سیکولرازم: چند بنیادی غلط فہمیاں — انوار احمد

0

یہ تحریر دراصل فیس بُک کی ایک پوسٹ پہ تبصرے اور اس سے ملنے والی تحریک و توسیع کے نتیجے میں وجود میں آئی ہے۔ وہ پوسٹ دراصل احمد جاوید صاحب سے منسوب ایک جملہ تھا جس میں انہوں نے فرمایا کہ ’’دین اپنی اطلاقی حدود خود متعین کرتا ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے سیکیولرازم کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ’’اگر کوئی نظام اس بات کی (یعنی دین کو اپنی اطلاقی حدود متعین کرنے کی) اجازت نہیں دیتا تو اسے غیر دینی سمجھنے میں کیا حرج ہے۔‘‘

جہاں تک میں اسے سمجھا ہوں، اس سے احمد جاوید صاحب کی مراد یہ ہے کہ ان کے نزدیک سیکولرازم ایک دین مخالف یا کم از کم لادین نظریہ ہے۔ جیسا کہ توقع کی جا سکتی ہے، اس بات پر تبصروں کا سلسلہ شروع ہوا اور گفتگوکا دائرہ موضوع کے افقی اور عمودی دونوں سمتوں میں پھیلتا گیا۔ ایسا محسوس ہو تا ہے کی وطنِ عزیز میں پڑھے لکھے احباب اس موضوع سے خاص دلچسپی رکھتے ہیں۔

جو احباب سیکولرازم کو لادینیت کا مترادف گردانتے ہیں اور اسے پسند نہیں کرتے اور جو احباب اسے لادینیت پر مبنی سمجھتے ہوئے بھی نہ صرف اسے پسند کرتے ہیں بلکہ اپنی معاشرتی زندگی میں اس کا اطلاق چاہتے ہیں یا دوسرے الفاظ میں دین بیزاری کا اظہار کرتے ہیں، مجھے ان دونوں طرح کے احباب سے کوئی تعرض نہیں۔ استاد ذوق کی طرح “اپنی سب سے راہ ہے، سب سے یاد خدا ہے”۔

انوار احمد

تاہم اس موضوع پر لکھنے والے کچھ دوست ایسے ہیں جو کسی نہ کسی طرح سیکولرازم اور دین میں تطبیق پیدا کرکے نہ صرف سیکولرازم کا اطلاق چاہتے ہیں بلکہ ان کی خواہش ہے کہ انہیں دین مخالف قطعاً نہ سمجھا جائے۔ بین السطور جو پیغام مجھ ایسے کم علموں کو ملتا ہے وہ یہ ہے کہ انہیں کچھ ایسے نکات کے متعلق معلوم ہے جس کے بارے میں دوسرے نہیں جانتے۔ بعض اوقات مجھے محسوس ہوتا ہے کہ ایک ایسے معاشرے میں رہنے کی وجہ سے جہاں برداشت اور رواداری کا مادہ مرورِ زماں کے ساتھ کم سے کم تر ہوتا جا رہا ہے، وہ کھُل کر اپنی رائے اور اپنے نظریے کا اظہار کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔ یا پھر محسوس ہوتا ہے کہ جس طرح زمانۂ طالب علمی میں کوئی علمی کتاب دیکھ کر ہم موقع بے موقع اس کا حوالہ دینا اور اختلافی بحث میں حصہ لینا اپنی انفرادیت منوانے کا لازمہ سمجھتے تھے، اسی طرح سے ہمارے بعد میں آنے والوں کا بھی حق ہے کہ وہ ژولیدہ فکری کے مراحل سے گزریں۔خیر وجہ کوئی بھی ہو، اگر کوئی “میانِ غیب و حضور میں تڑپنا” اور “اعراف” میں رہنا چاہے تو اس کا حق ہے۔

جب جملہ احباب سیکو لرازم اور دین کے تقابل اور ان کے ایک دوسرے کے مخالف ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں نظریاتی یا علمی سطح پر بات کرتے ہیں تو اکثر ان کے پیش نظر اس موضوع پر لکھی گئی وہ کتب اور رسائل ہوتے ہیں جو مغربی مفکرین اور مصنفین کے تحریر کردہ ہوتے ہیں۔ پانی ہمیشہ نشیب کی جانب بہتا ہے۔ سو اگر مغربی تہذیب اس وقت بالادست ہے تو ظاہر ہے حوالہ بھی اسی کا معتبر ٹھہرے گا۔ تاہم چند نکات کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔

جب اہل مغرب دیگر مذاہب کی بات کرتے ہیں تو وہ انہیں مذہب کے اس تصور پر قیاس کرتے ہیں، جو ان کی روایت میں موجود ہے۔ تاہم ہمارے ہاں پڑھنے والا جب ان تحریروں کو پڑھتا ہے تو وہ لاشعوری طور پر مذہب کا لفظ “اسلام” سے تبدیل کرتا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں لفظ “دین” کی connotation میں جو اضافی چیزیں شامل ہیں وہ اہلِ مغرب کے ہاں موجود نہیں۔

مغرب میں جب لفظ “مذہب” استعمال ہوتا ہے تو اس میں ایک خاص مذہبی روایت، کلیسا و اہلِ کلیسا کا تصور، کلیسا اور ریاست کے ملاپ، ٹکراؤ اور علیحدگی کی تاریخ، اور مذہبی صحائف کے انسانی تحریر ہونے پر اتفاق شامل ہیں۔ مذہب اور کلیسا کی علیحدگی کے بعد مذہب کا محض انفرادی معاملہ ہونا ایک تسلیم شدہ امر ہے۔ مغرب میں ہماری طرح مذہب اور اس کی تاریخ پر اس طرح بات اور بحث عوامی سطح پر نہیں کی جاتی۔ سو جب اہل مغرب دیگر مذاہب کی بات کرتے ہیں تو وہ انہیں مذہب کے اس تصور پر قیاس کرتے ہیں، جو ان کی روایت میں موجود ہے۔ تاہم ہمارے ہاں پڑھنے والا جب ان تحریروں کو پڑھتا ہے تو وہ لاشعوری طور پر مذہب کا لفظ “اسلام” سے تبدیل کرتا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں لفظ “دین” کی connotation میں جو اضافی چیزیں شامل ہیں وہ اہلِ مغرب کے ہاں موجود نہیں۔

سو مغربی منہاج میں اب خدا کا تصور ایک بڑے بھائی کی طرح ہے جس کا فرض ہے کہ وہ مہربان ہو۔ میرے ہاں ہردوسرے ہفتے مختلف مسیحی فرقوں سے تعلق رکھنے والے مشنری تبلیغ کے لیے لٹریچر دینے آتے ہیں۔ ان میں اکثریت Jehova’s Witness والوں کی ہوتی ہے لیکن کبھی کبھار دیگر فرقوں مثلاً Mormons مشنری بھی امریکہ سے تبلیغی دورے پر تشریف لے آتے ہیں۔ تبلیغی بھائیوں کی طرح ان سب کا بھی ایک مخصوص طریقہ ہوتا ہے۔ تاہم ان فرقوں کے ہاں جو بات مشترک ہے وہ یہ ہے کہ مسیحی تصورِ خدا قہار، جبار اور متکبر جیسی صفات سے دور اور سراسر رحمت ہے۔ اسلام کا تصور خدا بہت مختلف اوروسیع ہے۔ اسی طرح کلیسا اور اہل کلیسا صرف کلیسا میں مذہبی رسوم سر انجام دینے والے افراد نہیں بلکہ اس کے اصطلاحی معانی میں بہت کچھ شامل ہے جس کی تفصیل سے میں اس وقت صرفِ نظر کرتا ہوں۔ یہ بتا دوں کہ نظامِ کلیساکے حسبِ مراتب کا حصہ بنے بغیر کوئی شخص مذہبی رسومات انجام دے تو اس کی قانونی حیثیت مشکوک ہے۔ اسلام کی طرح ہر شخص نماز نہیں پڑھا سکتا یا مذہبی رسوم انجام نہیں دے سکتا۔ کلیسا کی تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ اوامر و نواہی میں کلیسا کا حکم ہی حتمی تھا۔

اب کلیسا اور مذہب کا فرق بھی سامنے رکھیے۔ Jean Plaidy کیا سادہ انداز میں اس کی وضاحت کرتی ہیں:

“… Christianity and the Church do not always walk in step. In fact the simple doctrines, founded on the teachings of Jesus Christ, have too rarely been followed.”
(The Rise of the Spanish Inquisition)

چونکہ مغرب لفظ “Clergy” سے جو ادارہ مراد لیتا ہے، وہ تو اسلام میں موجود ہی نہیں۔ اس لیے جب ہم مغربی مصنفین کے ہاں “Clergy” کا لفظ پڑھیں یا اسی طرح مذہبی رہنمائی کے ادارے کی بابت پڑھیں تو ہم ان کے بارے میں کہی گئی بات یا استنباظ شدہ نتائج بذریعہ قیاس بدیہی طور پر اسلام پر منطبق نہیں کر سکتے۔ اب یہ دوسری بحث ہے کہ ہم نے خود سے ایک clergy نہ صرف اپنے اوپر مسلط کر لی ہے بلکہ بعض تو اس کی حکم عدولی کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ اگر مسلمان حکومتوں نے کچھ خاص وجوہات کے سبب قانون سازی کے ذریعے کچھ مذہبی فرائض کے لیے کچھ شرائط رکھی ہوں (مثلاً رجسٹرڈ نکاح خواں) یا ہماری کم علمی مانع ہو تو اور بات ہے لیکن اسلام اس بات پر کوئی پابندی نہیں لگاتا کہ ہم مذہبی رسومات خود ادا کریں۔

ایک اہم نکتہ میں نے کسی بحث میں ایک گورے سے سیکھا۔ اس کا کہنا تھا کہ

Islam is nothing more and nothing less than what Muslims do.

سو مغرب کے نزدیک اسلام وہ ہے جو موجودہ مسلمانوں کے عمل سے نظر آتا ہے۔ انہیں عقیدہ اور عمل میں فرق جیسی باتوں سے کوئی غرض نہیں۔ نہ ہی وہ یہ زحمت کرتے ہیں کہ Church اور Christianity والے فرق کی روشنی میں معاملات کا جائزہ لیں۔ ویسے حق بات یہی ہے کہ ہم سب کسی نظریے کے بارے میں اس کے پیروکاروں کے عمل کی روشنی میں ہی رائے قائم کرتے ہیں۔ سو معذرت کے ساتھ اگر اسلام وہ ہے جو مسلمانوں کے سواد اعظم کے عمل سے ظاہر ہے تو سیکیولرازم کی اخلاقیات بھی وہی ہے جو اس کے ماننے والوں کی عملی اخلاقیات ہے۔ اور اگر سیکیولرازم کی اخلاقیات وہ ہے جو اس کے مفکرین کی نظریاتی تحریروں میں ہے تو اسلام بھی وہی ہے جو اس کے مآخذات سے اخذ ہوتا ہے۔ ایک ہی اصول لاگو ہونا چاہیے۔ ہمارا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم مالٹوں کا سیبوں کے ساتھ موازنہ شروع کر دیتے ہیں۔ ہم اپنے ہاں ہونے والی غلط باتیں، چاہے وہ کم علمی کی وجہ سے ہوں یا مقامی ثقافت و روایت کے سبب، ان کا موازنہ سیکولر تہذیب کی خوبیوں سے شروع کر دیتے ہیں۔ اکثر اوقات یہ ہوتا ہے کہ اسلام نے بنیادی رہنما اصولوں پر مبنی (جو مسلمانوں کے نزدیک خدا کی جانب سےبراہ راست دیے گئے ہیں اور ازلی و ابدی ہیں) ایک فریم ورک دیا ہوتا ہے اور زمان و مکان کی ضرورتوں کے تحت ان کو لاگو کیا جا سکتا ہے۔ سیکیولر ازم اور اسلام میں تطبیق کے خواہش کنندگان کو فرع اور اصل کا فرق سامنے رکھ کر بات کرنی چاہیے۔ سیکولر ازم اور اسلام میں تفریق کی بنیاد اس بات پر ہے کہ ایک اللہ کو مطلق حاکم اور اس کے اصولوں کو ازلی و ابدی مانتے ہوئے دیے گئے فریم ورک میں رہ کر کام کرتا ہے جب کہ دوسرا ان پابندیوں سے آزاد رہ کر اپنے اصول وضع کرتا ہے۔ سو محترم احمد جاوید صاحب جب یہ فرماتے ہیں کہ سیکیولرازم ازلی و ابدی دینی اصولوں کے فریم ورک کو اپنا مرکز نہیں مانتا تو مجھے اس میں کوئی ابہام یا اختلافی بات نہیں دکھائی دیتی۔

تاہم اختلاف اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہم مذہبی اصولوں کا علم نہ رکھتے ہوں اور ان اصولوں سے زمان و مکان کے ایک خاص فریم آف ریفرنس میں استنباط کردہ اور اطلاق شدہ امثال کو ہی حتمی مذہبی احکامات سمجھ لیں۔ یا دوسرے الفاظ میں اجتہاد کا دروازہ جو بوجوہ پچھلی چند صدیوں سے بند ہے اسے بند ہی رکھیں خلافت راشدہ رہنما اصولوں کی مدد سے ایک سیاسی نظام قائم کرنے کی مثال تھی۔ لیکن ہم اس مثال کو ایک فکسڈ نظریہ سمجھ لیتے ہیں کہ اس سے سر مو انحراف ممکن نہیں۔ بعد کی صدیوں میں الموردی، ابن تیمیہ اور مزید آگے عبدہ، محمد اسد، مودودی صاحب، علی شریعتی، حمید عنایت اور طارق رمضان وغیرہ بھی اس پر کچھ بات کرتے ہیں۔ کچھ معاملات تو ظاہر ہے متعین ہیں اور متعین ہی رہیں گے۔ تاہم جہاں گنجائش ہے وہاں اس سے استفادہ نہ کرنا اسلام کی روح کے خلاف ہے۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر کس و ناکس اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنانا شروع کر دے۔ میں اس معاملے پر مزید بات کرنے کے لیے کافی علم نہیں رکھتا اس لیے اجتہاد کے موضوع کو اہل علم کے لیے چھوڑتا ہوں۔

بعض اوقات ہم دینی احکامات کی بنیاد نہ سمجھ پانے کے سبب بھی کچھ معاملات کو سمجھ نہیں پاتے۔ ایک نکتہ جسے مراد ہافمین نے لکھا ہے۔ مراد ایک اہم جرمن نومسلم ہیں جو جرمنی کے جانب سے مراکو میں سفیر رہے ہیں۔ میری خوش قسمتی کہ کرسٹیان بیکر کی وساطت سے ان سے برقیاتی خط و کتابت کا شرف رہا۔ انہوں نے لکھا ہے کہ اسلام دیگر نظاموں سے اس لیے مختلف ہے کہ یہ ان معاملات کو بھی محیط ہے جو دیگر مذاہب کے دائرہ میں شامل نہیں۔ مثال کے طور پر مسئلہ ارتداد۔ اسلام سے وابستگی میں، آج کی اصطلاح میں ریاست سے وابستگی کا تصور شامل ہے۔ آج کی ہر ریاست غداری کی سزا دیتی ہے جو اکثر عمر قید اوربعض اوقات سزائے موت ہے۔ اسلام میں اگر ارتداد غداری کا نتیجہ ہو تو یہی سزا ہے۔ دیکھیے ڈاکٹر ایس اے رحمان کا مشہور فیصلہ جو پاکستان اول ملائشیا سے کتابی صورت میں چھپ چکا ہے۔ تاہم اگر غداری نہ ثابت ہو تو موت کی سزا ضروری نہیں۔ اس مسئلے پر محمد اسد اور فتحی عثمان کی رائے طٰہٰ محمود کے حوالے سے پیش نظر رہے۔ اس مسئلے کو اس روشنی میں نہ دیکھا جائے کہ جس طرح کوئی سیکولرازم یا کوئی اور نظریہ چھوڑنے اور اختیار کرنے میں آزاد ہے اسی طرح یہاں بھی ہوگا۔ اسلام اپنے وابستگان پر وہ اصول لاگو کرتا ہے جو ریاست سے وابستگی پر لاگو ہوتا ہے۔ اسی طرح بہت سے معاملات میں ہے جنہیں انفرادی طور پر دیکھنا ضروری ہے۔

اسی طرح محمد اسد نے ہاتھ کاٹنے کی سزا کے حوالے سے جو وضاحت کی ہے وہ بھی غور کے قابل ہے :

“The extreme severity of the Quranic punishment can be understood only if one bears in mind the fundamental principle of Islamic law that no duty is ever imposed on man without his being granted a corresponding right, … consequently, the social legislation of Islam aims at a state of affairs in which every man, woman and child has (a) enough to eat and wear, (b) and adequate home, (c) equal opportunities and facilities for education, and (d) free medical care in health and in sickness… It is against the background of this social security scheme envisaged by Islam that the Quran imposes the severe sentence of hand cutting as a deterrent punishment for robbery…if the society is unable to fulfil its duties with regard to everyone of its members, it has no right to invoke the full sanction of criminal law against the individual transgressor, but must confine itself to milder forms of administrative punishment.”
(The Message of the Quran, 5:38 (Note 48))

اسلام all inclusive اپروچ کے ساتھ چلتا ہے۔ ہر مذہب (یہاں میری مراد مذاہب کی حالیہ صورت سے ہے ناکہ اصل نازل شدہ صورت) اس اصول پر نہیں چلتا۔ سو یہ کہنا کہ اسلام اپنے آپ کو نماز روزے تک محدود رکھے اور سیاسی، معاشی اور معاشرتی معاملات میں دخل نہ دے تو یہ ممکن نہیں۔ ویسے پچھلے پندرہ سالوں سے زیادہ عرصے سے برطانیہ میں قیام پذیر ہونے کے سبب ایک بات ذاتی مشاہدے کی روشنی میں کہہ سکتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ مغرب کو اسلام کی مذہبی رسومات سے کوئی مسئلہ نہیں۔ وہ ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ ان رسومات کی ادائیگی میں ان کی مدد کریں۔ تاہم معاشی، سیاسی اور معاشرتی معاملات میں اسلام کا دخل انہیں برداشت نہیں۔ وہ اسلام کا یک “غیر مضر” ورژن چاہتے ہیں۔ جبکہ ہمارا مسئلہ دوسرا ہے۔

میں ان سیکیولرازم کے پسند کرنے والے دوستوں سے تعرض نہیں کرتا جو بوجوہ مذہب کا اپنی زندگیوں میں دخل ضروری نہیں سمجھتے۔ ان کے خیالات واضح اور صاف ہیں۔۔ تاہم سیکیولرازم اور مذہب میں تطبیق کے خواہش مند دوستوں کی “سادگی” مجھے حیران بھی کرتی ہے اور پریشان بھی۔

میں ان سیکیولرازم کے پسند کرنے والے دوستوں سے تعرض نہیں کرتا جو بوجوہ مذہب کا اپنی زندگیوں میں دخل ضروری نہیں سمجھتے۔ ان کے خیالات واضح اور صاف ہیں۔۔ تاہم سیکیولرازم اور مذہب میں تطبیق کے خواہش مند دوستوں کی “سادگی” مجھے حیران بھی کرتی ہے اور پریشان بھی۔ مجھے ان کی نیتوں پر کوئی شبہ نہیں۔ یہ کم از کم حالات کا فکری سطح پر تجزیہ کر کے کچھ نتائج تک تو پہنچتے ہیں۔ یہ ہمارے ان سیاسی، سماجی اور مذہبی رہنماؤں سے تو بہتر ہیں جو صورت حال کا ادراک ہی نہیں رکھتے۔ یہ اداروں کی خرابیاں دور کرنے کی بجائے ایک نیا متوازی ادارہ بنا دیتے ہیں (مثلاً ٹرانسپورٹ کا نظام درست کرنے کی بجائے اورنج ٹرین، سکول درست کرنے کی بجائے دانش سکول، پولیس کا نظام درست کرنے کی بجائے کسی جانور یا پرندے کے نام پر نئی فورس) کیونکہ چیزوں کو ٹھیک کرنا مشکل کام ہے۔ میری رائے میں اگر یہ دوست مذہب کی درست فکر کے فروغ اور اس کے بنیادی اصولوں کے اطلاق کو اپنی کوشش کا مرکز بنائیں تو میں یقین سے کہتا ہوں کہ انہیں خوشگوار حیرت ہو گی کہ وہ رواداری اور برداشت کے جن اصولوں کو سیکولر ازم کا خاصہ سمجھتے ہیں وہ سیکیولرازم سے مخصوص نہیں۔


قارئین کی دلچسپی کے لئے ہم سیکولرازم کے معانی کے کچھ لنکس English Dictionaries سے پیش کررہے ہیں:

1- کیمبرج ڈکشنری میں سیکولرازم یہ لکھا ہے:
the belief that religion should not be involved with the ordinary social and political activities of a country
ایسا اعتقاد جس کے مطابق سماجی یا سیاسی زندگی سے مذہب کا کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں
http://dictionary.cambridge.org/dictionary/english/secularism

2- کولنز ڈکشنری میں سیکولرازم کا معنی:
Secularism is a system of social organization and education where religion is not allowed to play a part in civil affairs.
سیکولرازم ایک ایسا نظام ہے جس میں سماجی و تعلیمی معاملات میں مذہب کوئی کردار ادا نہیں کرنے دیا جاتا
https://www.collinsdictionary.com/dictionary/english/secularism

3- میریم ویبسٹر ڈکشنری میں سیکولر ازم کا معنی بھی دیکھ لیں:
indifference to or rejection or exclusion of religion and religious considerations
مذہب سے بے نیازی، مذہب کا رد یا مذہب و مذہبی مسلمات سے دوری
https://www.merriam-webster.com/dictionary/secularism


مصنف: پندرہ برس سے مانچسٹر میں مقیم انوار احمد نے پنجاب یونیورسٹی سے لائبریری و انفارمیشن سائنس میں ایم اے کیا اور ایک غیر ملکی تعلیمی و ثقافتی فروغ کے ادارے کی لائبریری سے وابستگی اختیار کی۔ وقت کے ساتھ ویب اور ایپلی کیشن ڈیویلپمنٹ کی طرف میلان ہوا اور برطانیہ میں اس شعبہ سے عملی وابستگی اختیار کی۔
کتب بینی کا شوق بچپن سے ہے۔ ادب، تاریخ، تقابلِ ادیان اور فلسفہ کے مباحث سے دلچسپی ہے، مختلف مقامی ادبی تنظیموں کے پروگراموں میں مضامین اور مقالے پڑھتے رہتے ہیں۔ سیکولرازم: چند بنیادی غلط فہمیاں


اس موضوع پہ سلمان آصف کا ایک اور مختصر بلاگ ’سیکولرزم کی مقدس و بے نیاز گائے‘  اس لنک پہ کلک کریں ۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: