میں خوشبو خوشبو ( قسط 3) : شاہین کاظمی

0
  • 8
    Shares

مکہ اور مدینہ کی محبت شاید ہمیں گُھٹی میں ملتی ہے. دنیا کے ساتھ تعلق جڑتے ہی، پہلا نام جو ہماری سماعتوں میں انڈیلا جاتا ہے وہ ‘  محمدﷺ’  ہے اس گواہی کے ساتھ کہ وہ اللہ کے رسول ہیں. ذہن و دل کی صاف ستھری سلیٹ پر لکھا جانے والا یہ پہلا نام،  وقت کے ساتھ ساتھ اپنے نقش گہرے کرتا چلا جاتا ہے. روح ہے کہ اس کعبے کے طواف سے تھکتی نہیں.  پیاس ہے کہ بڑھ کر جان کنی تک آجاتی ہے. کیسا عشق ہے یہ؟ کیسی کشش ہے؟  کیسی محبت ہے؟ جو تمام تر دنیاوی رشتوں پر حاوی ہو جاتی ہے. اس نام’  محمدﷺ’  میں آخر ایسا کیا ہے جو دل و روح میں ایسا گداز بھرتا ہے کہ تمام تر ہستی طوفانِ نوح کی زد میں آئی لگتی ہے۔

مجھے یاد ہے امی جب حج سے واپس آئیں تو اُن کے پاس ایک ننھی سی شیشی میں غلافِ کعبہ کے دھاگے تھے. میں نے انھیں کئی بار نکال کر دیکھا آنکھوں سے لگایا. اندر بسی خواہش اور التجائیں شدید ہونے لگتیں۔ ہمارے گاؤں والے گھر میں ایک پرانا کلینڈر آویزاں تھا، جس پر شاہ فیصل کی تصویر تھی. بچپن کےدن تھے. شاہ فیصل کے لئے دل میں محبت نہیں احترام تھا محض اس لئے کہ وہ مکہ مدینہ کا بادشاہ ہے. مجھے اپنے دوستوں کو یہ بتاتے ہوئے بہت خوشی ہوتی تھی کہ یہ مکہ مدینہ کا بادشاہ ہے۔

کیا خبر تھی کہ ان باتوں کے موسم ہوتے ہیں. اس برسات کی رُت آتی ہے تو طغیانی اپنے جوبن پر ہوتی ہے.

اُس وقت تو مکہ مدینہ شاید ایک پوری کائنات تھے۔ لگتا تھا بس دنیا میں یہی دو شہر ہیں. شاید تربیت کا انداز ایسا تھا۔ بہت عزت احترام سے ان شہروں کا نام لیا جاتا. آنکھیں چھلک پڑتیں،  آوازیں بھرۤا جاتیں. مجھے اکثر حیرت ہوتی ایسا کیوں ہوتا ہے؟ مکہ مدینہ کا ذکر آتے ہی حالت میں آنے والے تغیر کی وجہ کیا ہے؟ لیکن بچپنا اس سے آگے سوچنے کی اجازت نہ دیتا. اس وقت میری شدید خواہش ہوتی تھی کہ مجھے بھی یوں رونا آیا کرے۔ لیکن مجال ہے کبھی کوئی ایک قطرہ بھی آنکھ سے ٹپکا ہو۔ کیا خبر تھی کہ ان باتوں کے موسم ہوتے ہیں. اس برسات کی رُت آتی ہے تو طغیانی اپنے جوبن پر ہوتی ہے.

تاریخ میرا پسندیدہ مضمون تھا اور ہے۔ میں نے اپنی ماسٹر ڈگری تاریخ ہی میں حاصل کی۔ جس میں تاریخ اسلام کے مختلف ادوار کے ساتھ ساتھ انڈو پاک کی تاریخ بھی شامل تھی. یہ سب جگہیں میرے لئے اجنبی نہ تھیں،  اِن کے بارے میں اتنا پڑھا تھا کہ ازبر ہو گئی تھیں۔ آج ان جگہوں کو دیکھتے ہوئے عجب سے بے کلی تھی اور بے یقینی سی۔

مدینہ کی بستی کا تصور بہت مختلف تھا میرے ذہن میں شاید وہی چودہ سو سال پہلے والا مدینہ، لیکن ایسا کب ممکن تھا.  تصاویر دیکھنے کے باوجود وہ تصور کبھی نہیں بدلا۔ سو اس تصور کو دھچکا سا لگا.  مدینہ اب ایک انتہائی خوبصورت ماڈرن شہر ہے،  بلند بانگ عمارات میں گھرا، اپنی بے پناہ ٹریفک کے ساتھ، یہاں عموماََ پیدل چلنے والوں کو راستہ دینے کا رواج کم کم ہے، سڑک کے کنارے کھڑے ہیں لیکن کوئی گاڑی نہیں رکے گی. کافی انتظار کے بعد موقع پا کر سڑک عبور کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ دائیں بائیں سے گاڑیاں اسی طرح گزر رہی ہیں. بس آپ زگ زیگ میں گزرتے رہیں.

پہلی بار سڑک کے کنارے کھڑے تھے کہ اچانک گاڑی کے بریکس کی آواز آئی. بے اختیار ہاتھ شکریہ کے انداز میں اٹھا.
” اشارے نہ کریں ۔ یہاں برا سمجھا جاتا ہے” کسی نے ایک جملہ کان میں انڈیلا.
” ہائیں بھلا شکریہ ادا کرنا برا کیسا ہوا؟” ہماری حیرت دیدنی تھی
لیکن پھر “روم میں وہی کرو جو رومنز کرتے ہیں” والے مقولے پر مکمل عمل رہا.
اس قدر رش کے باجود صفائی کا معیار قابل تعریف ہے. بازاروں میں بھی صفائی کا انتظام بہت اچھا لگا. لیکن کچھ جگہیں ایسی بھی نظر آئیں جہاں بہتری کی گنجائش تھی. درختوں اور سبزے کی کمی کھلتی رہی. بہت سی جگہیں بہت خوبصورت تھیں.

خوبصورتی سے تراشے ہوئے پودے، جن کے اطراف میں بنے سنگِ مرمر کے خوبصورت بینچز، تیز روشنیاں اور کبوتر، زمین پر خوبصورت انداز میں لگائے پتھر گویا ترکوں کے حسنِ ذوق کے گواہ تھے۔ تیز روشنیوں کے حصار میں اس علاقے میں وہ قدیم تعمیراتی آرٹ بھی نظر آیا جو دل موہ لینے والا تھا.

میں اُس بوڑھی عورت کو دیکھ رہی تھی۔ فربہ سے بدن پر پرانا سا عبایا پہنے وہ کبوتروں میں گھری کھڑی تھی۔ کاندھے پرلٹکے لمبے سے کپڑے کے تھیلے سے مٹی بھر دانہ نکالتی اور ہاتھ آگے پھیلا دیتی  کبوتر تیزی سے اس کی ہتھیلی کی طرف لپکتے اور پھڑاپھڑاتے ہوئے دانہ چگنے لگتے۔ ارد گرد زمین پر بے شمار کبوتر نہایت آزادی سے دانہ چگنے میں مشغول تھے۔ سچ ہے محبت کی زبان سب سے آسان زبان ہے، جو بے زبان بھی سمجھ جاتے ہیں. کبوتر اس بوڑھی عورت کے شانوں پر بھی بیٹھے غٹرغوں کر رہے تھے. کبھی کوئی کار تیز رفتاری سے گزرتی تو پورا غول تیزی سے آسمانی وسعتوں میں گم ہو جاتا. لیکن چند لمحوں بعد پھر اسی طرح زمین کا رخ کرتے. یہ کبوتر کئی خاندانوں کا پیٹ پال رہے تھے۔ میں نے کئی بچوں اور عورتوں کو اِن کے لئے دانہ فروخت کرتا دیکھا. کبھی کوئی کار آکر رکتی تو کھڑکی کا شیشہ سرکتا چند ریال بڑھائے جاتے اور دانہ بیچنے والا ریال وصول کر کے ایک تھیلی کھول کر زمین پر بکھیر دیتام کئی بوڑھی عورتوں کو زمین پر پڑے بچھے کچھے دانے چنتے بھی دیکھا کہ شاید ایک تھیلی اور بن جائے.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: