جو خزاں نادیدہ ہو بلبل، وہ بلبل ہی نہیں : قاضی عبدالرحمن

0
  • 24
    Shares

زندگی نام ہے اک جہد مسلسل کا فنا
راہرو اور بھی تھک جاتا ہے آرام کے بعد
فنا نظامی کانپوری

زندگی کا دیا جلنے کی خاطر، قطرہ قطرہ خون جگر مانگتا ہے. زندگی کی راہوں میں دهوپ کا رقبہ چهاؤں سے طویل تر ہوتا ہے. یہاں توقع کا مطلع اکثر کہرآلود ہوتا ہے. یہاں سکون کے سینہ چیرنے پر اندر سیمابی اضطراب برآمد ہوتا ہے. یہاں انسانیت کی زندگی میں غربت، دولت پر غالب ہوتی ہے، یہاں انسانیت کی تاریخ بتاتی ہے کہ گزشتہ 3500 سالوں میں مہذب دنیا نے صرف 200 سال امن کے دیکھے ہیں. یہ دنیا راحت و آرام بہم کرنے میں ایک امیر کے دل اور غریب کی جیب سے بهی زیادہ تنگ ہے.

اس جہاں میں ایک کامیاب بهی اپنی اصل کی لحاظ سے ناکام ہے. چہروں کی چمک اور چیزوں کی کثرت، کامیابی کا کیموفلاج ہے، کامرانی نہیں. اس عالم میں عشق کی لذت خطروں کے جاں کاہی میں ہے. اس بات پر تاریخ انسانی شاہد ہے ماضی کی وادیوں کی سیر کیجئے. تب ان وادیوں کا ہر پتهر گواہی دے گا اور بقول اقبال،

آشنا ہر خارراہ در قصہ ما سوختی

‘راستہ کا ہر کانٹا میری سخت جانی سے اچهی طرح واقف ہے۔’

کا پیغام دیتا ہے. ایسے کئی نقوش نظر آتے ہیں. جو زبان حال سے اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ،

آرزو کے خون سے رنگیں ہے دل کی داستاں
نغمہ انسانیت کامل نہیں غیر از فغاں

ابن آدم کی زندگی کا بیشتر حصہ، بکھیڑوں میں ہی گذرتا آیا ہے. دراصل اس دنیا کی خرخشیں، جهنجهٹیں، بیماریاں، محرومیاں اور ناکامیاں اس میں مضمر امکانی قوتوں اور صلاحیتوں کی نشو و نما کرتی ہیں.

چند نقوش آپ کے سے خوبرو کے روبرو. بنو امیہ کے کسی خلیفہ سے اس کی زندگی کے حسین ایام کے متعلق سوال پوچھا گیا تو اس نے کہا،

“میں نے اپنی زندگی کے حسین ایام کا حساب لگایا تو وہ محض اکیس دن نکلے.”

اسی سے ملتی جلتی بات نپولین بوناپارٹ نے سینٹ ہلینا نامی جزیرہ پر کہی،

“I have never known six happy days in my life.”

ترجمہ:
میری زندگی کے چھ خوشیوں بهرے دنوں کا بهی مجهے پتہ نہیں.

ہندوستان کے نپولین کہلائے جانے والے فریدالدین شیر شاہ سوری نے انتہائی شجاعت سے ہمایوں سے حکومت چهینین تخت دہلی پر قابض ہوام ایک دن آئینہ میں اپنا جائزہ لیا. بالوں میں چاندی اتر آئی تهی.بڑها پے کی مکڑی پرجلال چہرہ پر جالا تن چکی تهی. اپنے آپ سے گویا ہوا،
“ہائے افسوس!میری زندگی میں حکمرانی کا سورج اس وقت طلوع ہوا، جب زندگی کا سورج غروب ہورہا ہے.”
ہوا بهی یہی. یہ روپیہ کا خالق، جرنیلی سڑک یا گرانڈ ٹرنک روڈ کا بانی، پانچ سال میں اس دارفانی سے کوچ کرگیا.

جب ان واقعات پر نظر گشت کرتی ہے تو خالق حیات و ممات کی صدائے غیبی کہتی ہے،

لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي كَبَد
سورہ بلد:4

ترجمہ: “کہ ہم نے انسان کو تکلیف (کی حالت) میں (رہنے والا) بنایا ہے”

آدم تا ایں دم، ابن آدم کی زندگی کا بیشتر حصہ، بکھیڑوں میں ہی گذرتا آیا ہے. قبل از پیدائش تا موت مستقل حالت امتحان میں رہتا ہے. اس کا سفینہء حیات سدا طوفانوں سے نبرد آزما رہتا آیا ہے. دراصل اس دنیا کی خرخشیں، جهنجهٹیں، بیماریاں، محرومیاں اور ناکامیاں اس میں مضمر امکانی قوتوں اور صلاحیتوں کی نشو و نما کرتی ہیں. ان دشوار گذار گھاٹیوں سے گذر کر ہی یہ قطرہ،درشہوار بن پاتا ہے گویا کہ

اٹھا کے صدمہ فرقت وصال تک پہنچا
تری حیات کا جوہر کمال تک پہنچا

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: