جذب: دعا عظیمی

0
  • 41
    Shares

وہ ذات کا کمہارنہیں تھا، پیشے کا کمہار تھا۔ میں آرٹس کی طالبہ مجھے اس سے بہت کچھ سیکھناتھا. سیکھنا تھا کہ کون سی مٹی سے کھلونے بناوں؟ کہاں کی مٹی چکنی ہو گی؟ جو میرا کہا مانےاور ڈھل جائے. اسے کیسے سانچے میں ڈھالوں اور کیسے مورت بناؤں؟ کتنی دیر آوے میں رکھوں اور آگ کا درجہء حرارت پھر الٹانے پلٹانے کا وقت، سوالات کی قطار تھی اور وہ بتاتا گیا سب سے اچھی وہ مٹی ہے، جس میں ریت کے ذرات کم ہوں. جس نے کھلا پانی جذب کیا ہو، نمی اسکے اندر اتر گئی ہو.

کیا ہنر جذب ہو سکتا ہے؟ صفت جذب ہو سکتی ہے؟ خواص جذب ہو سکتے ہیں؟

“بابا! مٹی کیسے جذب کرتی ہے پانی کو؟”بابا نے مٹی ہاتھوں سے جھاڑی اور لمبوترا لسی کا گلاس مجھے پکڑایا “لو پتر! پہلے یہ پیو.”
” یہ تو بالکل پھیکی ہے.” ” لے ناچٹکی نمک کی ڈال لے.”
چٹکی گھلی لسی نے نمک کوجذب کر لیا، ذائقہ ہی بدل گیا. “ہاں جذب ہو گیا، ایسے ہی چیز کسی چیز میں جذب ہو جاتی ہے.”
” بابا آپ کا ہنر مجھ میں جذب ہو سکتا ہے؟”
” ہو سکتا ہے، کیوں نہی ہو سکتا.”

وہ ہنسے، مٹی انکے ہاتھ میں موم ہو رہی تھی۔ کیا ہنر جذب ہو سکتا ہے؟ صفت جذب ہو سکتی ہے؟ خواص جذب ہو سکتے ہیں؟ بنانے والے کے ہاتھ کے لمس سے بنانے والے کے خواص اور صفات کھلونوں میں جذب ہو جاتیں ہیں. “صراحی میں کٹوروں میں کورے گھڑے سے آواز آئی نہ ہوتی تو اے بندیا! تو کیسے بیان کرتا؟ حرکت کرتا، تیرا ہلنا جلنا تیرے بنانے والے کی صفات کا پرتو ہی تو ہے۔”

نم مٹی کی سوندھی خوشبو کچی کوٹھڑی سے نکل کر لکڑیوں کے دھویں میں جذب ہونے لگی، کمہار کا آوا دہکنے لگا، شعلوں کے عکس پھیلنے لگے، صراحی کی گردن پر میری انگلیاں پھسلنے لگیں. ہنر سیکھنے کے لیے ایک زندگی ناکافی تھی. نہیں معلوم مٹی مجھ میں جذب ہو رہی تھی یا میں مٹی میں.

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: