عادت ——— فوزیہ قریشی

0

“سنو مجھے تمہاری عادت ہوگئی ہے”۔ اس کی آواز پر میں پل بھر کے لئے تھم سی گئی۔۔
وہ بولا۔ تم مجھے اچھی لگتی ہو یا شاید بہت اچھی۔۔۔
میں، اس کی طرف دیکھ کر بولی۔ “اچھا”
مطلب، “تمہیں میری عادت ہو گئی ہے”۔
یہی کہا نا! تم نے، “پھر وہ کیا تھا”؟
یعنی وہ محبت نہیں تھی۔ عادت تھی۔۔۔۔ ہیں نا۔
“پھر میرے جانے پر یہ بے تابی کیوں ہے بولو؟”
وہ بولا،، ہاں وہ عادت ہی تھی۔۔۔۔
کیا تم جانتی ہو؟ محبت میں بھی پہلے ہم کسی کے عادی ہی ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔
محبت تو بہت بعد میں آتی ہے۔۔۔۔۔۔۔ پہلے یہی عادت انسیت کا روپ دھارتی ہے۔ بالکل اس نشے کی طرح جو آہستہ آہستہ ہماری روح میں اترتا ہے۔۔ ہمارے وجود کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔۔۔۔۔۔ پھر وہ آخری حملہ ہمارے ہی اعصاب پر کرتا ہے۔۔۔۔۔۔۔ جانتی ہو، یہ آخری وار ہی تو ہوتا ہے۔ جب ہم اس نشے کے عادی ہو جاتے ہیں۔
نشہ محبت کا ہو یا کسی اور چیز کا اپنا اثر ضرور دکھاتا ہے۔اسی طرح عادت نشے کی ہو یا کسی وجود کی۔۔۔۔۔۔۔۔ چھوڑنے کے وقت بہت تکلیف دیتی ہے۔۔۔۔۔ عادتیں اچھی ہوں یا بری جلد پیچھا نہیں چھوڑتیں۔۔۔
پلیز تم بھی مجھ سے دور مت جاؤ۔۔۔۔۔۔۔
نہیں مجھے جانا ہے۔۔
میں بولی، کیا تم بھی جاننا چاہو گے؟
میرے کیا جذبات ہیں؟
وہ بولا، ہاں۔ بتاؤ، ویسے مجھے اندازہ ہے تمہاری فیلنگز بھی یہی ہونگی۔۔۔۔۔۔۔۔
میں، ہاہاہا۔ تم نے میرے بارے میں اندازے بھی لگانے شروع کر دئے۔ بغیر سوچے، بغیر جانے، بغیر سمجھے۔۔۔۔۔
ہائے کاش
تجھ پہ کھل جاتی مری روح کی تنہائی بھی
میری آنکھوں میں کبھی جھانک کے دیکھا ہوتا”
میں اس کی بے پرواہ مست آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولی! سنو، محبت، کوشش یا محنت سے حاصل نہیں ہوتی۔ یہ عطا ہے، نصیب ہے، بلکہ بڑے ہی نصیب کی بات ہے۔ جانتے ہو زمین کے سفر میں اگر کوئی چیز آسمانی ہے۔ تو وہ یہی ”محبت” ہے۔ سچ تو یہ ہے۔ کہ ”محبت” سے آشنا ہونے والا شخص محبت میں اس قدر گم ہو جاتا ہے کہ اسے آس پاس کی خبر تک نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دیکھو ”محبت” ہے، تو فراق بھی وصال۔ نہیں تو وصال بھی فراق۔
جانتے ہو ”محبت” وحدت سے کثرت اور کثرت سے وحدت کا سفر طے کرواتی ہے۔ ”محبت” ہی تو ہے جو ہر قطرے کو قلزم سے آشنا کرواتی ہے۔۔
یہ جو ”محبت” کرنے والےہوتے ہیں نا۔۔۔۔۔۔ “یہ کسی اور ہی مٹی کے بنے ہوتے ہیں”
یہ دنیا میں رہ کر بھی دنیا سے الگ ہوتے ہیں۔
خیر تم نہیں سمجھو گے۔ محبت سمجھانے کی چیز تھوڑی ہے۔۔۔۔۔
اچھا تو اب میں چلتی ہوں۔
چلو پھر ملیں گے۔ پھر کسی موڑ پر، کسی روپ میں یا شاید کسی اور جنم میں۔۔
سنو مت جاؤنا۔۔۔۔۔۔ وہ بولا
میں، کس حق سے روکنا چاہتے ہو؟
آج نہیں تو کل جانا تو ہے۔۔ پھر ابھی کیوں نہیں؟
پلیز رک جاؤ، میری محبت کے ہونے تک۔۔۔۔۔۔ وہ بولا
میں، ہاہا تم بہت بھولے ہو۔۔۔۔ عادت سے محبت تک کا سفرطے کرنا چاہتے ہو۔
جبکہ میری محبت تو کب کی اڑان بھر چکی۔ اب تم ملو یا نہ ملو محبت تو ختم ہونے والی نہیں۔۔۔۔۔
رک جاؤ پلیز، کتنی منتیں کرواؤ گی؟ وہ پھر مناتے ہوئے۔
میں، رک گئی تو عادت، محبت پر حاوی ہو جائے گی اور رہی سہی محبت بھی خاک۔۔۔۔۔
مجھے قطرہ قطرہ محبت نہیں چاہئے جو عادت کے بادل سے برسے۔۔۔۔۔
میں پتھر کی نہیں ہونا چاہتی، پیچھے سے آواز مت دینا۔۔۔۔۔۔
اللہ حافظ

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: