کی ہمت کرتا ہے۔ ان طلبا کو مقالے کیلیے اگر کوئی “مسئلہ اساس’ عنوان سجھایا جائے تو پہلے تو تعلیم حاصل کرکے ملک و قوم کی خدمت کرنے والا ان کا جذبہ فوراً ماند پڑتا ہے اور تھوڑی دیر بعد کسی دوسرے استاد کی نگرانی میں کام کرنے کی اجازت طلب کرنے لگتے ہیں۔ لیکن ہماری فائزہ بٹ جو ابتدا ہی سے مشکل پسند طبیعت کی مالک تھی، یہاں بھی ایک نئی راہ پر چلی۔ میرے اعتبار سے یہ جوکھم کا راستہ تھا مگر فائزہ نے لسانی تحقیق کے اسی اوبڑ کھابڑ راستے پر چلنا پسند کیا جو ایک اعتبار سے سعئ نامشکور کے ضمرے میں آتا ہے۔ آپ اس موضوع پر جتنی بھی عرق ریزی کر لیں اس بحر کا ایک اور شناور اٹھتا ہے اور بڑی آسانی سے یہ کہہ دیتا ہے کہ اس کتاب میں فلاں فلاں منابع و مسائل کو تو دیکھا ہی نہیں گیا، فلاں نکتے کی گرہیں کھولنے میں فلاں کمی رہ گئی ہے وغیرہ۔ مطلب آپ نے جو سیروں خون خشک کیا ہوتا ہے اسکی تو داد نہیں لیکن جو آپ سے صرفِ نظر ہوگیا اسپر بیداد ضرور ہوگی۔

مگر میں نے ‘‘اردو میں لسانی تحقیق’’ کے موضوع پر اس اہم کام کو ایسے نہیں دیکھا۔ مجھے تو اس کتاب نے یہ بتایا کہ مجھے کیا کیا نہیں آتا اور جو کچھ نہیں آتا اسے سمجھنے میں یہ کتاب میری کیسے مدد کرتی ہے اور جو کچھ اس کتاب میں نہیں ہے اسے جاننے کے لیے مجھے کن کن دوسرے مآخذ یا ماہرین سے رجوع کرنا چاہیے۔

کسی بھی زبان میں صفِ اول کے ایسے نقاد اور محققین، جنکی کاوشوں سے کسی میدان میں نئی بصیرتیں عام ہوں، ہمیشہ کم ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا کام بھی زیادہ تر متخصصین اور ماہرین کیلیے ہوتا ہے۔ یہ لوگ یا تو فکر کی نئی راہیں کھولتے ہیں یا پرانے ثقہ افکار و اقدار اور خزائن کو مخدوش و بے اعتبار کرنے والی کاوشوں کے پوشیدہ عزائم و مضمرات کا پردہ چاک کرکے راہِ رفتگان کے آثار محفوظ کرتے ہیں، ان کے کارناموں کی عصری معنویت اجاگر کرتے ہیں اور عصری مسائل پر اپنی اقدار کی روشنی میں کلام کرتے ہیں۔ مگر انہی کے پہلو بہ پہلو وہ محققین بھی ہوتے ہیں جو مستند علم و تحقیق کو معیاری صحت کے مقام پر رکھتے ہوئے اس میں سے غیر ضروری مباحث کی کاٹ چھانٹ کرتے ہیں۔ ایک خاص زاویۂ نظر سے اس کی تنقیہہ کرتے ہیں اور اسے اس شعبۂ علم کے عام لوگوں کے لیے اس طرح یکجا کرتے ہیں کہ وہ بہت زیادہ تیکنیکی مشکلات سے بچ بچاکر بہ آسانی گوہرِ مقصود تک پہنچ جائیں۔ فائزہ بٹ نے اس کتاب میں لسانی تحقیق سے دلچسپی رکھنے والے عام متلاشیوں کیلیے یہی کام کیا ہے۔

آپ ذرا اس کتاب کی فہرست ابواب کو دیکھیے تو اندازہ ہوجائے گا کہ اسمیں لسانی تحقیق کے کن کن پہلوؤں پر کلام کیا گیا ہے۔ اُردو لسانیات کے حوالے سے ماہرین لسانیات کے قابل قدر تحقیقی مضامین و مقالات ہمیں مختلف کتب، رسائل اور جرائد میں مل جاتے ہیں۔ لیکن لسانیاتی تحقیق کے حوالے سے کوئی بھرپور قسم کا کام ہمیں کہیں یکجا نہیں ملتا۔
یہیں پر فائزہ بٹ کے اس کام کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔

یہ کتاب پانچ ابواب پر مشتمل ہے. پہلے باب میں مصنفہ نے زبان کے آغاز و ارتقاء، زبان میں ہونے والی تبدیلیوں،زبان کے سائنسی مطالعات، لسانیات کا تعارف و وضاحت اور دیگر علوم اور لسانیات کے تعلق سے جنم لینے والے نئے علوم کا تفصیلی تعارف پیش کیا ہے۔

باب دوم بہ عنوان “دنیا کی زبانیں”، کے دو حصے ہیں۔ پہلے حصے میں دنیا کی دیگر زبانوں کی خاندانی درجہ بندی کو زیر بحث لا کر زبانوں کی صوری تقسیم اور زبانوں کی نسلی تقسیم کے اجزا کی وضاحت کی گئ ہے۔ جبکہ دوسرے حصے میں ہند آریائی زبانوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے اور اس کی باقاعدہ اجزا بندی کے ذریعے آریاؤں کی ہند آمد، ہند آریائی زبان کے ارتقاء اور عہد قدیم، وسطی اور عہد جدید کا منظر نامہ تشکیل دیا گیا ہے۔ ہند آریائی زبانوں کے ارتقائی جائزے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کا بنیادی ڈھانچہ ایک ہے لیکن اس کے رُوپ ایک سے زیادہ ہیں۔

باب سوم میں اُردو میں مستشرقین کی لسانی تحقیقات کو چار حصوں میں بیان کیا گیا ہے. اُردو زبان اور اہل یورپ، اُردو کے مستشرق لغت نویس، اُردو کے مستشرق قواعد نگار اور اُردو کے مستشرق ماہرین لسانیات کے تحقیقی جائزے کے بعد ان کی قدرو منزلت کا تعین کیا گیا ہے۔

باب چہارم میں اُردو زبان کی ابتداء اور ارتقاء کے مباحث کو شامل کیا گیا ہے۔ اس میں فائزہ نے عمومی نظریات، سائنسی نظریات اور لسانی تحقیق پر مبنی جدید نظریات اور ماہرین کے اختلافی بیانات سے اس امر کا تعین کیا ہےکہ اردو زبان کاماخذ کون سی زبان ہے، اس کی ارتقائی کڑیاں کیا ہیں اور یہ امر کن دلائل سے مبرہن ہوتا ہے۔

باب پنجم میں قواعد، اس کی اقسام اور اُردو میں قواعد نگاری کے مباحث ہیں اور اسی باب کے دوسرے جز میں مختلف اجزا کے ذریعے لغت اور لسانیات، لغت نویسی کی مختصر روایت اور اردو میں لغت نویسی کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔
کتا ب کے آخری حصے میں “پایانِ کار” کے زیرِ عنوان مصنفہ نے اس طویل سفر کا مجموعی جائزہ لکھا ہے، لیکن فائزہ چونکہ ایک محتاط محققّہ ہے لہٰذا وہ جانتی ہے کہ ہزار بادہ ناخوردہ در رگِ تاک است۔

پہلے پہل مجھے جب فائزہ کی اس کتاب کا علم ہوا تو میں سمجھا کہ آجکل کے مروّج دستور کےمطابق شاید اس نے بھی ادھر ادھر سے چند مقالات پکڑ کر بےربط طور پر مرتّب کردیے اور اپنے کھاتے میں ایک کتاب ڈلوا لی ہے مگر میں نے جب اتنی باریک بینی سے لسانیاتی تحقیق کا جائزہ لیتی یہ مربوط اور “صحت مند” کتاب دیکھی تو مجھے حیرت ہوئی کہ اس دھان پان سی “محققّہ” نے اپنے وزن سے بھی بڑا یہ کام کیسے کر لیا ہے۔

کہتے ہیں کہ پونجی وادی سماج میں اصل زر سے سود زیادہ پیارا ہوتا ہے۔ گوکہ میں کوئی ایسا پونجی واد نہیں مگر پھر بھی اپنی تحریروں کی بہ نسبت اپنے شاگردوں کی کتاب دیکھ کر زیادہ فخر محسوس کرتا ہوں۔

فائزہ بٹ سے میری آخری ملاقات ہوئے سات آٹھ برس بیت چلے ہیں. مگر اس سارے عرصے میں وہ اپنے کاموں اور مشاغل سے مجھے برابر آگاہ رکھتی رہی ہے۔ اُس سے جب بھی بات ہوتی ہے وہ ہمیشہ اپنے اساتذہ کے لیے سراپا احترام و انکسار نظر آتی ہے۔ وہ ایک صابر محنتی اور شکر گزار انسان ہے. ۱۱-۲۰۱۰ میں جب وہ کنیئرڈ کالج میں لیکچرار ہوئی تو اس نے مجھے ان الفاظ میں اسکی اطلاع کی تھی: ”آپکی شاگرد اور اپنی ناچیز بندی پر اللہ نے بڑا کرم کیا ہے، میں لکچرار ہوگئ ہوں”۔

دعا ہے کہ خداتعالی اپنی اس اممتنان گزار بندی اور ہماری شاگردۂ رشیدہ کا ذوقِ تحقیق سلامت رکھے اور وہ اپنے قد سے بلند عصائے تحقیق مضبوطی سے تھامے رکھے۔

Leave a Reply

2 تبصرے

  1. ”آپکی شاگرد اور اپنی ناچیز بندی پر اللہ نے بڑا کرم کیا ہے، میں لکچرار ہوگئ ہوں”

    what a humble, and simple way is , of informing about oneself, without adding makeup of unnecessary wordings.

  2. خیر محمد انجم on

    ڈاکٹر صاحب مبارک ھو آپ کی شاگرد نے آپ کو سر بلند کیا .کتاب کے ملنے کا پتا درکار ھے

Leave A Reply

%d bloggers like this: