مارشل لاء سے مارشل لاء تک : محمد خان قلندر

0
  • 35
    Shares

دو مارشل لاؤں کا درمیانی مروجہ وقفہ ختم ہونے میں ابھی دو سال باقی ہیں۔

گزشتہ دو سال میں اگرچہ بوٹوں کی دھمک پیدا کرنے کی کوشش کی گئی لیکن اس کے لئے سازگار ماحول پیدا نہ ہو سکا، حتمی مارشل لاء کا نفاذ تو نہیں ہوا لیکن سیاسی ماحول بہت زیادہ پراگندہ ہو گیا. اشرافیہ تو اپنی جگہ مطمئن ہے کہ ملک میں فکری انتشار کی شدت اس کے لئے سُودمند ہے. لیکن دو پہلو سماجی اور معاشی لحاظ سے بہت تشویش ناک ہیں۔

اوّل انفارمیشن ٹیکنالوجی میں غیر متوقع ترقی کی وجہ سے میڈیا کے ایک انڈسٹری بننے اور دنیا بھر میں سب سے بڑے وسیلہء روزگار بن کے ابھرنے کی وجہ سےاسے ایک ریاستی ستون کا درجہ مل جانا. مزید پاکستان کے تناظر میں سارے میڈیا کا خود کو قابل فروخت مال بنا کر برائے فروخت پیش کرنا، ذرائع ابلاغ کی اخلاقی حدود و قیود کا اس کاروباری مسابقت میں مکمل طور پر تحلیل ہو جانا. دوئم ملک کی موجودہ نوجوان نسل، جو ہر قوم کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے، اس کا شدید ذہنی انتشار اور ہیجان کا شکار ہو جانا، اور اس کے مسلسل دباؤ میں رہنے کی وجہ سے ان میں خود اعتمادی کی شدید کمی واقع ہونا.

موجودہ صورت حال میں تعلیمی تدریسی اداروں سے لے کر، معیشت کی مارکیٹ میں داخل ہونے والی پوری نوجوان نسل سخت بےیقینی اور الجھن کا شکار ہے. ان کے ذہن اس قدر پراگندہ ہو گئے ہیں کہ وہ اپنے ماں باپ سے لے کر اساتذہ تک، اپنے سینئر افسران یا ادارے کے مالکان سب کو نااہل، ناکام اور بددیانت سمجھتے ہیں. پوری نسل اس بیماری کا شکار ہو چلی ہے کہ یہاں ہر شخص کے پاس جو کچھ ہے وہ چاہے وراثت ہی کیوں نہ ہو سب کا سب ناجائز طریقے اور کسی نہ کسی بدعنوانی میں شرکت کے سبب بنایا گیا ہے۔

میڈیا کا اہم ترین ادارہ شتر بے مہار بنتا گیا، دوسری جانب نوجوان نسل جیسا قیمتی اثاثہ ذہنی ہیجان اور منتشر الخیالی کا شکار ہو گیا، ملکی معاملات و حالات سے لاتعلق اور فشار کا باعث بنتا گیا۔

ان دونوں مسائل کا علاج اور حل کرنا، اس وقت تو مکمل طور پر سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے، اور یہی اس کی اہل بھی ہیں کہ قوم کی فکری تعمیر ہمیشہ لیڈر کرتے ہیں. اور لیڈر سیاسی ہی ہونے بھی چاہیئیں. اب اگر سیاسی اکابرین ان مسائل کی سنگینی کو سمجھ کے ان کے علاج کی کوئی تدبیر نہیں کرتے تو لامحالہ لوگ کسی مسیحا کے آنے کی دعا بھی کریں گے اور اس کے استقبال کے لئے ہر وقت ہمہ تن تیار بھی ہوں گے.

آئیے اب ملک کی موجودہ ہیئت مقتدرہ، اشرافیہ یا اسٹیبلشمنٹ، جو بھی کہہ لیں، اس پر نظر ڈالتے ہیں. جس کی موجود بدیہی تقسیم اس طرح نظر آتی ہے.

  1. فوج اور اس کے پروردہ اور حمائتی اثاثے بشمول مزہبی تنظیمیں اور غیر سیاسی جہادی عناصر.
  2. مسلم لیگ نواز اس کی حمائتی سیاسی اور مذہبی جماعتیں اور تنظیمیں.
  3. تحریک انصاف اور اس کی حلیف مذہبی سیاسی جماعت، اور اس کی حمایت یافتہ مذہبی تنظیم اور گروہ.
  4. پیپلز پارٹی اور اس کی حلیف جماعتیں اے این پی، متحدہ اور دیگر گروپس.

حلیف اے این پی اور متحدہ تو زیر تحلیل ہیں، اس کے سارے اسپانسر جنہوں نے نون لیگ یا فوج کی پناہ نہیں لی، آج کل زیر عتاب ہیں. آج کی نشست میں ہم پیپلز پارٹی کے احوال کا جائزہ لیتے ہیں:

پیپلز پارٹی کے اقتدار میں آنے کی تاریخ بڑی عجیب ہے، بھٹو صاحب نے ایوب خان کے خلاف تحریک چلائی، اور اقتدار پر قبضہ جنرل یحیی خان نے کر لیا. اسی جرنیل کی حکومت کی نگرانی میں انتخاب میں حصہ لیا اور مغربی پاکستان میں کلین سویپ کیا، لیکن اقتدار سانحہ ڈھاکہ فال کے نتیجے میں فوج سے ہی ملا، اور پھر جنرل ضیاءالحق کے مارشل لاء میں معزول ہو گئے.

دوسری مرتبہ پیپلز پارٹی بینظیر مرحومہ کی قیادت میں اقتدار میں شریک کی گئی تو وہ اقتدار بھی ضیاءالحق کے حادثے میں جاں بحق ہونے کے نتیجے میں ہوئے الیکشن سے  حاصل ہوا. مزید برآں پیپلز پارٹی کو تیسری مرتبہ اقتدار میں شرکت کی وجہ بھی حادثاتی رہی.

نواز شریف نے مرکز میں پہلی مرتبہ اقتدار سنبھالا تھا، انہیں اشرافیہ کے دو ستون اقتدار میں لائے تھے، لیکن اپنی ذاتی کمزوری کی وجہ سے نواز شریف نے بیک وقت اسحاق خان اور جنرل وحید کاکڑ سے سینگ پھنسا لئے، اشرافیہ اس وقت اس ٹرن ارؤنڈ کے لئے تیار نہ تھی، لہذا پیپلز پارٹی کو میک شفٹ ارینجمینٹ کے لئے اقتدار دیا گیا، دوسری اور فوری وجہ کراچی آپریشن تھا، جس کی ذمہ داری کے لئے پنجابی کی بجائے سندھی وزیراعظم کا ہونا بہتر تصور کیا گیا.

اس کے بعد کی داستاں دردناک بھی ہے اور سبق آموز بھی، بینظیر اپنے دونوں ادوار میں، کوشش کے باوجود فوج کو تمغہء جمہوریت دینے کراچی آپریشن کی مکمل ذمہ داری لینے اور دیگر امور پر پسپائی تک اختیار کرنے کے باوجود فوج اور پیپلز پارٹی کے درمیاں عدم اعتماد کو ختم نہ کر سکیں. دوسری طرف نواز شریف کے کرم فرماؤں نے فوج، اور عدلیہ کے ساتھ اس کو نتھی کرا دیا، اس مرتبہ بینظیر کو اقتدار سے ہمیشہ کے لئے باہر رکھنے کے لئے ہر حربہ استعمال کیا گیا، اور آخر کار انہیں ملک چھوڑنا پڑا.

نواز شریف خود اپنے ہاتھوں، اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں میں کھیلتے، اقتدار جنرل مشرف کے حوالے کرکے متعلقہ کرفرماؤں کی میزبانی میں چلے گئے. بینظیر مرحومہ سے میثاق جمہوریت، اور این آر او کرنے کی سیاسی اجتہاد میں غلطی ہوئی یا کرائی گئی، اب سمجھنا آسان ہے. نواز شریف کی واپسی کی راہ نکالنے والوں نے اس کے وطن پہنچنے پر بینظیر کو راہ سے ہی ہٹا دیا.

بینظیر کی شہادت دنیا کا المناک ترین حادثہ تھا، اس کی سنگینی کے زیر اثر اس کے منفی اثرات کو زائل کرنے کے لئے ایک مرتبہ پھر اقتدار پیپلز پارٹی کو دیا تو گیا، لیکن کھل کھیلنے پر پابندی کے ساتھ، عدلیہ کو سامنے رکھ کر مرکز میں اس کی وزارت عظمی اسلام آباد تک محدود رکھی گئی. زرداری کو صدر ہاؤس تک پابند رکھا گیا. یوں پانچ سال میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے دور میں پیپلز پارٹی کا بطور ملک کی پارٹی خاتمہ بالخیر کر کے اسے سندھ تک محدود کر دیا گیا.

نئے منظر نامے میں زرداری صاحب کو نواز شریف کے مقابل نام نہاد لیڈر کا رول دیا گیا، جسے وہ بہ خوبی نبھا رہے ہیں. اس پس منظر میں اگر ممکن ہو تو زرداری صاحب کو فوج کے ساتھ اس کے پیپلز پارٹی کے بارے تحفظات دور کرنے کی سنجیدہ کوشش کرنی چاہیئے. نون لیگ سے ان کی مفاہمت یہی ہے کہ جب ضرورت ہو نواز شریف ان کو استعمال کر لے، ورنہ اگر زرداری نے نواز شریف پر مزید اعتماد کیا تو وہ خود تو شائد بچ جائیں لیکن پیپلز پارٹی کا سندھ میں بھی صفایا ہو جائے گا.

اضافی نوٹ؛

ڈسٹرکٹ سولجر بورڈ چکوال، اپنے ریکارڈ کے ساتھ اگر ہمت کر کے ضلع بھر کے قبرستانوں  کا سروے کر کے مدفون شہدا کی لسٹ تیار کر لے، تو بہتر ہو گا. شائد دنیا میں کسی بھی جغرافیائی عمومی اکائ ضلع میں شہدا کی تعداد کا یہ ایک ریکارڈ ہو!

دوسری بات پورے چکوال کو چھوڑ دیں، شہر کو بھی رہنے دی، ہمارا پورا آبائی محلہ بھی نہیں،  اس میں موجود سرپاک کے گراؤنڈ کے چاروں اطراف میں واقع چار چھ درجن کے قریب مکان ہی لے لیں تو آپ کو ان میں، سپاہی سے صوبیدار تک اور کپتان سے جرنیل تک درجنوں فوجی ملیں گے. گویا کہا جا سکتا ہے کہ چکوال میں پیدا ہونا فوج میں پیدا ہونا ہے۔

اتنی قربت کے  باعث ہم پر فوجی ہونے اور فوج سے ہمدردی رکھنے کا شائبہ قدرتی امر ہے لیکن اس کے باوجود ملکی امور کے تجزیہ میں ہم کبھی بھی اس جانبداری کا شکار نہی ہوتے۔

ہم تو فوج کو فوج دیکھنا چاہتے ہیں لیکن اس بات کا تجزیہ بھی ضروری ہے کہ فوج ازخود بدنیتی سے اقتدار پے کبھی قابض ہوئی یا اس کے ان اقدامات کے پیچھے بھی انہی قوتوں کا ہاتھ ہے، جنہوں نے فوج کو استعمال کر کے اور پھر اس کی معاونت کر کے اپنے ہاتھ مضبوط کئے۔
اس موضوع پر مزید بات ہو گی.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: