ڈالرز اور قربانیاں : نعمان علی خان

0
  • 101
    Shares

امریکی صدر ٹرمپ نے پاکستان کی امداد بند کرنے کے ٹویٹ میں فرمایا ہے کہ افغانستان میں مدد کے بدلے میں پاکستان کو اب تک تینتیس بلین ڈالرز کی امداد دی گئی ہے۔

عمران خان صاحب نے صدرٹرمپ کے ٹویٹ کے جواب میں سی این این پر کہا ہے کہ افغانستان میں امریکہ کی مدد کرنے میں پاکستان کا سب سے زیادہ “کولیٹرل ڈیمیج” ہوا ہے. پاکستان نے سو بلین ڈالر کا نقصان اٹھایا ہے اور ہمارے ستر ہزار لوگوں کی جان گئی ہے۔

دوسری جانب ہمارے وزیرِ خارجہ صاحب کے مطابق ہمارا نو بلین ڈالرز کا زیادہ نقصان ہوا ہے۔ ان کا دوسرا فرمان یہ ہے کہ امریکہ چاہے تو “تھرڈ پارٹی” کے ذریعے ہم نے ان کی دی ہوئی رقم کیسے خرچ کی اس بات کا “آڈٹ” کرالے.۔اور یوں ثابت ہوجائے گا کہ ہم سچ کہہ رہے ہیں یا نہیں۔

لگتا ہے ہمارے اور امریکہ کے درمیان تنازعہ فقط اس بات پر پیدا ہوگیا ہے کہ انہیں شک ہے کہ ہم نے اپنی “خدمات” کی قیمت سے زیادہ معاوضہ وصول کرلیا ہے،  سو اپنی صفائی میں ہم یہ موقف اپنا رہے ہیں کہ امریکہ نے تو ہمیں، ہماری خدمات سے کہیں کم معاوضہ دیا ہے. نہ صرف یہ کہ امریکہ کی اس مدد میں ہم نے کم معاوضہ وصول کیا ہے بلکہ اپنے ہزاروں لوگوں کی قربانیاں بھی دے دی ہیں.

سیاسی سطح پر ہمارا دوسرا موقف یہ سامنے آرہا ہے کہ امریکہ، افغانستان میں اپنی ناکامیوں کا ملبہ ہم پر ڈال رہا ہے۔ دوسرے لفظوں میں ہم دراصل یہ کہہ رہے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور افغانستان میں امریکی کاروائی تو اصل میں امریکہ کی اپنی جنگ تھی اور ہم اس میں صرف امریکی امداد کی رقوم کیلئیے اس کے ساتھ شامل تھے. یعنی اپنے سیاسی بیانیے میں ہم خود کو معاوضہ لے کر لڑنے والی قوم ثابت کررہے ہیں.

جب صورتحال سیاسی سطح پراس انداز میں ہینڈل کی جارہی ہو تو ہمارے ملک کے دفاع کے ذمے داروں کے ایسے پروقار بیانات کو کس قدر دھچکا پہنچ رہا ہوگا، جن میں وہ دنیا کو جتلا رہے ہیں کہ ہم پیسوں کیلئیے لڑنے والی قوم نہیں. اب کون ہے جو اس بات سے واقف نہیں کہ اگر آپریشنز ضربِ عضب اور ردالفساد نہ کئیے جاتے تو آج پاکستان میں جس قدر بھی امن و امان ہے وہ بھی نہیں ہوتا۔ لیکن ہمارے سیاسی بیانیے نے ان کامیابیوں کو بجائے اجاگر کرنے کے بالکل ہی ماند کردیا کیونکہ سیاسی طور پر ہم اسے افغان مسلے ہی کا ایک پہلو ثابت کرنے میں ناکام رہے.

ہم ایک بات مکمل طور پر نظر انداز کردیتے ہیں کہ کوئی بھی امریکی حکومت، دنیا میں کہیں بھی کوئی کاروائی کرنے سے پہلے، اپنی اندرونی رائے عامہ کو اس کے حق میں ہموار کرتی ہے. جتنا بڑا اقدام کرنا ہو اتنی ہی طاقت کے ساتھ عوام رائے اس کے حق میں ڈھالی جاتی ہے اور جب رائے عامہ اس کیلئیے تیار ہوجائے تو پھر خواہ تمام دنیا ان کی مخالفت میں کھڑی ہوجائے مگرامریکی حکومتیں وہ کاروائی کرنے سے باز نہیں آتیں. امریکی صدر کے پاکستان کے بارے میں بیانات اور ابتدائی اقدامات کے اصل مخاطب پاکستانی حکومت یا عوام نہیں، صرف اور صرف امریکی عوام ہیں۔ وہ اپنے عوام کوکسی کاروائی سے پہلے راضی کررہے ہیں۔

چونکہ ہمارے لیڈرز، امریکہ سے محض ڈالرز اوران کے بدلے قربانیوں کی اصطلاحات میں مباحثے کررہے ہیں اور یہی سب کچھ اپنے ملک کے عوام اور اہلِ شعورکے سامنے بھی بیانئیے کے طور پر پیش کررہے ہیں اس لئیے ضروری ہے کہ ان کی ہی سفاک زبان میں اس المئیے کا تجزیہ کیا جائے۔

دوسری جانب ہم ہیں. ہماری حکومت اور سیاسی لیڈرز جو بیانت دے رہے ہیں وہ امریکی بیانات کے مسکت “جواب” میں ہیں۔ ہمارے کسی بھی لیڈر کو عوام کو راضی کرنے سے کوئی دلچسپی نہیں. بلکہ حد تو یہ ہے کہ وہ عوام کے جانی نقصانات بھی فقط امریکی حکومت کے الزامات کی سنگینی کم کرنے کیلئیے پیش کر رہے ہیں۔ جب پوری دنیا پاکستان کے لیڈرز کے ہاتھوں اس کے عوام کی ایسی توہین دیکھے گی تو اسے یہ تاثر لینے سے روکا نہیں جاسکتا کہ ہماری لیڈرشپ کی اصل ترجیح محض پیسہ ہے، قوم نہیں.

جب آپ یہ کہتے ہیں کہ امریکہ افغانستان میں اپنی ناکامیوں کو پاکستان کے کھاتے میں ڈال رہا ہے تو آپ دراصل یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ آپ کا دہشت گردی کے خلاف اس جنگ سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا۔ اورتب آپ کا یہ موقف امریکی رائے عامہ کی نظر میں انتہائی غیر اخلاقی ہوجاتا ہے کیونکہ ایک تو آپ نے پورے افغان معرکے کو ابتداء سے اپنی بقاء کی جنگ قرار دیا تھا، دوسرے یہ کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو بھی آپ نے شروع سے اپنے مفاد کی جنگ ہی کلیم کیا ہے اور ان کی نظر میں اب آپ امریکہ کو وہاں یہ کہہ کر تنہا چھوڑرہے ہیں کہ یہ تو تمہاری جنگ تھی، ہماری تو تھی ہی نہیں۔ لیکن میں اس موقف کو غیر اخلاقی اس لئِے بھی کہہ رہا ہوں کہ آپ نے دنیا ہی کو یہ باور نہیں کرایا کہ امریکہ کے ساتھ افغان معرکے میں اتحاد آپ کے اپنے مفاد میں ہے بلکہ آپ یہی سب کچھ اپنے عوام کو بھی باور کراتے رہے ہیں۔

اگر ذرا سی بھی فراست سے غور کیا جائے تو افغانستان میں، دوسری دنیا کےآخری سرے سے امریکہ کا آنا اورپھر اتنی دھائیوں سے وہاں اس کا قیام، پورے مشرق، جس میں روس، چین، ایران اور برصغیرجیسی عظیم تہزیب رکھنے والے معاشرے شامل ہیں، کی صدیوں پرانی ‘دانش’ کی مکمل ناکامی ہے۔ لیکن اب جب کہ بقول ہمارے، امریکہ افغانستان میں ناکام ہوچکا ہے توہم اس “ناکامی” کے ساتھ اس کی واپسی کے ارادے تک کےبارے میں کچھ کہنے سے قاصر دکھائی دیتے ہیں۔ ہم اپنی سیاسی ‘دانش’ کا مظاہرہ صرف ایسے بیانات سے کررہے ہیں، جن میں ہم یہ ثابت کردیں کہ ہمیں جتنے پیسے دئیے گئے ہم نے کام اس سے بھی زیادہ کیا تھا۔ دنیا میں شاید ہی کوئی دوسری قوم ہو گی جس کے لیڈرز اس سطح کی پستی کا مظاہرہ کرتے ہوں۔

چونکہ ہمارے لیڈرز، امریکہ سے محض ڈالرز اوران کے بدلے قربانیوں کی اصطلاحات میں مباحثے کررہے ہیں اور یہی سب کچھ اپنے ملک کے عوام اور اہلِ شعورکے سامنے بھی بیانئیے کے طور پر پیش کررہے ہیں اس لئیے ضروری ہے کہ ان کی ہی سفاک زبان میں اس المئیے کا تجزیہ کیا جائے۔

کبھی ہمارے کسی لیڈر نے عوام کو بتایا ہے کہ امریکی “کولیٹرل ڈیمیج” کس چیز کو کہتے ہیں؟ بجائے یہ کہ آپ اپنے نقصانات کو کسی کولیٹرل ڈیمیج کا حصہ ماننے سے انکار کریں، ہمارے یہ لیڈرز خود انہیں کولیٹرل ڈیمیج قرار دے رہے ہیں۔ اس کا تو صاف مطلب یہی ہے کہ آپ نے اس جنگ میں جب امریکہ کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تھا تو یہ بات ڈیل کا حصہ تھی کہ آپ کولیٹرل ڈیمیج بھی برداشت کریں گے؟ کہیں یہی وجہ تو نہیں کہ امریکی صدر تو صرف ڈالرز کا ذکر کررہے ہیں اور کسی کولیٹرل ڈیمیج کی بات نہیں کررہے اور آپ دبے لفظوں میں، اس جنگ میں اپنے ستر ہزار لوگوں کی “قربانی” بھی یاد دلا رہے ہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ ٹرمپ جیسی ذہنی حالت رکھنے والا شخص کسی وقت آپ سے جواباً یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ ٹھیک ہے اس تینتیس بلین ڈالرز میں تمہارے ستر ہزار انسانوں کی قربانی کے کولیٹرل ڈیمیج کی کمپنسیشن بھی شامل ہے۔

کیا کسی نے اس بارے میں بھی سوچا ہے؟ آپ یہ بھی توقع رکھ سکتے ہیں کہ وہ کیلکولیٹ کرکے بتادے کہ ان تینتیس بلین میں ستر ہزار کی قربانی کی کیا قیمت بنتی ہے۔ بہتر ہے کہ یہ توقع بھی رکھی جائے کہ روایتی طور پر ہماری حکومتیں جو معاوضہ کسی دہشت گرد حملے میں شہید ہونے والے عام آدمی کو دیتی رہی ہیں، وہ اس رقم کو ستر ہزار سے ضرب دے کر ٹوٹل رقم بھی بیان کردے۔ اگر عام آدمی کو معاوضے میں ملنے والی اوسط رقم چار یا پانچ لاکھ روپے بھی لگائی جائے تو ستر ہزار شہیدوں کے خون کی قیمت ساڑھے تین سو ملین ڈالر سے زیادہ نہیں بنتی۔ کیا وزیرِ خارجہ کی تجویز کردہ کوئی امریکی تھرڈ پارٹی آڈٹ ٹیم یہ سمپل کیلکولشن نہیں کرپائے گی؟ کیا وہ آڈٹ ٹیم اس بات کا بھی آڈٹ نہیں کرے گی کہ ان ستر ہزار میں سے کتنوں کو واقعی معاوضہ دیا گیا؟ یہ سب محض میری قیاس آرائی ہے کیونکہ مجھے یقین ہے کہ وزیرِ خارجہ صاحب کو یقین دہانی ہوگی کہ ان کی تجویز کردہ آڈٹ ٹیم ایسا کوئی کام نہیں کرے گی سو اسی اعتماد کی بنا پر انہوں نے یہ تجویز دی ہے۔

پاکستان کے بے کس، بھوکے ننگے، ایڑھیاں رگڑتے عوام کی زندگیوں، انسانی شرف اور بنیادی انسانی اور آئینی فلاحی حقوق کی جس طرح ہماری مقتدر اشرافیہ مسلسل توہین اور پامالی کررہی ہے اس کے نتیجے میں وہ دن دور نہیں جب پاکستان کے عوام خود اپنی آڈٹ ٹیمیں تشکیل دیں گے اور اپنی ایک ایک ذلت، ایک ایک محرومی اور ایک ایک شہادت کا حساب لیں گے.

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: