موٹیویشنل اسپیکراور این جی او کلچر : نبیلہ کامرانی 

2

ہر شہر میں کچھ علاقے نئے ہوتے ہیں اور کچھ پرانے، پرانے شہر کی کچھ خاص باتیں ہوتی ہیں. کراچی میں صدر سے ٹاور تک کا علاقہ، اب اندرون شہر کی طرح ہے. جیسا کہ لاہور میں یہ اور پشاور میں یہ مسئلہ ہے کہ تنگ سڑکیں ہیں، جن کو مزید چوڑا کرنے کی گنجائش نہیں اس وجہ سے جانے کا راستہ الگ اور آنے کا الگ ہوتا ہے۔ ان علاقوں کا اپنا کلچر ہے، خاص سڑکی پکوان، ریت رواج ساتھ ہی اسی طرح وہاں کے مخصوص فقیر بھی ہوتے ہیں۔

کراچی کے نئے علاقوں میں زیادہ تر ہیجڑے یا سفید پوش فقیر نظر آتے ہیں، اندرون شہر میں رنگ برنگے فقیر ہوتے ہیںن کسی کا بازو سوکھا، کسی کی آنکھ خراب، کوئی ٹانگوں سے معذور، یعنی انواع و اقسام کے فقیر آپکی گاڑی کے شیشے کے قریب آکے اپنی معذوری دکھا کر دست سوال دراز کرتے ہیں، کہ اس طرح ان پر توجہ دی جائے کیونکہ اس میں کوئی جسمانی خرابی کی وجہ سے توجہ اور ہمدردی لینا آسان ہوتا ہے. فقیر عام طور پر دو اقسام کے ہوتے ہیں، ایک وہ جن کے اندر یا تو کوئی نقص ہوتا ہے یا انکے اندار نقص ڈال دیا جاتا ہے، دوسری قسم وہ ہوتی ہے جسے کوئی جسمانی نقص نہیں ہوتا وہ صرف معذور ہونے کا ڈھونگ رچا رہے ہوتے ہیں۔

اندرون شہر جانے کی صورت میں یہ تماشا ہر بار دیکھنے کو ملتا ہے کہ کہیں دور کچھ فاصلے پر انکا ٹھیکیدار کسی دکان کے ساتھ کسی کونے پے یا کسی پان کے کھوکے پر انکا پہرا دے رہا ہوتا ہے. وہ ان کی دن بھر کی کمائی کا حساب کرتا ہے، پھر اپنا حصہ رکھ کے انکو منافع دیتا ہے. بہت عرصہ پہلے پاکستان ٹی وی پر ڈرامہ ‘خواہش’ میں اس طرح لوگوں کو بہت تفصیل سے دکھایا گیا ہے.

مارکیٹ میں کئی موٹیویشنل اسپیکر موجود ہیں، جو بازار میں اپنا پسماندہ پس منظر، جان لیوا مرض سے بچنے کی کہانی، ہر بار ایک ہی طرح سے سنا کے تالیاں بجوانے کے عادی ہیں. ان سب کی بہت بڑی فین فالونگ ہے۔ یہ سب مہنگے داموں بک رہے ہیں

آج کل پاکستان پر بین الاقوامی ایڈ اور اس کی وجہ سے جنم لینے والے سماجی بہبود کے ادارے بہت زیادہ متحرک اور مہربان ہیں. یہ ادارے جنہیں عرف عام میں این جی اوز کہا جاتا ہے. جو خاص ایجنڈے کے لئے کام کرتے ہیں، کبھی بچوں، کبھی تیسری جنس اور کبھی خواتین، تو کبھی معذور افراد ان کی مہموں کا حصہ ہوتے ہیں. خاص بات یہ ہے این جی اوز کی نظر میں یہ سب مردوں کے مظالم کا شکار ہو تے ہیں.

کچھ  روز قبل خبارات کی سرخی میں ایک خبر نظر سے گزری کہ مشہور خاتون موٹیویشنل اسپیکر منیبہ مزاری کے شوہر نے منیبہ پر بھاری رقم کا ہرجانہ کیا ہے. بحثیت آرٹسٹ، ٹی وی اینکر، اور ایک باہمت خاتون  منیبہ یقینا قابل تعریف خاتون ہیں. ابتداء سے میں انکی بہت بڑی مداح ہوں، لیکن حال ہی میں منظرِ عام پر آنے والی وڈیو میں منیبہ کی تقریر سن کے بہت حیرت ہوئی، کیونکہ انکے ابتدائی انٹرویو ابھی سب کو یاد ہیں اور آج کل یوٹیوب کی بدولت با آسانی دستیاب بھی ہیں۔ مزید اسی وجہ سے پی ٹی وی پر نشر ہونے والا انٹرویو جلد ہی وائرل ہو گیا۔

کچھ عرصے سے دیکھنے میں آرہا ہے کہ مارکیٹ میں کئی موٹیویشنل اسپیکر موجود ہیں، جو بازار میں اپنا پسماندہ پس منظر، جان لیوا مرض سے بچنے کی کہانی، ہر بار ایک ہی طرح سے سنا کے تالیاں بجوانے کے عادی ہیں. ان سب کی بہت بڑی فین فالونگ ہے۔ یہ سب مہنگے داموں بک رہے ہیں ان کی بھی دو اقسام ہیں، ایک وہ جو اصلی ہیں اور دوسری قسم وہ جو دوسروں کی بیماری یا پسماندگی کا سہرا اپنے سر لگا کے اپنی دکان چلا رہے ہیں. نفسیات سے خاص دلچسپی کی بدولت یہ عوام کا مزاج جلد جان جاتے ہیں۔

چونکہ سماجی بہبود کے ادارے کو بہر صورت فنڈنگ چاہیے مسئلہ بیشک وہ بیماری ہو معذوری ہو یا پسماندہ پس منظر سے جڑا ہو. آج کل سب کچھ برائے فروخت ہے. چنانچہ اندرون شہر کے سگنل پر کھڑے معذور بھکاری ہوں یا موٹیویشنل اسپیکر دونوں کا کوئی قصور نہیں. قصور انکے پیچھے کسی کونے میں چھپے ہوئے ٹھیکیدار کا ہے، جو ان سب کو منافع کی لالچ دے کر غلط طریقے سے استعمال کر رہا ہے۔

سیلی بریٹیز celebrities کو یہ ادارے جنہیں عرف عام میں این جی اوز NGOs کہا جاتا ہے جو خاص ایجنڈے کے لئے کام کرتے ہیں، کبھی بچوں، کبھی تیسری جنس اور کبھی خواتین، تو کبھی معذور افراد ان کی مہموں کا حصہ ہوتے ہیں۔ عوام کے ذہنوں پر سوار کیا جاتا ہے. یہ مہم کچھ مقاصد لازمی رکھتی ہے. ایجنڈا میں طریقہء کار تک طے کیا جا چکا ہوتا ہے. اب تمام میڈیا کے زرائع میں جس ایشو کو ہائی لائیٹ کیا جا رہا ہوگا یا جن شخصیات کو پروجیکٹ کیا جا رہا ہوگا۔ لازماََ عوام کے اندر ہمدردی جگا کر ان کو اپنے حق میں رام کیا جانا ہی سب سے اہم مقصد ہوتا ہے جسے آپ این جی اور کی فنڈنگ مہم کی طرح سے سمجھ سکتے ہیں. یہ ہمدردی کی بنیاد پر توجہ لینے کا ہی طریقہ ہوگا لیکن کچھ سنجیدہ کاوش اور اقدامات سامنے نہیں آسکتے ہیں جن سے حقیقی معنوں میں بہتری مقصود ہو۔

Leave a Reply

2 تبصرے

Leave A Reply

%d bloggers like this: