نخیلِ زیست کی چھاؤں میں نَے بہ لب تری یاد: ہمایوں مجاہد

0
  • 38
    Shares

ہر طرف پت جھڑ کا سماں ہے۔ خزاں کا دلفریب موسم میرے وطن اسلام آباد میں اتری سرد رُت کی گالیں گرمائے دیتا ہے۔ سرد رُت کی اپنی سی رنگینیاں ہیں جنہیں ذوفشاں کرتی خزاں راتیں، خزاں سورج اور بھی دلنشیں بنا دیتے ہیں۔ سرزمینِ اسلام آباد خزاں رسیدہ پتوں سے اب لدی پڑی ہے۔جا بجا سنہری پتوں کی چادر سی بچھی گویا کسی مست خرام، حزِیں دل شخص کی راہ دیکھتی ہو۔

زرد، بنفشی، سرمئی رنگ کے اِن پتوں پر پاؤں رکھ دو تو کوئی ساز سا بج اٹھتا ہے۔  سست رو چال سے چلتے جاؤ۔ پتوں کی چُرمُراہٹ سے اٹھتا دل گداز میوزک سنتے جاؤ۔ دل خواہ مخواہ اداس ہونے لگتا ہے، اور بطخ سا بنا ماضی کی سحر آفریں جھیل میں ڈبکیاں مارنے لگتا ہے۔کوئی شخص سچ مچ اداس ہو تو خزاں رُت اداس کیفیتیں انگیخت کرنے، حزن کو سِوا کرنے کو پورا ابرِ کرم بن کر برستی ہے۔ اداسی تو خیر کسی رُت بھی درِ دل پر دستک دے دیا کرتی، بس آتی اور چھا جاتی ہے۔ ایسے میں جب من اندر موسمِ غم کا بسیرا ہو تو سمندر، دریا، جھیل، آبشاریں سب آنسوؤں سے بنے دکھائی دیں گے۔ کسی اداس دل پنچھی کو سارا جہان اداسی کی چادر اوڑھے، سسکیاں بھرتے نظر آئے گا۔ ہنستے مسکراتے چہرے  یا تو فریبی ہیں، یا وہ سراسراحمق دِکھیں گے۔

اداسی میں لازم ہے کہ جو کچھ پاس ہے، دستیاب ہے، بہت قلیل اور ناکافی لگے۔سارا جیون بے معنی لگے۔جو کچھ پایا ہے، اس پر دل ناشاد ہو۔ جو کھویا ہے، اسے نہ پانے کا ملال، اس کی چاہت کا فسوں آپ کے دُروں پر آسیب بن کر چھایا رہے۔

زندگی کی بے ثباتی پر نظر نہ ہوتو فکروخیال اشیا کو، ان کےحصول اور عدمِ حصول کو خوشی اور غم سے تعبیر کرنے لگتے ہیں۔ معمولی باتیں بڑی لگتی، اور بڑے واقعات تو اور بھی مہیب بن جاتے ہیں۔ دانائی یہی ہے کہ اس جہان کی موجودات کو، حاصل کی اصلیت کواور لا حاصل کی بھڑکیلی ہوس کو دیکھنے کے پیمانے کسی طور بدلے جائیں۔ پیراڈائم شفٹ کا کچھ بندوبست ہو۔ پردہِ فریب کے پار دیکھنے کا یارا ہوتو صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ رفتہ رفتہ اِس پیڑ کی ہر شاخ، جلد یا بدیر،ایک روز ٹوٹ گرے گی، اور پھر: “ہے عہدِ خزاں لازوال اس کے واسطے – ممکن نہیں ہری ہو سحابِ بہار سے۔”

واصف مرحوم نے کیا خوب کہا تھا: “انسان اس دنیا میں نہ کچھ کھوتا ہے نہ پاتا ہے۔ وہ تو بس آتا ہے، اور چلا جاتا ہے۔” یعنی جو پایا ہے، اسے بھی یہیں چھوڑ جانا ہے۔موسمِ خزاں کا بس یہی ایک پیغام ہے۔ گلزارِ ہست و بود کاخالق قدم قدم پر اپنے بندوں کو اشارے کنایے سےاپنی طرف متوجّہ کرتا ہے۔ کبھی خارج میں بدلتے موسم اور منظر سے تو کبھی اس کے من اندر آباد نگر میں کوئی طوفان برپا کر نےسے۔ اداسی کیسی؟ کوئی شے، کوئی مقامِ بلند پانے کی آرزو کا ملال کیسا؟ کسی عزیز کو کھو دینے کاسوال کیسا؟ — جب طے ہے کہ والی اللہِ تُرجع الامور ۔ یعنی، سب معاملات نے، حاصل اور لا حاصل نے اسی کی طرف لوٹ جانا ہے۔

تو اُداسی وہی زیبا ہے جو خالق سے تعلقِ خاطر میں رکاوٹ بنی اپنی کسی ادا، کسی خطا کا شاخسانہ ہو۔ اوراداسی وہی زیبا ہے جو اُس مہربان کی یاد کا عرق بن کر، دیدہ تر میں موتی بن کر چمکے۔ خزاں رُت میں برپا یہ پت جھڑ، یہ اداس منظر پیغام ہیں کہ  یہ رنگا رنگ زندگی، یہ گُل کاریوں سے لدا پھدا پُر بہار جیون، یہ سوزوسازِ حیات،یہ فصل ِ گل و لالہ بہت جلد خزاں آشنا ہونے کو ہے۔ ہر منظر، ہر موسم کی ہر ادا میں، ہر شجر، ہر حجر، ندّی، دریا، جنگل، پہاڑ میں، اورفضا میں پنکھ پھیلائے اڑتے طیور کی دلآویز پروازوں میں — سب تیرے رب کی یاد کے ہی ساماں ہیں۔ دانائی یہی ہے، اس یاد سے خود کو ہم آہنگ کرنے کا کچھ حیلہ کیا جائے:

طلوعِ مہر، شگفتِ سحر، سیاہیِ شب
تری طلب، تجھے پانے کی آرزو، ترا غم

غبارِ رنگ میں رس ڈھونڈتی کرن، تری دھن!
گرفتِ سنگ میں بل کھاتی آبجو، ترا غم

ندّی پہ چاند کا پرتو، ترا نشانِ قدم
خطِ سحر پہ اندھیروں کا رقص تُو، ترا غم

نخیلِ زیست کی چھاؤں میں نَے بلب تری یاد
فصیلِ دل کے کلس پر ستارہ جو ترا غم

نگہ اٹھی تو زمانے کے سامنے ترا روپ
پلک جھکی تو مرے دل کے روبرو ترا غم
مجید امجد

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: