امریکا اور پاکستان: 2018 کا پہلا ہفتہ ۔۔۔۔ ثنا غوری

1
  • 65
    Shares

نیا سال لگتا تھا کہ کچھ بدلاو لائے گا دلوں کے میل دھل جائیں گے امن کی بات ہوگی ہتھیاروں کی بو سے دم گھٹتی فضاء نہ ہوگی لیکن یہ سال تو جیسے پچھلے سالوں سے زیادہ خطرناک تباہی کے سنگنل دے رہا ہے۔ جس کی سب بڑی اور واضح مثال شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ہیں جو کہتے ہیں امریکہ کبھی بھی جنگ کا آغاز نہیں کرسکتا کیونکہ جوہری ہتھیار چلانے کا بٹن اُن کی میز پر موجود ہے۔ موصوف یہ بیان سالِ نو کے موقع پر ٹی وی اسکرین پر اپنی عوام سے خطاب کرتے ہوئے دیتے ہیں ساتھ ہی یہ عندیہ بھی دیتے ہیں کہ یہ ایک حقیقت ہے اِسے دھمکی نا سمجھا جائے۔

اس وقت حالیہ تنازعہ کی وجہ یہ کہ امریکا نے پاکستان میں گرفتار حقانی نیٹ ورک کے ایک جنگجو تک رسائی مانگی تھی لیکن پاکستانی حکام نے منع کردیا تھا جس پر برہم ہوکر ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ انتہائی سختی کے ساتھ پاکستان کی 25 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی امداد روکنے پر غور کررہی ہے۔

اس وقت کم جونگ ایک ضدی بچے کی مانند دھمکیاں دینے اور اپنی ضد پوری کرنے پر اتر آئے ہیں جبکہ ان کے مدِمقابل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہیں۔ اب اس بات پر روشنی ڈالنا تو فضول ہی ہوگا کہ ڈونلڈ ٹرمپ خو د کس حد تک ضدی طبیعت کے مالک ہیں۔اپنی ڈپلومیسی کے حوالے سے ان کے غیر سنجیدہ بیانات عجیب صورتحال اختیار کرگئے۔اکثر ان کے بیانات کو تمسخر کا نشانہ ہی بنایا جاتا ہے۔ امریکی صدر سال نو کی صبح ٹوئیٹر بیان دیتے ہیں جس کے مطابق، ’امریکہ نے احمقانہ طور پر پندرہ سالوں میں پاکستان کو 33 ارب ڈالر کی مدد فراہم کی ہے۔ مزید کہتے ہیں کہ پاکستان نے ہمیں سوائے جھوٹ اور دھوکے کے کچھ نہیں دیا ہے۔ وہ ہمارے لیڈروں کو بے وقوف سمجھتے رہے ہیں اور ان دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتے رہے ہیں جن کاہم افغانستان میں ان کی نہ ہونے کے برابر مدد سے تعاقب کررہے ہیں۔ اب ایسا نہیں چلے گا‘۔۔۔۔ اب اس بیان کو ایک دن نا گزرا تھا کہ وائٹ ہاوس سے ایک اور بیان جاری ہوتا ہے جس کے مطابق وائٹ ہاؤس نے پاکستان کی 255 ملین ڈالر فوجی امداد بحال کرنے کا امکان مسترد کردیا۔ امریکی قومی سلامتی کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان کو 25 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی فوجی امداد جاری نہیں کی جائے گی، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان اپنے ہاں موجود دہشتگردوں اور عسکریت پسندوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے، جس کی روشنی میں ہی دونوں ممالک کے تعلقات بشمول فوجی امداد کا فیصلہ کیا جائے گا۔امریکی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ سیکیورٹی شعبہ جات میں پاکستان کے تعاون کا جائزہ لیتی رہے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اگست سے ہی ڈو مور کا مطالبہ کرتے ہوئے پاکستان کی 255 ملین ڈالر کی امداد روکی ہوئی ہے۔ اس امداد کو غیرملکی فوجی معاونت کہا جاتا ہے.اب سوال یہ ہے کہ امریکا سرکار پاکستان پر اتنا غصہ ہے ہی کیوں تو پہلی وجہ تو وہی ہے کہ امریکا افغانستان میں اپنی شکست کسی صورت تسلیم نہیں کرنا چاہتا اور اس کاتما م تر ذمہ دار پاکستانی حکومت کو ٹھراتا ہے ڈو مور کا نعرہ پہلا بھی تھا اب بھی موجود ہے اسی نعرے کے ہوتے ہوئے پاکستان نے آپریشن ضرب عضب او ر آپریشن ردالفساد کیا جس میں کتنے ہی دہشت گردوں کو جہنم وصل کر دیا گیا۔ اس وقت حالیہ تنازعہ کی وجہ کچھ اور ہے اور وہ یہ کہ امریکا نے پاکستان میں گرفتار حقانی نیٹ ورک کے ایک جنگجو تک رسائی مانگی تھی لیکن پاکستانی حکام نے منع کردیا تھا جس پر برہم ہوکر ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ انتہائی سختی کے ساتھ پاکستان کی 25 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی امداد روکنے پر غور کررہی ہے۔

اب پاکستان کے وزیرِ خارجہ اپنے دھمیے لہجے میں امریکا کے ا لزامات کا جواب دیں نا دیں۔بیجنگ سے پاکستان پر لگائے جانے والے بیانات کا جواب ضرور آتا ہے۔

چلیں جناب کسی نے تومانا کسی نے تو اقرار کیا کہ پاکستان اس ڈو مور کے نعرے تلے دب کر اب تک اپنا کتنا نقصان کر چکا ہے۔سب سے پہلے پاکستان کے نعرے نے سب سے زیادہ پاکستان کو نقصان کو پہچایا اور اب تک ہم اس کی پاداش میں سزا کاٹ رہے ہیں۔ٹرمپ کے بیان پر پاکستان میں کھلبلی ضرور مچتی ہے اورفوری طرر پر قومی سلامتی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس بلالیا جاتا ہے۔اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کو اپنے امریکا کے ساتھ تعلقات کا ازسرِنو جائزہ لیتے ہوئے پالیسی بنانی ہوگی ورنہ یوں ہی ٹرمپ پاکستان کو نیجا دیکھاتے ہوئے ساری دنیا میں پاکستان کا امیچ خراب کرتے رہے گے۔امریکا روز اول سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات خراب ہونے کی وجہ دہشت گردوں کو پناہ فراہم کرنا کہتا ہے۔ امریکہ کہتا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے گروپوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ ہے جب کہ پاکستان ہمیشہ اس الزام کی تردید کرتا آیا ہے اور کرتا رہے گا۔

پاکستانی قوم اور پاکستانی فوج ملک کے دفاع میں اور دنیا کو دہشت گردی سے محفوظ رکھنے کے لیے اپنی قیمتی جانیں دیتی رہی اور امریکا کو اپنی وفادایوں کا یقین بھی دلاتی رہی لیکن ہاتھ کچھ نہ آیا۔ پاکستان پر لگائے جانے والے الزامات پر یقین کرنا اس لئے بھی آسان ہے کہ یہاں بہت سے گروہوں کو جو عالمی سطح پر دہشت گردی کی کاروائیوں میں ملوث ہونے کے الزام کا شکار ہیں، کو کھلے عام اپنی سیاسی کاروایئاں کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ بھارت اس وقت افغانستان میں اپنے قدم جما رہا ہے اور امریکا اس حوالے سے بھارت کو مکمل تعاون دے رہا ہے۔ جس کے برے اثرات پاکستان پر آنا کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔ یہ بات درست ہے کہ پاکستان کو اس وقت چین کی سب سے زیادہ سپورٹ حاصل ہے لیکن پاک چائینہ کوریڈور کوناکام بنانے کیلئے امریکا بھارت مل کر جتنا آگے جا سکتے ہیں جائے گے لہذا مستقبل میں کسی بڑی دہشت گردی کی کاروائی کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔


یہ بھی ملاحظہ کریں:

پاک امریکہ تعلقات، اتار چڑہاو کی تاریخ: بابر عباس

امریکہ کا جنگی جُنون اور دنیا کا مستقبل ۔ ادریس آزاد

امریکی ایوانوں میں سسکتی جنسی اور ذہنی غلامی: چوہدری بابر عباس خان

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: