اولاد سے دوستی کیوں ضروری ہے؟ باسط حلیم

0
  • 51
    Shares

موجودہ زمانہ نوجوان طبقہ کے بگاڑ کے لیے جس قدر سازگار ماحول رکھتا ہے شاید پہلے کبھی نہ رکھتا ہوگا. نوجوان نشہ، زنا، فیشن کا شکار ہورہے ہیں. ان ضروریات اور ان سے جُڑے لوازمات کے حصول کے لیے سیکسول ابیوز اور تعلیم کا ادھوراچھوڑدینا، موت کو چُوم لینا، اسی قسم کے مسائل کا شکار ہورہے ہیں. بہت سے طلبہ میرے سامنے اپنے مسائل رکھتے ہیںن میں سمجھتا ہوں کہ وہ یہ مسائل والدین کے سامنے رکھیں، لیکن والدین کے سامنے تب رکھیں گے جب انہیں والدین کی طرف سے سنا اور حل کیا جائے گا۔

ٹیکنالوجی نے دنیا کو گلوبل ولیج بنا دیا ہے اس پر مستزاد ہمارا مخلوط تعلیمی نظام ہمیں شُتر بے مہار بنا رہا ہے. چھوٹی عمر کے بچے عشق و محبت کے چکر میں پڑ جاتے ہیں. تعلیم ادھوری رہ جاتی ہے، صدمات برداشت نہیں ہوتے اور موت کی وادی چلے جاتے ہیں.

گذشتہ دنوں ایک بچے کے والد ملنے آئے، اُن کو درخواست کی کہ جب بچہ کالج کا کام تیار کرنے بیٹھے اس دوران موبائل استعمال نہ کرےم بچے کے والد پولیس میں تھے انہوں نے سختی سے کہا کہ موبائل استعمال ہی نہیں کرنا. میں نے ان کو سمجھایا کہ کہ آپ ڈیوٹی پر ہوتے ہیں اگر آپ موبائل واپس لیں گے تو بچہ متبادل موبائل کا بندوبست کرلے گا.کیسے اور کہاں سے کرے گا یہ ضروت اسے جرائم کی طرف لے جائے گی لیکن وہ اپنے موقف پر ڈٹے رہے.

اس بگاڑ سے بچاؤ کے لیے والدین کو چاہیے کہ وہ اولاد سے دوستی کریں.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عام طور پر والدین نے بچپن سے بچوں پر رعب و دبدبہ قائم کیا ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنی ضروریات، جذبات، رجحانات یا مسائل سے متعلق والدین کو بتانے سے ڈرتے ہیں. بعض دفعہ اس ڈر کے پیچھے ان بچوں کا تجربہ بھی ہوتا ہے کہ بچے نے والدین سے بات کرنا چاہی لیکن باپ کا ردعمل تلخ تھا اور بات نہ سنی گئی  جس سے بچے نے رائے قائم کر لی کہ یہاں مسئلہ کا حل نہیں.

والدین کی دوسری بڑی خامی یہ ہے کہ بعض دفعہ وہ غیر اصولی موقف پر ضد کرجاتے ہیں مثلاً بیٹا ڈاکٹر ہے اور وہ اپنی کلاس فیلو ڈاکٹر سے شادی کرنا چاہتا ہے مگر باپ نے اس وجہ سے رشتہ رد کر دیا کہ ہم کرنال کے راجپوت ہیں اور لڑکی والے پنجاب کے راجپوت. لہذا یہ رشتہ نہیں ہوسکتا.

بہت سے والدین ملتے ہیں کہ جی بچے کے نمبر کم ہیں ہم برادری میں کیا منہ دکھائیں گے؟ ناک نہیں رہتی. جب بچہ آپ کے دباؤ کو برداشت نہ کرتے ہوئے خودکشی کرتا ہے تب آپ کی ناک سلامت رہ جاتی ہے؟

والدین کے کرنے کے کام

۔ سب سے پہلا کام اپنا رویہ بدلیں، معاملات کی نفسیاتی وجوہات تلاش کریں، ان کا تدارک کریں۔ ویسے یہ اصول پوری زندگی کے لیے ہونا چاہیے. سزا اور تلخ ردعمل، مسئلہ کا حل نہیں۔ میرا مشاہدہ و تجربہ ہے والدین بچوں کی بات ہی نہیں سنتے.
۔ اولاد کو دوست بنائیں، ان کو کہیں کہ آپ اپنے جذبات، رجحانات اور مسائل بِلاجھجک ہم سے شیئر کریں. ہم آپ کے سب سے زیادہ ہمدرد ہیں.
– چوں کو کہیں کہ اگر آپ سے کوئی غلطی ہوتی ہے تو ہمیں بتائیں، ہم آپ کو سزا نہیں دیں گے بس آپ ہمیشہ سچ بولیں۔ پھر مل کر مسئلہ کا تدارک کریں.

۔ بچوں کے دوستوں اور ان کے خاندانوں سے مراسم رکھیں، خوشیوں غمیوں میں شریک کریں.
۔ بچوں کے تمام جائز مطالبات پورے کریں. اگر مطالبہ آپ کی نظر میں درست نہیں ہے تو بچے کو سمجھائیں اور مسئلہ کی سائنٹئفک لاجک اس کے سامنے رکھیں، بِلا دلیل ضِد نہ کریں.

۔ بچے کی صلاحیتیں اور نفسیاتی رجحانات کا خیال کریں. ڈگری اور تعلیم کے سلسلہ میں زبردستی مت کریں.بچے کی کارکردگی کا کسی دوسرے بچے سے موازنہ نہ کریں،  اچھا انسان اور اچھا روزگار ہی کامیابی ہے اس لیے بچہ جو کرنا چاہتا ہے وہی کروائیں. بہت سے والدین ملتے ہیں کہ جی بچے کے نمبر کم ہیں ہم برادری میں کیا منہ دکھائیں گے؟ ناک نہیں رہتی. جب بچہ آپ کے دباؤ کو برداشت نہ کرتے ہوئے خودکشی کرتا ہے تب آپ کی ناک سلامت رہ جاتی ہے؟

ہم بطور استاد طلبہ کو چند باتیں سمجھاتے ہیں کہ

آپ اپنے تمام مسائل والدین سے شیئر کریں، ہوسکتا ہے ایک آدھ دفعہ سخت ردعمل کاسامنا کرنا پڑے مگر بعد میں والدین آپ کی نفسیات سمجھ جائیں گے کہ ہمارا بچہ ہمارے مشورے اور مرضی سے زندگی گذارنا چاہتا ہے۔ پھر وہ آپ کے احساسات و جذبات کی قدر کریں گے.

۔ آپ کے تمام دوستوں کا آپ کے خاندان کو علم ہونا چاہیے.گھر والوں کو کسی دوستی سے لا عِلم نہ رکھیں.

میں ان سے کہتا ہوں آپ کہیں بھی جائیں گھر والوں سے رابطہ میں رہیں، ان کو بتا کر جائیں.طلبہ عام طور پر سکول کالج سے بھاگ کر مختلف جگہوں پر وقت گذارتے ہیں.

یہ سب نکات بچوں کو اپنائیت سے سمجھائے جائیں تو بہت مثبت اثر سامنے آتا ہے. بچوں اور والدین کے درمیان کسی تیسرے کو آنے ہی نہیں دینا چاہئے. یہی تعلق جس قدر مضبوط ہوگا اسی قدر نوجوان کی شخصیت پر اعتماد اور حوصلہ مند ہوگی.

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: