اداس پاکستان (آخری حصہ) : ڈاکٹر رئیس صمدانی

0
  • 30
    Shares

اس تحریر کا پہلا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کیجئے


ستمبر 2017

سید انور محمود

سید انور محمود معدودے چند کالم نگاروں میں سے تھے، جو ہر موضوع پر بے باکی کے ساتھ بلا خوف سچ کو سچ اور غلط کو غلط لکھا کرتے تھے، سید صاحب جیسے بہادر لکھاری کم کم پائے جاتے ہیں۔سید انور محمود سے میرا تعلق علمی، ادبی، سماجی اور کالم نگاری کے حوالے سے تھا. 3 ستمبر کو داعی اجل کو لبیک کہا ؂

یاد کر کے اور بھی تکلیف ہوتی تھی عدیم
بھول جانے کے سوا اب کوئی بھی چارہ نہ تھا

محمد یوسف
محمد یوسف کا تعلق کتابوں کی دنیا سے تھا۔ اسلام آباد کا معروف کتاب گھر مسٹر بک کے مالک تھے، علم و ادب سے تعلق رکھتے تھے .4 ستمبر کو اس دنیائے فانی سے رحلت کر گئے۔

احمد صغیر صدیقی
شاعر، نقاد اور افسانہ نگار احمد صغیر صدیقی کا انتقال امریکہ میں12ستمبر کو ہوا.

اکتوبر2017

تصدق سہیل
تصدق سہیل مصور اور افسانہ نگار تھے. انہوں نے 2اکتوبر کو داعیء اجل کو لبیک کہا.

ولی رضوی
ولی رضوی صحافی تھے،  کراچی پریس کلب کے سیکریٹری بھی رہے.  اپنے زمانے کے نامور مقرروں میں شمار کیے جاتے تھے. خوش مزاجی اور بذلہ سنجی ان کی شخصیت کی پہچان تھی. روزنامہ مشرق سے وابستہ رہے بعد میں K2 چینل سے منسلک ہوگئے تھے۔ ان کا انتقال 3اکتوبر کو ہوا۔

 عبدالوہاب خان سلیم

علم و ادب کی معروف شخصیت عبدالوہاب خان سلیم 7 اکتوبر2017کو امریکہ میں انتقال کر گئے۔ وہاب صاحب 70کی دہائی میں امریکہ چلے گئے تھے پھر وہ وہیں کے ہو رہے. وہا ب صاحب کو پاکستان کی بے شمار علمی و ادبی حلقے بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔ وہ رہتے امریکہ میں تھے لیکن پاکستان کے علمی و ادبی لوگوں سے ان کے بھائیوں کی طرح مراسم تھے. ڈاکٹر ابو سفیان اصلاحی نے درست لکھا کہ عبد الوہاب خان سلیم کا ذکر چھیڑ یے تو یہ مصرع یاد آئے گا کہ:

‘سفینہ چاہیے اس بحر بےبیکراں کے لیے‘

ڈاکٹر قرۃ العین طاہرہ نے اپنے مضمون میں لکھا “عبد الوہاب خان سلیم نہ تو دانش ور ہیں، نہ ہی حکیم و عبقری، اس کے باوجود خان صاحب دانشوروں، حکماء اور عباقر کے چہیتے رہے.” عظیم اختر نے اسی بات کو اس طرح کہا کہ ’اردو دنیا میں ایک ایسا اردو والا بھی موجود ہے جو بنیادی طور پر شاعر ہے نہ ادیب، پروفیسر ہے نہ نقاد ، بس اردو لکھنے، پڑھنے اور بولنے والا ایک عام سا اردو والا ہے، جس کواردو رسائل و جرائد اور کتابیں پڑھنے کا جنون کی حد تک شوق ہے.”

وہاب صاحب اردو کی ہزاروں کتابیں امریکہ جیسے شہر میں جمع کر چکے ہیں جہاں پر لوگوں کو سر چھپانے کے لیے ایک کمرہ مشکل سے نصیب ہوتا ہے یہ شخص ہزاروں کتابوں کا ذخیرہ کیے ہوئے ہے۔ یہ نہ صرف اپنے لیے کتابیں جمع کرتا ہے بلکہ دنیا میں جس کو کتاب کی ضرورت ہوئی اس نے اسے وہ کتاب اپنے خرچ سے پہنچانے کو اپنا فرض سمجھا۔ ہندوستان سے کتابیں پاکستان ور پاکستان سے کتابیں ہندوستان کے کتب خانوں میں محٖفوظ کرنا اس فرشتہ صفت انسان کا محبوب مشغلہ رہا ہے.

رومی انشاء

معروف شاعر ابن انشاء کے صاحبزادے رومی انشاء نے 17اکتوبر کو داعی اجل کو لبیک کہا.

عرفان الحق صائم

شاعر و ادیب بلوچستان سے تعلق تھا. دل کا دورہ پڑنے کے باعث 24 اکتوبر کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے.

نومبر2017

محمد ابراہیم جویو

شاعر مشرق علامہ اقبال کے یوم پیدائش کے دن یعنی 9 نومبر کو ایک افسوس ناک خبر سننے کو ملی کہ سندھ دھرتی کی ایک قابلِ احترام علمی وادبی شخصیت کے حامل روشن خیال و ترقی پسند ادیب و دانشور ہم سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جد ا ہوگئے. محمد ابراہیم جویو ہم سے جدا ضرور ہوگئے ، موت بر حق ہے، ہر ایک کو ایک نہ ایک دن اس دنیا سے چلے جاناہے ۔ لیکن ابراہیم جویو اپنے پیچھے اپنی ایسی عظیم یادیں چھوڑ گئے، اتنا علمی و ادبی ذخیرہ چھوڑ گئے جو ہمیشہ انہیں زندہ رکھے گا. ان کا تخلیق کیا ہوا علمی سرمایا طالبان علم کی پیاس تا دیر بجھاتا رہے گا. ابراہیم جویو 13اگست 1915 کو سندھ کے ضلع دادو (اب جامشورو) کے گوٹھ ’آباد‘ میں پیدا ہوئے. آپ نے طویل عمر پائی اور 102سال کی عمر میں  9 نومبر2017 کو وفات پائی. ایک با اصول اور نظریاتی انسان تھے۔ پیشے کے اعتبار سے معلم تھے.جاوید سومرو کے مطابق سندھ سے والہانہ محبت اور سیاسی ذہنی پختگی نے انہیں کم عمری میں ہی ممتازشخصیت بنادیا تھا۔ 1931میں جب ان کی عمر صرف 26 برس کی تھی ان کو کراچی کے سندھ مدرستہ الا سلام جو اب یونیورسٹی کا درجہ رکھتی ہے کا استاد منتخب کر لیا گیا، ساتھ ہی قلم و قرطاس سے بھی انہوں نے رشتہ استوار کر لیا، اپنی تحریروں کے توسط سے انہوں نے سندھ کے لوگوں کو خاص طور پر حکمرانوں کو اپنی جانب متوجہ کیا۔ انہوں نے ایک کتاب تحریر کی ’’سیو سندھ، سیو دی کانٹینینٹ Save Sindh Save Continent، اس کتاب پر سندھ کے حکمران ان سے ناراض ہوگئے اور انہیں ملازمت سے نکال دیا گیا۔ واضح رہے اس وقت وزیر تعلیم پیر الہٰی بخش مرحوم تھے۔ ابراہیم جو نے کسی دوسرے پیشے کا انتخاب نہیں کیا بلکہ خاموشی سے ٹھٹھہ کے ایک اسکول میں معلم ہوگئے۔ ابراہیم جویو سندھ میں ترقی پسندی کے حامی تھے۔ کیوں کہ وہ ایک نظریاتی تھے اس لیے ان کی تحریریں ان کے نظریات کا پرچار کرتی اور اپنے نظریے کی بھر پور حمایت کرتی نظر آتی ہیں۔

مشکور حسین یادؔ
مشکور حسین یاد معروف انشائیہ نگار، مزاح نگار ، ادیب و شاعر اور ماہر تعلیم بھی تھے ۔ انتقال 11 نومبر کو ہوا.

ڈاکٹر فضل الہی
ڈاکٹر فضل الیٰ ادیب اور لکھاری تھے تعلق کوئٹہ سے تھا،11نومبر کو داعیء اجل کو لبیک کہا.

احساس فکری
شاعر و ادیب ڈیرہ اسماعیل خان میں مقیم تھے. 13نومبر کو انتقال ہوا۔

نجم الحسن رضوی
افسانہ نگار نجم الحسن سرطان کے مرض میں مبتلا رہنے کے بعد جمعہ 17نومبر کو ملک حقیقی سے جا ملے۔ وہ 23 اپریل 1944 کو پیدا ہوئے تھے۔ نجم الحسن رضوی صحافت کے شعبے سے وابستہ رہے تاہم افسانہ نگاری میں بھی شہرت پائی. ان کے افسانوں کا مجموعہ ’ماروی اور مرجینا‘‘ کے نام سے، انشائیوں کا مجمودہ ’’ہمارا بد معاشی نظام‘، اور خود نوشت سوانح عمری ’آوازپا‘ کے نام سے شائع ہوئی تھی. کہانیوں کا مجموعہ نجم الحسن رضوی کے بہترین افسانے اور ا ن کے فن وشخصیت پر ایک کتاب  ’شہر ہنر میں‘ کے نام سے منظر عام پر آچکی ہے۔

ڈاکٹر یوسف قمر
معروف نعتِ رسول مقبول ﷺ ’’میں تو پنچتن کا غلام ہوں” کے لکھنے والے ڈاکٹر یوسف قمر ؔ برمنگھم میں 17نومبر کو اپنے مالکِ حقیقی سے جا ملے۔

مغیث احمد صمدانی
مغیث احمد صمدانی کا انتقال طویل علالت کے بعد 22 نومبر 2017 کو ہوا. داداشیخ محمدابرہیم آزادؔ جو میرے پر دادا ہوتے ہیں، نعت گو شاعر تھے. ان کا دیوان 1923میں’دیوان آزاد ‘ کے نام سے شائع ہوا تھا، مغیث صمدانی نے دیوان کا دوسرا ایڈیشن 2005 میں شائع کرایا۔ جو ان کے ادبی ذوق کی دلیل ہے. وہ اپنے جدِ امجد جناب آزاد ؔ سے بہت متاثر تھے اور دوران گفتگو ان کے اشعار کوٹ کیا کرتے تھے.

خواجہ اکمل
بلوچستان سے تعلق رکھنے والے اداکار خواجہ اکمل نے 26 نومبر کو داعی اجل کو لبیک کہا.

دسمبر2017
مسعود احمد برکاتی

معروف قلم کار، صحافی، طویل عرصہ بچوں کے رسالے ‘ہمدرد نونہال’ کے مدیررہنے والے مسعود احمد برکاتی ہم سے جدا ہوگئے.بچوں کے معروف رسالہ ’’ ہمدرد نونہال‘‘ کی ادارت 1953ء سے مسلسل کی گویا وہ 64 برس اس کے مدیر رہے، ’ہمدرد صحت ‘کے مدیر منتظم بھی ہیں۔ آپ کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ ملک میں کو ئی ادیب مسلسل 64 برس تک بچوں کے ادب سے وابستہ اور بچوں کے رسالے کا مدیر نہیں رہا۔ صحافیوں کی تنظیم APNS نے 2 مارچ 1996ء میں آپ کو ’’نشان سپاس‘‘ سے نوازا۔ بر کاتی صاحب کے کرشماتِ قلم سے اب تک 15 سے زیادہ کتب اور سینکڑوں مضامین منظر عام پر آچکے ہیں. شہید پاکستان پر آپ کو بلا شبہ ایک مستند اور معتبر لکھاری ہونے کا درجہ حاصل ہے. شہید پاکستان پر آپ نے بہت کچھ لکھا مضا مین کے علاوہ آپ کی مختصر تصانیف ’انکل حکیم محمد سعید ‘، ’سعید پارے ‘’ وہ بھی کیا دن تھے’ کے علاوہ انگریزی میں حکیم صاحب کی ’پروفائل‘ شامل ہے۔ برکاتی صاحب نے 10دسمبر بروز اتوار اس جہان فانی کو الوداع کہا.

ماسٹر عاشق حسین
دمادم مست قلندر کے موسیقار ماسٹر عاشق حسین لاہور میں 26 دسمبر کو انتقال کر گئے۔

سلیم فاروقی
کالم نگار، ادیب سلیم فاروقی بھی اسی سال اللہ پیارے ہوئے۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: