اُداس پاکستان : 2017ء میں انتقال کرنے والی علمی و ادبی شخصیات (حصہ اول) — رئیس صمدانی

1
  • 92
    Shares

رفتہ گانِ عہد کو یاد رکھنا چاہتا ہوں
ہے یہ ایک فرض سو نبھانا چاہتا ہوں
زندگی کے سفر میں جو ہوا حاصل رئیسؔ
زندگی کو بہ احترام لوٹانا چاہتا ہوں

انسان فانی ہے، جو روح اس دنیا میں آئی ہے، اسے ایک نہ ایک دن واپس لوٹ جانا ہے۔ ارشادِ ربانی ہے ’ہر متنفس کو موت کا مزاہ چکھنا ہے‘ (سورۃ الانبیاء،آیت 35)، ’اور کسی شخص میں طاقت نہیں کہ خدا کے حکم کے بغیر مرجائے (اُس نے موت کا ) وقت مقرر کر کے لکھ رکھا ہے (سورۃ النساء، آیت 78)۔

دنیا کی آبادی ایک سروے کے مطابق دسمبر2017ء میں7.6بلین بتائی گئی تھی۔ اقوام متحدہ کے اعدد و شمارکے مطابق دنیا کی آبادی 2100ء میں 11.8بلین تک پہنچ جائے گی۔ پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے جس کی آبادی وقت کے ساتھ ساتھ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ 2017ء کی مردم شماری کے مطابق پاکستان کی کل آبادی 207,774,520 ہے۔ اس آبادی میں مردوں کی تعداد 106,443,520 اور خواتین کی تعداد 101,331,00 ہے۔ 1955 میں ایک سروے کے مطابق میں پاکستان آبادی کے اعتبار سے 14ویں نمبر پر تھا مگر اب آبادی کے اعتبار سے چھٹے نمبر پر آچکاہے۔ آبادی میں اضافے کے ساتھ ساتھ دنیا سے رخصت ہوجانے والوں کی تعداد ہر ایک ہزار میں سے 8.9 فیصد ہے۔

خوشی اور غمی کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ خوشیاں انسان کے لیے سکون و راحت کا باعث ہوتی ہیں تو افسردگی اور افسوس ناک واقعات اسے دکھی کردیتے ہیں۔ خوشی کے ساتھ غم اور غم کے ساتھ خوشی باہم جڑے ہوئے ہیں۔ 2017ء میں بے شمار لوگ دنیا سے رخصت ہوئے۔ علم و ادب کی دنیا کی جن معروف شخصیات کی سانسوں کا سفر اس سال اختتام پزیر ہوا وہ وعلم و ادب کا سرمایہ تھیں۔ ان کی موت سے علم و ادب کی دنیا میں جو خلا پیدا ہوا ہے وہ برسوں پر نہ ہوسکے گا۔ ذیل میں ان شخصیات کے بارے میں اختصار سے معلومات فراہم کی ہو یا اگر کوئی علمی و ادبی شخصیت کا ذکر نہ آسکا ہو یا تاریخ وفات میں کچھ فرق آگیا ہو تو اس کی معزرت۔ معروف شاعر افتخار عارف کا شعر ؂

اپنے رفتگاں کو یاد رکھنا چاہتے ہیں
دلوں کو درد سے آباد رکھنا چاہتے ہیں

‘اداس پاکستان’ کے عنوان سے یہ سلسلہ گزشتہ دو سالوں سے قائم ہے 2015 میں پہلی مرتبہ یہ خیال آیا اور اداس 2015 مرتب کیا اس کے بعد اداس 2016 مرتب کیا گیا، جو اب آن لائن موجود ہیں۔ یہ سال بھی کیسے گزر گیا معلوم ہی نہ ہوسکا۔ 2017کے درمیان دنیا سے رخصت ہوجانے والی علمی و ادبی شخصیات کو خراج تحسین پیش کرنے کی ادنی سی کاوش ہے۔ اللہ سب کی مغفرت فرمائے۔ آمین

مرحومین نے جو علمی و ادبی سرمایہ چھوڑا، اس سے فائدہ حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اس فیچر کی تیاری میں اخبارات کے علاوہ نیٹ بہت معاون ہوتا ہے۔ خاص طور پر عقیل عباس جعفری صاحب کا فیس بک پر پیج بعنوان ’’انا اللہ و انا علیہ راجیعون‘‘ بے حد معاون ثابت ہوا۔

جنوری2017

ڈاکٹر جمال الدین عطیہ
عرب دنیا کی معروف شخصیت ڈاکٹر جمال الدین عطیہ نے 12جنوری کو داعیء اجل کو لبیک کہا۔ وہ عربی زبان کے محقق اور مصنف تھے، ان کی کئی کتابوں کے اردو تراجم بھی شائع ہوئے۔

جسٹس (ر) سعید الزماں صدیقی
جسٹس (ر) سعید الزماں صدیقی جو چند دن سندھ کے گورنر بھی رہے ہیں۔ ان کا انتقال 11جنوری کو ہوا۔ سعید الزماں صدیقی قانون کے شعبے سے تعلق رکھتے تھے۔ طویل عرصہ پاکستان کی عدلیہ سے وابستہ رہے۔ انہوں نے مشرف دور میں پی سی او کے تحت حلف اٹھانے کے بجائے گھر جانے کو ترجیح دی۔ وہ اپنے اس عمل کے باعث آج بھی عزت سے یاد کیۓ جاتے ہیں۔

پروفیسر ہاشم قدوائی
پروفیسر ہاشم قدوائی نے 96برس کی عمر میں 10جنوری کو اس دنیا سے رخصت ہوۓ۔ وہ تدریس کے پیشے سے وابستہ تھے۔ ان کی معروف تصانیف میں ’اصول سیاسیات‘ اور ’دنیا کی حکومتیں‘ شامل ہیں۔

رخسانہ نور
رخسانہ نور شاعرہ تھیں، انتقال12جنوری کو ہوا۔ وہ فلم انڈسٹریز کی معروف شخصیت سید نور کی اہلیہ تھیں۔

شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان
رئیس وفاق المدارس العربیہ پاکستان اور کراچی کے معروف دینی مدرسے جامعہ فاروقیہ کے بانی شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان صاحب نے 15جنوری کو رحلت فرمائی۔ وہ عالم دین، دینی علوم کے اساتذہ میں سے تھے۔ ان کی متعدد تصانیف ہیں۔

فردوس حیدر
فردوس حیدر اردو کی ممتاز افسانہ نگار تھیں انہوں نے 18 جنوری کو وفات پائی۔

نسیم مغل
نسیم مغل کا انتقال 25 جنوری کو ہوا، ان کی تصنیف Shikarpur Heritage:an illustrated journey through history مشہور ہے۔

پروفیسر وقار الملک
پروفیسر وقار الملک تدریس کے پیشے سے وابستہ، ماہر تعلیم اور کالم نگار بھی تھے، ان کا تعلق ضلع کرک کے معروف خاندان سے تھا۔ پروفیسر وقار الملک کا انتقال 30 جنوری کو ہوا۔

فروری 2017
شہزاد زیدی
شاعرِ اہلبیت شہزاد زیدی کا انتقال یکم فروری کو ہوا۔

پیرعلاالدین صدیقی
پیر علاءالدین صدیقی کی سانسوں کا سفر 3 فروری کو اختتام کو پہنچا۔

بانوقدسیہ
اردو کے شاہکار ناول’راجہ گدھ‘ اور’ امر بیل‘ کی مصنفہ بانو قدسیہ معروف قلم کار اشفاق حسین کی زندگی کی ساتھی اور ادبی ہمسفربھی تھیں۔ 4 فروری کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں۔ دنیائے ادب ایک بلند پائے کی ناول نگار، کہانی نویس اور افسانہ نگار سے محروم ہوگئی۔ یوں تو ان کے تمام ہی ناول، افسانے، کہانیاں اور ڈرامے اپنی اپنی جگہ پسندیدگی کے بلند مقام پر ہیں، لیکن ان کے ناول ‘راجہ گدھ ‘اور ‘امربیل’ کا شمار اردو کے بہترین ناولوں میں ہوتا ہے۔ جو پاکستانی معاشرے کی سچائی کا آئینہ دار اور تلخ ہونے کے ساتھ ساتھ حقیقت پر مبنی ہے۔ ان کے ناولوں، افسانوں، کہانیوں اور ڈراموں کو پاکستان اور ہندوستان کے علاوہ دنیا بھر میں جہاں جہاں اردو بولی اور سمجھی جاتی ہے پسند کیا گیا۔ ان کے اِن شہرہ آفاق ناولوں کو نہ صرف قومی سطح پر بلکہ عالمی سطح پر بھی پزیرائی ملی۔ ’راجہ گدھ‘ نے بانوں قدسیہ کو دنیا کے چوٹی کے ناول نگاروں کی صف میں لا کھڑا کیا۔ فیس بک کے شاعر دوست ضیاء شہزاد ؔ نے بانو آپا کی جدائی کو خوبصورت الفاظ میں اس طرح خراج تحسین پیش کیا ؂

سُونی سُونی ہوگئی بزمِ ادب
آج بانوؔ آپا بھی رخصت ہوئیں
منتظر جنت میں تھے اشفاق ؔ بھی
مرحبا ! وہ داخلِ جنت ہوئیں

حمیدہ کھوڑو
حمیدہ کھوڑو کا تعلق سندھ کے معروف سیاسی و علمی خاندان سے تھا۔ انہوں نے سندھ کی سیاست میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ تاریخ نویس ہونے کے ساتھ تدریس کے پیشے سے وابستہ تھیں۔ ان کا انتقال 12فروری کو ہوا۔

پروفیسر محمد طفیل (گوہر ملسیانی)

نام محمد طفیل قلمی نام گوہر ملسیانی نے، 25 فروری کو داعیء اجل کو لبیک کہا۔ علم و ادب کے حوالے سے ان کی خدمات قابل ذکر ہیں۔ تصنیف و تالیف ان کا مشغلہ تھا۔ نعتیہ ادب کے حوالے سے اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے متعدد کتابیں تحریرکیں جن میں عہد حاضر کے نعت گو، جذبات شوق، ارمغان شوق، انتخاب شکیل بدایونی، اردو انگریزی بول چال، شوق شہادت زندہ ہے، متاع شوق(حمد و نعت)، غم اعلیٰ، مظہر نور (نعت)، اقبال، علامہ اقبال کیسے بنے، جلتی یادوں کی رات(غزلیات)، حرمین شریفین کی فضاؤ ں میں (سفر نامہ)، کاروان خیال، اقبال کی نظمیں، سیرت ہادی برحق ﷺ، آفتاب آگہی کا سلسلہ (غزلیات)، سخن کا چراغ، رفیع الدین راز، چمن از حقائق (منظومات) ان کے علاوہ بچوں کے لیے ادب کے حوالے ان کی مطبوعات سلطان صلاح الدین ایوبی، پھول و کانٹے،یادوں کے گلاب، روشن کرنیں، طارق بن زیاد، حضرت خالد بن ولید،شیر شاہ سوری شامل ہیں۔ گوہر ملسیانی پر سبط جمال نے ایک کتاب مرتب، جس کا عنوان ہے ’’گوھر ملسیانی : شخصیت و فن جو 2015 میں شائع ہوئی۔

مارچ 2017

پروفیسر ڈاکٹر منظور گل
ڈاکٹر منظور گل کریسچن لیجنڈ تھے اور پاکستان کے بل گیٹس کہے جاتے تھے۔ ان کاانتقال یکم مارچ کو ہوا۔

ادیب سہیل (سید محمد ظہور الحق)
ادیب سہیل کا اصل نام سید محمد ظہور الحق تھا،وہ معروف ادیب و شاعر تھے۔ 18 جون 1927کو چوارہ ضلع مونگیر(بہار) میں پیدا ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد پہلے سابقہ مشرقی پاکستان میں پھر کراچی میں سکونت اختیار کی، وہ انجمن ترقی اردو کے ادبی رسالے ’قومی زبان ‘ کے مدیر بھی رہے۔ ان کے شعری مجموعوں میں ’بکھراؤ کا حرفِ آخر ‘ اور ‘کچھ ایسی نظمیں ہوتی ہیں’ شامل ہیں۔ موسیقی پر ان کی تصنیف ’رنگ ترنگ‘، منظوم سوانح عمری ‘غم زمانہ بھی سہل گزرا’ شامل ہیں۔ انہوں نے9 مارچ کو داعیء اجل کو لبیک کہا۔

مسعود عالم مسعود
مسعود عالم مسعود شاعرتھے جن کا 12مارچ کو انتقال ہوا۔

ابن کلیم احسن نظامی
ابن کلیم احسن نظامی کا نام حافظ محمد اقبال تھا۔ وہ پیشے کے اعتبارسے خطاط تھے، ملتان شہرسے تعلق تھا۔ 12مارچ کوانتقال کر گۓ۔۔

اپریل 2017

احمد جاوید
احمد جاوید نئی نسل کے نمائندہ افسانہ نگار تھے انتقال 5 اپریل کو ہوا۔

اقبال کاظمی
اقبال کاظمی مرثیہ فاؤنڈیشن کے بانی تھے۔ شاعر بھی تھے ان کا مرثیہ جس کے حوالے سے وہ بہت مشہور ہوئے، ان کا انتقال 8 اپریل کو ہوا۔

فرش زہرا پر فاطمہ زہرا
لمحہ لمحہ شمار کرتی ہیں
اے عزادارو آؤ مجلس میں
فاطمہ انتظار کرتی ہیں

منور بلوچ
شاعر و دانشور، کالم نگار منور بلوچ کا انتقال 10اپریل کو ہوا۔

مختار مسعود

صاحب طرز ادیب، منفرد اسلوب کے قلم کار، مختار مسعود کا انتقال اپریل کو ہوا۔ مختار مسعود کی معروف تصانیف میں ’آوازِ دوست‘، ’لوحِ ایام ‘، ‘حرفِ شوق’ اور ‘سفر نصیب’ شامل ہیں۔ وہ بیورو کریٹ تھے۔ مختار مسعود نے 10اپریل کو رخصت ہوۓ۔ مختار مسعود پر ڈاکٹر الطاف یوسف زئی نے ایک کتاب ‘مختار مسعود کا اسلوب ٗ بھی مرتب کی۔

سلیم سیٹھی
انگریزی زبان کے اینکر و کالم نگار سلیم سیٹھی کا انتقال 14اپریل کو ہوا۔

سید مسعود کاظمی
شاعر، صحافی اور سخن ور فورم کے سینئر رکن تھے۔ 67برس کی عمر میں 22 اپریل کو داعیء اجل کو لبیک کہا، کئی کتابیں لکھیں، تعلق ملتان سے تھا، ان کی تصانیف میں ’دبستان ملتان‘، معروف ہے جس میں ملتان کے 195 قلم کاروں کی زندگی کا احوال قلم بند کیا ہے۔ ان کی ایک کتاب ’آزادی‘ کے عنوان سے بھی شائع ہوئی۔

فرزانہ ناز

فرزانہ ناز ناز اردو کی نوعمرشاعرہ تھیں۔ ان کی زندگی ایک حادثے کی نذر ہوگئی۔ قومی کتاب میلے کی اختتامی تقریب کے اختتام پر پاک چائنا فرینڈ شب سینٹر کے آڈیٹوریم کے اسٹیج سے نیچے گریں اور شدید زخمی ہوگئیں اور زخموں کی تاب نہ لاکر 25 اپریل کو دنیا چھوڑ گئیں۔ 18جنوری 1979کو کراچی میں پیدا ہوئیں تھیں، ادبی تنظیم ’کسب کمال‘ کی سیکریٹری جنرل تھیں اور اسماعیل بشیر کی شریک حیات تھیں۔وہ شعری مجموعے ’ہجرت’ اور ‘ مجھ سے لپٹ گئی ہے’ شایع ہو چکے تھے۔

مئی 2017

خاکی جویو
سندھی زبان کے ادیب، شاعر و تنقید نگار خاکی جویو کا انتقا ل 2مئی کو ہوا۔

غوث خواہ مخواہ حیدر آبادی
غوث خواہ مخواہ حیدر آبادی کا تعلق حیدر آباد دکن سے تھا وہ طنز و مزاح کے شاعر تھے 88 برس کی عمر میں 2 مئی کو انتقال ہوا۔

عفیفہ صوفیہ الحسینی
عفیفہ صوفیہ الحسینی پاکستان ٹیلی ویژن کی پروڈیوسر اور کراچی سینٹر کی جنرل منیجر رہیں، انتقال 3مئی کو ہوا۔ وہ ایک جامہ زیب، خوش گفتار اور معروف سماجی شخصیت تھیں۔

صفیہ رشید
صفیہ رشید صحافت کے پیشے سے وابستہ تھیں، انتقال 4 مئی کو ہوا۔

انور معراج
انور معراج صحافت کے پیشے سے وابستہ تھے، اچھے قلم کار بھی، ایکسپریس اور ٹریبیون سے وابستہ رہے۔ انتقال 10مئی کو ہوا۔

نصیرہمایوں
نصیر ہمایوں شاعر اور دانشور انتقال 21 مئی کو ہوا۔

ایم اے راحت
ممتازافسانہ نگار و کامیاب ناول نگار ایم اے راحت صاحبہ نے 24مئی کو داعی اجل کو لبیک کہا۔ ان کے کئی افسانے بہت مشہور بھی ہوئے۔

وجاحت عطرے
موسیقار وجاھت عطرے کا انتقال 26 مئی کو ہوا۔

جون 2017

شریف الدین پیر زادہ
معروف ماہر قانون دان، تاریخ پاکستان اورقانون پر کئی کتابوں کے مصنف شریف الدین پیرزادہ 2جون کو انتقال کر گئے۔ وہ عملی سیاست میں تو نہ تھے لیکن ملک کی سیاست میں ان کا اہم کردار رہا۔ خاص طور پر فوجی حکمرانوں نے ان کی خدمات سے خوب خوب استفادہ کیا۔ آئین کی تشریح کرنے اور آئینی و قانونی پیچیدگیوں کو حل کرنے کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔

عبد الصمد انصاری

عبدالصمد انصاری پرمیں نے تفصیلی مضمون لکھ چکا ہوں، یہا اقتباس پیش خدمت ہے: ’’صمد انصاری کے اندر ایک شاعر اور ادیب موجود تھا لیکن اس معاملے میں وہ لاپروا رہا۔ کم لکھا پراچھا لکھا، ادبی مزاج خاندانی ہے، لیکن اس نے اپنے اندر کے قلم کار کو پوری طرح باہر آنے ہی نہیں دیا، شعر کہتا تھا اور اچھے شعر کہے، لیکن بدقسمتی یہ کہ اس نے نہ تو جم کر نثر لکھی اور نہ ہی اپنے اندر کے شاعر کو آزادی سے باہر آنے دیا، گویا یہ زندگی کے کسی بھی حصے میں اس جانب سنجیدگی سے توجہ نہ دی۔ باوجود اس کے کہ یہ نثر لکھنے والوں کے درمیاں رہا، جنہوں نے لاکھ ٹکریں ماریں کہ یہ سنجیدگی سے نثر لکھے، لیکن اس نے ان کی ایک نہ سنی، جب خودجی چاہا لکھا، اسی طرح شاعروں کی صحبت میں رہا، لیکن شاعری میں بھی اسی طرح ڈنڈی مارتا رہا، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس کے دامن میں چند غزلیں، چند نظمیں اور کچھ پیروڈیز ہوں گی، اسی طرح چند مضامین بھی۔ ہاں دو کتابوں کا شریک مصنف ضرورہے ‘‘۔ دوسروں کے لیے کچھ کرنے کی لگن پائی جاتی تھی۔ صمد انصاری کی ایک خوبی یہ تھی کہ انہیں وقت، حالات اور لمحہء موجود کے حوالہ سے اشعار اور واقعات بہت جلد سوجھ جاتے تھے اور یہ اُسی وقت شعر سنادیتے یا اس سے مناسبت رکھتا ہوا کوئی قصہ۔ پاکستان میں اولین رہائش مارٹن کواٹر میں تھی،گلو کار ایم کلیم، احمد رشدی، مسرور انوراور راغب مراد آبادی ان کے ہمسائے تھے۔ گھر کا ماحول شاعرانہ تھا، ان کے گھرادبی نشستیں بھی ہوا کرتیں تھیں سلیم احمد، اطہر نفیس، خالد علیگ، صادق مدہوش، شیدا گجراتی، اسد محمد خان اور ساقی فاروقی ان شعری نشستوں میں شریک ہوا کرتے۔ صمد انصاری مشاعرے کے شاعر نہیں تھے لیکن انہیں بے شمار موقع محل کی مناسبت سے شعر یادتھے، شعر کہتے بھی تھے۔ پیروڈی کے بھی ماہر تھے۔ مجلسی انسان تھا، دوستوں میں رہنا، ہنسی مذاق اور تفریحی ماحول کے شوقین، دوستوں کے دوست، یاروں کے یار، جس محفل میں ہو، نمایاں نظر آتے، برملا شعر سنانا یا گفتگو کی مناسبت سے کوئی چٹکلہ چھوڑنے میں مہارت رکھتے تھے۔ 10 اکتوبر1944 میں شروع ہونے والی زندگی کا اختتام پاکستان کے شہر کراچی میں 21جون 2017 میں 73 سال کی عمر میں ہوا۔ میری اس کی دوستی 42 برس پر محیط رہی، اب کچھ صورت اس شعر کی سی ہے ؂

ہوتا ہے تیرے درد کا ہر روپ انوکھا
آتی ہے تیری یاد کئی روپ بدل کر

حکیم سید مجاہد محمود برکاتی
برکاتی خاندان حکمت، علم و فضل میں ہمیشہ سے ہی یکتا رہا ہے۔ حکمت کے حوالے سے ان کی خدمات قابل ذکر ہیں۔ حکیم سید مجاہد محمود برکاتی کے والد قبلہ حکیم سید محمود برکاتی کو شہید کیا گیا۔ سید مسعود محمود برکاتی صاحب مانامہ ہمدرد نونہال کے مدیر کی حیثیت سے اور بچوں کے لیے لکھنے کے حوالے سے معروف تھے۔ حکیم سید مجاہد محمود برکاتی ادیب، سماجی رہنما، سابق یوسی ناظم گلبرک ٹاؤن کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ ان کا انتقال 23 جون کو کراچی میں ہوا۔

رضوان حیدر برنی
رضوان حیدر برنی کا تعلق شویز صحافت سے تھا، وہ ہفت روزہ ‘نگار’ کے سینئر سب ایڈیٹر بھی رہے۔ رضوان حیدر برنی کا انتقال 24جون کو ہوا۔

سید انیس شاہ جیلانی
معروف انشاء پرداز، ادیب، شاعر، محقق ایک درجن سے زائد کتب کے خالق، سید انیس شاہ جیلانی کا انتقال رحیم یار خان میں 26 جون کو ہوا۔ رحیم یار خان کی سب سے بڑی نجی لائبریری ‘مبارک اردو لائبریری’ کی تمام تر رونقیں اور خدمات ان ہی کے دم قدم سے تھیں۔

عرفان غازی
عرفان غازی صحافی تھے۔ 26 جون کو ان کا انتقال ہوا۔ وہ اردو کے لکھاری بھی تھے۔

جولائی 2017

عبد الحفیظ
فلم اور ٹی وی ڈائریکٹر عبد الحفیظ کا انتقال یکم جولائی کو ہوا۔

آصف علی پوتا
آصف علی پوتا پیشے کے اعتبار سے صحافی تھے ان کا انتقال 8 جولائی کو ہوا۔ وہ معروف گلوکارہ ناہید اختر کے شوہر تھے۔ سنجیدہ حلقوں میں اپنی جامہ زیب پروقار شخصیت کی بدولت مقبول رہے۔

 

پروفیسر ڈاکٹر فرید الدین بقائی
ڈاکٹر فرید الدین بقائی کی خدمات طب و صحت کے حوالے سے اظہر من الشمس ہیں۔ حکیم محمد سعید شہید کے قریبی دوست اور ساتھی تھے۔ معالج کی حیثیت سے اور بقائی اسپتال اور میڈیکل یونیورسٹی ڈاکٹر فرید الدین بقائی کی خدمات کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ وہ بقائی فاؤنڈیشن کے چیئر مین بھی تھے۔ ڈاکٹر فرید الدین بقائی نے 10جولائی کو داعیء اجل کو لبیک کہا۔ ڈاکٹر فرید الدین بقائی جیسے قوم کے ہمدرد مشکل سے پیدا ہوتے ہیں۔

حسن اکبر کمال
کراچی کی معروف علمی و ادبی شخصیت، شاعر حسن اکبر کمال نے 21 جولائی کو وفات پاٰی۔ حسن اکبرکمال فروری 1946 میں آگرہ میں پیدا ہوئے۔ انگریزی میں ایم اے کیا، کراچی کے مختلف کالجوں میں تدریسی اور انتظامی خدمات انجام دیں، وہ غزل و گیت نگار اور نعت، سلام و منقبت نگاری میں یکساں دسترس رکھتے تھے۔ ان کے شعری مجموعے ’سخن’، ‘خزاں میرا موسم’، ‘خوابوں جیسی بات کرو’ اور ‘التجا’ شامل ہیں۔ تنقیدی مضامین کا مجموعہ ’کمال کے مضامین‘ شائع ہوچکے ہیں۔ پاکستان رائیٹرز گلڈ نے انہیں آدم جی ادبی ایوارڈ سے نوازا۔

اگست2017

اویس احمد دوراں
اویس احمد دوراں شاعر، ادیب اور خود نوشت بھی تھے۔ ان کا انتقال اگست کو ہوا۔

ثاقب ساقی
سرائیکی شاعر ثاقب ساقی نے 11اگست کو وفات پاْی۔

ڈاکٹر رتھ فاؤ (جرمن ڈاکٹر)
جرمن ڈاکٹررتھ فاؤ نے پاکستان میں جذام کے علاج اور جذامیوں کی خدمات کو اپنی زندگی کا نصب العین بنائے رکھاان کی آخری رسومات 19اگست 2017 کو کراچی میں سرکاری اعزازات کے ساتھ ادا کی گئیں۔ وہ 60کی دہائی میں اپنا وطن جرمنی چھوڑ کر پاکستان آئی۔ انسانیت کی خدمت کے جذبہ سے سر شار تھیں۔ اپنے اس جذبے کے تحت وہ کچھ ایسا کرنا چاہتی تھیں جو مختلف ہو اور انسانیت کے خدمت سے اس کا تعلق ہو۔ پاکستان میں اپنے قیام کے دوران وہ کراچی پہنچیں۔ اس زمانے میں کراچی مختصر، صاف ستھرا، ہنگاموں، ڈرو خوف، دہشت گردی سے پاک و صاف ہوا کرتا تھا۔ جرمن ڈاکٹر رتھ فاؤ کا گزر میکلورڈ (آئی آئی چندریگرروڈ) پر سٹی اسٹیشن کے عقب میں ایک مخصوص بستی میں ہوا، ہوسکتا ہے انہیں کسی نے بتا یا ہو کہ کراچی میں ایک ایسی خوف ناک بستی بھی موجود ہے جہاں کے مکین نا امیدی اور بے سہارگی کی زندگی بسر کررہے ہیں، لوگ ان کے نذدیک جاتے ہوئے خوف کھاتے ہیں۔ اس بستی کے مکینوں کو دیکھ کر ڈاکٹر رتھ فاؤ حیران و پریشان ہوئی کہ کتنے ہی لوگ کوڑھ جیسی بیماری میں مبتلہ کرب و اذیت کی زندگی گزار رہے تھے۔ ان کوڑھیوں اور جذامیوں کا دکھ رتھ فاؤ کے اندر سرائیت کر گیا، انہوں نے اُسی وقت یہ فیصلہ کیا کہ اُسے اس کے خواب اور خواہش کی تعبیر مل گئی، وہ دکھی انسانیت کی خدمات میں اپنی باقی زندگی گزارنے کا عہد کرچکی تھی۔اسے کراچی کی اس کوھڑیوں کی بستی اور باقی شہر کے مکینوں کے درمیان ایک دیوار حائل نظر آئی جس دیوار کو مسمار کرنے کا جذبہ ان کے اندر پیدا ہوا انہوں نے ٹھان لیا کہ وہ اس دیوار کو ایک نہ ایک دن گراکر دم لیں گی۔ یہی جذبہ اس بات کا سبب بنا کہ اس نے اب اپنے وطن جرمنی نہ جانے کا فیصلہ کر لیا اور اپنی بقیہ زندگی جذامیوں کے علاج اور انہیں سہارا دینے میں بسر کرنے کا مسمم ارادہ کر لیا۔ ڈاکٹر رتھ فاؤ نے اپنے کام کا آغاز کیا وہ تو تنہا ہی چلی تھیں جانب منزل لوگ ملتے گئے کارواں بنتا گیا، لیکن اس نیک کام کا بیڑا ڈاکٹر رتھ فاؤ نے تنہا ہی اٹھایا تھا۔ نیک اور اچھے کام میں یقیناً لوگوں نے اور حکومتوں نے مدد کی ہوگی، تب ہی تو وہ پورے پاکستان میں 170 لپروسی ڈسپنسریا اور اسپتال قائم کرنے میں کامیاب ہوئیں۔ مزید خدمات کا سلسلہ کراچی کے ایک چھوٹے سے کلینک سے  بڑھ کر پورے پاکستان میں پھیلا گیا۔ یہی نہیں بلکہ ڈاکٹر رتھ فاؤ کی خدمات سے جذام جیسا مرض پاکستان سے ناپید ہوگیا۔

16 اگست 2017کو ڈاکٹر رتھ فاؤ اللہ کو پیاری ہوئیں۔ وہ پاکستانی تھیں لیکن اپنے مذہب پر قائم رہیں۔ آنجہانی ڈاکٹر رتھ فاؤ کی آخری رسومات ان کے عقیدہ کے مطابق 19اگست 2017 کو کراچی میں صدر میں واقع سینٹ پیٹرکس چرچ میں ادا کی گئیں۔ انسانیت کے لیے ان کی عظیم الشان خدمات کے اعتراف میں ان کی آخری رسومات سرکاری اعزازات کے ساتھ ادا کی گئیں۔ ڈاکٹر رتھ فاؤ کو پاکستان کی مدر ٹریسا کا لقب بھی دیا گیا۔ جذام کے مریضوں اور جذام جیسے مرض کو پاکستان سے ناپید کرنے میں ڈاکٹر رتھ فاؤ نے جو خدمات انجام دیں وہ ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

شکیل عثمانی
ممتاز محقق، نقاد اور متعدد کتابوں کے مصنف شکیل عثمانی نے 26 اگست کو اس دار فانی سے کوچ کیا۔

امتیاز شاغر
شاعر امتیاز ساغر کا انتقال پر ملال 30 اگست کو ہوا۔۔ ان کا خوبصورت شعر ؂

دو گھڑی کی بہار ہے دنیا
اور تو چل رہا ہے اترا کار

 

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. عطا محمد تبسم on

    رئیس صمدانی صاحب نے واقعی بڑی محنت سے لکھا ہے۔ اس پر اہل دانش اور ڈاکٹر صاحب قابل مبارک باد ہیں

Leave A Reply

%d bloggers like this: