نکلے اپنی تلاش میں – 3 : سحرش عثمان

0
  • 39
    Shares

تصور کیجیے۔۔۔ نومبر کی گہری کالی رات کا پہلا پہر ہو۔ آپ دنیا کے کام دھندوں الجھنوں نفرتوں سے دور اک ان جانی بستی کے پرسکون گوشے میں بستر نشیں ہوں۔ کھڑکی کے شیشے کے باہر دھند ٹھہر ٹھہر کر گر رہی ہو۔ آپ کے ہاتھ میں کافی کا مگ ہو، کندھوں پر بکھری شال اور پہلو میں امنگوں آرزوؤں امیدوں خوابوں کی مدھم لے پر دھڑکتا دل ہو۔

تو اس وقت آپ اپنے رب کی کس کس نعمت کا انکار کر سکتے ہیں؟

انسان کتنا کفر کرسکتا ہے؟
پتا ہے دنیا کے سارے الہامی مذاہب کی پہلی نرسری صحراؤں یا پہاڑوں کے باسی کیوں ہوتے ہیں؟
یا پھر رب اپنے پیمبروں کو صحراؤں پہاڑوں دریاؤں میں کیوں اکیلا چھوڑ دیتا ہے کچھ دیر کو؟
شاید اسی لئے کہ
فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی
یا بندہ صحرائی یا مرد کہستانی

ہم آپ، بسے بسائے، سجے سجائے، بھاگتے دوڑتے شہروں کے باسی تو زیادہ سے زیادہ اپنی سہولتوں کی حفاظت کر سکتے ہیں۔
فطرت کے عظیم مظاہر کے درمیان زندگی تراشنا اور اس زندگی کو جینا ہی شاید اصل زندگی ہے۔

جب نیند پلکوں پہ مہربان ہونے لگی تو ستاروں کو آنکھ کے راستے دل کے اندر اتار کر ہیٹر بند کر کے کسی خواب کی آبیاری کرنے لگے۔
اگلے دن سورج نکلنے سے پہلے اٹھنا تھا۔ کیونکہ سنا تھا ایبٹ آباد میں سورج اگر آپ سے پہلے نکل آئے تو سمجھ لیں آپ ناکام رہے۔
رات چاند تاروں کے ساتھ “آنکھ مٹکے” کی وجہ سے بمشکل آنکھ کھلی۔
بھاگم بھاگ شال اوڑھ کے کمرے کے سامنے والے ٹیرس پر پہنچےتو
سورج بستی کے پیچھے والے پہاڑ کی اوٹ سے آنکھیں موندیں دھیرے دھیرے اوپر آ رہا تھا۔

ہمیں ہمیشہ لگتا تھا جس دن ہم چناب میں سورج کو ڈبو کر اٹھے تھے تو ہم نے سورج کے ساتھ خوبصورتی کو ایسوسیٹ کر لیا تھا۔
لیکن ایبٹ آباد میں اس روپہلی صبح سنہری سورج کو ابھرتے دیکھ کر اس سے ایک نئی محبت ہونے لگی۔
اگر آپ ایبٹ آباد میں ابھرتا سورج نہیںدیکھتے تو پلیز وہاں مت جائیے گا۔

نو بجے ناشتے کے بعد فوٹو سیشن کر کے اگلی منزل بالا کوٹ کی طرف سفر کا ارادہ کیا۔
گوگل میپ والی آنٹی یہاں بھی بہت کام آئیں اور ہم دو گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد کنہار کنارے پہنچ گئے۔
کنہار پر پہنچ کر صرف ایک بات یاد رہی۔۔۔۔
اپنی دعاؤں کی قبولیت کی۔۔
پچھلی بار کنہار سے بچھڑتے وقت جو مانگی تھیں۔

پہاڑی دریا مہربان دریا نہیں ہوتے۔ ان میں کوئی گر جائے تو وہ ڈوب کر نہیں مرتا۔ یہ دریا اپنی ٹیریٹری میں مداخلت کرنے کی پاداش میں انسان کو پٹخ پٹخ کر مارتے ہیں۔ کنہار بھی ایسا ہی دریا ہے۔ سخت نا مہربان شوریدہ سر اپنی دھن میں بہتا ہوا۔ چینختا چنگھاڑتا۔
آئڈئیلی ہمیں آگے نہیں جانا چاہیے تھا۔
پر ہم بھی بہت ڈھیٹ ہیں کہاں آتے باز۔ دریا کے درمیاں شان سے کڑے پانی کو مسلسل چیلنج کرتے بڑے پتھر پر جا بیٹھے۔
اور لگے دریا کے مالک سے مکالمہ کرنے۔

ہم نے مکالمے کے درمیان بڑی چالاکی سے فوائل پیپر میں لپیٹ کر دو تین عرضیاں بھی ڈال دیں۔
پتا تو تھا مان لینی ہیں اس نے۔
ہم نے جب کہا کتنا شوریدہ سر ہے پانی۔۔۔اور کس قدر سخت دل ہیں پتھر۔
مسکراتا سا جواب آیا۔

اور کئی لوگ ان پتھروں سے بھی سخت دل ہوتے ہیں۔
“کیونکہ بعض پتھر تو ایسے بھی ہوتے ہیں کہ ان سے چشمے پھوٹ پڑتے ہیں۔ اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ پھٹتے ہیں تو ان میں سے پانی نکل آتا ہے۔
اور کوئی خوفِ خدا سے لرز کر گر پڑتا ہے۔”

پر ان دلوں پر تو رب کا کلام بھی اثر نہیں کرتا۔

ساری تماثیل آنکھوں کے سامنے تھیں۔
پتھروں سے پھوٹے چشمے بہتے دریا اور پتھروں سے بھی سخت دل۔

اس سے پہلے مجھے ہمیشہ نرم دلی سے الجھن ہوتی تھی۔ یہ کیا کہ کوئی کچھ بھی کرے کہے آپ بھول جائیں۔
لیکن ۔۔۔ اس مکالمے کے بعد القاء ہوا کہ سخت دلی بڑی بلا ہے دوستو!

کنہار پر ہم ٹوٹل ہیروئن بنے اپنی کہانی کے شیر افگن تیمور ولی آفریدی شنواری طورپکئی خان کا انتظار کر رہے تھے۔ کہ جینز کی جیب میں پڑا فون دھیرے سے تھرکا اور پھر گنگنایا۔
ہم خوش گمانیوں کی انتہاء پر۔۔
ہائے لا فون پر۔

پتھر پر پیر جما کر جیب سے فون نکالا اور سکرین دیکھے بغیر ایک ادا کے ساتھ کان سے لگایا۔
ہیلو۔
دوسری طرف اماں تھیں۔۔۔۔۔۔
گوکہ یہ جو اوپر ہم نے نکتے اٹھائے ہیں ان سے اندازہ تو ہوجانا چاہئے کہ ہمارے ساتھ مکالمہ کیا ہوا ہوگا۔
پھر بھی بتائے دیتے ہیں۔
اماں نے تشویشناک لہجے میں ہمیں بتایا کہ پورے ملک میں بلیک آؤٹ ہوگیا ہے۔
فیض آباد پر “رٹ” قائم کرنے کے چکر میں وزارت داخلہ پورے ملک سے خارج ہوچکی ہے۔

ہم نے کرسٹلز جماتے، ٹھنڈے ٹھار پانی سے زیادہ ٹھنڈی آہ بھری۔
مذہب کے بیوپاریوں سے سیاست کے پٹواریوں تک ۔
اور وقار والوں کی بے توقیر باتوں سے عوام کی بے اختیاریوں تک۔
سبھی کچھ تو یاد آگیا۔

دل میں کسی نے چٹکی بھری کہ
ہر چارہ گر کو چارہ گری سے گریز تھا
ورنہ ہمیں جو دکھ تھے بہت لا دوا نہ تھے۔

یہ نکتہ ٹور کا ٹرننگ پوائنٹ تھا۔
خیر ہم نے کنہار کو خدا حافظ کہا دعاؤں کی قبولیت کا یقین دل میں تھا۔ سو اتنا تو پتا ہی تھا یہاں پھر سے آنا ہے۔اور تمہارے ساتھ آنا ہے۔اس لئے بچھڑنے کی کسک سے کہیں زیادہ پھر آنے کی امید دل میں تھی۔
کنہار سے واپسی پر کسی نے بوئی ڈیم جانے کا مشورہ دیا اور ساتھ ہی اسے آدھے گھنٹے کی ڈرائیو کی دوری پر بتایا۔
ہم “گائیڈ” کی بات پر یقین کئے اگلے ڈھائی گھنٹے بوئی ڈیم کے تعاقب میں گھومتے رہے۔
جس پر گوگل میپ آنٹی نے بھی ہمارا قطعی ساتھ نہیں دیا۔

ہم گڑھی حبیب اللہ سے گزرتے خدا جانے کن رستوں پر گھومتے وہاں پہنچے۔
ہم وہاں ہرگز نہ جاتے۔۔۔۔پر کمبخت ماکیٹنگ والوں نے اس کی بھی شادی کی طرح مارکیٹنگ ہی ایسی کی تھی۔
ہمیں بتایا گیا نیلم اور کنہار کے سنگم پر بنایا گیا ڈیم ہے۔
ہم نیلم کے نیلے اور کنہار کے سبز پانیوں کی تلاش میں بہت سی وادیوں کو پیچھے چھوڑتے کسی ان دیکھے جزیرے سی بستی کی طرف چلے جا رہے تھے۔

دائیں ہاتھ آبادی تھی۔ آبادیوں کے پیچھے کنہار بہہ رہا تھا۔دریا گھروں کی کھڑکیوں سے جھانک جھانک کر اپنی موجودگی کا احساس دلا رہا تھا۔ فضا میں بارش کے بعد کی ساری خوشبوئیں تھیں۔

مٹی کی خوشبو۔
مکئی کی خوشبو
چپلی کباب کی خوشبو۔
زندگی کی خوشبو۔
امن کی خوشبو۔
محبت کی خوشبو۔
مہمان نوازی کی خوشبو۔
آتی خوشخالی کے خواب کی خوشبو۔
اور تمہاری یاد کی خوشبو۔
دل میں منزل کی خواہش نہ ہوتی تو یہیں رہ جاتے ہم۔
ڈیم پر پہنچ کر شدت سے احساس ہوا۔۔۔۔

ان دیکھی منزلوں کے خواب آنکھوں میں برسائے ہم بہت سے راستوں کی دلکشی نظرانداز کر دیتے ہیں۔اور منزل پر پہنچ کر احساس ہوتا ہے۔۔۔کہ رستہ بھی بہت خوبصورت تھا۔
اور ہم آپ تو شائد زندگی بھی اسی کلیے کے تحت گزار جاتے ہیں۔
بہت سے اچھے دنوں کی آس میں بہترین دن تیاگ دیتے ہیں۔
خیر ڈیم پر پہنچے تو پتا چلا ڈیم انڈر کنسٹرکشن ہے اور سیاحوں کے لئے بند ہے۔۔

ہم نے بتیہرا اپنے رنگ کو بطور ثبوت پیش کیا اور بتایا ہم “سیاہ” نہیں۔ لیکن سیکیورٹی آفیسر مان کر نہ دیا۔ ہم نے سڑک ہی سے دو تصویریں بنوا کر دل کو تسلی دی اور واپسی کے لئے گاڑی میں پر گئے۔
جاری ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: