تحریک خالصتان اور پاکستان (آخری حصہ) : چوہدری بابر عباس

0
  • 126
    Shares

خالصتان کیوں ضروری ہے۔ بھارتی مداخلت اور پاکستان۔ اس تحریر کا پہلا حصہ ملاحظہ کیجۓ

لاکھوں سکھوں کے قتل عام اور آزادی کی اس تحریک کو ختم کرنے میں بھارتی مسلح اداروں اور تمام سیاسی حکمت عملیوں کے ناکام ہونے کے بعد پنجاب سے 1992 میں صدارتی راج اٹھا لیا گیا. سکھ حریت قیادت کی اکثریت کے قتل کر دیئے جانے اور ایک بڑی تعداد میں سیاسی گرفتاریوں کے باوجود بھی، پر امن طریقے سے کمزور سکھ تنظیموں نے اپنی آزادی کی جدو جہد جاری رکھی. بھارت کے اندر سکھ قوم کو درپیش حالات کے پیش نظر بیرون ملک مقیم آزادی پسند سکھوں نے آزادی کا علم پہلے سے زیادہ فعال انداز میں بلند کیا. امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا میں مقیم سکھوں نے اس جدوجہد کو زندہ رکھا. دو ہزار پندرہ میں بھارتی شہر گروداس پور حملوں نے بھارتی سکھوں میں جہاں بیرونی ملک مقیم سکھوں کی نسبت تحریک کمزور پڑ رہی تھی ایک بار پھر ایک نئی اور پہلے سے زیادہ فعال تحریک پیدا کر دی گروداس پور کے یہ حملے جنکا حسب روایت بھارت نے فورا الزام پاکستان پر دھر دیا تھا. دراصل ایک تراسی سالہ ضیف العمر سکھ بابا صورت سنگھ کی بھارتی جیلوں میں نوے کی دھائی کے سیاسی سکھ  قیدیوں کی جو اپنی سزائیں مکمل کر چکے ہیں کی رہائی کے مطالبے میں کی گئی بھوک ہڑتال تھی. یہی احتجاج ایک ملک گیر مدعا بن گیا تھا. جس نے سکھ قوم کو پورے ملک میں غم و غصے میں مبتلا کر رکھا تھام چنانچہ اس واقعے سے توجہ ہٹانے کے لئے رچایا گیا، یہ حکومتی سوانگ بھارت کے اس دعوے کی قلعی کھولنے کے لئے کافی ثابت ہوا کہ خالصتان تحریک دم توڑ چکی ہے اور سکھ اپنی مکمل مذہبی اور ملی آزادی سے حظ اٹھارہے ہیں۔

خالصتان تحریک کی تاریخ کا سب سے بڑا سکھ اجتماع نومبر 2015 کو امرتسر میں ہوا، جس میں لاکھوں کی تعداد میں سکھوں نے شرکت کی. اس میں تیرہ مطالبات پیش کیے گئے، جن میں تا حال منظور نہ ہونے والی آنند پور قراداد کی منظور کا مطالبہ کیا گیا. اس اجتماع میں جسے سکھ سربت خالصہ کہتے ہیں مطالبہ کیا گیا تھا کہ، میں گولڈن ٹیمپل کمپلکس کو ویٹی کن سٹی کے مثل درجہ دیا جائے. مزید پوری دنیا میں موجود سکھوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک سکھ پارلیمنٹ کے قیام جیسے اہم مطالبات شامل تھے.

سکھوں کی ایک بڑی تعداد 2020  میں پنجاب میں عام انتخابات نہیں بلکہ ہریانہ، ہماچل پردیش، جموں کشمیر اور پنجاب میں ریفرنڈم چاہتی ہے، جس کی توقع  بھارتی حکومت سے یقینا عبث ہےـ

مشعل اور رہبری کا کام کرتا مغربی ممالک میں مقیم ایک بہترین منظم اور طاقتور سکھ ڈائسپورا اس تحریک کے لئے نہ صرف عالمی حمایت اور مالی اعانت کر رہا ہے بلکہ خود یہ سکھ برطانیہ اور کینیڈا کی سیاست میں اپنا ایک فعال کردار بھی رکھتے ہیں. جسکی مثال موجودہ کینیڈین ڈیفنس منسٹر ہرجیت سنگھ ہیں. ان تمام قربانیوں اور تینتیس سالہ جدوجہد آزادی کے باوجود آج تک بھارتی حکومت نے آنند پور قرارداد میں ہی موجود کسی بھی ایک مطالبے پر کان نہیں دھرا. ماسوائے بھارتی فوج کی اپنی ضرورت اور سکھ قوم کے سینوں میں جلتی آگ کو سرد کرنے کے لئے سکھوں کو دوبارہ آرمی میں بھرتی کیا جانے لگا ہے. اگرچہ موجودہ حالات میں، امرت دھاری سکھ قیادت کے قتل عام اور ایک بڑی تعداد کو قید و بند کی صعوبتوں کا سامنا ہے ساتھ ہی فعال قیادت کی ایک بڑی تعداد ملک سے باہر ہے۔عام عوام کو بالخصوص نوجوان نسل کو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت فحاشی اور منشیات کا رسیا بنا دینے اور عوام کے سامنے  بدلتے وقت کے مطلوب و مقصود کے چیلنجز کے پیش نظر اس وقت کے معروضی حالات ایک آزاد خالصتان ریاست کے ترجمان نہیں محسوس کئے جا سکتے ہیں۔  جس نے اسے ایک مسلح تحریک سے اب ایک سیاسی جنگ کی حد تک محدود کر دیا ہے. مگر پھر بھی سکھوں کی ایک بڑی تعداد 2020 میں پنجاب میں عام انتخابات نہیں بلکہ ہریانہ، ہماچل پردیش، جموں کشمیر اور پنجاب میں ریفرنڈم چاہتی ہے، جس کی توقع  بھارتی حکومت سے یقینا عبث ہےـ

بیرونی ملک سکھ ڈائیسپورا کے ایک متحرک لیڈر ڈاکٹر امرجیت سنگھ کچھ اسطرح اظہار خیال کرتے ہیں کہ:

“پاکستان کی مشرقی  سرحد پر گنگا نگر سے ہماچل پردیش تک اگر ایک آزار خالصتان ریاست قائم ہو جاتی ہے، جس کے لیے آج بھی ایک سکھ طبقہ جو پوری توانائی کے ساتھ خالصتان آزادی کا خواہاں ہے، اور کینیڈا، برطانیہ، امریکہ اور ملائشیا کے بعد پاکستان میں سب سے زیادہ اپنی حمایت رکھتا ہے. جنکی خواہش پاکستان سے کسی فوجی یا مالی مدد کی نہیں ہے، بلکہ صرف سفارتی مدد کی ہے. جہاں پاکستان کو  معاشی، بھارت کی طرف سے سفارتی تنہائی کی جنگ اور سب بڑی سرحدوں پر دائمی دفاعی جنگوں سے مقابلہ ہے اور جن پر بے انتہا توانائیاں صرف ہورہی ہیں. خالصتان کا قیام ان سب محاذوں سے پاکستان کو آزاد کروا سکتا ہے. بے شمار فوائد و مقاصد کے حصول کے ساتھ ساتھ یہ سیاسی اور جغرافیائی تغیر سب سے اہم، پاکستان کو تزویراتی طور ایک بفر زون ریاست عطا کر دے گا۔”

یہ ایک صائب رائے ہے جو یقینا پاکستان کے لئے ایک نئی صبح کا سورج ثابت ہو سکتا ہے۔ مگر محب وطن قیادت کا فقدان، اقتصادی تباہ حالی اور ملک کی اندرونی اور بیرونی سلامتی اور امن کو در پیش خطرات کی موجودگی میں پاکستان کے زمینی حالات خالصتان آزادی کی تحریک کی خود انحصار کفالت سے تو قطعا قاصر ہیں.

 اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی اجلاس میں بھارت نے کھل کر واشگاف انداز میں بلوچستان جیسے ہمارے انتہائی قومی اور داخلی مسلئے کو اقوام متحدہ میں اپنے ایجنڈے کا حصہ بنایا ہے. مغربی ممالک میں زور شور سے پاکستان مخالف فری بلوچستان مہم شروع کر رکھی ہے.

جبکہ دوسری طرف بھارت کا بلوچستان جیسے ایک نان ایشو کو عالمی توجہ دلوانا، آزاد کشمیر جو اپنی الگ پارلمنٹ رکھتا ہے، پاکستان کے چاروں صوبوں کے شہریوں جتنے برابر حقوق کشمیریوں کو پورے پاکستان میں میسر ہیں. اسی بلوچستان ایشو، پر آئے دن پروپیگنڈا کرنا، کبھی سندھو دیش کے ندارد نعرے کو بلند کرنا اور اب تو کھلم کھلا پاکستان کے اندر جارحیت کے دعوے، تحریک طالبان اور بلوچ شدت پسندوں کی کفالت کرنے کے بعد کیا ہمیں بھی کسی ایسے ہی انکاونٹر تھروٹل کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی؟

اگرچہ ہم وہاں نہیں کھڑے کہ اقوام متحدہ میں کشمیر فائل کے ساتھ خالصتان فائل کو نتھی کر سکیں. جبکہ گزشتہ اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی اجلاس میں بھارت نے کھل کر واشگاف انداز میں بلوچستان جیسے ہمارے انتہائی قومی اور داخلی مسلئے کو اقوام متحدہ میں اپنے ایجنڈے کا حصہ بنایا ہے. مغربی ممالک میں زور شور سے پاکستان مخالف فری بلوچستان مہم شروع کر رکھی ہے. اسکے باوجود کہ بلوچستان مشرقی پاکستان نہیں ہے، بھارت کا کوئی سرحدی رابطہ نہیں ہے، نہ ہی مکتی باہنی کا کھیل کھیلا جا سکتا ہے، اور سب سے بڑھ کر یہ ایک ایسا ایشو ہے جو زمین پر اپنا ایسا کوئی وجود بھی نہیں رکھتا پھر بھی بھارت دنیا کے سامنے سنگین صورتحال پورٹریٹ کر رہا ہے.

حقائق یہ ہی ہیں کہ نہ تو بلوچستان کبھی پاکستان سے الگ ہو سکتا اور نہ ہی آزاد  خالصتان کے قیام کے مستقبل قریب میں کوئی امکان نظر آتے ہیں، اگرچہ سکھ آج بھی یہ تحریک جاری رکھے ہوئے ہیں اور اپنی جنگ لڑنے کو ہر لمحہ تیار ہیں. پاکستان کے اندر بھارتی مکفول شدت پسند عناصر کے ہاتھوں تخریبی کاروائیاں ہی بھارت کا کل حصول ہیں جو کہ دراصل بھارت کا مقصد ہے. جس سے جہاں وہ ایک طرف ملک کے اندر داخلی انتشار کو ہوا دینا چاہتا ہے، سیاسی عدم استحکام اور معاشی طور پر پاکستان کو کمزور کر نا چاہتا ہے،  وہاں اس کا مقصد صرف عالمی سطح پاکستان کے لئے سفارتی اور اقتصادی مشکلات پیدا کرنے کے جواز پیدا کرنا ہے.

اس محاز پر جب ہم اپنا رد عمل بھارت کی تخریب کارانہ مداخلت اور کشمیر کی آزادی کے طور پر دیتے ہیں تو ہمیں بلوچستان، سندھ تاس معاہدہ اور اب موجودہ پاک چائنہ راہداری منصوبے کو متنازعہ بنانے اور مزید بھارتی خفیہ ایجنسی را کے باقاعدہ بلوچستان اور سی پیک ڈیسک کے مزموم “مسلح اور غیر مسلح” سرمایہ کاریوں کا سامناکرنا پڑتا ہے. جبکہ بھارت میں درجنوں ریاستوں میں مسلح علیحدگی پسند تحریکیں سرگرم عمل ہیں بالخصوص پاکستانی سرحد سے متصل خالصتان تحریک، جو کہ بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی طرح یقینا نان ایشوز بھی نہیں ہیں. اس صورت میں جب ان دو روائیتی حریف ملکوں میں کسی روائیتی جنگ کا کوئی امکان بھی نہ ہو، تب اس محاز پر ہم کہاں کھڑے ہیں؟ یہ ایک اہم سوال ہے.

ہمسائیوں سے بہتر اور دوستانہ تعلقات ہی کسی ریاست کی سلامتی کی ضمانت اور ترقی میں مدد دے سکتے ہیں۔ مگر جب ہمسایہ وہ ہو جو اول یوم سے ہی دوستی اور امن و آتشی کا متمنی کجا آپ کے وجود سے ہی نہ صرف انکاری بلکہ آپکو مٹانے پر تلا ہو۔ تقسیم کے وقت اختیارات کی منتقلی کی اصل تاریخ یکم جون 1948 کے بجائے  14 اگست 1947 کو کروانے میں کامیاب ہو گیا کہ پاکستان اپنے ریاستی تنظیمی امور مکمل نہ کر پائے اور ایک کمزور انفراسٹرکچر سے اپنا آغاز کرے، پاکستان کے حصے میں آئے ایک تہائی فوجی سازو سامان کی فراہمی میں خیانت اور دفاعی مشینری کی مکمل عدم فراہمی، بنگال کی تقسیم ہو یا پانیوں کی تقسیم پر، آج تک کا استحصالی رویہ اور بلیک میلنگ، پہلے مکتی باہنی کی آڑ اور پھر ایک اعلانیہ جنگ، امن کی آشا ہو یا سمجھوتہ ایکسپریس، کھیل کے میدان ہوں یا پراکسی جنگوں کے میدان، یا دہشت گرد کاروائیوں اور بلوچستان میں تخریب کاری میں ملوث کلبھوشن یادیو کی سزائے موت کا معاملہ اور پھر پہلے بھارت کی پندرہ بار کی مسلسل درخواست پر چند دن پہلے کلبھوشن اور اسکی فیملی کی ملاقات ہو، ہماری طرف سے خیر سگالی اور بھارت کا اس پر بھی ہمیں آڑے ہاتھوں لینا اور دنیا بھر میں ہماری تذلیل کرنا، کیسی دوستی کیسی خیر سگالی ۔۔۔؟

ماضی حال اور مسقبل کی ایک ہی شہادت ہے۔ جو یہ ہی ثابت کرتی ہے کہ بھارت کے ساتھ دوستی محض بولے جانے والے مجہول جملے سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ کشمیر جسے عموما دونوں ملکوں میں بنیادی وجہء عداوت کہا جاتا ہے، اس حوالے سے نہیں بھولنا چاہیئے کہ جو دشمن آپ کا غیر متنازعہ باقاعدہ اور اکثریتی مشرقی بازو آپ سے چھین سکتا ہے وہ آپکو کشمیر تحفے میں دے دے گا؟ ہم بھی دشمنی نہیں چاہتے، مگر کیا دوستی کی بھی کوئی راہ ہے ؟

If  you  poison  us, do we not  die?
And  if  you  wrong us , shall  we  not  revenge?
William  Shakespeare.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: