مغرب میں مطالعہ اسلام کے چار جدید مکاتب : محمد مشتاق خان

0
  • 176
    Shares

نو استشراق کے مذاہبِ اربعہ

استعمار (Colonialism) اور استشراق (Orientalism) کا چولی دامن کا ساتھ رہا۔ مابعد استعمار کے دور میں استشراق نے “علمی مطالعے” (academic study) کا لبادہ اوڑھ لیا۔ جیسے استشراق کی علمیت کے پیچھے سیاسی محرکات تھے، ایسے ہی مغرب میں علمی مطالعے کی روایت کے اسباب بھی بنیادی طور پر سیاسی ہی ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ استشراق کے سیاسی محرکات کی طرح علمی مطالعے کے سیاسی محرکات کی جڑ میں بھی مذہبی عناد موجود ہے۔

استعمار کے دور میں استشراق کا بڑا حملہ حدیث پر ہوا، جس کے نتیجے میں ہمارے ہاں بیسویں صدی عیسوی میں انکارِ حدیث کا پورا ڈسکورس وجود میں آیا۔ اس ڈسکورس کے جواب میں مسلمان اہلِ علم نے اتنے پہلووں سے اور اتنا تفصیلی کام کیا کہ اکیسویں صدی میں ذخیرہ ءحدیث کے استناد سے انکار کا موقف قابلِ قبول نہیں رہا۔ اس لیے اکیسویں صدی میں مغرب کے علمی مطالعے نے دوسری راہیں تلاش کرلی ہیں۔ اس نو استشراقی (neo-Orientalist) فکر کے نتیجے میں چار مذاہب نے جنم لیا ہے۔ ذیل میں ان مذاہبِ اربعہ کا مختصر تعارف پیش کیا جارہا ہے:

پہلا مذہب:
ایک مذہب یہ سامنے آیا ہے کہ قرآن ہی کے استناد سے انکار کیا جائے۔ مغرب میں کئی نامی گرامی لوگوں نے اس پہلو سے کام کی کوشش کی ہے اور نہ صرف اختلافِ قراءت کو ہدف بنایا، بلکہ مخطوطات پر بھی اعتراضات کیے اور لسانیاتی بحثیں بھی اٹھائیں۔ تاہم مسلمانوں کے ہاں ابھی تک بالعموم اس مذہب کو قبولیت نہیں مل سکی ہے اور اس وجہ سے مسلمانوں کے ہاں زیادہ تر بحث بس اختلافِ قرءات سے انکار یا ان کی تاویل تک ہی محدود رہی ہے۔ قرآنی متن کے استناد پر امت کا اعتماد اب بھی برقرار ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ “محض تلاوت پر ثواب ” سے انکار کو “عقلی “اور “لسانیاتی” دلائل سے ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور عبودیت اور روحانیت کے پہلو کی نفی کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا ہے۔

دوسرا مذہب:
جب قرآنی متن کو مشکوک نہیں بنایا جاسکا تو قرآن اور امت کے تعلق پر ایک اور پہلو سے حملہ شروع ہوا جسے Hermeneutics  کے دلفریب عنوان سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس زاویۂ نظر کے نتیجے میں متن کی اہمیت کم ہوجاتی ہے اور متن پڑھنے والے کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ یوں متن وہی مفہوم رکھتا ہے جو پڑھنے والا اس سے اخذ کرتا ہے۔ پدرسری معاشرے میں پلنے بڑھنے والا انسان متن سے کچھ اخذ کرے گا اور صنعتی دور میں شہر کی میکانکی زندگی سے نبرد آزما شخص متن کو کچھ اور سمجھے گا۔ وہ کام جو انکارِحدیث سے مقصود تھا اور جو انکارِ قرآن کا مذہب نہیں کرپایا، وہ اس دوسرے مذہب نے کر دکھایا ہے۔ امت کے کئی ذہین لوگ اس مذہب کو قبول کرنے کے نتیجے میں انھی نتائج تک پہنچے ہیں جو حدیث کی حجیت یا قرآنی متن کے استناد سے انکار کے نتیجے میں مرتب ہونے تھے۔

تیسرا مذھب:
تیسرا مذہب ذرا مختلف زاویے سے انھی نتائج تک پہنچا۔ یہ مذہب دعوی تو پورے قرآن کے “قطعی الدلالہ” ہونے کا کرتا ہے، اور اس پہلو سے بظاہر یہ اس دوسرے مذہب کا عین متضاد معلوم ہوتا ہے، لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ مذہب قرآن کی قطعیت سے انھی نتائج تک پہنچا ہے، جہاں تک دوسرا مذہب قرآن کی ظنیت سے پہنچا تھا۔ اس کا ایک سبب تو یہ ہے کہ قطعی الدلالہ کا اصول ماننے کے لازمی نتیجے کے طور پر اپنے فہمِ قرآن کو امت کے “روایتی فہمِ قرآن” پر فوقیت مل گئی اور جب ایک دفعہ قرآن کا روایت سے رشتہ کٹ گیا تو پھر دوسرے مذہب کے نتائج ماننا تو ایک بدیہی امر ہوگیا۔ دوسرا بڑا سبب یہ ہوا کہ اس مذہب کے دیگر اصول، بالخصوص نظریۂ “اتمامِ حجت” کی وجہ سے قرآنی متن کا بہت بڑا حصہ زمان و مکان کے ایک مخصوص دائرے اور مخاطبین کے ایک مخصوص گروہ تک محدود ہوکر رہ گیا۔ نتیجتاً معاصر دور کے زندہ مسائل کےلیے دین رہنما بننے سے قاصر ہوگیا۔ (ابھی چند ہی دن قبل اس مذہب کے ایک علم بردار نے کہا تھا کہ بِٹ کوئن کے جواز و عدم جواز کا فیصلہ دینی علوم کے ماہرین نہیں کرسکتے)

چوتھا مذھب:
چوتھا مذہب اس تیسرے مذہب کی بہ نسبت زیادہ “روایتی” حلقے سے سامنے آیا ہے۔ یہ مذہب ان لوگوں کا ہے جو بہ ظاہر نہ صرف قرآن و حدیث بلکہ فقہ و اصول کے بھی ماننے والے ہیں اور فقہاۓکرام، محدثین اور مفسرین بلکہ صوفیہ کے اقوال سے استشہاد بھی کرتے رہتے ہیں۔ تاہم انھوں نے نصوصِ قرآن و حدیث کے “بیان “اور اور پھر ان نصوص پر “قیاس” کے نتیجے میں پیدا ہونے والے احکام سے اخذ کیے گئے “مقاصدِ شریعت” کو معیار مان کر ان کی روشنی میں نصوص ہی کی تاویل شروع کردی۔ یوں یہ مقاصدِ شریعت گویا Frankenstein کی مثال بن گئے۔ پھر جب ایک دفعہ ان مقاصد کی روشنی میں نصوص سے ثابت شدہ احکام میں تغییر کا سلسلہ شروع ہوا تو لازمی نتیجے کے طور پر بعض نئے مقاصدِ شریعت بھی ماننے پڑے اور ساتھ ہی مقاصد کی ترتیب میں الٹ پھیر بھی شروع ہوگئی۔ یوں جلد ہی یہ “مقاصدی فکر” مکمل طور پر “مفاسدی فکر” میں تبدیل ہوگئی اور اس لیے کوئی حیرت کی بات نہیں کہ عملی مسائل میں یہ مذہب آپ کو وہیں کھڑا نظر آتا ہے جہاں دوسرے اور تیسرے مذاہب کے ماننے والے کھڑے ہوتے ہیں۔

اور ہاں، پہلے مذہب کے ماننے والے ان تین مذاہب کے پیروکاروں  سے بس ایک ہاتھ ہی کے فاصلے پر ہوتے ہیں!


مصنف کی ایک اور عمدہ تحریر:

تعبیرِ قانون کے چند اہم مباحث: ڈاکٹر مشتاق احمد

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: