گلاب کا پھول ——- فضل الرحمان قاضی

0
  • 141
    Shares

کوہ مردار کے دامن میں وہ اپنی ماں کی قبر کے سرہانے بیٹھا ہمیشہ کی طرح آج بھی بہت سکون محسوس کر رہا تھا۔ یہاں اپنے سب رنج و الم لے کر آتا، سرگوشیوں میں ماں سے راز و نیاز کی باتیں کرتا اور اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر لیا کرتا، اس تھکے ماندے مسافر کی طرح جو طویل سفر کے دوران گھنی چھائوں کے نیچے تھوڑی دیر کے لیے سستانے بیٹھ جائے۔ اپنی تھکن ٓدور کر کے اور تازم دم ہو کر پھر سے سفر جاری رکھنے کے لیے قبرستان آیا کرتا۔ زندگی کا ادھورا سفر شروع کیے ساٹھ سال سے زیادہ عرصہ ہو چلا تھا مگر اس کے اندر چھوٹا سا بچہ اب بھی ماں کی قربت کا متلاشی تھا۔ جب وہ پیدا ہوا تو گھر والوں نے بہت خوشیاں منائی تھیں۔ اس سے پہلے کنبہ میں دو لڑکیاں موجود تھیں اور ماں باپ تیسری لڑکی کا صدمہ برداشت کرنے کا حوصلہ نہ رکھتے تھے۔

ماں نے اس کے عالم وجود میں آنے کے بعد اس عالم رنگ و بو میں سانس لینے تک کا عرصہ امید و یاس کی ملی جلی اضطرابی کیفیت میں گزارا تھا۔ اگر اس بار پھر لڑکی ہو گئی تو؟ وہ اس تصوّر ہی سے کانپ جایا کرتی تھی۔ وہ پہلے ہی لڑکی کو جنم دینے کا دو بار جرم سرزد کر چکی تھی۔

ہمارے ہاں لڑکی کی پیدائش کا ناکردہ گناہ اس مظلوم کے سر تھوپ دیا جاتا ہے جسے ماں ہونے کے ناتے اس معاشرے میں احترام و عظمت کی اوج ثریا کا مقام حاصل ہے۔ لوگوں کو شاید احساس نہیں کہ یہ عظیم ہستی اپنے بچے کو کوکھ میں لیے کتنے نازک مراحل سے گزرتی ہے۔ بچے کو جنم دینے کے عمل کے دوران موت کی دہلیز پر کھڑی ہوتی ہے۔

ہمارے ہاں لڑکی کی پیدائش کا ناکردہ گناہ اس مظلوم کے سر تھوپ دیا جاتا ہے جسے ماں ہونے کے ناتے اس معاشرے میں احترام و عظمت کی اوج ثریا کا مقام حاصل ہے۔

اس کی ماں ابھی انہی اذیت ناک مراحل میں سے گزر رہی تھی مگر بیٹا عطا ہونے پر سب دکھ بھول گئی۔ ماں نے اسے بہت پیار دیا۔ سردیوں کی یخ بستہ راتوں میں بستر کے گیلے طرف وہ خود لیٹ جایا کرتی۔ اس ممتا کی دیوی نے اپنی نیند اور اپنا آرام چین خواہشات سب ہی کچھ اپنے بچے کی راحت پر قربان کر دیا۔ وہ توتلی زبان میں اس سے باتیں کیا کرتی، اس کا جی بہلانے کے لیے اسے ہنسانے کے لیے اسے گد گدایا کرتی۔ اس کی غوں غوں کا باقاعدہ جوب دیا کرتی۔ محبت بھرا جواب۔ جیسے وہ دونوں ایک دوسرے کی باتیں سمجھ رہے ہوں۔ اس ننھی سی جان کو سینے سے لگا کر آنکھیں بند کیے وہ سرور کی پُراسرار وادیوں میں کھو جایا کرتی اس کا جی چاہتا کہ یہ پرکیف لمحے کبھی ختم نہ ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ سب اس کے ابو نے بتایا تھا۔ اس نے تو کبھی ماں کا چہرہ تک نہ دیکھا تھا۔ وہ اس سے اس وقت چھن گئی تھی جب کہ ابھی ماں کے چہرے کی پہچان کا اس میں شعور بھی نہ تھا۔ اسے ماں کی آغوش کی گرمائش کا ہوش نہیں وہ یہ بھی نہ جانتا تھا کہ ماں کے پیار کی تپش میں کتنی ٹھنڈک ہوتی ہے۔

ابو ہی نے بتایا تھا کہ یہ قصہ 31 مئی 1935ء کا ہے۔ وہ ابھی چار ماہ کا بھی نہ تھا کہ اس رات عشا کے وقت وہ رونے لگا۔ روتے روتے اس کا گلا خشک ہو گیا تھا مگر ماں نماز ادا کرتی رہی تب ابو کو بہت غصہ آیا تھا کہ بچہ رو رو کر ہلکان ہو رہا ہے، تمہیں بچے کی ذرا بھی پرواہ نہیں، دیکھو اس کا بدن کتنا میلا ہو رہا ہے۔ اس کی ماں نے جواب دیا کہ روز محشر یہ میری جگہ جواب دہ نہ ہو گا۔ پھر اسے گود میں اٹھا لیا اس کے گالوں پر سے آنسوئوں کو اپنے ہونٹوں سے صاف کیا اور دیر تک پیار بھری معذرت طلب نظروں سے دیکھتی رہی۔ میں اپنے پالے پالے سندر کو کل نہلائوں گی۔ ٹھیک ہے؟ انہوں نے بچے سے پوچھا پھر خود ہی اس کی طرف سے جواب دیا ’’تھیت اے‘‘ اور کھل کھلا کر ہنس پڑیں۔ اسے لوریاں سناتے بالوں انگلیوں سے کنگھی کرتے ماتھا چومتے، دودھ پلاتے سلا دیا۔

اس رات، ہاں قیامت کی اس رات، صبح کاذب سے کچھ دیر پہلے زمین خوف ناک گڑ گڑاہٹ کے ساتھ شدت سے لرزی اور آناً فاناً کوئٹہ شہر ملبے کے ڈھیروں میں تبدیل ہو گیا۔ فضا گرد و غبار سے اس قدر اٹ گئی تھی کہ سانس لینا بھی دشوار ہو گیا۔ زندہ بچ جانے والوں کی آہ و بکا، زخمیوں کی دل خراش چیخوں، ملبے میں دبے لوگوں کی گھٹی گھٹی، درد میں ڈوبی پکاروں نے اس ناگہانی آفت کی ہولناکیوں میں مزید اضافہ کر دیا۔ ابو اس کی دونوں بہنوں اور نا بینا دادی اماں کو لے کر عین وقت پر کمرے سے باہر نکل آئے اور گھپ اندھیرے میں امی کو پکارنے لگے۔ دادی اماں اور بہنیں رندھی آواز میں امی ہی کو آوازیں دے رہی تھیں مگر وہاں ملبے کے ڈھیر میں موت کی سی خاموشی تھی۔ سب ہی بے بس تھے۔ کچھ بھی تو نہیں ہو سکتا تھا۔ زلزلے کے مسلسل جھٹکوں کی وجہ سے پائوں زمین پر ٹک نہ پا رہے تھے اور یہ لوگ ڈولتی زمین کے ساتھ چپکے بے بسی کی حالت میں اپنی نگاہیں ملبے کے ڈھیر پر مرکوز کیے رہے۔ صبح ہوتے ہوتے گرد بیٹھ گئی۔ چیخ پکار کی شدت میں کمی آتی گئی۔

شاید بیشتر زخمیوں نے موت سے ناتا جوڑ لیا تھا یا شاید وہ زخموں سے نڈھال ہو گئے تھے کہ اب ان میں آہ و بکا کی سکت بھی نہ رہی تھی۔ اچانک ملبے کے ڈھیر سے بچے کے رونے کی نحیف آواز آئی۔ ابا چیخے اور پھر دیوانہ وار لپکے۔ شہتیر کو اٹھانے کی کوشش کی مگر وہ اکیلے اسے ہلا بھی نہ سکے۔ آس پاس کوئی بھی تو مددگار نہ تھا۔ شہر تو شہر خموشاں بن چکا تھا۔ لیکن قدرت کو شاید ان کی بے بسی پر رحم آ گیا۔ پڑوس کے بچ جانے والے دو نوجوان ملبے کی اوٹ سے نمودار ہوئے۔ ان کی مدد سے بھاری شہیتر کڑیوں لوہے کے گارڈر اور اینٹوں مٹی کو جو ہٹایا گیا تو وہاں ایک ماں سجدے کی حالت میں ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ آخری سجدہ جسے رب کریم نے ضرور قبولیت کا شرف بخشا ہو گا ۔۔۔۔۔۔۔ خون میں لت پت اپنے بچے پر ڈھال بنی ہوئی تھی۔ اک ننّھی سے جان کو حیات بخشنے کے لیے اپنی جان جانِ آفریں کے حضور پیش کر دی۔ اس نے وعدہ پورا کر دیا اپنے سندر کو نہلانے کا، مگر اپنے ہی خون سے!

قیامت کی اس رات نہ جانے اور کتنی مائوں نے ممتا کی داستانیں اپنے ہی خون سے رقم کی ہوں گی۔ وہ قبر کے سرہانے بیٹھا انہی سوچوں میں گم تھا۔ اس رات نہ جانے کتنے بچے اس کی طرح اپنی ماں کے پیار کی ٹھنڈی چھائوں سے محروم ہو گئے ہوں گے۔ وہ قبر پر عقیدت اور پیار سے لبریز نگاہیں جمائے آنکھوں میں آنسوئوں کے موتی سجائے بیٹھا تھا۔ اس نے مضطرب ہو کر پکارا ماں ۔۔۔۔۔۔۔۔ اماں ۔۔۔۔۔۔۔۔ امی ۔۔۔۔۔۔۔۔ پیاری امی ۔۔۔۔۔۔۔۔ امی جان ۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر اسے اپنی ہی آواز کی بازگشت سنائی دی۔ اس پاکیزہ ہستی کی زیارت کی معصوم خواہش نے اسے تڑپا دیا۔ کیسی تھی اس کی ماں؟ کیسا چہرہ تھا اس کا؟ بہت نورانی ہو گا۔ وہ بہت خوب صورت ہو گی۔ کسی نے کہا تھا ماں کا چہرہ گلاب کے پھول کا سا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ بہت زیادہ جذباتی ہو گیا۔ اس نے دیوانگی کے عالم میں اس گلاب کے پھول کو دیکھنے کے لیے جلدی جلدی قبر کی مٹّی کو ہٹانا شروع کر دیا۔ اس کے ہاتھ بہت تیزی سے حرکت کر رہے تھے۔ دل فرط جذبات سے بے قابو ہو کر بری طرح دھڑک رہا تھا۔ جسم پر لرزہ طاری تھا۔ اچانک وہ رک گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ آنسوئوں کے دھندلکے میں بہت حسین گلاب کے پھول میں ایک مسکراتا ہوا معصوم چہرہ ابھرا ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ اس کی اپنی پیاری بیٹی کا چہرہ تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ گھر لوٹ آیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنی بیٹی کی گود میں سر رکھے آنکھیں بند کیے لیٹا تھا۔ وہ اس کے بالوں کو جب اپنی ننھی انگلیوں سے سنوار رہی تھی تو ایک عجیب پرکیف کیفیت اس پر طاری ہو گئی جیسے دور سے ممتا کی مدھر لوری کی آواز آ کر اس کی روح کی گہرائیوں میں سرایت کر رہی ہو۔ وہ پُرسکون ہو گیا۔ مدتوں کی بے قراری کو قرار مل گیا۔ پھولوں کی پراسرار مہک نے اسے اپنے جلو میں لے لیا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: