دن جو بھلائے نہ جائیں گے : عبدالغفار چھینہ

1
  • 46
    Shares

 ٹی وی شروع دن سے گھر میں شجر ممنوع تھا اور موسیقی کا داخلہ بھی بند، صورتحال اب بھی نہیں بدلی اور اس کا ملال بھی نہیں۔ بچوں کی فطرت ہے کہ جو چیزیں دسترس سے باہر ہوں ان کو زیادہ طلب بھی انہی چیزوں کی ہوتی ہے۔ زندگی کے شروع کے دس سال زیادہ وقت ایک ایسے گھر میں گزرا جس کے گرد و نواح میں ایک کلومیٹر تک کوئی گھر نہ تھا۔ پڑوس کے طور پر ہری بھری فصلوں کے وسیع میدان تھے. صبح ہوتے چڑیوں کی ٹولیاں آوارد ہوتیں، جن کی چہچہاہٹ آنکھیں کھلنے کا سبب بنتی، لیکن کچھ دیر کمبل چادر میں دبکے رہنا ہی سرور دیتا. چڑیوں کی چہچہاہٹ ایک کورس کی شکل میں سماں باندھ دیتی جیسے کسی آرکسٹرا، کسی بینڈ کا حصہ ہوں، لے اور تال میں ردھم محسوس ہوتا، جیسے کسی سکہ بند استاد سے باقاعدہ مشق کرکے آئی ہوں۔

کچھ دیر جو ذرا سر اٹھا کے اماں کے تیور دیکھنے کی خاطر صحن پہ نظر پڑتی تو بھانت بھانت کی پدیاں، دم کو کسی کلاک کے پنڈولم کی طرح اوپر نیچے جھٹکتی، صحن میں گرے خوراک کے ٹکڑوں اور کیڑوں مکوڑوں کو اچکتی نظر آتیں. وہیں کہیں پالتو مرغیاں، کسی پدی کسی چڑیا پر حق ملکیت جتاتی نظر آتیں، تو کہیں کوئی پدی پھدک پھدک کے مرغی کے خاندان کو چڑا رہی ہوتی کہ  ہمت ہے تو ٹچ کر کے دکھا. ایسے منظر کے پس منظر میں کہیں سے کبھی کبھار  کوئل کی آواز سنائی دے جاتی تو لگتا عیسی خیلوی کے بانسری نواز نے کوئی سر چھیڑدیا ہو. فاختاؤں کی گھو گھو کی آواز، جیسے نچلے نوڈز پہ گاتے مہدی حسن صاحب. ایسے  منظر نامے میں بیچ میں کبھی کبھار میانوالی کے بے سرے گویے کی طرح وہ بھی آدھمکتے کا،کا ،کا ،کا یوں لگتاجیسے ہیر رانجھے کی پیار بھری کہانی میں کیدو کی انٹری ہو گئی. چڑیا نہ، پدی نہ خاتون خانہ کٹو بیگم سب کو اپنی اپنی جان کی پڑجاتی اور  فضاء کوؤں کی بدنما آوازوں سے گونج اٹھتی تب بد مزہ ہوتے ہوئے، بادل نخواستہ منہ ہاتھ دھونے کیلئے اٹھنا ہی پڑتا.

کھالے کی منڈیر پر، تو کہیں کسی پگڈنڈی پہ بیٹھے  مینڈک باجماعت ٹرٹراتے، تو موسیقی ہی کا رنگ لگتا.  جیسے خوش گلو قوالوں کا کوئی ٹولہ محو ریاض ہو۔ ویسے تو موسیقی سننے کیلئے باقاعدہ آلات کا بندوبست کرنا مشکل تھا. سڑک سے گزرتے ٹرکوں اور ہل چلاتے ٹریکٹروں پہ چلنے والے ٹیپ ریکارڈرز اس جمالیاتی حس کو تسکین پہنچانے کا ذریعہ تھے۔ جب کہیں دور سے کسی ٹریکٹر سے میڈم نورجہاں کی آواز میں آ جاتی “میری ونجلی دی مٹھڑی تان وے”، یا کبھی عیسی خیلوی کی آواز میں چھپا درد سینے میں اترتا محسوس ہوتا، “ول وطناں تے آہن یار” کبھی عارف لوہار کے چمٹے کی دھمک اور دل کی دھڑکن گڈمڈہ ہوتے محسوس ہوتے. کبھی طالب حسین درد اور بشر چوکی بھاگٹ کے جوگ کے اثر سے سر خود بخود جھومے جاتا اور کسی دن عزیز میاں قوال  “نبی نیب یا  نبی نبی” کے نعتیہ اشعار سے روحانی کیفیت مل جاتی.

وہ رات خوشی خوشی گزرتی، جس رات آس پاس کہیں کوئی ٹریکٹر کسی تھریشر کا پلو پکڑے کھڑا ہوتا، اور ٹیپ ریکارڈر آن ہوتا. ایسے محسوس ہوتا تھا، جیسے کوئی نئی نویلی دلہن کو خوش کرنے کیلئے موسیقی کے ذریعے رات بھر فضاء میں قوس قزح کی طرح صوتی رنگ بکھیرتا رہا ہو۔ کبھی کبھار کسی بے سرے گائیگ کی آواز کان پڑجاتی تو ضرور احساس ہوتا کہ موسیقی کو حرام کیوں کہا جاتا ہے۔ یہ گناہ کا کام میں کیوں کرتا ہوں؟ اس فیلنگ کو دبانے کے لئے جمالیاتی رگ، رنگ میں اتر آتی، کبھی وہ بھاری پڑتی تو کبھی احساس “گناہ” مات دے جاتا. جو رنگ غالب آگیا طبیعت اسی مطابق ڈھل گئی، جو ہار گیا منہ بسورے پاس ہی ٹکا رہا، گیا نہیں۔

ان دنوں ٹی وی کم کم ہی ہوتے تھے اور گاؤں میں کسی کے پاس تھا بھی نہیں. غالبا چوتھی جماعت میں تھا، جب دادی کے ہاں گاؤں میں ٹھہرا تھا کہ 9 بجے کے قریب ایک رات جو ان دنوں “رات گئے” کے زمرے میں آتی تھی، لنگوٹیا ملازم عرف ملا آدھمکا. رازدارانہ انداز میں ہاتھوں سے گوگھو بناتے ہوئے کان میں بریکنگ نیوز انڈیلی کہ “فلاں کے گھر ٹی وی آگیا ہے. چل کھسکتے ہیں.”

ہمارے پہنچنے تک خبرنامہ ختم ہو چکا تھا لیکن ناظرین کا ہجوم حسب معمول برقرار تھا، چیز ہی نرالی تھی. ٹی وی پر جو پہلا منظر دیکھا اس میں محمد علی اور زیبا ایک درخت کے گرد طواف کر رہے ہیں، پس منظر میں ناہید اختر اور مہدی حسن سروں کا جادو جگا رہے ہیں۔ محمد علی زبیا کا دوپٹہ پکڑنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن وہ بدستور گول گول گھومے جارہی ہیں، تھرل کیا ہوتا ہے؟ اس فیلنگ کوڈھنگ سے پہلی دفعہ تب محسوس کیا تھا. درخت کے گرد دوڑا دوڑا کے دل نہ بھرا تو کھلے میدان میں لے گئیں، کچھ دیر کھیتوں کی پگڈنڈیوں اور پھولوں کے کیاریوں کے بیچوں بیچوں  مشق جاری رہی۔ ہزار کوشش کے باوجود فاضل عاشق کے ہاتھ  دوپٹہ آیا، نہ ان دنوں اجازت ہی ہوتی تھی، ہاں وہ آگیا، جانبازوں کا انتخاب ولز کنگز…!

گو ان دنوں ابھی محبوب اور محبوبہ کا تصور ٹھیک سے واضح نہ ہوا تھا لیکن قرائن بتاتے ہیں کہ بیج پڑ چکے تھے۔ جب ہی، ٹی وی دیکھنے کے بعد رات یہی سوچتے گزری کہ زیبا کتنی خوبصورت خاتون ہیں، ٹی وی کے مالک کے کتنے مزے ہیں، جب دل کرے گا توڑ کے نکال لے گا۔ ہمارے گھر بھی ٹی وی ہوتا اے کاش۔۔۔۔یہ چاہنے کا وہ پہلا احساس تھا۔

دل تو بہت چاہتا  کہ کچھ شہرے ہمارے بھی ہوتے، کسی حسینہ کے نام پہ چہرے کا رنگ سرخ ہمارا بھی ہوتا، کسی رقیب کی رقابت کی آگ ہم بھی تاپتے، کسی حسینہ کی ایک جھلک کو دل ہمارا بھی مچلے جاتا۔ فراز کی طرح کچھ رسوائیاں ہمارے نام کے ساتھ بھی جڑ جاتیں.

پھر لڑکپن آیا، ڈیرے سے گاؤں منتقل ہو گئے، وہاں کی محفلوں نے اثر دکھانا شروع کیا، نہر کنارے لڑکوں کی ٹولیوں میں زیر بحث الہڑ مٹیارنیوں کے ذکر سے ہم بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے. کسی نے اپنی محبوبہ کے حسن کی دل آویز منظر کشی کی تو  “گویا یہ بھی میرے دل میں تھا ” کےمصداق چپکے سے اپنی ہی محبوبہ سمجھ لیا. جو جتنا بڑا عاشق ہوتا، اسکول میں مرغا بننے کا طویل ترین دورانیے کا ریکارڈ بھی اسی کے پاس ہوتا. لیکن جو جتنا بدنام ہوتا، لونڈوں لپاڑوں میں نگوڑا اتنا ہی آئیڈیل مانا جاتا۔ دل تو بہت چاہتا  کہ ان کی طرح کچھ شہرے ہمارے بھی ہوتے، کسی حسینہ کے نام پہ چہرے کا رنگ سرخ ہمارا بھی ہوتا، کسی رقیب کی رقابت کی آگ ہم بھی تاپتے، کسی حسینہ کی ایک جھلک کو دل ہمارا بھی مچلے جاتا۔ فراز کی طرح کچھ رسوائیاں ہمارے نام کے ساتھ بھی جڑ جاتیں. لیکن اباجی کی طلسماتی چپل، اے کاش۔۔۔۔۔!

کچھ طیعت کے میلان اور کچھ احتیاطی تدابیر کو ملحوظ رکھتے ہویۓ چند اصول وضع کر لئے، صرف اسی کو چاہنا ہے جو نظر بھر نہ دیکھے. سالوں اس کی محبت کو سینے میں آگ کی لو کی طرح جلائے رکھنا ہے. اظہار کے ہم قائل نہ تھے کہ اظہار کردیا تو پھر عشق کیسا؟ وہ عشق ہی کیسا جو دو طرفہ ہو عشق نام ہی یکطرفہ محبت کے جنون کا ہے. بس ایسے ہی خود ساختہ اصولوں کی پوٹلیاں لئے لڑکپن کب جوانی میں بدل گیا، پتا ہی نہ چلا.

وہ دن کہاں گئے جو گزرے تھے پیار میں
اے گردشِ دوراں کچھ تو پتہ چلے !!!

ایسے ہی نئے نئے جذبے پروان چڑھتے رہے. ضرورت محسوس ہوتی کہ کوئی ہمراز ہو جس سے دل کی باتیں ہوں. ایک ہی دوست تھا، جس  کے کمزور کندھوں پہ پہلے ہی بھر محبوباؤں کو ہینڈل کرنے کی ذمہ داری عائد تھی. ساتھ میں اس کے ابا اور بھائیو ں نے آدھ درجن بھینسوں اور گائیوں کے نان نفقے کا بندوبست بھی اسی کے سر ڈال رکھا تھا سو مزید بوجھ ڈالنا مناسب نہ سمجھا۔

مسئلے کا حل یوں نکالا کہ کسی طور  ایک ریڈیو کا بندوبست کر لیا. جس دن سکول بند ہوتا، ریڈیو کسی چادر میں چھپائے آبادیوں سے دور نہر کنارے جا ڈیرہ جمالیا. آغاز ریڈیو آکاشوانی کے ویود بھارتی سے کرلیا، ریڈیو لاہور سے مدثر شریف کی آواز میں پنجابی پروگرام سن لیا. ویسے پنجابی سمجھ تو کچھ خاص نہ آتی تھی لیکن اناؤنسر کا مسحورکن انداز اور بیچ میں چلنے والے پرانے پنجابی گانے مست کئے دیتے تھے. کبھی ملتان سے ثریا ملتانیکر کی آواز کان پڑ گئی تو استغفراللہ پڑھ کے سٹیشن بدل لیا جاتا۔

ظہر کی لازمی ٹی بریک کے بعد بستہ اٹھایا، پھر نہر کنارے یا کسی ویران جگہ گل محمد ہو گئے. توثیق حیدر  کا ریڈیو اسلام آباد سے پروگرام اور پروگرام میں جہلم سے مومی گل کی مومی آواز میں کال بھی،گویا روئے زمین پر پہلا سائبر عشق تھا. ہم وہ واحد عاشق ہونگے، جنہوں نے  موسیقی اور عشق کے ساتھ ساتھ  ریڈیو پہ ریاضی کی گتھیاں بھی سلجھائیں. ریڈیو ڈیرہ اسمعیل خان سے دامان اور گل زمین کے  گیت اور اناؤنسرز کی لچھے دار باتیں ریاضی کی لچھے دار گتھیاں بھی سلجھانے میں مددگار ثابت ہوتے رہتے. جب عصر کے بعد سائے لمبے ہونے لگتے تب دل گھبرانے لگتا، یا رات کو گھبراہٹ مزید بڑھتی تو ریڈیو ہی سہارا دیتا تھا. بی بی سی پر شفیع نقی جامعی کا ‘کھیل کے میدان سے’، وسعت اللہ خان کا ‘بات سے بات’ اور عابدی صاحب کی ‘ٹرین کہانی’ بھی تنہائی بانٹ لیتے.”پختو دا پارہ” کے الفاظ گونجتے تو سوئچ کرکے ؤائس آف امریکہ کا ہاتھ پکڑ لیا. جب سب ختم ہو گیا اور  رات اپنے عروج کو پہنچ گئی تو ریڈوکا ڈائل والا بٹن گھما دیا. جوابا کسی بھارتی سٹیشن کی فریکواینسی ریڈیو نے پکڑ ا کے دے دی. جہاں گھنٹوں راگ رنگ، ٹھمری دادرہ کی محفلیں بلا کسی مداخلت گھنٹوں چلا کرتیں. دا، دا، دگڑدا، سارے گاما پادا نیسا نیسا نیسا۔

یوں محسوس ہوتا جیسے نہر کے دوسرے کنارے پٹیالہ، شام چوراسی و قصوری گھرانوں کے فنکاروں نے خالص مجھے لوری دینے کی خاطر پڑاؤ ڈال دیا ہے،کب آنکھ لگ جاتی۔ پتا ہی نہ چلتا چوں چوں چوں، گھوگھو گھاں سن کے ہی آنکھ کھلتی.

اب وہ دن ہیںِ، جب آغاز فیسبک لاگ ان کرنے سے ہوتا ہے، کسی کی گھمبیر معاشرتی مسئلے پر لکھی پوسٹ کو  کو دیکھ کر رونے والا ری ایکشن دے کرسماجی ذمہ داری  پوری کر دی، کرک انفو سے سکور دیکھ لیا اور خود کو سپورٹس لور منوا لیا. یا پھر کوئی نیوز سائیٹ کھول کے خبریں پڑھ لیں، کسی سنجیدہ بین الاقوامی مسئلے پہ کف افسوس مل لیا اور بس بقول شاعر:

صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے
زندگی یوں ہی تمام ہوتی ہے

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: