نکلے اپنی تلاش میں – آخری حصہ : سحرش عثمان

0
  • 16
    Shares

محبت کے انڈیگو کو تلاشنے تراشنے کی آرزو کے ساتھ پچھلا دن تمام ہو ا تھا۔ صبح آنکھ کھلی تو واٹس ائپ پر پیغام ملا راستے کھل گئے ہیں۔نیا دن نئے امکانات لے کر طلوع ہوا تھا۔ سو آوارہ گردوں کی ٹولی نے پھر سے رخصت سفر باندھا۔۔گلیات مری بھوربن کی طرف۔
اس دن ٹھنڈ بھی زیادہ تھی اور بادل بھی چوٹیوں کے کانوں میں محبت بھرا کوئی گیت گنگنا رہے تھے جس کی مخبری ہواؤں میں بسی خوشبو کر رہی تھی۔
ہم پرسکون سے مرر سے باہر دیکھ رہے تھے۔خدا جانے یہ صرف ہم ہیں یا اوروں کے ساتھ بھی یہ ہی معاملہ ہوتا ہے۔کہ راستوں سے عشق ہوجاتا ہے ہمیں۔
دائیں ہاتھ جنگل تھا۔۔چوٹیوں پر اگے پام ٹری۔۔ دائیں ہاتھ گہری کھائیاں۔
انور مسعود اپنی ایک خواب، جنت میں الیکشن والی نظم میں لکھتے ہیں۔
جیویں جیویں تکداں جاواں وددی جائے اکھیاں دی رشنائی۔
یعنی جیسے جیسے دیکھتا جاؤں آئی سائٹ ایمپرو ہوتی جائے۔
یہ بات گرینری یعنی سبزے کے لئے کہہ جاتی ہے۔جنت کا پتا نہیں۔ گلیات میں یہ ہی گمان گزرا دائیں ہاتھ پھیلا سبز جنگل چوٹیوں پر کہیں کہیں برف کی سفیدی اور کہیں پیلے پتوں والے درختوں کا جھنڈ۔ دل اپنی سپیڈ سے تیز دھڑک رہا تھا۔گاڑی موڑ مڑ رہی تھی۔ جنگل ہمارے دائیں بائیں آجا رہا تھا۔۔اور ہم پلکیں جھپکیں بغیر بس دیکھے ہی جا رہے تھے۔
اتنے بہت سارے دن یہ آخری حصہ نہ لکھ پانے کی وجوہات میں سے ایک وجہ یہ بھی تھی کہ میرے پاس وہ لفظ ہی نہیں ہیں جو منظر کشی کر سکیں۔گاڑی میں ٹینا ثانی کی دھیمے سروں والی غزلوں اور لتا کے اونچے سروں والے گیتوں کا مقابلہ جاری تھا۔ چوٹیوں پر برف گری تھی وادی میں پیلے درختوں کا قبضہ تھا اور بھیگی سڑک پر ہم محو سفر۔
گلیات کے موڑ مڑتے ہر ہر موڑ پر زندگی کا نیا رنگ دیکھا۔ پت جھڑ ابھی پوری طرح نہیں اترا تھا۔ سو گلیات کے جنگل میں ہر رنگ موجود تھا۔
اس سے پہلے جولائی میں گلیات کا حسن دیکھا تھا۔۔ہر شئے پہ سبزہ اترا ہوا تھا۔ پہاڑوں چشمے پھوٹ پڑتے تھے۔ دسمبر کے اوائل میں چشمے نہیں تھے ان کے رستے موجود تھے۔ پہاڑوں کے درمیان سے پانی کی کاٹ سے بنا ہوا رستہ۔
ایک چشمے کا رستہ دیکھا تو دل میں درد سا جاگا۔۔ہمیں یہ درشت رویوں کی کاٹ جیسا لگا جو اچھے بھلے پہاڑ سے انسان کو کاٹ کے رکھ دیتے ہیں۔
لیکن اگلے پڑاؤ تک یہ خیالات بدل چکے تھے۔ دوسرے چشمے کے “نشان” تک پہنچے تو یہ ہمیں مستقل مزاجی ہمت اور امید کی کرن لگی۔۔گویا ارادہ اور عمل کا استقلال پہاڑ بھی کاٹ دیتے ہیں ہیت چاہے پانی سی ہی ہو۔ دل اسی حوصلے کی لے پر گنگنانے لگا۔ اچھی چیزوں کے رونماء ہونے پر یقین پہلے سے زیادہ ہوگیا۔
ڈونگہ گلی سے ایک ٹریک اوپر مشکپوری ٹاپ تک جاتا ہے۔ یہاں گاڑی رکی اور ہم نے بہت سے لمحے اس ٹریک کو دیکھنے میں گزار دیئے۔
میرے اندر کا سپر سٹیشئس جاگ اٹھا جس نے کنہار کے کانوں میں مقبول دعائیں کیں تھیں۔ اس نے چپکے سے کتنی ہی دعائیں کر ڈالیں۔
کسی خوش کن ساتھ کی تمہارے مل جانے کی دعاؤں سے اسے بہترین بنانے تک کی۔ جانے کتنے پل راز و نیاز جاری رہے۔

دوبارہ سفر شروع ہوا تو پیچھے مڑ کر تب تک اسی ٹریک کو دیکھتے رہے جب تک نظروں سے اوجھل نہیں ہوگیا۔
دل میں جانے کیوں عجیب سا ملال جاگ اٹھا۔۔۔جیسے کسی بہت اپنے سے دور جا رہے ہوں۔
پتا نہیں یہ کیسی رمز ہے کیسا بھید ہے کہ بہت سی جگہوں پر پہلی بار جانا ہو تو لگتا ہے پہلے بھی آچکے ہیں یہاں۔۔ کسی سے مل کے لگتا ہے جیسے پہلے سے جانتے ہوں اسے اور کسی گفتگو کا حصہ بن کر گمان گزرتا ہے جیسے ایسی ہی کوئی گفتگو پہلے بھی سن چکے ہیں۔
اس منظر سے بچھڑتے سمے ہمیں بھی ایسا ہی لگا جیسے اپنا کچھ اسی منظر میں۔چھوڑ آئے ہوں۔
گاڑی سے باہر جھانکتے دوور پہاڑ کی چوٹی پر ایک اکیلا گھر نظر آیا۔۔ تنہا دور، دل نے اتنی شدت سے اس گھر کے مکین سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ مجھے اس دنیا کا نہیں پتا۔۔پر جانے کیوں لگا اگر اگلی زندگی میں رب نے چوائس دی تو اس گھر میں رہنا پسند کروں گی۔۔
پہاڑ کی چوٹی پر اکیلا گھر دنیا اور اس کے جھمیلوں سے دور بہت دور۔
سنو! ایسا ہی ایک گھر بنا لیں تو کیسا ہو ؟
دور کسی پہاڑ کی چوٹی پر ایک چھوٹی سی دنیا۔
جہاں میرے کمرے کی کھڑکی سے کوئی پہاڑی چشمہ نظر آتا ہو۔ جہاں سورج بستی سے ذرا پہلے پہنچتا ہو۔۔اور واپس جاتے ہوئے وہ ذرا دیر میرے ٹیرس پر رک کر دن بھر کا احوال بتاتا جاتا ہو۔ کبھی جاتے ہوئے مجھے بادلوں کا سندیسہ دے جاتا ہو۔ اور کبھی اپنے کڑے تیوروں سے میرے اور اپنے تعلق میں تپتی دوپہریں حائل کر لیتا ہو۔
جہاں سے نیچے کو جاتے پہاڑی راستے سے چاندنی چپکے سے اندر آجاتی ہو۔
اور جب کبھی میں دل میں دھواں بھرے اس راستے پر رکھے تنہا لکڑی کے اداس بینچ پہ بیٹھی ستارے گن رہی ہوں تو چاندنی میرے بالوں میں اٹک اٹک جاتی ہو۔ اور اگر کبھی تم سے ناراض ہو کر اس راستے سے جانے لگوں تو جنگلی پھول میرا راستہ روک روک کھڑے ہوجائیں۔
گھاس میرے پیروں سے لپٹ جائے کوئی جھاڑی دامن تھام لے۔۔اور کسی چھوٹے پتھر سے پیر رپٹ جائے تم آخر ہاتھ تھام لو۔۔اور ہم اپنی دنیا میں لوٹ جائیں واپس۔

سنو!
کیا ایسا ممکن ہے ؟ میری اور تمہاری ایسی دنیا ہو ایک مکمل دنیا۔۔۔جہاں الجھنوں بھرے رشتے نہ ہوں اور جہاں دلوں میں کینہ نہ ہو۔۔
مری جا کر مال روڈ پر واک نہ کی جائے وہاں سے خواتین والی شاپنگ یعنی پتھروں والے زیورات نہ خریدے جائیں ایسا تو ممکن ہی نہیں۔ بہت سی دوکانوں میں پھرتے پھراتے شاپنگ کرتے جب بھوک سے مرنے کے قریب پہنچ گئے تو فٹ سا کھانا کھایا۔
اور یہاں بھی جتنا کھایا جا سکتا تھا اس سے زیادہ کھایا۔ پاکستان پوسٹ آفس کے سامنے فوٹو سیشن کیا پھر کشمیری چائے کے کپس پکڑے گاڑی میں آ بیٹھے۔ ابھی شام ہونے میں وقت تھا۔اور اگلی منزل بھور بن تھا۔
بھور بن پہنچ کر ایک سپاٹ کا بتایا گیا کہ سامنے دیکھنا ہے۔
سامنے دیکھا تو منظر نے دل کھینچ ہی لیا۔سورج کی ٹکیا آسمان کے آخری کنارے میں ڈوب رہی تھی۔ پہاڑ اپنی پوری تمکنت سے ساکت کھڑے تھے۔ اوس پورے آسمان اور زمین کے درمیان اپنا مقام تلاش کرتے کرتے اب ہمارے اوپر گرنے لگی تھی۔ فضا میں شدید ٹھنڈ تھی۔ اور خاموشی تھی۔
خدا جانے یہ منظر کا فسوں تھا یا تھکن کے اثرات کہ ہر شخص چپ تھا۔ سارے مسافر چپ۔ سارے پہاڑ خاموش تھے چوٹیوں پر پھیلا جنگل چپ تھا سورج خاموش اوس چپ اور ہم چپ۔۔۔
ہم چپ تھے اور منظر بولنے لگا۔ ہمارے دل سے مکالمہ کرنے لگا۔
اس خاموش منظر کو بولتے ہوئے دیکھنا ایسا انوکھا ایسا نیا ایسا خوبصورت تجربہ تھا کہ اس پر کچھ بھی قربان کیا جا سکتا ہے۔
دل میں چھپے ملال نے شکوہ کیا۔
کیسا خاموش منظر ہے ہم اس کی خاموش گفتگو کیش کرا کے اپنے لوگوں کے لئے زندگی خرید سکتے ہیں۔ مگر اس میں پڑتی ہے محنت زیادہ۔
اتنا کشٹ کون کرے۔ اپنے لوگوں کا درد کو پا لے۔۔ اس دھرتی کو دنیا میں کون متعارف کرائے گا اس کے منظروں سمیت۔۔کون ہے جو اس کے بولتے صحراؤں داستانیں سناتے دریاؤں اور گنگناتے منظروں کو لے جائے اوروں کے سامنے۔
ہم نے تو بس اوروں کو چیختا چلاتا لڑتا جھگڑتا روپ ہی دکھانے کا عہد کر رکھا ہے۔
واپسی پر۔۔۔ لتا نے تان اٹھائی یہ دل تم بن کہیں لگتا نہیں ہم کیا کریں۔ہم نے کھڑکی سے باہر پھیلتی شام کے حوالے پہلو میں مچلتا دل کیا اور آنکھیں بند کر کے سیٹ کی پشت سے ٹیک لگائی۔
ہمیں ڈر تھا اس منظر کو مزید دیکھتے رہے تو واپس نہ جا پائیں شائد۔
کچھ جگہوں پر آپ پتھر کے نہیں ہوتے آپ بس اپنی ذات کا ایک حصہ وہاں چھوڑ آتے ہیں۔
اور پھر انہیں ویرانوں جنگلوں میں بھٹک جانے کی خواہش کرتے کسی حسرت کو لیلی بنائے اس کے مجنوں بن کر اپنی زندگیوں میں دن سے رات کرتے رہتے ہیں۔
کیونکہ لٹے دل میں دیا جلتا نہیں۔۔۔۔۔ہم کیا کریں۔
ہم رات گئے واپس میس پہنچ گئے۔۔
اگلا دن ٹیکسلا جانے کا تھا۔ مگر حالات اس کی اجازت نہ دیتے تھے۔
لہذا ہم نے ٹور مختصر کیا اور اگلے دن واپسی کا سفر کیا۔
واپسی کا سفر ایک الگ کہانی ہے وہ پھر کسی روز صحیح۔
_ختم شد_

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: