ایم ایم اے بحالی اور جماعت اسلامی: امکانات خدشات — سردار جمیل

0
  • 190
    Shares

ایم ایم اے کا قیام عمل میں آچکا ہے اور بعض حلقے اسے مولانا فضل الرحمن اور پروفیسر ساجد میر کی ملی بھگت سے درپردہ میاں شہباز شریف کی ہی سیاسی حکمت عملی قرار دے رہے۔۔۔۔ ایک نۓ این آر او کی بازگشت ضرور ہے مگر یہ امکانات بھی موجود ہیں کہ مسلم لیگ ن کو آئندہ الیکشن میں مضبوط حریف عمران خان کے علاوہ پنجاب میں ایک نۓ مذھبی اتحاد کا سامنا ہو گا نیز پارٹی میں فروری کے وسط تک انتشار کی پیشین گوئی ہے۔۔۔

ایم ایم اے کے قیام پر پی ٹی آئی کی اتحادی جماعت اسلامی کے بیشتر کارکنان و ہمدرد سخت نالاں ہیں جو سمجھتے ہیں کہ ختم نبوت متنازعہ ترمیمی بل کی حمایت کرنے پر جے یو آئی کے اپنے ہزاروں علماء و کارکنان بیزار بیٹھے تھے۔ ایسے میں جماعت اسلامی نے اپنے پرچم و نشان سے دستبردار ہو کر مولانا فضل الرحمن کو نہ صرف آکسیجن فراہم کی بلکہ فرقہ پرست تنظیموں سے ہاتھ ملا کر مسلکی سیاست کی توثیق بھی کر دی جبکہ جماعت کا ایک دوسرا طبقہ عمران کی نرگسیت پسندی، سولو فلائیٹ اور تکبر کو جماعت اسلامی کے ایم ایم اے میں جانے کی وجہ سمجھتا ہے۔
خدشہ یہ بھی ہے کہ مذھبی اتحاد الیکشن سے پہلے ہی اختلافات کا شکار ہو کہ ٹوٹ جاۓ یا اصل سٹیک ہولڈرز کی جانب سے بہتر آفرز ملنے پر توڑ دیا جاۓ۔۔

معروف کالم نگار خورشید ندیم صاحب نے فرمایا کہ “قاضی صاحب کے دور میں ہی (جمعیت علماۓ اسلام (ق)) بن چکی تھی”.. ..
بہرحال قاضی صاحب کو ایم ایم اے کے حوالے سے تھوڑی رعایت ملنی چاھییے کیونکہ تب ھنگامی حالات تھے، پاکستان حالت جنگ میں تھا، ناٹو فورسسز پاکستانی بارڈر پہ دندنا رہی تھیں، آئین معطل تھا، سیاست زیر عتاب تھی، جماعت کو جہادی بخار تھا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جماعت اسلامی پر پابندی کا خطرہ تھا۔۔۔۔ اضطراری حالات میں ایم ایم اے کا آپشن ہی رہ جاتا تھا۔
مگر لوگ یہ ضرور کہہ رہے ہیں کہ سراج الحق صاحب نے جماعت اسلامی کو “جمعیت علماۓ اسلام (س) بنا کر اسے ایم ایم اے میں ضم بھی کر دیا ہے اور امکان ہے کہ سمیع الحق صاحب الیکشن کمیشن میں درخواست ہی نہ دائر کر دیں کہ اصل والی “س” میری ہے۔۔

اگر ایم ایم اے قائم رہتی ہے تو بھی 2002 کی نست کامیابی کے امکانات نصف سے بھی کم ہیں۔۔
2002 میں امریکہ افغانستان پر حملہ آور تھا، مسلم لیگ زیر عتاب تھی، پپلزپارٹی کی لیڈر جلا وطن تھی، پشتون مشرف سے نفرت کرتے تھے، ایم ایم اے قاضی اور نورانی جیسے معتبر لوگوں کے ہاتھ میں تھی اور عمران خان سیاسی نو مولود تھا۔۔
آج تو پنجاب اور کے پی کے کی سیاست ہی عمران خان کے گرد گھوم رہی ہے۔۔
تب مولانا فضل الرحمن کی عوام میں قدرے اچھی ریپیوٹیشن تهى اور مولانا سمیع الحق اور صاحبزادہ ابو الخیر محمد زبیر بھی ایم ایم اے کا حصہ تھے نیز لبیک یا رسول اللہ اور “نظام مصطفی محاذ” بھی میدان میں نہیں تھی۔۔
اب کے بار ہر حکومت میں حصہ داری، کرپشن کی مسلسل وکالت اور ختم نبوت متنازعہ ترمیمی بل کے حق میں ووٹ دے کر مولانا بدنامی اور تنزلی کے پست ترین مقام پر پہنچ چکے ہیں لہذا اسٹیبلشمنٹ ایم ایم اے کے حوالے سے کچھ زیادہ فکر مند نہیں ہے۔

جماعت اسلامی نے اپنے پرچم و نشان سے دستبردار ہو کر مولانا فضل الرحمن کو نہ صرف آکسیجن فراہم کی بلکہ فرقہ پرست تنظیموں سے ہاتھ ملا کر مسلکی سیاست کی توثیق بھی کر دی جبکہ جماعت کا ایک دوسرا طبقہ عمران کی سولو فلائیٹ اور تکبر کو جماعت کے ایم ایم اے میں جانے کی وجہ سمجھتا ہے۔

این اے 04 میں جے یو آئی اور جماعت اسلامی کی ابتر حالت دیکھنے کے بعد یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ پپلزپارٹی/اے این پی/ ن لیگ/ شیرپاؤ گروپ کے مابین اتحاد نہ بنا تو ممکن ہے جے یو آئی موجودہ نشستوں کے علاوہ چارسدہ، صوابی اور مردان کی نشستیں + فاٹا کی دو نشستیں جیت جاۓ جبکہ جماعت دیر/ بونیر کی 3 نشستیں، فاٹا کی دو اور بٹ خیلہ / چترال کی نشستیں جیتنے میں کامیاب ہو جاۓ۔۔
اور اگر پی پی پی/اے این پی/شیرپاؤ وغیرہ کا اتحاد بن جاتا ہے تو عمران مخالف ووٹ ایم ایم اے کے بجاۓ اعتدال پسند اتحاد کی طرف جاۓ گا۔۔
مولانا کو لکی اور ڈیرہ میں مزاحمت کا سامنا ہو گا جبکہ پنجاب و سندھ میں سے ایم ایم اے ایک نشست بھی جيتنے کی پوزیشن میں نہیں۔۔

بعض مبصرین یہ سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ مولوی صاحبان کن ایشوز پہ عمران خان پر تنقید کریں گے؟
جماعت اسلامی تو کے پی کے حکومت کا حصہ ہے اور ہر اچھائی برائی میں برابر شریک ہے اس لیے کارکردگی یا مذھب کی آڑ میں جماعت اسلامی کے پاس تنقید کے لیے کچھ بھی نہیں بچتا۔۔
جتنی اسلامائزیشن اور اصلاحات موجودہ دور میں ہوئی ہیں ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔۔۔
نیٹو سپلائی کی بندش، کرپشن، فلسطین، کشمیر، افغانستان، فاٹا اصلاحات اور ختم نبوت کے حوالے سے عمران کا مؤقف جماعت اسلامی کے مؤقف سے ہم اہنگ رہا جبکہ دوسری جانب بڑے مولانا کرپشن کے سب سےبڑے وکیل، فاٹا اصلاحات کے مخالف، کشمیر کمیٹی میں قومی خزانے پر ایکسٹرا بوجھ اور ختم نبوت متنازعہ بل کے ووٹر اور سپورٹر رہے
سب سے معتبر جامعہ حقانیہ بھی عمران خان کے ساتھ، فضل الرحمن گروپ کے علماء بھی ساتھ آ رہے ہیں اور مولانا طیب طاہری کی حمایت بھی انہیں حاصل رہے گی۔۔۔
تو پھر تنقید کس بنیاد پر ہو گی؟؟؟
صرف مولانا فضل الرحمن کے منہ سے فتوے، گالیاں اور الزام تراشیاں ہی سننے کو ملیں گی نہ کے اصولی تنقید۔۔

ایم ایم اے کی مرکز میں حکومت، اسلامی نظام کا نفاذ، دودھ اور شہد کی نہریں وغیرہ وغیرہ تو محض سیاسی نعرے، شیخ چلی مرحوم کی خیالی جنت ہیں البتہ اتحاد قائم رہا تو جے یو آئی/ جے آئی دونو کی عزت بچ جاۓ گی۔۔
مولانا فضل الرحمن، پروفیسر ساجد میر اور مولانا انس نورانی ہمہ وقت میاں شہباز شریف سے رابطہ میں رہتے ہیں خدشہ یہ بھی ہے کہ پنجاب میں ن لیگ سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کر کے جماعت اسلامی کو مزید بدنامی کی گہری کھائی میں نہ دھکیل دیا جاۓ۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: