شان جمالی کا ظہور: ڈاکٹر طاہر حمید تنولی

0
  • 44
    Shares

علامہ اقبال نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ختم نبوت اور تاریخ انسانی میں آپ کے عظیم  مرتبے کو بیان کرتے ہوئے لکھا کہ اگر انسانی تہذیب کے ارتقا کے تناظر میں دیکھا جائے تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قدیم اور جدید دنیاوں کے سنگم پر کھڑے نظر آتے ہیں۔ جہاں تک آپ کی وحی کے سرچشمے کا تعلق ہے آپ کا تعلق قدیم دنیا سے ہے اور جہاں تک اس وحی کی روح کا تعلق ہے تو آپ کا تعلق دنیائے جدید سے ہے۔ آپ کی ذات مبارکہ میں زندگی نے علم کے ایسے ذرائع کو دریافت کر لیا جو نئی سمتوں کے لیے اور نئی دنیاوں کی تخلیق کے لیے موزوں تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کا آغاز، عقل استقرائی کا آغاز ہے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ علامہ کی عبقری شخصیت نے عقیدہ ختم نبوت کو اسلام کے عظیم ثقافتی تصور کے طور پر بیان کیا۔ یعنی اقبال اسلام کی تہذیبی و ثقافتی اساس اور خدوخال  کو عقیدہ ختم نبوت سے ماخوذ اور عقیدہ ختم نبوت پر مبنی قرار دیتے ہیں۔ آج دنیا کو جس تہذیبی و ثقافتی احیا اور نئے جنم کی ضرورت ہے وہ اسے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ختم نبوت سے ہی مل سکتا ہے۔ سماجی، معاشرتی اور معاشی افراط و تفریط کا شکار آج کی دنیا مقامی اور عالمی تصادم اور کشمکش سے دوچار ہے۔ اعتدال کی جو تعلیم اسلام نے دی ہے یوم میلاد ہم سے اس تعلیم کو دنیا بھر میں عام کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔

مغرب کے معروف عیسائی مصنف  اور دانشور “تھا مس کار لائل” جو ہیرو اینڈ ہیرو ورشپ جیسی شہرہ آفاق کتاب کا مصنف ہے، برٹش میوزیم ہال میں لیکچر دیا کرتا تھا اس کے عالمانہ لیکچر کو سننے کے لیے پورے یورپ سے لوگ امڈے چلے آتے تھے اس نے جب ہیرو بطور پیغمبر پر لیکچر دینا چاہا تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انتخاب کیا۔ جبکہ سامعین کا خیال تھا کہ وہ اس کے لیے حضرت عیسیٰ کا انتخاب کرے گا۔ جب لیکچر شروع ہوا تو ہال میں موجود تمام لوگوں نے شور مچانا شروع کر دیا اور  پھر وہ ہال چھوڑ کر یکے بعد دیگرے جانے لگے مگر کارلائل  نے اپنا لیکچر جاری رکھا۔ وہ کہنے لگا اگر تم میں سے ایک بھی آدمی نہ ہو گا تب بھی میں اپنا لیکچر اسی موضوع پر پورا کروں گا ۔میں دیوار کو لیکچر دیتا رہوں گا۔ چنانچہ آدھا گھنٹہ وہ دیوار کی طرف منہ کر کے بولتا رہا اس کے لیکچر میں بے پناہ جوش و خروش تھا آخر سارے لوگ آہستہ آہستہ کر کے واپس آگئے۔ یہ حقیقت ہے کہ جو کوئی بھی غیر جانبداری سے اور کسی تعصب کے بغیر آپ کی حیات مبارکہ کو دیکھے ، اسے آپ سے بڑھ کر کوئی نمونہ کامل نہ ملے گا۔

زندگی کی وہ کون سی جہت ہے جہاں آپ نے مثالی نمونہ عالم انسانیت کو عطا نہیں فرمایا۔ معاشی تعلیمات یوں دیں کہ جس معاشرے میں آپ کا بچپن گزرا، نوجوانی کا زمانہ آیا اس معاشرے میں سچائی اور امانت کا مجسم نمونہ کوئی تھا تو وہ آپ کی ذات مبارکہ تھی۔ آپ کا بدترین مخالف بھی آپ کو صادق اور امین تسلیم کرتا تھا۔ آپ کے یہی اوصاف آپ کے دعوی نبوت کی دلیل بن گئے۔ اعلان نبوت سے قبل آپ بہت کامیاب تاجر تھے آپ نے اپنا پورا سرمایہ اپنے مشن پر لگا دیا۔ جب کامیابی کا دور آیا تب بھی آپ نے فقرو فاقہ اور سادگی ہی سے گزر بسر کی ازواج مطہرات نے کچھ مزید کا مطالبہ کیا مگر رد کر دیا گیا۔ آپ نے گھر میں کو ئی اندوختہ نہ رکھا ۔کوئی دربان اور خادم نہ تھے۔حتی کہ جب ایک موقع پر آپ کی جگر گوشہ، خاتون جنت حضرت فاطمہ آپ کے پاس خادم کے لیے تشریف لائیں تو انہیں تسبیحات تعلیم کیں۔ سواریاں نہ تھیں نہ گھر میں سامان آرائش تھا۔ دنیا سے رخصت ہوتے وقت آپ کے گھر میں صرف چند ہتھیار موجود تھے۔

ریاستی اور سیاسی سطح پر بطور حکمران حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ احکام الہی کو نافذ فرمایا۔ دنیاوی حکمرانوں کی طرح احکام الہی کے نفاذ میں کوئی استثنا نہ تھا۔ ۔یہودو منافقین کی نت نئی سازشوں کے باوجود احکام الہی کے مطابق ہی ان سے برتاو کیا اور دنیاوی حکمرانوں کی طرح اپنے مخالفوں کو ظلم و ستم کا نشانہ نہ بنایا۔ ریاستی معاملات کو مشاورت کے أصول پر مبنی قرار دیا۔ ریاستی معاملات میں اختلاف کرنے کی آزادی دی، صحابہ سے مشورے کئے اور ان کے مشورے قبول بھی فر ما ئے۔

سماجی لحاظ سے بھی ہمیشہ مساوات پسند فرمائی۔ مجلس میں سب کے برابر بیٹھتے۔ رہن سہن، لباس وضع قطع کسی میں امتیاز نہ فر مایا۔ خندق کی کھدائی ہو یا مساجد کی تعمیر غرض ہر جگہ ہر موقع پر لوگوں کے ساتھ مل کر کام کیا۔ قرض خواہوں کو اپنے ساتھ درشتی سے تقاضہ کرنے کا حق دیا۔ اپنے آپ کو مجلس عام میں انتقام کے لیے پیش کردیا۔ سربراہ ریاست ہوتے ہوئے معیار زندگی ریاست مدینہ کے عام شہری جیسا رکھا۔ ہر سہولت، آسائش اور وسائل اپنے لیے مختص کرنے کی بجائے معاشرے میں تقسیم کر دیئے۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ تعارف اور اسلام کا یہ تشخص ہمیں دنیا میں عام کرنا ہے۔ رواں ہفتے میں دنیا میں دو ایسے واقعات ہوئے جو ہمیں اسلام کے بارے میں دنیا کے طرز عمل کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔ یونان میں مسلم برادری کی طرف سے نکالے گئے میلاد النبی کے ایک جلوس پر سیکڑوں سفید نام انتہا پسندوں نے حملہ کر دیا۔ یونان کے مشرقی شہر تھیسالونیکی میں شرپسندوں نے مسلم کمیونٹی پر اس وقت حملہ کیا جب ایک فٹبال کے میچ کے لیے اومونیا اسکوائر پر بڑی تعداد میں لوگ جمع تھے اور وہاں سے مسلمانوں کی جانب سے میلاد النبی کا جلوس گزر رہا تھا۔ شرپسندوں کی طرف سے پہلے میلاد کے جلوس کے شرکاء پر جملے بازی کی گئی، اس کے بعد اسلامی جھنڈے کو پامال کیا گیا۔ مسلم کمیونٹی اور مقامی شرپسندوں میں جھڑپ ہونے پر پولیس نے مداخلت کر کے حملہ آوروں کو منتشر کیا۔ یعنی ہمیں مغرب میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ اسوہ لے کر چلنا ہے کہ جو عورت آپ کے راستے میں کوڑا کرکٹ پھینکتی تھی، آپ نے اس کی تیمار داری  فرمائی۔

دوسرا واقعہ ہیگ میں قائم ‘عالمی فوجداری ٹریبونل برائے یوگوسلاویہ’ میں اس وقت پیش آیا جب عدالت میں بوسنیائی  جنگ کے حوالے سے مقدمے کی سماعت جاری تھی کہ کروشیا کے سابق وزیر دفاع اور کروشین ڈیفنس کونسل کے کمانڈر 72 سالہ سولبوڈان پرالجاک نے جنگی جرائم پر عدالت کی طرف سے دی جانے والی سزا کے خلاف اپنی اپیل مسترد ہونے پر شیشے کی بوتل میں موجود زہر پی لیا۔ سولبوڈان نے جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے زہر پی لیا ہے، میں جنگی جرائم کا مرتکب نہیں، میں اس فیصلے کو مسترد کر رہا ہوں۔

یہ وہی سولبوڈان ہے جس نے 1993ء کے موسم گرما میں اطلاع ملنے کے باوجود کہ فوج بوسنیا کے علاقے پروزور میں موجود مسلمانوں کا محاصرہ کر رہی ہے اور قتل عام کا خدشہ ہے، اس قتل عام کو روکنے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے۔ بلکہ ان کی زیر نگرانی علاقے میں قتل عام جاری رہا اور عالمی اداروں کے ارکان، تاریخی عمارتوں اور مساجد پر حملے ہوتے رہے۔ یعنی سولبوڈان  کا انجام ان لوگوں کے لیے ایک عبرت ہے جو ناحق مظلوموں اور بے گناہوں کا خون بہاتے ہیں۔

میلاد کا پیغام یہ ہے کہ ہم محض سرگرمیوں کا انعقاد ہی نہ کریں بلکہ ہمیں ایسی حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے جس سے دنیا اسلام کی آفاقی تعلیمات سے آگاہ ہو۔ اگر ہماری دینی سرگرمیوں سے اسلام کا امن و سلامتی اور انسانیت سازی کا پیغام عام نہ ہو سکے تو ہم اس ذمہ داری کی ادائیگی سے قاصر رہیں گے جو اس پیغام کو عام کرنے کے لیے ہم پر عائد کی گئی ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کی صورت میں ہمارے پاس انسانیت کو دینے کے لیے بہت کچھ ہے۔ یہ ملت اسلامیہ کی وہ شان جمال کا جس کا کامل ظہور بھی ہونا ہے:

ہیں ابھی صدہا گُہر اس ابر کی آغوش میں
برق ابھی باقی ہے اس کے سینۂ خاموش میں
وادیِ گُل، خاکِ صحرا کو بنا سکتا ہے یہ
خواب سے اُمید دہقاں کو جگا سکتا ہے یہ
ہو چُکا گو قوم کی شانِ جلالی کا ظہور
ہے مگر باقی ابھی شانِ جمالی کا ظہور

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: