ریل کی سیٹی : کنول فاطمہ احسان

2

وہ ایک ایسی ہی روشن صبح تھی۔ پو پھٹ رہی تھی اور سورج کی ٹھنڈی کرنیں ہلکی ہلکی تمازت بخش رہی تھیں۔ آج کا دن اس کے لئے حوصلے کا پیغام لایا تھا۔ جہاں اسے اپنے ایک دیرینہ خواب کے پورا ہونے کی امید تھی، وہیں دل میں کہیں کوئی انجانا سا خوف بھی چھپا بیٹھا تھا۔

سچ تو یہ ہے کہ وہ اس دن کی آمد کی توقع نہیں کر رہی تھی۔ کچھ عرصہ پہلے تک وہ اپنی زندگی ہوا کے رخ پر گزارتی چلی آئی تھی۔ زندگی کا پہیہ جدھر گھومتا، وہ بھی اسی رخ پر یو ٹرن لے لیتی۔ شاید یہ کم ہمتی تھی یا یہ کہ وہ کچھ الگ اور منفرد کر دکھانے کا کوئی خاص جذبہ نہیں رکھتی تھی۔ مگر پھر ایک دن، اس نے خود سے، اپنے اس خوف سے لڑنے اور اس سے چھٹکارا پانے کا عہد کیا۔

پھر جس روز اسے انٹرویو کی کال آئی تو وہ کتنا خوش تھی۔ اس کے دوستوں اور پیاروں نے اس کی حوصلہ افزائی کی اور کتنے ہی مہربان چہروں نے اس کی رہنمائی کی کہ اسے ایک کامیاب انٹرویو کے لئے خود کو کس طرح تیار کرنا ہے۔ بالآخر انٹرویو کا دن آن پہنچا۔ اس نے دل میں امید کا دیا جلائے ہوئے انٹرویو کے مقام پر پہنچنے کے لیے رخت سفر باندھا۔

اچانک کسی کونے سے ایک تیز سیٹی جیسی آواز اٹھی اور اس میں سب دوسری آوازیں دب کر رہ گئیں۔ وہ خوف جسے اس نے دل میں کہیں سلا دیا تھا، اچانک بیدار ہو گیا اور قہقہہ لگاتے ہوئے اس کا مذاق اڑانے لگا۔

وقت کی اہمیت کا احساس تو اسے ہمیشہ سے تھا مگر اس لمحے، وقت کم مقابلہ سخت والی بات تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اس پوسٹ کا اس کے نام منسوب ہونا ضروری نہیں۔ مگر پھر بھی وہ شان اور فخر سے کہہ تو سکتی تھی کہ اس نے اپنی پوری کوشش کی۔ اس انٹرویو میں بھی وہ آخرکار ان چند امیدواروں میں سے تھی جو تین مراحل سے گزر کر باقیوں کو مات دیتے، حتمی مرحلے تک پہنچے میں کامیاب ہوئے تھے۔

رات بھر اس ایک انجانے خوف نے، جو کسی امر بیل کی طرح اس کے وجود سے لپٹا ہوا تھا، اسے پریشان رکھا اور صبح کی پہلی کرنوں نے اسے کروٹیں بدلتے دیکھا۔  وہ بظاہر مسکراتے، مگر اندر ہی اندر اپنے خوف کو جھٹلاتے ہوئے، امید و یاس کی کیفیت میں عین وقت پر مقررہ آفس میں پہنچی۔

وہاں پہنچ کر اسے معلوم ہوا کہ تمام امیدواروں میں حتمی انتخاب بس دو لوگوں کے درمیان ہی رہ گیا ہے۔ اس کے دل کی دھڑکن میں مزید اضافہ ہو گیا۔ وہ اپنی منزل سے اب بس ایک قدم کی دوری پر تھی۔ اس نے خود کو پرسکون رکھنے کی کوشش کی۔ جب اس کا نام پکارا گیا تو وہ پورے اعتماد اور وقار کے ساتھ قدم اٹھاتی ہوئی انٹرویو پینل کے سامنے جا بیٹھی۔

انٹرویو کا آغاز نارمل انداز میں ہوا اور وہ خود کو پر اعتماد محسوس کرنے لگی۔ مگر جب اس سے تیسرا سوال پوچھا گیا۔۔۔۔ تو پھر جیسے سب کچھ اتھل پتھل ہو گیا۔ اچانک کسی کونے سے ایک تیز سیٹی جیسی آواز اٹھی اور اس میں سب دوسری آوازیں دب کر رہ گئیں۔ شاید پاس ہی کہیں کوئی ریلوے اسٹیشن تھا اور آج اتفاق سے ریل گاڑی عین وقت پر اپنی چھک چھک اور پوری دھمک سے آ پہنچی تھی۔ اسٹیشن گائیڈ نے پوری قوت سے سیٹی بجائی، اور پھر وہ سیٹی لمبی ہی ہوتی چلی گئی۔ وہ خوف جسے اس نے دل میں کہیں سلا دیا تھا، اچانک بیدار ہو گیا اور قہقہہ لگاتے ہوئے اس کا مذاق اڑانے لگا۔

“سر، کیا آپ اپنا سوال دہرا سکتے ہیں؟” اس نے تھوک نگلتے ہوئے درخواست کی۔ دہرائے جانے والے سوال اور اس کے درمیان ایک بار پھر ریل کی گاڑی حائل ہو گئی۔ اس نے بیچارگی سے نظریں اٹھائیں تو اس کی ہر سیٹ پر ایک ہی مسافر براجمان تھا، جو اس کی طرف بے رحمی سے گھور کر دیکھ رہا تھا۔ اس کی گھبراہٹ میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ ریل گاڑی نے پینل کے تمام سوالات کو روند ڈالا اور وہ ان لفظوں کے ٹکڑے ہی جوڑتی رہ گئی۔

پھر کچھ دیر بعد ریل گاڑی وہاں سے رخصت ہو گئی اور جیسے ایک مکمل سکوت نے اس منظر نامے کو مسخر کر لیا۔ ایسا سکوت جس میں اسے اپنے دل کی دھڑکن بھی صاف محسوس ہونے لگی۔ پھر اس نے دیکھا کہ اسے وہاں سے جانے کا کہا جا رہا ہے۔ وہ بے بسی کے عالم میں یوں اپنی کرسی پر بیٹھی رہی جیسے اسے کسی نے ہتھکڑی سے باندھ دیا اور چابی کہیں دور پھینک دی ہو۔

“میں نے کہا ہے کہ آپ اب جا سکتی ہیں۔”
وہ بوکھلا گئی اور لرزتے قدموں سے دروازے کی طرف بڑھنے لگی۔ بیس منٹ بعد وہ پینل روم سے ایک ہارے ہوئے کھلاڑی کی طرح باہر نکلی۔ وہ جس خوف کو باہر کہیں دفنا کر آئی تھی، وہ پہلے سا توانا اس کے اندر ہی کہیں موجود تھا، اور اس کی ترقی کے راستے میں بند باندھ کر اپنا انتقام لے چکا تھا۔

عجیب طرفہ تماشا تھا۔ وہ اس نتیجے سے باخبر تھی کہ وہ پوسٹ اب دوسری امیدوار کو ہی ملے گی، جبکہ دوسری امیدوار اس کے تجربے اور تعلیم سے مرعوب ہوتے ہوئے یہ گمان رکھتی تھی کہ وہ پوسٹ اس کے ہاتھ سے نکل گئی ہے۔ وہ کسی سے نظریں ملائے  بغیر، عجلت میں گھر کے لئے روانہ ہو گئی۔

اس نے نتیجے کا انتطار ترک کر دیا، کیونکہ وہ جانتی تھی کہ قسمت کی دیوی اس پر مہربان نہیں ہو سکتی۔ پھر ایک دن جب اس کو اپنے مسترد کیے جانے کا لیٹر ملا تو کچھ دیر بعد دوسری امیدوار کی کال بھی آ گئی۔اس نے دوسری امیدوار کو بے ساختہ مبارکباد دے دی تو جواب میں وہ حیرانی سے گویا ہوئی:

“آپ مجھے کیوں مبارک دے رہی ہیں؟ کیا آپ نہیں جانتیں کہ انتخاب کس کا ہوا ہے؟” اس نے حیرت سے دریافت کیا کہ جب وہ مسترد ہو گئی ہے تو ظاہر ہے کہ پھر دوسری امیدوار ہی منتخب ہوئی ہو گی۔

اور پھر اسے یہ اطلاع ملی کہ وہ تیسری امیدوار جو پہنچ ہی نہیں پائی تھی، دراصل وہ ترقی کا زینہ عبور کر چکی ہے۔ وہ اب تک یہی سوچتی ہے کہ کیا  اس کے مسترد کئے جانے کی وجہ اس کا tinnitus, bipolar disorder تھا یا سوسائٹی کا بائی پولر ڈس آرڈر؟

سنا ہے سال بدلا ہے، اور لوگ ایک دوسرے کو مبارک باد دے رہے ہیں۔ مگر وہ خاموش ہے۔ اسے یاد ہے کہ وہ بھی ایسی ہی ایک صبح تھی جب اس کے کانوں میں گونجنے والی ریل گاڑی کی سیٹی نے اسے اس کی منزل سے محروم کر دیا تھا۔

Leave a Reply

2 تبصرے

  1. بہت خوبصورت الفاظ آخری تحریر تک دلچسپی برقرار رہنے کے باوجود آخری جملے میں وہ اشارہ دیا گیا جو معاشرے میں پچانوے فی صد چل رہا آج سے نہیں بلکہ برصغیر کی ابتدا سے لیکن آپ نے برداشت کے قابل نہیں رہی ۔۔۔۔

  2. اس نفسیاتی عارضہ کا مناسب حل بھی بتانا چاہیے ـ ـ وہ سماج جو علم سے عاری ہو جاتے ہیں اصلاً انھیں یہ پتہ نہیں لگتا کہ عدل و حق کیا چیز ہیں اور امانت کس چڑیا کا نام ہے ـ ایسے میں نااہل سفارش پر آجاتا ہے جبکہ اہل باہر ری جاتا ہے جس کی مایوسی اسے اندھیروں میں دھکیل دیتی ہے جو یا تو یاسیت یا خودکشی یا پھر منفی و تخریبی سوچ تک پہنچتی ہے ـ اداروں میں بیٹھے سفارشی خواہ قابلیت ہی کیوں نہ رکھتے ہوں وہ اہلیت کا خارجی حملہ روکنے پر قادر نہیں رہتے کہ سفارش اصلاً دوسرے کے حق کو مار کر خود کو اسکی جگہ لانا ہے جس خیانت کے ساتھ انسان کا ضمیر مر جاتا ہے اور ایسے کی قابلیت پر بھی اللہ کی طرف سے پھٹکار پڑی دیکھی ہے ـ ہم سے سماج جو ان ناسوروں سے اٹے پٹے پڑے ہیں ان میں علم اٹھا لیے جانے کا نوحہ بھی اکارت جاتاہے ـ باور نہیں ہوتا کہ اتنے انسان اتنی ابتدائی بات تک سمجھ سکنے سے قاصر کیسے؟ غیر مسلم بخوبی اسے سمجھتے اور اپناتے اور دنیا میں مقام پاتے ہیں لیکن ہم اسی پھٹکار کے پھیر میں ہیں جو عقل کو بنجر کردیتی ہے ـ ـ کاش ہمارے انتہائی احمق مذہبی طبقات کو سمجھ آ سکے کہ تمھارا تہذیبی ناقل ہونا کوئی دین نہیں اور تمھارے عابدانہ چمتکار تمھیں دنیا و عقبٰی میں کوئی مقام نہیں دلوانے والے اگر تم عدل پر نہیں اور سماج میں حق و امانت پر نہیں تو ایمان پر بھی نہیں ـ کوئی امکان نہیں ـ خوش رہیے تنویر و چمن آرائی کرتی رہیے ـ

Leave A Reply

%d bloggers like this: