میانوالی اور تختِ لاہور ۔۔۔۔۔۔ زارا مظہر

3
  • 92
    Shares

ایک ایمرجنسی تکلیف کے کے سلسلے میں DHQ ہوسپٹل کا وزٹ کرنا پڑا۔ اگرچہ تکلیف شدید تر تھی مگر میں حسبِ عادت ارد گرد کا بنظرِ غائر جائزہ بھی لیتی رہی۔ ڈی ایچ کیو میانوالی کی بلڈنگ بہت بڑی ہے اس سے پیشتر 2006ء میں ایسی ہی ایک ایمرجنسی صورتحال میں جانا ہوا تھا تب بلڈنگ اتنی بڑی نہیں تھی۔ مگر اب ملحقہ نرسنگ اسکول کی بلڈنگ بھی ہسپتال کی توسیع کے سلسلے میں شامل کر لی گئی ہے اور نرسنگ اسکول کہیں اور شفٹ کر دیا گیا ہے۔ ہسپتال میں کافی سارے نئے شعبہ جات قائم ہو چکے ہیں اور مزید تعمیر و توسیع اور تزئین و آ رائش کا کام جاری ہے۔ ہسپتال میں بے پناہ رش تھا۔ مریضوں کی تعداد دیکھ کر اندازہ ہو رہا تھا کہ یقینا علاج کی سہولتوں سے مطمئن ہیں تبھی تو آ تے ہیں۔ ایک بلاک پر خادمِ اعلی کے ہاتھوں افتتاح کی تختی بھی تاریخ سمیت جَڑی تھی۔ ہم ڈھونڈ ڈھانڈ کر ای این ٹی اسپیشلسٹ تک جاپہنچے مگر اٹینڈنٹ نے ہدایت کی کہ ریسیپشن سے متعلقہ ڈاکٹر کےنام پرچی بنوا لائیے۔ ناچار ادھر کا رخ کیا ورنہ ہم ریفر لیٹر کو کافی سمجھے بیٹھے تھے۔ وہاں مریضوں کی لمبی لمبی لائنیں لگی تھیں جہاں پرچیاں فری ایشو کی جارہی تھیں۔ بلاشبہ دو سو آ دمیوں کی دو قطاریں تھیں اور ہماری باری یقینا ان دوسو کے بعد ہی آ نا تھی۔ صاحب نے کہا کہ خواتین کی لائن میں لگ جاؤں تو باری جلدی آ نے کا امکان ہے۔ مگر نظر ڈالی تو کم وبیش سو خواتین کی لائین تھی گویا ایک سو ایک واں نمبر تھا۔ صاحب نے کاؤنٹر پر لوگوں کی بڑبڑاہٹ کی پرواہ نا کرتے ہوئےپرچی کاٹنے والے سے استدعا کی کہ ایمرجنسی ہے پلیز ایک پرچی دے دیجئے۔ مگر کاؤنٹر والے صاحب نے لائین میں لگے لوگوں کی کھا جانے والی نظروں سے مرعوب ہوتے ہوئے صاف انکار کر دیا کہ سب ہی ایمرجنسی والے ہیں۔ میں خواتین کی لائین میں تھی PAEC کے ہوسپٹل میں ہمیں دو چار منٹ کے بعد پرچی مل جاتی ہے اور وی آ ئ پی ٹریٹمنٹ۔ ایمرجنسی ہو تو وی وی آ ئی پی۔ سو میرے لیئے لائن میں کھڑے ہونا ایک انوکھا تجربہ رہا۔ میں لائین میں لگ کر دوسرے مریضوں اور لواحقین کا جائزہ لینے لگی۔ شٹل کاک برقعوں میں ملبوس لمبی قد کی پکے رنگوں والی پلاسٹک کی گرگابیوں سے سردی کا دفاع کرتی مقامی سرائیکی عورتیں۔ گود میں بچوں کو سستے کمبلوں میں لپیٹے شنیل کے چیختے چلاتے رنگوں والے کپڑے پہنے خواتین کی ٹولیاں۔ میں نے پوچھا ڈاکٹر کیسا علاج کرتے ہیں مجھے ماحول میں اجبنی محسوس کرتے ہوئے اس نے بڑے خلوص سے گائیڈ کیا۔۔۔۔ دھئیے بہوں چنگے ڈاکٹر ہین بڑا ستھرا کے مریض کوں تکدے نیں (بیٹی بہت اچھے ڈاکٹر ہیں اور مریض کو بڑی توجہ سے دیکھتے ہیں)۔

بائیں جانب مردانہ قطاروں میں اونچے لمبے سرائیکی اور دیہاتی مرد دھسّوں کی بکلیں مارے اپنی باری کے انتظار میں تھے کچھ سوٹڈ بوٹڈ نیازی بھی بڑی بڑی گاڑیوں سے اترتے نظر آ ئے (نیازی اپنے قبیلے کے مخصوص نقش و نگار، لال گلابی رنگت ہلکے رنگ کی آ نکھوں اور لمبے قد کی وجہ سے ممتاز نظر آ تے ہیں) گویا ہسپتال بلا تخصیص امیر و غریب سب کو علاج کی سہولت بہم پہنچا رہا تھا۔ دل چاہ رہا تھا کہ لائین توڑ کر جاؤں اور پرچی والے سے خود استدعا کر لوں مگر خدشہ یہ تھا کہ اگر اس نے انکار کر تو پیچھے والی پچیس تیس خواتین آ گے آجائیں گی خیر ایک حل سوجھ ہی گیا۔ میں نے اپنے پیچھے والی خاتون سے ریکوسٹ کی کہ ایک ضروری کام سے نکل رہی ہوں پلیز میری جگہ رکھیےگا اس نے اثبات میں سر ہلا دیا تو میں سیدھا کاؤنٹر پر گئی۔دو مرد خواتین کو بھگتا رہے تھے اور دو حضرات کو۔ وضع کئے گئے اصول کے تحت جب وہ متعلقہ ڈاکٹر کےنام کی پرچی بنا کر موبائل نمبر کے اندراج کے لیئے نمبر پوچھتا تو بیشتر خواتین کو نمبر ہی نہیں معلوم ہوتا سو وہ پرچی پرے پھینک کر نیکسٹ کو بلا لیتا۔ اس میں اچھا خاصا وقت برباد ہو رہا تھا مگر واں ماتھے پہ شکن تک نا تھی۔ لوگوں کو گائیڈ کرنا الگ ڈیوٹی تھی جو وہ بغیر فرض کے نبھائے جا رہے تھے۔ میں نے بڑی بےچارگی سے استدعا کی اور اس نے پیچھے والی خواتین کی پرواہ نا کرتے ہوئے مطلوبہ اندراج کے بعد پرچی تھما دی۔

پرچی کے ساتھ فوراً ہی ڈاکٹر صاحب تک رسائی دے دی گئی۔ ڈاکٹر صاحب کا کمرہ وہی روایتی سرکاری اسپتال کا نقشہ پیش کر رہا تھا کمرے میں دو ڈاکٹر صاحبان ( دوسرے صاحب کا نام معلوم کرنے کی ہم نے کوشش نہیں کی ) دو کرسیوں اور درمیانی ٹیبل پر چند ڈاکٹری اوزار اور دو کرسیاں وزیٹرز کے لیئے، دو اسٹول مریضوں کے لیئے۔۔۔۔ یہ کمرے کا کل اسباب تھا۔ کوئی الماری نہیں کوئی ریک نہیں کوئی ہیٹر یا اے سی نہیں، مگر ڈاکٹر صاحب اتنی توجہ سے ہر مریض کو دیکھ رہے تھے کہ مجھے حیرت ہوئی۔ اگلا نمبر میرا تھا ڈاکٹر صاحب نے توجہ سے بات سنی اور چیک اپ کے بعد میڈیسن کا نسخہ لکھ دیا گیا ہم بڑے اچھے جذبات لیکر باہر آ گئے۔ باہر ایک بھگدڑ کا سماں تھا مریض اور لواحقین سب اپنی باری کے انتظار میں مختلف طریقوں سے وقت گزار رہے تھے۔بلاک سےباہر نکلے تو تعمیراتی کام کا شور بڑے زور سے جاری تھا۔ میانوالی ایک قدیم ترین شہر ہے اور قدرے غیر تہذیب یافتہ۔ عصرِ جدید میں جس خطرناک مجرم کو کالے پانی کی سزا دینی ہوتی ہے اسے میانوالی جیل منتقل کر دیا جاتا ہے۔ اور میانوالی کی ایک پہچان کبھی عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی تھے آ جکل اپنے خان صاحب ہیں۔

ہسپتال پنجاب گورنمنٹ کے تحت چل رہا ہے عملہ تعاون کرنے والا ہے۔ ایک بلاک سے دوسرے بلاک تک ماتھے پر شکن لائے بغیر رہنمائی کی جاتی ہے۔
ہسپتال کی اور اسکی انتظامیہ کی جو سب سے اچھی بات لگی وہ یہ تھی کہ اسپتال دن رات مریضوں کی خدمت سر انجام دے رہا ہے اگرچہ نئی تعمیرات کا کام جاری تھا مگر ہسپتال بند نہیں تھا۔ ایمرجنسی سمیت ہر بلاک پر مریضوں کا بہت رش تھا، شور تھا، گندگی تھی مگر مریضوں کو علاج کی سہولت میسر تھی اور بڑے پراپر طریقے سے کام ہو رہا تھا۔ کیا پنجاب کے ایک دور افتادہ علاقے میں ایک اتنے بڑے ہسپتال کا قیام جس میں تقریبا ہر شعبہ موجود ہے اور دن رات ایکٹو بھی ہے غنیمت نہیں ہے۔ دور دراز کے لوگوں کو لش پش نہیں صحت کی بنیادی سہولت میسر آ نے سے غرض ہوتی ہے۔
اب دوسری طرف ایک بڑا کینسر ہسپتال ہے کروڑوں روپے کی ماہانہ اورسالانہ فنڈنگ ہے مگر غریب مریضوں اور لواحقین کو اندر داخل ہونے کی پرمیشن ہی نہیں ہے بلڈنگ کی شان و شوکت دیکھ کر بیچارے ویسے ہی مرعوب ہو جاتے ہیں رہی سہی کسر عملے کا روعونت بھرا لہجہ پوری کر دیتا ہے ۔ کوئی سفارشی جاتا ہوگا تو الگ بات ہے۔ ذیادہ سیریس کنڈیشن والا مریض لیتے ہی نہیں ہیں۔ غریب غرباء کہاں جائیں ؟ کیا اسکی ضرورت میانوالی جیسے دور افتادہ شہر میں نہیں تھی لاہور میں تو پہلے ہی بہت سے ہسپتال کام کر رہے ہیں۔ انٹرنیشنل وزیٹرز کے لیئے میانوالی ائیر بیس موجود ہے زیادہ کام نہیں کرنا پڑتا۔ ہسپتال اگر یہاں قائم کیا جاتا تو مقامی لوگوں کو روز گار ملتا اور ترقی کے بہت سارے مواقع پیدا ہوتے۔ لاہور پہلے ہی پالشڈ تھا اس کو چھوڑ کر ایسے پسماندہ علاقوں پر توجہ دینے کی زیادہ ضرورت ہے ۔ چلیے جو ہوگیا اسے رہنے دیتے ہیں دوسرا کینسر ہسپتال پشاور میں بنانے کی بجائے میانوالی میں بنانے میں کیا قباحت تھی کتنے غریبوں کا بھلا ہو جاتا اگر تختِ لاہور کو فتح کرنے کا خیال چھوڑ کر میانوالی کو مسکن بنایا جاتا۔ اس طرح بھی تو عوام کی خدمت کی جا سکتی ہے۔ ان کے دلوں میں گھر کیا جاسکتا ہے۔ کیا نہیں ؟

Leave a Reply

3 تبصرے

  1. ہسپتال کی صورت حال سے بہت خوشی ہوئی۔ لیکن آخر میں آنے والے اعتراض نے حیران کر دیا۔ ہسپتال اس شہر نہیں دوسرے میں بننا چاہئیے تھا۔ یہ تو کبھی بھی اور کسی بھی ہسپتال پر کیا جاسکتا ہے۔ لاہور تمام مواصلاتی ذرائع کی رو سے ایک مرکزی شہر ہے۔ کہیں سے بھی کوئی بھی پہنچ سکتا ہے۔ اسی لئے بنایا۔ دوسرا بھی پشاور میں اسی وجہ سے بن رہا ہے ۔ کیونکہ وہ خیبرپختونخوا کا مرکزی شہر ہے۔ اس کے دور دراز کے علاقوں سے وہاں پہنچنا آسان ہے۔

  2. Waqas Muhammad Khan on

    شوکت خانم لاہور یا پشاور میں بنتا یا میانوالی میں یہ بعد کی بحث ہے پہلے کیا آپ یہ واضح کرنا پسند کریں گی کہ آپ نے لائن میں لگ کر پرچی کیوں نہ حاصل کی؟؟
    اور مزید یہ کہ ببانگ دہل یہاں بیان بھی فرما رہی ہیں جیسے کوئی اچھا کام کیا ہو؟

  3. محترم بعض دفعہ آ پ کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی نہیں ہوتیں ، آ پ کے جسم سے خون نہیں بہہ رہا ہوتا تب بھی ایمر جنسی ہو سکتی ہے ۔ اس لیئے مجھے پرچی ایمرجنسی میں چاہیئے تھی جو کہ مجھے دی دے گئی ۔۔۔۔ ببانگِ دہل اس کا اعلان بنتا تھا اس لیئے کیا

Leave A Reply

%d bloggers like this: