تحریک خالصتان اور پاکستان : چوہدری بابر عباس

0
  • 98
    Shares
تحریک، دھرم یدھ مورچہ، جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ، آپریشن بلیو سٹار، پاکستان
اٹھارویں صدی میں مغلوں کی سلطنت کے زوال کے بعد ہندوستاں کے مختلف حصوں سے سکھوں نے خود کو مہاراجہ رنجیت سنگھ کی قیادت میں متحدکیا اور مغلوں، افغان درانی حکومت اور مرہٹوں کو شکست کے دینے کے بعد 1799 میں پنجاب سے پشاور اور کشمیر تک پھیلی ہوئی اپنی ایک سکھ سلطنت قائم کر لی۔ یہ ریاست 1849 میں انگریزوں سے شکست تک برقرار رہی، بعد ازاں برطانوی راج میں پر نسلی سٹیٹس کے علاوہ مختلف انتظامی اکائیوں میں تقسیم کر دی گئی۔ زوال کے بعد، 1920 میں مقامی “مہنتوں” کے ہاتھوں گوردواروں کی بدترین بدنظمی کے پیش نظر قائم کی جانے والی تنظیم ‘اکالی تحریک’ جسکے بنیادی مقاصد گردواروں کی تنظیم و اصلاحات تھے۔ اس کے علاوہ سکھ کسی مذہبی یا قومی شناخت کا ماسوائے خالصہ دیوان جیسی علامتی تنظیم کے، کوئی قابل ذکر  ادارہ یا تنظیم نہیں رکھتے تھے۔ اکالی تحریک نے گردواروں کے انتظام وانصرام کے لئے ‘شرومنی گرو دوارہ پربندھک کمیٹی’ قائم کی اور اس فعال اور منظم کمیٹی کی سرپرستی میں ‘اکالی دل’ کے نام سے ایک سکھ نمائندہ سیاسی جماعت قائم کی گئی۔
حکمرانی کرنی ہو، باہم بر سرپیکار رہے ہوں یا انگریزوں کےساتھ جنگیں لڑنا پڑی ہوں ہندوستان کی تاریخ مسلمان، سکھ اور ہندو، ان ہی تین قوموں کے گرد گھومتی ہے۔ یہ معروضیت، دو قومی نظریے پر ہونے والی دو ہندو مسلم ریاستوں کی تقسیم پر سکھوں کے اس مطالبے پر ضرور ایک حجت قائم کرتی ہے کہ جب اس ملک میں بسنے والی دو قوموں مسلمانوں اور ہندووں کے لئے دو الگ ریاستیں قائم ہو سکتی ہیں، تو سکھوں کے لئے ایک آزاد ریاست کیوں نہیں؟ مگر جہاں مسلمانوں کو قائد محمد علی جناح اور شہید لیاقت علی خان اور ہندووں کو گاندھی اور نہرو جیسی دور اندیش اور تعلیم یافتہ قیادت میسر تھی وہاں اس وقت کی سکھ لیڈر شپ ماسٹر تارا سنگھ، بل دیو سنگھ اور گینی کرتار سنگھ و غیرھم کانگرس قیادت کے جھانسے میں آ گئی اور گاندھی کی اس یقین دہانی پر کہ بھارت کا کوئی بھی قانون سکھ قیادت کی منظوری کے بغیر نہیں بنے گا اور نہرو کے اس خوش کن بیان کہ،
“I  have  no  objection  if ‘brave’ Sikhs of  Punjab are  given  a province  in the north, so that  they are  able  to  experience  the  glow  of  freedom.”
پر نہ صرف اپنی الگ خود مختار ریاست کے مطالبے سے دستبردار ہو گئے بلکہ قائداعظم کی طرف سے ایک الحاق شدہ خود مختار ریاست کی پیشکش کو بھی مسترد کر دیا۔ تحریک خالصتان اور پاکستان
 1947 کے خون آشام لیل و نہار کے تھم جانے کے بعد سکھوں کو بہت جلد احساس ہو گیا کہ باہم متحارب سہ فریقی قتل و غارت میں سکھوں کے حصے میں محض قاتل و مقتول کہلانے سے زیادہ کچھ نہیں آیا، جبکہ ہندو اور مسلمان اپنے اپنے دو الگ آزاد ملکوں کے مالک تھے۔ 1950 سے 1956 کے دوران جب بھارت میں نئی ریاستی تشکیل کا عمل جاری تھا، بنیا سرشت سے مغلوب  بھارتی “سٹیٹ ری آرگنائیزیشن کمیشن” نے وعدہ  شکنی کی اور سکھوں کے خود مختار سکھ اکثریتی صوبے کے مطالبے کو مسترد کر دیا بلکہ بھارتی دستور کی شک “پچیس بی” کے تحت سکھوں کو انکی مذہبی شناخت سے بھی محروم کر دیا اور انہیں بدھوں اور جینیوں کی صف میں شامل کر کے اقلیت کا درجہ دینے کے بجائے ہندوں کی ہی ایک ‘کیسا تہاری’ شاخ قرار دے دیاگیا۔ جس پر اس وقت کی قانون ساز اسمبلی میں موجود واحد دو سکھ نمائندوں بپھندر سنگھ مان اور حکم سنگھ نے اس آئینی مسودے پر دستخط تک کرنے سے انکار کر دیا. مگر بے سود, جس سے سکھ قوم اور سکھ اکثریتی علاقے بھارتی نقشے کا حصہ تو بن گئے مگر بھارتی قوم جو دارصل کوئی ایک قوم نہیں, بلکہ کسی بھی نظریہ سے محروم ایک کثیر المذہب و نسل, ایک ہندو متعصب استبداد کی علامت، کمزور ترین فیڈرل یونٹ ہے،کا حصہ نہ بن سکے.
یہ وہ وقت تھا جس نے کہنے کو اس آزاد دیس میں غریب الوطن سکھوں کو شدت سے اس احساس محرومی میں مبتلا کر دیا تھا کہ تقسیم اور آزادی میں اس جریح قوم کے حصے میں جھوٹے وعدے، محکومیت، بے سروسامان ہجرت، لہو بہنے اور بہانے کے علاوہ کچھ نہیں آیا۔ تقسیم کے بعد بھارتی صوبہ جاتی تشکیل, زبان کی بنیاد پر کی گئi،خود مختار ریاست کے مطالبہ کے مسترد ہو جانے کے بعد ،اس اصول کے پیش نظر مجبور الحال سکھ بادلنخواستہ اپنے الگ قومیتی اور مذہبی تشخص سے بھی دست بردار ہو گئے، اور زبان کی بنیاد پر ایک پنجابی اکثریتی صوبے کی  امید باندھ بیٹھے، مگر سراپا احتجاج ہی بن کر رہ گئے۔ بجائے  اس کے کہ مشرقی پنجاب جو پنجاب، ہریانہ اور ہماچل پردیش پر مشتمل تھا, جہاں مجموعی طور پر اکثریت پنجابی زبان بولنے والوں کی تھی، سکھوں کو اس صوبے کی حکومت دے دی جاتی مگر 1966 تک سکھوں کی ہر ممکنہ پر امن کوشش اور احتجاج  کے باوجود حسب روایت ہندو کانگریس قیادت نے ایک بار پھر نہ صرف اپنے ہی بنائے ہوئے اصول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سکھوں سے عہد شکنی برتی بلکہ ہریانہ، ہماچل پردیش اور پنجاب کی صورت میں پنجاب کے تین ٹکڑے کر دیئے۔ یوں تقسیم کے بیس سال تک محکوم رہنے والی سکھ قوم کو ایک انتہائی مختصر قطعہء اراضی خیرات کر دیا گیا۔ مستزاد یہ کہ چونکہ منقسم باقی دو ریاستوں ہماچل پردیش اور ہریانہ کی نسبت موجودہ مشرقی پنجاب زریں علاقہ ہے۔ اس تقسیم نے تینوں ریاستوں میں ایک نیا تنازعہ، پانی کی تقسیم کا کھڑا کر دیا کیونکہ زریں علاقہ ہونے کے سبب اسکا بھی زیادہ نقصان آج تک سکھ اکثریتی صوبے پنجاب کو ہی اٹھانا پڑ رہا ہے۔
سکھ اکثریتی علاقے بھارتی نقشے کا حصہ تو بن گئے مگر بھارتی قوم جو دارصل کوئی ایک قوم نہیں, بلکہ کسی بھی نظریہ سے محروم ایک کثیر المذہب و نسل, ایک ہندو متعصب استبداد کی علامت، کمزور ترین فیڈرل یونٹ ہے،کا حصہ نہ بن سکے.
 سکھ بھارت کی کل آبادی کی انتہائی کم نسبت دو فیصد ہونے کے باوجود ملکی فوج جیسے بڑے اور اہم ادارے میں پندرہ سے بیس فیصد تھے۔ مزید یہ کہ انڈسٹری نام کی چیز صوبے میں موجود نہیں تھی جبکہ زراعت بھی جدید وسائل کی کمی کا شکار تھی۔ ساٹھ کی دہائی میں سبز انقلاب کے آغاز کے ثمرات بھی سخت جان سکھ کسان کی جفا کشی کے کارن  ستر کی دہائی کے اواخر میں ہی بر آمد ہوئے۔ ان قومی خدمات کے بدلے میں آج تک سکھ قوم کو حاصل کیا ہوا؟ ان تمام حالات نے مایوس اور محروم سکھوں کو بغاوت پر آمادہ کر دیا اور ایک خود مختار وفاقی ریاست کے نہیں، بلکہ اب ایک الگ آزاد اور مکمل خود مختار ملک کے مطالبے پر مجبور کر دیا۔ امریکہ،برطانیہ اور کینیڈا میں مقیم سکھوں کی ایک بڑی تعداد جن میں جگجیت سنگھ چوہان نے 1970 میں امریکہ میں ‘نیو یارک ٹائمز’ اخبار میں الگ آزاد ملک خالصتان کی آزادی کا اعلان کر دیا۔ ساتھ ہی سکھ نیشنل کونسل قائم کر دی۔ ان ممالک میں مقیم سکھ ڈائسپورا نے کھل کر خالصتان تحریک کی مالی، اخلاقی اور ہر سماجی پلیٹ فارم پر مدد کی اور 1980 میں امرتسر میں بلبیر سنگھ سندھو کی نگرانی میں الگ کرنسی اور ڈاک ٹکٹ تک چھاپ لیے گئے۔ تاہم سکھ نمائندہ سیاسی جماعت اکالی دل اس وقت بھی بظاہر ایک خود مختار وفاقی ریاست کا مطالبہ ہی رکھتی تھی۔ آزاد خالصتان مطالبے کے سوال پر اس وقت کی  وزیراعظم اندرا گاندھی کا جواب، کہ یہ ملک سے باہر رہنے والے سکھوں کا ہی مطالبہ ہے جبکہ بھارت میں رہنے والے سکھوں کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔۔۔آئندہ ایام میں سچ ثابت ہونے سے قاصر رہا۔
جہاں بیرون ملک سکھوں نے خالصتان کی آزادی کا اعلان کر رکھا تھا، وہیں ملک کے اندر اکالی لیڈر شپ نے بھی سکھ شناخت اور حقوق کی جنگ جاری رکھی ہوئی تھی۔ 1973 میں تمام اکالی قیادت نے ایک سات نکاتی آنند پور قرارداد پیش کی جس میں، چندی گڑھ شہر جو ریاستی تقسیم کے موقع پر ہریانہ کا حصہ بنا دیا گیا تھا،کی پنجاب کو واپسی، ہریانہ کی پنجابی آبادی کے دیگر علاقوں کی پنجاب میں شمولیت، ایک وفاقی ملک کے ناطے پنجاب کو بھی صوبائی خود مختاری دی جائے اور وفاق کا کردار محدود کیا جائے، زرعی اصلاحات اور صنعتی زون کے قیام، ملک میں موجود تمام گرودوارے، ۔گرودوارہ پربندھک کمیٹی،کی نگرانی میں دئیے جائیں، ملک کے دوسرے علاقوں میں رہنے والے سکھوں کا یقینی تحفظ اور سب سے اہم اس غریب صوبے کے بڑے روزگار کے زریعے فوج میں محدود کر دیئے گئے سکھ کوٹے کو بڑھانا، جیسے مطالبات کئے گئے۔ ان انتہائی جائز اور معقول مطالبات پر مبنی اس قراداد کو بھی اندار گاندھی حکومت نے یہ گردان کر، کہ یہ ایک الگ ملک کی راہ ہموار کرنے والی دستاویز ہے، یکسر مسترد کر دیا۔
بھارتی پولیس اور فوج اس کبھی پر امن اور کبھی ہتھیار بند تحریک کو ادنی درجے میں بھی کچلنے میں کامیاب نہ ہو سکی، البتہ اس ریاستی غارت گری کا فیصلہ بھارت کے لئے شائد کئی عبرتوں اور مکافات اعمال کی داغ بیل ضرور ڈال گیا۔
1975 سے 1977 تک اندرا گاندھی نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کردی، بعد ازاں 1977 میں ہونے والے انتخابات کانگرس مرکز اور پنجاب دونوں جگہوں سے ہار گئی۔ مرکز میں بی جے پی کی حکومت بنی اور بھارت کے قیام سے لے کر 1977 تک  پنجاب میں پہلی بار اکالی دل کو حکومت ملی۔ پنجاب میں اکالی دل جو بے جی پی کی مدد سے  حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی تھی، کو کمزور کرنے کے لئے کانگرسی لیڈر گینی زیل سنگھ سابق وزیر اعلی پنجاب  جو بعد میں، صدر ہندوستان بنے، کی مشاورت سے نرنکاری سکھ گرو بچن سنگھ کے قتل سے شہرت پانے والے پنجاب کے امرت دھاری سکھ اسکالر اور ایک کرشماتی شخصیت “سنت” (مذہبی اور روحانی شخصیت) جرنیل سنگھ بھنڈراوالے کو جو اب تک صرف ایک سکھ سنت تھا سیاسی  مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جرنیل سنگھ کو یہ باور کروانے پر کہ اکالی دل سکھ ازم کے تحفظ میں ناکام ہو چکی ہے، ایک لبرل جماعت بن چکی ہے اور سکھوں کے حقوق کی جنگ میں نا کام ہو رہی ہے، نے امرت دھاری سکھوں کے دلوں میں اکالی دل سے دوریاں پیدا کر دیں، اور انہوں نے اکالی تحریک کی مخالفت کرتے ہوئے گردوارہ پر بندھک کمیٹی کے داخلی انتخابات میں بھی اپنے الگ امیدوار کھڑے کیے اور اب جرنیل سنگھ سکھ قوم کی شناخت اور حقوق کا امین کہلایا جانے لگا۔اکالی دل اپنا اثر کھونے لگی اور بے جی پی کی حکومت گرنے پر 1980 میں ہونے والے انتخابات میں اکالی دل ناکام ہوئی اور پنجاب میں دوبارہ کانگرس کی حکومت بن گئی۔ دربارا سنگھ وزیر اعلی پنجاب منتخب ہوا۔
 دربارا سنگھ کے لئے مسلح فدائی جن کے جلو میں چلنے والے جرنیل سنگھ بھنڈرانوالے کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور سکھ قومی طاقت قابل برداشت نہ تھی۔ مگر جرنیل سنگھ کو حاصل سکھ قومی حمایت اور مرکز کی مجبوریاں دربارا سنگھ کو بے بس کئے ہوئے تھیں۔ جرنیل سنگھ پر سکھوں کی مذہبی کتاب آدی گرنتھ کو گیارھواں گرو ماننے سے انکاری، نرنکاری گرو بچن سنگھ کے قتل جو کہ اس کے جتھوں کے خالصوں نے کیا تھا، کا مقدمہ درج نہ کیا جا سکا تھا۔ 1981 میں ہونے والی مردم شماری میں ایک بار پھر سکھ قوم کے اکثریتی صوبے میں، جہاں اس وقت سکھ ساٹھ اور ہندو 38 فیصد تھے مردم شماری کے فارمز میں زبان کے خانے میں پنجابی کے بجائے پنجاب کی عوام کو مادری زبان ہندی  لکھنے کی ترغیب دینے کی مہم شروع کر کے سکھوں کی لسانی شناخت پر حملہ کیا گیا۔ جو رسمی تعلیم پرائمری اور گردوارہ دمدمی ٹکسال سے مذہبی تعلیم کے فارغ التحصیل جھانسے میں آئے سادہ لوح  جرنیل سنگھ کی کانگرس سے دوریوں کی ابتداء بنا۔ روزنام ‘پنجاب کیسری’ کے ایڈیٹر لالہ جگت نارائن نے اپنے اخبار میں اس مہم کی تشہیر کی۔ جس پرجرنیل سنگھ کے مشتعل خالصوں نے جگت نارائن کو قتل کر دیا۔ صوبے بھر میں سخت، احتجاجی مظاہروں تصادم اور کشیدگی کو جنم دیتے مطالبے پر اس بار جرنیل سنگھ گرفتار ہوا، تاہم وزیر داخلہ کی طرف سے اسمبلی میں کھڑے ہو کر عدم ثبوت کے اعلان پر جلد ہی رہا کر دیا گیا، جو کہ دراصل اسکی سکھ قومی طاقت کی دلیل تھی۔
 جگت نارائن قتل، جرنیل سنگھ کی ملک گیر شہرت کا سبب بن گیا۔ سکھ قوم میں اسکی مقبولیت کی بلندی کو دیکھ کر اکالی دل کی قیادت نے بھی جرنیل سنگھ کی قیادت میں خالصتان تحریک میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ کانگرس کی برہمن قیادت جرنیل سنگھ کو اپنے مزموم مگر محدود مقاصد میں استعمال کرنے میں تو ضرور کامیاب ہوئی۔ اگر درست ہی ہو تو بھی اسکی صداقت گینی زیل سنگھ کے اپنے دور صدارت میں انکار نے مشکوک بنا دی تھی، مگر اسکے نظریات اور سکھ پرستی کو اسکے سینے سے نہ نکال سکی۔ 1982 میں جرنیل سنگھ اور اکالی دل نے  ہرچند سنگھ لنگوال کی قیادت میں ایک بار پھر آنند پور قرداد کی منظوری کے لئے ایک نیا متحدہ محاذ ‘دھرم یدھ مورچہ’ کھول دیا۔ اس احتجاجی مہم کو بھی بھارتی سرکار نے کچلنے کی کوشش کی اور سینکڑوں سکھوں کے ریاستی قتل اور تیس ہزار سکھوں کی گرفتاریوں نے جرنیل سنگھ کو سنت سے سپاہی بننے پر مجبور کر دیا اور وہ اپنے مسلح جتھوں کے ہمراہ ہرمندرصاحب (گولڈن ٹمپل) میں منتقل ہو گیا۔
اسی سال دہلی میں منعقد ہونے والی ایشین گیمز کے دوران، زیرعتاب تعصب کا نشانہ بننے والے سکھوں کا دہلی میں داخلہ ممنوع کردیا گیا اور ہریانہ اور پنجاب میں سکھوں کے لیے سر پر تربن اور گلے میں کرپان پہننا محال ہو گیا۔گھروں اور گردواروں پر چھاپا مار کاروائیوں کا آغاز ہوا اور عام سکھ شہریوں کا پولیس گردی کی بھینٹ چڑھانے کا  ایک طویل سلسلہ شروع ہو گیا۔ اپریل 1983 میں ڈی آئی جی پنجاب اے ایس اٹوال جو سکھوں کے خلاف اس کریک ڈاون کو لیڈ کر رہا تھا، گولڈن ٹیمپل کی سیڑھیوں پر باغی سکھوں کے ہاتھوں مارا گیا۔ جرنیل سنگھ کے مٹھی بھر جتھوں سے خوف کا عالم  یہ تھا کہ دو گھنٹے تک پولیس لاش اٹھانے کی ہمت نہ کر سکی۔ ملک بھر اور بالخصوص پنجاب میں سکھوں کے ریاستی قتل عام، تشدد اور گرفتاریوں نے سکھوں کو بھی ہتھیار اٹھانے پر مجبور کر دیا اور ہندووں کے خلاف مسلح انتقام کا آغاز ایک بس سے اتار کے قتل کئے جانے والے چھ ہندووں کے قتل کے واقعے سے ہوا۔
 سکھوں کے جائز حقوق کو نہ صرف یکسر مسترد کر دیا گیا بلکہ ریاستی جبر سے اس تحریک کو کچلنے کی کوششوں کے کارگر ثابت نہ ہونے کے بعد، اندرا گاندھی حکومت نے سکھ خون سے آلود اور انکے مقدس مقامات کے انہدام سے عبارت ‘آپریشن بلیو سٹار’ کرنے کا فیصلہ کیا۔ جو بھارت کی سیاسی تاریخ کی بدترین غلطی، نازیوں کی نسل پرستانہ اور توسیع پسندانہ سوچ کو شکست دیتی ہوئیی دنیا میں اپنے ہی شہریوں کے جائز حقوق کی مانگ پر ان کے مقدس مقامات پر ٹینک بردار فوج کشی، اور اس تحریک کے مکمل خاتمے کی غرض سے بے گناہ زائرین اور سکھ حریت پسندوں کے لہو سے لکھی تاریخ، دنیا کی واحد سیاہ مثال ہے۔
 یکم جون سے چھ جون تک جاری رہنے والے اس آپریشن میں  پولیس فورس، بی ایس ایف اور ٹینک بردار فوج نے حصہ لیا۔ آپریشن میں بھارتی حکومت کو برطانوی انٹیلیجنس مدد کے ساتھ ساتھ ضرور پڑنے پر فضائی فوجی مدد بھی حاصل تھی۔ تاہم اسکی ضرورت نہ پڑسکی۔  چار جون 1984 کو گولڈن ٹیمپل پر بھارتی فوجوں نے سکھ خالصوں جنکی قیادت جرنیل سنگھ کی تحریک میں شامل 1971 کی پاک بھارت جنگ کے جنگی ڈاکٹرائن مکتی باہنی کے موجد جنرل شاہ بیگ کر رہے تھے، ان پر حملہ کر دیا گیا۔ مگر ان چند سو سکھ خالصوں کے مقابلے میں ناکام اور بے بس ہونے کے بعد ٹینکوں سے گولڈن ٹیمپل کمپلیکس پر حملہ کیا اور اس میں قائم سکھوں کے ایک مقدس مقام اکال تخت کو مکمل تباہ کر دیا۔ جرنیل سنگھ اور جنرل شاہ بیگ بھی اس عمارت میں موجود تھے۔ وہ سب س گولہ باری کا نشانہ بنے اور سکھوں کے لئے ایک نئے ولولے اور پہلے سے زیادہ انکے دلوں میں برہمن بنیا سے نفرت اور آزادی کا جذبہ پیدا کرتے ہوئے انکے شہید کہلائے۔
 ‘آپریشن بلیو سٹار’ کے بعد اگلی ایک دہائی تک بھارت کی سرزمین سکھوں کے لیے نازیوں کا دیس ثابت ہوئی۔ 1985 سے 1987 کے دو سالوں کے علاوہ بھارتی فوج کے تخت اکال کو فتح کرنے کے دن سے 1992 تک پنجاب میں صدارتی راج نافذ رہا، پنجاب بھر میں مشہور، سفاکیت کے استعارے، پنجاب پولیس کے افیسر کے پی ایس گل کی قیادت میں 1986  اور 88 میں آپریشن بلیک تھنڈر ون اور ٹو کئے گئے جس میں پچیس ہزار سکھوں کو قتل کیا گیا۔انصاف کا پنہ پھاڑتے ہوئے کسی بھی قانونی کاروائی سے محروم رکھنے کے لیے انکی لاشوں کو غیر شناخت شدہ قرار دے کر جلا دیا گیا۔ دوسری طرف بھارتی فوج کے پنجاب کے طول و عرض میں ایک متوازی اور طویل آپریش وڈ روز میں 1985 سے 1992 تک سکھ قوم مسلسل ظلم وستم کا شکار  اور لقمہء اجل بنتی رہی۔ اس خونی دہائی میں ایک اندازے کے مطابق ایک لاکھ کے قریب سکھوں کو قتل کیا گیا۔ ریاستی ظلم و بربریت کی ان تمام سلسلوں کے باوجود بھارتی پولیس اور فوج اس کبھی پر امن اور کبھی ہتھیار بند تحریک کو ادنی درجے میں بھی کچلنے میں کامیاب نہ ہو سکی، البتہ اس ریاستی غارت گری کا فیصلہ بھارت کے لئے شائد کئی عبرتوں اور مکافات اعمال کی داغ بیل ضرور ڈال گیا۔
 وزیراعظم اندرا گاندھی جس کے بقول اس تحریک کا بھارت میں رہنے والے سکھوں سے کوئی تعلق نہیں ہے، پنڈت کی دھی کو قتل کرنے بدیش سے کوئی سکھ نہیں آیا تھا، اپنے ہی دو محافظ سکھوں بینت سنگھ اور ستونت سنگھ رندھاوا کے ہاتھوں قتل ہو گئی۔ اس واقعے کے رد عمل میں انتظامیہ کی نگرانی میں سات سے آٹھ ہزار سکھوں کو دہلی میں گھروں سے نکال کر، بسوں اور بازاروں میں چن چن کر بے دردی سے قتل کیا گیا، فوج اور پولیس کے ہاتھوں گھروں میں گھس کر سکھ عورتوں کو اجتمائی عصمت دری کا نشانہ بنایا گیا۔ ‘آپریشن بلیو سٹار’ میں چند ہتھیار بند سکھ حریت پسندوں کے سامنے بے بس، نہتے سکھ یاتریوں پر بارود برسانے والی اور اکال تخت کی فاتح فوج کے اس وقت کے آرمی چیف جنرل اے ایس ودیا کا قتل ہوا، اپنی اسی فوج کے ہاتھوں اکہتر کی پاک بھارت جنگ کے ہیرو جنرل شاہ بیگ سنگھ پر ٹینک کے گولے ڈاغے گئے، ائیر انڈیا کی ایک فلائیٹ کو نشانہ بنایا گیا، جس میں تین سو انتیس ہندووں کی موت ہوئی، ‘آپریشن بلیو سٹار کے’ فاتح سالار جنرل کلدیپ سنگھ برار، پر اب تک سات قاتلانہ حملے ہو چکے ہیں۔ ان تمام خون آشامیوں کی تطہیر راجیو گاندھی کا یہ جملہ بھی شائد نہ کر سکا کہ “جب کوئی بڑا پیڑ گرتا ہے تو کچھ دھرتی تو ہلتی ہے”۔ اب یہ پیڑ اندرا گاندھی تھی یا سکھوں کے حقوق کی جنگ اور جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ۔۔۔۔۔! بہرحال یہ وہ  ردعمل تھا ریاستی جبر اور غارت گری کا، جس نے سکھوں کو آغاز میں صوبائی آزادی کے مطالبے سے خالصتان کی تحریک آزادی کے سفر ڈال دیا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: