نجی تعلیمی اداروں کے اساتذہ کی حالت زار : محمد شمس الحق نوازش

0

تعلیم سے مراد وہ تمام طریقہ ہائے تعلیم ہے جن کے زریعے اقدار، عقائد، عادات، ہر طرح کا علم ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل کیا جاتا ہے۔ ان طریقوں میں داستان گوئی، بحث و مباحثہ، تعلیم وتربیت، روایتی و غیر روایتی طریقہء تعلیم شامل ہے۔ تعلیم کسی بھی قوم کا اثاثہ ہے۔ جو قوم تعلیم کے معیار کو بہتر سے بہترین بناتی ہے، وہ ہی کامیاب رہتی ہے۔ تعلیم ہی کسی قوم کے ٹیکنالوجی، دفاع، صنعت وحرفت اور غرض یہ کہ ہر میدان میں کامیابی کی ضامن ہے۔ بلاشک وشبہ اقوام و افراد کی ترقی کا انحصار علم و تعلیم پر ہے، مزید علم وتعلیم کا انحصار درسگاہوں میں پڑھانےوالے اساتذہء کرام پر ہوتا ہے۔ تعلیمی مقام کی فضاء بہت عناصر سے مل کر وجود میں آتی ہے۔ تاہم سب سے اہم عنصر استاد ہی ہے۔ اساتذہ ہی قوم کے معمار ہیں۔

شاید بہت کم لوگوں کو اس بات کا علم ہوگا کہ وطن میں ایسا طبقہ بھی ہے، جو اپنی ہاتھوں میں علم کی شمع لئے ہوئے لاکھوں پاکستانیوں کو منزل مقصود کی طرف رواں دواں رکھتا ہے۔ مگر خود ایسی تاریکی میں کھڑا ہے جہاں وہ کسی کو نظر نہیں آتا ہے۔ خاص کر حکومت کی نظر کرم تو ان پر پڑتی ہی نہیں ہے۔ وہ طبقہ نجی تعلیمی اداروں میں پڑھانے والے اساتذہء کرام ہیں۔

انکی حالت دیہاڑی دار مزدوروں سے کسی طور پر بھی مختلف نہیں، مثلا بیماری کی صورت میں یا ایمرجنسی کی صورت میں اگر ان کو چھٹی کرنی پڑ جائے تو تنخواہ کاٹ لی جاتی ہے۔ اگر خدا نخواستہ بیماری چند دنوں تک رہے تو انہیں ملازمت سےبرخاست کیا جاتا ہے۔ اگر امتحان یا کسی ضروری کام کےلئے ہفتہ یا اس سے زیادہ دن چھٹی کی ضرورت پڑ جائے تو انہیں ایک لیٹر ہاتھ میں تھما دیا جاتا ہے، بےچارہ استاد کو خوشی گمانی ہوتی ہے کہ یہ شاید ایوارڈ کی خوش خبری ہے، لیکن دراصل اس میں لکھا ہوتا ہے کہ ادارے کو اپکی خدمات کی مزید ضرورت نہیں رہی ہے، گویا وہ قوم کے معمار نہیں کسی عمارت کے معمار ہیں۔

ان باتوں کے علاوہ جو بات سب سے زیادہ قابل افسوس ہے وہ یہ ہے کہ انکو جو تنخواہ ملتی ہے وہ روزانہ اجرت کی بنیاد پر کام کرنے والے مزدور سے بھی کم ہے۔ مگر حکومت کو  اس طبقے کا زرا بھر بھی خیال نہیں۔ ایک طرف حکومت ان پڑھے لکھے نوجوانوں کو روزگار دلوانے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی، جبکہ دوسری طرف ان کی سرمایہ داروں کے استحصال سے بچانے کےلئے کوئی ضابطہ، قانون یا رولز ریگولیشن بنانے سے بھی قاصر ہے۔ آخر کیوں حکومت نے ان پڑھے لکھے نوجوانوں سے انکھیں پھیر رکھی ہیں؟

 حالانکہ یہ وہ طبقہ ہے جس کی کارکردگی  سرکاری اداروں میں پڑھانے والے اساتذہ سے کئی گنا بہتر ہے۔ ہر سال بورڈ کے امتحانات میں نجی تعلیمی اداروں کا نتیجہ سرکاری تعلیمی اداروں سے زیادہ بہتر ہوتا ہے۔ جو ان اساتذہ کی محنت، مشقت اور بہتر صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔ بے شک وطن عزیز میں ایسے تعلیمی ادارے بھی موجود ہیں،جو اپنے اساتذہ کرام کو معقول تنخواہیں اور سہولیات دیتے ہیں مگر ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔

نجی تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی حالت زار کی بہتری کےلئے ضروری ہے کہ ان کی محنت کے مطابق ان کی تنخواہوں میں بھی خاطر خواہ اضافہ کیا جائے۔ یہ حکومت کا فرض بنتا ہے کہ وہ ان اساتذہ کے حقوق کا تحفظ کرے۔نجی تعلیمی اداروں کےلئے خصوصی فنڈز جاری کرنے کے ساتھ ساتھ کوئی قانون و قاعدہ وضع کرے۔ کوئی موثر کنٹرول اتھارٹی قائم کی جائے۔ سرکاری اساتذہ کےلئے مقررکردہ پے اسکیلز کی طرز پر ان کے لئے بھی اسکیلز بنائے جائیں۔ اگر وہ پڑھانے کا مقدس فریضہ بخوبی سرانجام دے رہے ہیں تو ان کے حقوق کا تعین بھی ضرور کیا جانا چاہئے۔ لاکھوں طلباء کو پڑھانے والے اساتذہ اگر مایوسی، ذہنی دباو اور مالی کسمپرسی کا شکار رہیں گے تو قوم ترقی و خوشحالی کی منزل پر کبھی نہیں پہنچ سکے گی۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: