دولت: مومن کے ظرف کا امتحان — لالہ صحرائی

0
  • 53
    Shares

طاقتور مومن، کمزور مومن سے بدرجہا بہتر ہے، حلال طریقے سے جتنا جی چاہے کماؤ اور پاکیزہ اشیاء میں سے جو جی چاہے کھاؤ مگر خرچ کرنے میں اسراف نہ ہو البتہ اپنی معاشی حیثیت اور سماجی مرتبے کے پیش نظر دوسروں کی نسبت بہتر طرز حیات اور اچھی بود و باش رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔

دوسری طرف یہ بھی فرما دیا گیا کہ یتیموں اور بیواؤں کی پرورش کرنا، کسی کا مال ناجائز طریقے سے ہڑپ نہ کرنا، سائل اور مسکینوں کو دھکے نہ دینا، مالی طاقت کے زعم میں قطع رحمی، ظلم اور تکبر نہ کرنا۔

یہ منشور کافی و شافی ہے لیکن سانپ اور دولت کے بارے میں حقیقت ہے کہ یہ صرف جوگی اور صاحب تقویٰ کو نہیں ڈستے، ویسے شاذ و نادر انہیں بھی ڈس ہی لیتے ہیں، عام آدمی کیلئے ان دونوں اشیاء کو پال پوس کر ان کے شر سے بچنا تقریباً ناممکن سی بات ہے، اسلئے بعض نیک لوگ ایسے بھی گزرے ہیں جو صاحبانِ تقویٰ کے ہاتھ میں بھی دولت کا انبار دیکھ کر انہیں تنبیہ کرنے سے گریز نہیں کرتے تھے کہ دولت کے دنیاوی شر اور اُخروی حساب کتاب کے جوکھم سے جس قدر ہو سکے بچنے کی فکر کریں۔

دولت سے جُڑے ضرر رساں احتمالات کی بنیاد پر ماضی میں باقائدہ ایک صنعتِ مواعظ ایسی پیدا ہوئی جو کسب اموال کی بجائے ترک اموال کے نظریئے کو ہوا دینے لگی تھی، اس نظریئے سے متاثر حضرت عمر بن عبدالعزیزؓ سمیت بڑے بڑے رئیسوں نے ترک اموال کرکے فقرو فاقہ کی زندگی اختیار کی جو آج بھی وعظ و تلقین میں ریڈی ریفرینس کے طور پہ کام آتے ہیں۔

کسب مال اور ترک مال کے درمیان در آنے والے اس نظریاتی اشکال میں مبتلا ہر آدمی کیلئے حضرت رومیؒ کی توجیحات نہایت صائب اور طمانیت بخش ہیں بلکہ ایڈیکیٹ کمپینڈیئم کی حیثیت رکھتی ہیں، وہ بات کو اس طرح سے سمجھاتے ہیں کہ اس معاملے کے دونوں رخ روزٍ روشن کی طرح واضع ہو جاتے ہیں۔

حضرت رومیؒ فرماتے ہیں کہ مالک کسی غلام کے ہاتھ میں اگر بیلچہ تھمائے تو اسے منہ سے کہنے کی ضرورت نہیں ہوتی کہ کام کرو، بیلچہ تھمانے کا مقصد ہی یہ ہے کہ اب کام کرو، اسی طرح انسان کو دو ہاتھ، دو پاؤں، دو آنکھیں، جسمانی طاقت، ذہنی صلاحیتیں اور کمیونیکیشن پاور سے مزین کرنا ہی اس بات کا اعلان ہے کہ اپنے نان نفقے کیلئے کام کرو، لہذا کسب معاش کیلئے کمر کس کے ہفتہ بھر خوب محنت کرو لیکن ہفتے میں ایک دو دن چھٹی کرکے بادشاہوں کی طرح خوب ٹھاٹھ سے اینجوائے بھی کیا کرو۔

پھر اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اس کے آگے یہ بھی کہا کہ بیٹا پیسہ چاہے جتنا مرضی کماؤ مگر اسے دل میں کبھی نہ رکھنا، اسے دل میں رکھو گے تو پھر یاد الہٰی کو کہاں رکھو گے، اسلئے اپنی زندگی میں پیسے کی اہمیت و مقام کو بالترتیب کشتی اور پانی کے تعلق سے سمجھو، جیسے کشتی کے تیرنے کیلئے پانی کا اس کے نیچے ہونا ضروری ہے، اندر نہیں، اسی طرح دولت کا تمہارے پاس ہونا ضروری ہے لیکن دل میں ہونا ضروری نہیں، جیسے پانی کشتی کے نیچے رہنے کی بجائے اس کے اندر آنے لگے تو کشتی کیلئے دریا برد ہونے کا باعث بن جاتا ہے، اسی طرح حُبٍ مال یا ہوسِ متاع اگر دل کے اندر بیٹھ جائے تو انسان کو خدا کی راہ سے دور کرکے بلآخر دنیاوی رذائل اور اُخروی مواخذے کے ہاتھوں ڈبو دے گی۔

ماضی میں ایک بڑی ہستی کے بزرگ گزرے ہیں، راہِ سلوک کے ابتدائی پچیس سال بہت فقر و فاقہ اور مجاھدات میں گزارے لیکن تکمیل مدارج کے بعد بہت امیرانہ شان سے رہتے تھے، انتہائی قیمتی لباس پہنتے یہاں تک کہ ان کے پاپوش پر بھی ہیرے جواہرات جڑے ہوئے تھے۔

شیخ صاحبؒ ایک دن وعظ کر رہے تھے کہ اوپر سے پرندے کی بیٹ ان کے لباس پر آگری، اضطراری طور پر انہوں نے پرندے سے کہا کہ یہ کیا کیا تم نے، ادھر ناپسندیدگی کا اظہار کیا ادھر وہ پرندہ سیدھا زمین پر آگرا اور ہلاک ہو گیا، شیخ صاحبؒ کو اس کا بہت افسوس ہوا، انہوں نے اپنا وہ لباس دھلوایا اور اسے بازار میں فروخت کیلئے بھیج دیا، جب مقدس ہستی کا سوٹ ہو تو خریدنے والے بھی ہزاروں روپے خرچ کرنے سے دریغ نہیں کرتے، اس سوٹ کو فروخت کرکے نہ جانے وہ کتنی رقم تھی جو ایک پرندے کی تلفی پر صدقے میں ادا کر دی گئی کیونکہ جس کا کوئی والی وارث نہ ہو اس کا بھی ایک وارث ناگزیر ہے اور وہ اس کا پیدا کرنیوالا ہے جو ہر طرح سے بے نیاز ہے، اسی بے نیازی سے ڈرتے ہوئے جو جتنا خدا کے قریب ہے وہ مخلوق کے معاملے میں اتنا ہی محتاط ہے، یہ انہی پاکباز لوگوں کا خاصہ ہے کہ جب سہواً کوئی غلطی سرزد ہو جائے تو بھی فوراً استغفار اور صدقہ کیا کرتے ہیں۔

ان کے لباس میں پنہاں تقدس کا اندازہ اس بات سے لگا لیجئے کہ ایک بار شیخ صاحبؒ نے کسی کو خلافت دی، یہ پری۔پلان موقع نہیں تھا کہ فلاں آئے گا تو اس کو خلافت دیں گے بلکہ رینڈملی کوئی شخص آپ سے ملنے آیا، گفت وشنید کے دوران وہ آپ کو اچھا لگا تو خدمتگار کو آواز دی کہ اندر سے میرا جبہ اٹھا کے لاؤ، وہ جبہ اتارتے وقت جیسے الٹا یا الجھا ہوا پڑا تھا ویسے ہی وہ اٹھا لایا اور ویسے ہی اس صالح انسان کو تھما دیا گیا، اس مہمان نے جبہ پہننے کیلئے جب سیدھا کرنا چاہا تو وہ خودبخود سیدھا ہوتا چلا گیا، اس موقع پر شیخ صاحبؒ نے کہا کہ خرقہ اس فقیر کا ہو اور پہننے والا فلاں ہو تو ہماری بے توجہی کے باوجود بھی یہ الجھی ہوئی قبا بھلا اپنے آپ کیسے نہ سیدھی ہو۔

وہ صالحین جنہیں مال و متاع ڈسنے سے عاجز ہے وہ کم و بیش اسی طرح کے ہوتے ہیں جو پیہم مجاھدے کی مشقت سے خود کو اس قابل بنا لیتے ہیں کہ مال ومتاع کا مائع دل جیسی کشتی کے اندر رکھنے کی بجائے ہمیشہ اس کشتی کے نیچے ہی رکھتے ہیں اور دل کے اندر خدا کی یاد یا اس کا خوف رکھتے ہیں۔

بات ہو رہی تھی شیخ صاحبؒ کے شانِ پیرہن کی، خدمتگار ایک دن بازار گیا اور کہا کہ سب سے مہنگا کپڑا دکھاؤ، دکاندار نے کہا، تمہارے شیخ کیسے اللہ والے ہیں جو مہنگے لباس اور جواہرات کا شوق رکھتے ہیں، اللہ والوں کو ایسی چیزیں زیب نہیں دیتیں، خدمتگار کنفیوژ ہو کر واپس آگیا تو شیخ صاحب نے کہا اسے جا کر کہہ دو کہ اپنی حیثیت کے مطابق لباس پہننا تحدیث نعمت اور تشکر کیلئے حوائج ضروریہ کا درجہ رکھتا ہے، باقی رہے گہر، تو جو ہیرے جواہرات دنیا دار بادشاہوں کے تاج و دستار اور پیشانی کیلئے باعث فخر و زینت ہیں انہی جواہرات کی میرے پاس کوئی جگہ نہیں بجز اس کے کہ وہ میرے پاپوش پر جڑے ہوئے ہیں اور میرے نزدیک ان کی صحیح جگہ بھی یہی ہے۔

ایسا ہی جواب دہلی کے ایک مرد خاص نے ان معترضین کو دیا تھا جو ان کے حجرہء فیض رساں کے ارد گرد جا بجا ٹھونکے ہوئے سونے کے بڑے بڑے کیلوں سے آزردہ و رنجور تھے، صاحب مرتبہ نے اس پر بڑا دلنشیں جواب دیا۔

نے انداختم در دل و لیک انداختم در گل
کہ اسپاں بر او قارورہ مے کنند

کہا کہ وہ سونے کے کیل میرے دل میں نہیں بلکہ زمین میں گاڑھے ہوئے ہیں اور اس پر میرے مہمانوں کے گھوڑے وغیرہ پیشاب کیا کرتے ہیں۔

(اس شعر کے الفاظ کچھ آگے پیچھے ہو گئے ہوں تو معافی چاہتا ہوں)

بر سبیل تزکرہ بتاتا چلوں کہ نواب بہاولپور اپنے کُھسے پر سُوت کے کچے دھاگے سے ہیرے ٹانکوایا کرتے تھے اور بعض مخصوص مواقع پر وہی کھسہ پہن کے باہر نکلتے تھے، پھر متوقع لمحات کو قریب تر دیکھ کر ایک ادائے بے نیازی سے پاؤں پٹختے ہوئے آگے بڑھ جاتے اور ہیرے پیچھے رہ جاتے، وہ ایسا کیوں کرتے تھے اس پر تاریخ نے ململ کا ایک مہین سا پردہ ڈال رکھا ہے، کسی کسی کو ململ سے پرے کی بات کا پتا بھی ہے، بہرحال ان کہ ادائے بے نیازی کو کاپی کرتے ہوئے اگلی بات کی طرف چلتے ہیں۔

کہاں ہیرے موتیوں والا پاپوش زیب قدم رکھنے والے تقوے اور امارت کے کمال پر متمکن شیخ صاحبؒ جو سہواً اپنے اشارے سے ایک چیل کے تلف ہو جانے پر بھی رب تعالیٰ کی ناراضگی سے بچنے کیلئے فوراً صدقہ کرتے ہیں اور کہاں یہ دنیا دار متمول جو ایک لڑکی پر ناحق قابو پانے کیلئے اس کے بھائی کو مار کے دولت کی بدولت وکٹری کے نشان بنا کر دندناتے پھرتے ہیں۔

کہاں اقلیم دہلی کا بادشاہ جو اپنے آستانے پر زائرین کے گھوڑے باندھنے کیلئے سونے کے کیل ٹھونکواتا ہے لیکن دنیا اسکی انسان دوستی پر تن من سے فدا ہو ہو جاتی ہے، یہاں تک کہ حکمرانوں کا لخت جگر ان کے قریب اپنا محل بنوا لیتا ہے تاکہ آتے جاتے حضرت کی زیارت ہوتی رہے اور کہاں اِس معاشرے کا سردار جو شادی سے انکار کرنیوالی لڑکی کو گولی مار دیتا ہے اور پیسے کی قوت سے خوفزدہ یا پیسے کے لالچ میں مبتلا نظامدار مرحومہ کی اس مظلومانہ موت پر قانونی کاروائی کرنے کو بھی تیار نہیں ہوتا۔

کہاں نواب صادق محمد خان، جسے کچی راہوں میں پاؤں کی ضرب سے ہیرے بکھیرنے کی عادت تھی، جاتے جاتے وہ اس ملک پر اپنی ساری جاگیر لٹا گیا اور کہاں اس سماج کی اشرافیہ جو اس دھرتی کی دولت لوٹ کر بھی رعایا کیلئے کسی کار طمانیت سے یکسر عاری بلکہ بانجھ ہے۔

جوگی کسی کو سانپ پکڑنے سے نہ بھی منع کرے تو بھی معلوم شدہ انجام کے پیش نظر سانپ پکڑنے کوئی نہیں جاتا مگر دولت کے رسیا اپنی ہوس کے انجام سے غافل ہو کے جائز و ناجائز کمائی کے پیچھے اندھا دھند بھاگ رہے ہیں حالانکہ شرق و غرب پر محیط اس کے آزار سے بھی سب ہی باخبر ہیں۔

موجودہ دور، مادی اہمیت کے پیش نظر، ترک اموال کا نہیں بلکہ کسب اموال کا ہی متقاضی ہے مگر خدا خوفی اور خوبیء کردار اس سے بھی بڑی ندائے وقت ہے۔

پہلے ان صاحبان کردار جیسا ظرف پیدا کرلیں پھر چاہے اپنے جوتوں پر ہیرے لگائیں یا سونے کی میخیں اپنے اصطبل میں گاڑ لیں، ایسی شانِ امارت کسی شاہزیب کے جسم میں میٹل سلگ اتارنے سے کہیں بہتر ہے ورنہ تو کاغذ کے یہ سانپ ہر خاص و عام کو یونہی ڈستے رہیں گے۔

About Author

میں، لالہ صحرائی، ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: