مولانا کی ادائیں : محمد عثمان جامعی

0
  • 306
    Shares

لوگ توتا پالتے ہیں، کبوتر پالتے ہیں، کوئی مینا پنجرے میں بند کرکے گھر کی زینت بناتا ہے، تو کوئی باز پالنے کا شوق رکھتا ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے اقتدار کا ہُما پال رکھا ہے اور ماہر کبوتر بازوں کی طرح اسے یوں سُدھایا ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت کو اقتدار ملے، مولانا اپنے آنگن میں آکر ہاتھوں کو بھونپو بناکر منہ پر رکھ کے آواز لگاتے ہیں، ”اب اُڑ آرے پنچھی“ اور ان کا لے پالک ہما کہیں بھی ہو اُڑتا ہوا آتا ہے اور ان کے سرِمبارک پر گھونسلا بنا کر مقیم ہوجاتا ہے۔ جس کے فوری بعد مولانا ”قی قی قی“ کرکے ہنستے ہوئے حکومت کا حصہ بن جاتے ہیں۔ سو پاکستان میں وزیراعظم کوئی بھی ہو تین چیزیں، اس کی حکم رانی کا لازمی جزو قرار پاتی ہیں کرسی، شیروانی اور مولانا فضل الرحمٰن کی مہربانی۔

دراصل مولانا جمہوریت بچانے اور اسے طاقت دینے کے لیےحکومت میں شامل ہوتے ہیں۔ مولانا کی صحت ماشاءاﷲ جمہوریت کو قوت بخشنے کے لیے کافی ہے، باقی سب اضافی ہے. اچھی صحت، جو انصاف کی طرح ہے ہی نہیں نظر بھی آتی ہے، مولانا پر قدرت کا خاص فضل ہے، وہ اپنے پیروکاروں کے لیے رول ماڈل ہیں لیکن صحت بخش مشروبات اور ’طاقت‘ کی ادویہ کی تشہیر کے لیے اچھے ماڈل بن سکتے ہیں، تاہم جب ڈیلنگ ہی سے رزق کی فراوانی ہو تو ماڈلنگ کرنے کی کیا ضرورت ہے؟

یقیناً یہ ان کی صحت ہی ہے جس کے باعث انھیں پارلیمنٹ کی کشمیرکمیٹی کا چیئرمین بنایا گیا ہے، تاکہ ان کے جُثّے کے باعث کشمیر پر قابض بھارت پر ہیبت طاری ہوجائے اور وہ یہ دیکھ کر سہم جائے کہ پاکستان پر ﷲ کا کتنا فضل ہے، پھر یہ ڈرا سہما بھارت اپنا یہ ‘اٹوٹ انگ’ بِنا جنگ کیے ہماری جھولی میں ڈال دے. مگر مسئلہ یہ ہے کہ مولانا کی زبان پر کشمیر کا ذکر اتنا کم آتا ہے کہ بھارت کو اب تک یہ خبر نہیں ہوسکی ہے کہ وہ کشمیر کمیٹی کے چیئرمین ہیں۔

مولانا فضل الرحمٰن کی جو ادا ہمیں سب سے زیادہ پسند ہے وہ ان کا میٹھا لہجہ اور شیریں زبان ہے، وہ اتنے میٹھے ہیں کہ بعض لوگ انھیں پیار سے شکرپڑیاں کی پہاڑی کہتے ہیں. لیکن جب ذکر عمران خان کا ہو تو یہ شیرینی گرم کھولتی چائے کی مٹھاس میں بدل جاتی ہے. وہ عمران خان کو پیار سے یہودیوں کا ایجنٹ کہتے ہیں. درحقیقت اس طرح وہ عمران خان پر الزام نہیں لگاتے بل کہ یہودیوں کو بے وقوفی کا طعنہ دیتے ہیں. عمران خان بھی انھیں بڑی محبت سے مولانا ڈیزل کا خطاب دیتے ہیں، شاید اس لیے کہ مولانا کی طرح ڈیزل بھی توانائی کی علامت ہے اور قابل خرید بھی۔

ہم مولانا کی جس دوسری ادا پر فریفتہ ہیں وہ ان کی مسکراہٹ ہے. اتنی خوب صورت مسکان صرف ٹوتھ پیسٹ کے اشتہارات ہی میں نظر آتی ہے، لیکن اس مُسکراہٹ کے لیے ماڈل کو بھاری معاوضہ ادا کیا جاتا ہے، جبکہ ہمارے پیارے مولانا کم ازکم مسکرانے کا معاوضہ نہیں لیتے، یہ سروس حکم رانوں سے عوام تک سب کے لیے مفت ہے. یہاں تک کہ جب عمران خان کی تند و تیز تقریروں اور مولانا کی شان میں آگ پر ڈیزل چھڑکنے جیسی اشتعال انگیز گستاخیوں کے بعد بھی ہم نے انھیں مسکراتے دیکھا تو دل بہت دُکھی ہوا۔ سوچا پوچھیں ”تم اتنا جو مسکرا رہے ہو، کیا غم ہے جس کو چُھپا رہے ہو“ اور پھر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہیں، آنکھوں میں ”تپش“ ہنسی لبوں پہ، کیا حال ہے کیا دکھا رہے ہو؟

مولانا کی جس تیسری صفت کے ہم گرویدہ ہیں وہ ہے ان کا ملنسار ہونا، ان کے میل ملاپ کی راہ میں مذہب، نظریہ، عقیدہ، اختلاف کچھ حائل نہیں ہوتا۔ آپ مولانا کی جس کے ساتھ بھی ملاقات کی تصویر دیکھیں ان کی مسکراہٹ، پُرجوش مصافحہ اور معانقہ اس پُرانے بھارتی گانے کا عکس بن جاتے ہیں، ”تم ملے، دل کھلے اور جینے کو کیا چاہیے، نہ ہو تو اُداس، ترے آس پاس میں رہوں گا زندگی بھر۔“ یہاں تک کہ وکی لیکس نے تو یہ انکشاف بھی کیا تھا کہ دو ہزار سات میں مولانا فضل الرحمٰن پاکستان میں سابق امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن سے بھی ملے، بلکہ جا کے نہیں انھیں بُلا کے ملے، انھیں دعوت دی، قبول اسلام کی نہیں طعام کی، اور اس ایک کھانے کے عوض امریکا سے مطالبہ کر دیا کہ وہ وزیراعظم بننے میں مولانا کی مدد کرے۔ بھئی آپ سمجھے نہیں، اس طرح مولانا یہ دیکھنا اور دکھانا چاہتے تھے کہ امریکا نمک حرام ہے یا نمک حلال. اگر امریکی سفیر ”امریکی بھائی کس کے، کھایا پیا کھسکے“ کا مظاہرہ نہ کرتے اور امریکا مولانا کو وزیر اعظم بنادیتا تو حضرت مولانا اپنے لیے بنائی جانے والی بہت بڑے حجم کی وزارت عظمیٰ کی کرسی پر بیٹھ کر فخریہ اور زبان نکال کر امریکا کو منہہ چڑاتے ہوئے کہتے، “دیکھ اوئے بے وقوف! پاسباں مل گیا کعبے کو صنم خانے سے”۔ پھر وہ قی قی قی قی کرکے اور کرسی ہلاہلا کر ہنستے اور امریکی جَل بُھن کر خاک ہوجاتے. مولانا کی اس مُدبرانہ حکمت عملی کو ان کے مخالفین نے ہوس اقتدار کا نام دیا، اﷲ مولانا کی پاک نیت پر شک کرنے کے اس گُناہ پر ان لوگوں کو معاف کرے.

وہ عمران خان کو پیار سے یہودیوں کا ایجنٹ کہتے ہیں. درحقیقت اس طرح وہ عمران خان پر الزام نہیں لگاتے بل کہ یہودیوں کو بے وقوفی کا طعنہ دیتے ہیں

بہرحال مولانا امریکا سے تو مایوس ہوگئے ہیں، لیکن انھیں اپنے ملک کے عوام پر بھرپور اعتماد ہے کہ وہ انھیں انتخابات میں جتوائیں گے اور اقتدار دلائیں گے. اسی لیے انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ آئندہ انتخابات میں سیاسی نابالغوں کو شکست سے دوچار کریں گے اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی، پانی، بجلی اور گیس فراہم کریں گے۔ بہ الفاظ دیگر آوے ای آوے۔

یوں تو مولانا کی جماعت متحدہ مجلس عمل کا حصہ ہے، لیکن پہلے بھی نشستوں کی ایک بڑی تعداد جیتنے کے بعد ایم ایم اے، جے یوآئی ف کا حصہ لگنے لگا تھا. اب بھی امکان ہے کہ جیتنے کہ صورت میں متحدہ مجلس عمل ”مکمل مولانا فضل“ میں تبدیل ہوجائے۔ انھوں نے عوام کو یہ خوش خبری تو دے دی کہ سیاسی نابالغوں کو شکست دیں گے، لیکن یہ نہیں بتایا کہ وہ سیاسی بالغوں کے ساتھ کیا کریں گے؟ ویسے ہمیں یاد ہے کہ پاکستان میں کچھ انگریزی فلمیں اس اشتہار کے ساتھ لگتی تھیں، ”صرف بالغان کے لیے“ یوں بلوغت کے اعلان کے لیے ان فلموں کا دیکھنا واجب ہوجاتا تھا. لگتا ہے کہ مولانا ان فلموں کی طرح سیاست اور انتخابات کو بھی صرف سیاسی بالغان کے لیے مخصوص کرنا چاہتے ہیں. لیکن ہمیں یقین ہے کہ سیاسی بلوغت کی شرط کو وہ صرف سیاست دانوں تک محدود رکھنا پسند کریں گے، عوام کو اس سے دور ہی رکھیں گے، کیوں کہ عوام میں سیاسی بلوغت آگئی تو خدشہ ہے مولانا کی جماعت جے یو آئی ”ف“ کا ”ف“ فضل الرحمٰن کے بہ جائے ”فارغ“ کا مخفف نہ بن جائے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: