کیا آپ احد تمیمی کو جانتے ہیں؟ ثمینہ رشید

1
  • 30
    Shares

احد تمیمی ایک سولہ سالہ فلسطینی ایکٹویسٹ ہے۔

عالمی طور پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقے ویسٹ بینک کے نزدیک ایک گاؤں نبی صالح کی رہائشی احد تمیمی کا بچپن اسرائیل کے غاصبانہ اور تسلط پسندانہ عزائم کے خلاف جدوجہد کرنے والے ماں باپ کے زیر سایہ گزرا ہے۔ احد کے والد باسم التمیمی کا شمار اسرائیل کے خلاف اپنی وطن کی آزادی کی پرامن جدوجہد کرنے والوں میں کیا جاتا ہے۔

اسرائیل کی جانب سے باسم التمیمی کو مارچ دو ہزار گیارہ میں پرتشدد مظاہروں اور لوگوں کو اسرائیلی فوج پر پتھراؤ پر اکسانے کے جرم میں گرفتار کیا گیا۔ باسم کی گرفتاری پر انٹرنیشل میڈیا اور ہیومن رائٹس کی تنظیموں کی کجانب سے ردعمل دیکھنے میں آیا۔ کیونکہ باسم ویسٹ بینک کے علاقے میں کئی سالوں سے ہفتہ وار پرامن مظاہرے کا اہتمام کرتا رہا تھا اور کسی قابل اعتراض سرگرمی کا حصہ نہ ہونے کی وجہ سے ایمنسٹی انٹرنیشل اور یورپئین یونین کی جانب سے اس گرفتاری پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔

دو ہزار گیارہ کی گرفتاری، ٹرائل اور سزا بھگتنے کے باوجود بھی باسم کو متعدد بار اسرائیلی فوج کی جانب سے گرفتار کیا جاچکا ہے۔ باسم کے ہی ایک مقدمے کی سماعت کے دوران باسم کی ایک کزن اسرائیلی فوج کے جانب سے جھڑپ کی وجہ سے حادثے کا شکار ہوکر شہید ہوئیں۔ اسکے باسم التمیم کے بہنوئی کو بھی اسرائیلی فوج نے انتہائی قریب سے نشانہ بنا کر شہید کیا۔

احد،۔ باسم تمیمی کے چار بچوں میں سے ایک ہے۔ احد کے بھائی واعد تمیمی کو بھی دوہزار پندرہ میں ایک بار گرفتار کیا گیا تھا لیکن دو ہفتوں کے ٹرائل کے بعد رہا کردیا گیا تھا۔

دو ہزار بارہ سے احد التمیمی کو عالمی طور ایک فلسطینی ایکٹیویسٹ کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اسوقت جب کہ وہ صرف گیارہ برس کی تھی۔ آپ کو انٹرنیٹ پر احد تمیمی کی بچپن سے لے کر اب تک کی ایسی کئی ویڈیو مل سکتی ہیں۔ جسمیں احد کی جرات باکمال ہے۔

پہلی مرتبہ احد کی تصاویر اور ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد سے ہی احد کو اسرائیل کے تسلط کے خلاف جدوجہد کرنے والی ایک بہادر فلسطینی بچی کے طور پر تسلیم کیا گیا۔ فلسطین کی نیشنل اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے احد سے ملاقات کرکے اسے زاتی طور پر سراہا۔

نومبر دو ہزار بارہ میں ہی وائرل ہونے والی ایک اور ویڈیو میں احد کو ایک اسرائیلی سے الجھتے اور بد دعائیں دیتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ جس کے نتیجے میں ایک ہفتے بعد انتقاما اسرائیلی فوج کی جانب سے احد پر ربر کی گولیوں اور آنسو گیس کے شیل پھینکے گئے۔

دسمبر دوہزار بارہ میں ترکی کی ایک میونسپل کاؤنسل کی جانب سے احد کو اسکی بہادری پر “حنظلہ” ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اور اس وقت کے وزیراعظم طیب اردگان سے ملنے اور ان کے ساتھ ناشتے کی دعوت بھی دی گئ۔

اگست دوہزار پندرہ کی ویڈیو میں جب احد کے بارہ سالہ بھائی کو اسرائیلی فوج گرفتار کرنے آئی تو احد کو اسرائیلی فوج سے الجھتے، جھگڑتے اور ایک فوجی کے ہاتھ پر کاٹتے دیکھا جاسکتا ہے۔

ستمبر دوہزار سترہ میں احد تمیمی نے یورپئین پارلیمنٹ میں “فلسطین کی پاپولر مزاحمت میں عورتوں کے کردار” پر منعقد کی گئی ایک کانفرنس میں اپنے ملک کی نمائندگی بھی کی۔

پندرہ دسمبر کو فلسطین میں اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ احد تمیمی کی تازہ ترین جھڑپ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر آج کل وائرل ہے جسمیں احد، اسکی کزن اور والدہ کے ساتھ اسرائیل کی فوج سے جھگڑنے کا ایک منظر ہے۔ ویڈیو میں احد کو بلا خوف و خطر اسرائیلی فوج کے جوانوں سے الجھتے اور ایک فوجی آفیسر کے منہ پر تھپڑ مارتے دیکھا جاسکتا ہے۔ ہتھیاروں سے مسلح فوجی جوانوں کو احد بلا خوف و خطر اپنے نازک ہاتھوں اور پیروں سے نشانہ بنانے کی تنگ و دو میں ہے۔

اس واقعے کے چار دن بعد احد تمیمی کو اسکے گھر سے گرفتار کرلیا گیا۔ اور جب احد کی والدہ اس سے ملنے گئیں تو اسرائیلی فوج نے انہیں بھی گرفتار کرلیا۔ احد تمیمی کی کزن نور کو بھی اسرائیلی فوج کی تحویل میں لے چکی ہے۔

احد تمیمی کو گرفتاری کے بعد انیس دسمبر کو ملٹری کورٹ میں پیشں کیا گیا جہاں اس کو پہلے چار دن کے ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا گیا اور پچیس دسمبر کو اس ریمانڈ میں مزید چار دن کی توسیع کردی گئ۔

احد کے بیان کے مطابق واقعے سے ایک گھنٹے پہلے اسرائیلی فوج نے اس کے چودہ سالہ کزن کو ربر کی گولیوں کا نشانہ بنایا۔ اور جب تھوڑی دیر بعد اس نے ان ہی فوجیوں کو اپنے گھر کے باہر دیکھا تو وہ اوراس کی کزن نور انہیں دیکھ کر مشتعل ہوکر ان سے الجھ پڑیں۔ احد کے کزن محمد تمیمی کی تصویر بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جسمیں اس کا زخمی چہرہ دیکھا جاسکتا ہے۔

احد کی گرفتاری کے بعد سے لندن سمیت یورپ کے کئی ممالک میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے ہیں۔ احد کی طرح فلسطین کا ہر بچہ کم و بیش اسی طرح کے مسائل سے دو چار ہے۔ لیکن ہر بچہ احد تمیمی نہیں ہوتا۔ کیونکہ کچھ بچے خاص ہوتے ہیں ان کی جرات خدا کا انعام ہوتی ہے۔

مغربی دنیا میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو احد تمیمی کو فلسطین کا ایک پلانٹڈ کردار سے زیادہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔

لیکن احد تمیمی اپنی قوم کے لئے خاص بھی ہے اور ان کے لئے ایک ہیرو کی طرح قابلِ عزت اور جرات کا نشان بھی۔ اور بلاشبہ آج احد تمیمی دنیا بھر کے لئے آزادی سے جینے کے اپنے بنیادی حق کے لئے جدوجہد کی ایک علامت بن چکی ہے۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: