پہلی بات – اس مہینہ خیال مرگیا: نونہال کے برکاتی صاحب ۔۔ فواد رضا

0
  • 245
    Shares

ساٹھ سال سے زائد عرصے تک ہمدرد نونہال کی ادارت کے فرائض انجام دینے والے مسعود احمد برکاتی بھی گزشتہ روز خالقِ حقیقی سے جاملے۔ خبر سنی تو ایسا لگا کہ اپنے اندر چھناکے سے کوئی شے ٹوٹ گئی ہے۔ آج سے کوئی 25 برس قبل جب میں کے جی ٹو میں پڑھتا تھا تب پہلی بار اپنی والدہ کی وساطت سے ہمدرد نونہال پہلی بار پڑھنا شروع کیا۔۔ جی ہاں کے جی ٹو میں۔۔ مجھے معلوم ہے کہ آج اس کلاس کے بچےعموماً پوری الف ب بھی نہیں جانتے لیکن اورنگی کے سرکاری اسکول میں کئی سال سے اپنے فرائض انجام دینے والی میری والدہ کے طفیل میں کے جی ٹو میں اس قابل تھا کہ اردو پڑھ سکتا تھا۔ یقیناً بہت سی باتیں اس وقت سرپر سے گزرجاتی تھیں لیکن اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔۔ آج بھی بہت کچھ ایسا ہے جو سمجھ نہیں آتا لیکن پڑھنے کا سلسلہ جاری ہے۔

کے جی ٹو سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ یونی ورسٹی کے اختتام تک باقاعدگی سے جاری رہا اور گھر میں وقت پر راشن آئے نہ آئے لیکن نونہال کا مقررہ تاریخ پر گھر آنا ضروری تھا۔ پہلے صفحے پر حکیم محمد سعید جاگو جگاؤ کے عنوان سے ہم سے کلام کیا کرتے تھے اور اس کے بالکل مدمقابل مسعود احمد برکاتی کا اداریہ ’ پہلی بات‘ کے عنوان سے جگ مگا رہا ہوا کرتا تھا۔ پہلی بات کے سامنے ہی ایک حاشیے میں اس مہینے کا خیال لکھا ہوا کرتا تھا اورنجانے کتنے ہی ایسے خیال تھے جو وہاں سے پڑھے اور دل پر ایسے نقش ہوگئے کہ آج بھی لاشعوری طور پر فکر کا حصہ ہیں۔

اکتوبر 1998 جب عمر محض 11 سال تھی ‘ تب سنا کہ حکیم محمد سعید کو ان کے مطب کے سامنے شہید کردیا گیا۔ یہ اس دور کی بات ہے جب اخباروں میں خبریں نہیں بلکہ قبریں ہوا کرتی تھیں ‘ سو ننھی عمر میں ہی ایک ایسے بزرگ کے اس طرح سے رخصت کا داغ دل پر لگ گیا ‘ جنہوں نے باقاعدہ ایک منصوبے کے تحت ایسی نسل تیار کرکے اس ملک و قوم کو دی ہے جو بزرگوں کا ادب و احترام اور رکھ رکھاؤ کے ساتھ علمی میدان میں جھنڈے گاڑنا جانتی ہے۔ میں تسلیم کرہی نہیں سکتا کہ کوئی شخص نونہال کا قاری ہو اور اس کےاندازِ زندگی پر نونہال اثرانداز نہ ہوا ہو۔

ایک چھوٹی سی مثال دیتا چلوں کہ حکیم سعید نے ایک بار لکھا کہ کہ میں تسموں والے جوتے نہیں پہنتا‘ کہ تسمے باندھنے میں کم از کم ایک منٹ صرف ہوتا ہے اور اگر پوری قوم یہ ایک منٹ بچائے تو بلاشبہ لاکھوں گھنٹے بچیں گے جو اجتماعی تعمیر و ترقی میں استعمال ہوں گے۔ وہ دن او ر آج کا دن میں جب کبھی جوتا خریدنے جاتا ہوں مجھے حکیم سعید کی یہ بات یاد آتی ہے اور میں بغیر تسمے کے جوتے خرید لیتا ہوں۔

سنہ 2000 میں میرے دادا حکیم سید محمد ذکی اس جہانِ فانی سے رخصت ہوئے ‘ان کا تذکرہ یہاں یوں ضروری ہے کہ تقسیم کے بعد جب وہ پاکستان آئے تو ہمدرد سے وابستہ ہوگئے اور انتقال سے چند سال قبل تک اسی ادارے سے وابستہ رہے‘ سو ان کی وساطت سے ہمدر د کے ناظم آباد میں موجود دواخانے آنا جانا اور ہمدرد کی مصنوعات سے مستفید ہونا ہمارے گھر میں معمول کی بات تھی‘ گویا ہمدرد نہ ہوا۔۔ ہمارے گھر کا کوئی فرد ہوگیا۔

خیر! واپس لوٹتے ہیں مسعود احمد برکاتی کی جانب۔۔۔ تو جناب!ہمدرد اور نونہال میں یہ میرے آخری بزرگ تھے اور آج بھی داد ا کی وساطت سے ہونے والی ملاقاتوں کے دھندلے نقوش ذہن میں زندہ ہیں۔ دادا کے مسعود احمد برکاتی صاحب سے کیسے مراسم تھے یہ تو یاد نہیں لیکن وہ ایک بات ضرور کہا کرتے تھے کہ ’’برکاتی حکیم نہیں بلکہ بچوں کا دوست ہے‘ اسی کے دم سے نونہال نکلتا ہے اور ساری چیزیں وہی طے کرتا ہے‘‘۔

پہلی بات ہمیشہ سے ایک ترغیباتی مضمون ہوا کرتا تھا جس میں مسعود احمد بچوں کی ذہنی سطح کو سمجھتے ہوئے کوئی نہ کوئی تعمیری بات اس انداز میں کرتے تھے کہ جو براہ راست معصوم اذہان پر اثر کرتی ہوئی دل میں اتر جایا کرتی تھی اور اس مہینے کا خیال تو گویا پورے مہینے ہی ذہن پر حاوی رہا کرتا تھا۔ نونہال کے مدیر کی حیثیت سے اس کے مواد کے ذمہ دار براہ راست وہی تھے اقوالِ زریں ہو یا ہنسنا منع ہے کہ عنوان سے شائع ہونے والے لطیفے‘ قسط وار کہانیاں ہوں یا مختصر کہانیاں۔۔ یا پھر آخری صفحے پر شائع ہونے والی لغت۔ انہیں معلوم تھا کہ بچوں کے لیے کس قسم کا ادب ترتیب دیا جانا چاہیے‘ اور بدقسمتی سے شاید پورے پاکستان میں یہ راز صرف انہی کو معلوم تھا میں ٹوٹ بٹوٹ کے زمانے میں نہیں تھا‘ میں نے تعلیم و تربیت اور پھول بھی پڑھ کردیکھے لیکن جو مزہ نونہال کا تھا وہ کسی میں نہیں آیا۔

دو روزہ قبل میں اپنے محلے میں ادب دوستی کی خدمت کوشاں ایک دیوانے کی آنہ لائبریری پر کھڑا اس مہینے کے نونہال کا آرڈر لکھوا رہا تھا۔ راشد صاحب سنہ 2002 سے ہمارے علاقے میں آنہ لائبریری چلا رہے ہیں جو کہ آج کے دور میں خسارے کا سودا ہے لیکن ان کی ہمت کو سلام کہ وہ اس روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ میں نے کہا کہ’’ بھائی راشد! نونہال لا کردیں‘‘۔۔۔ تو وہ ہنسے اور کہنے لگے کہ’’ ڈاکٹر فواد! ( وہ مجھے بچپن سے ڈاکٹر کہتے آئے ہیں) اتنے بڑے ہوکر نونہال پڑھیں گے پھر توساتھ میں نونہال گرائپ واٹر بھی پینا پڑے گا‘‘۔

میں مسکرایا اور کہا۔۔۔’’ کوئی بات نہیں وہ بھی پی لوں گا‘ مزے کا ہوتا ہے۔ نونہال اب اپنی بیٹی کے لیے چاہیے ‘‘( حالانکہ میری بیٹی ابھی صرف ڈھائی سال کی ہے‘ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ابھی سے یہ سلسلہ شروع ہوگا تو وہ جلد پڑھ پائے گی)۔ راشد مسکرائے اور کہا ٹھیک ہے لادوں گا۔۔۔۔ کسے خبر تھی کہ اب جو نونہال آئے گا تو کتاب تو ہوگی لیکن اس کی روح اس جہانِ فانی سے رخصت ہوچکی ہوگی۔ علالت کے سبب کچھ عرصے سے مسعود احمد برکاتی جگہ ’پہلی بات‘ سلیم فرخی ‘ لکھ رہے تھے لیکن اس مہینے کا خیال برکاتی صاحب کا ہی ہوتا تھا۔ ہمارے لیے یہی بہت تھا کہ مدیر اعلیٰ برکاتی صاحب ہیں۔۔ لیکن اب وہ بھی نہیں رہے۔

نونہال سے وابستہ میرے تمام بزرگ رخصت ہوچکے۔۔ ان کی پہلی بات حرفِ آخر بن چکی۔ اب کون ہے جو بچوں کو سوچنے کی دعوت دے گا ‘ ان کے اذہان کو جلا بخشے گا۔  اس مہینے کا خیال بس یہ ہے کہ میرےفکری سرپرست اس دنیا میں نہیں رہے۔ مفکر خاک کی چادر اوڑھ کر زیرِ زمین سو چکا اور خیال یتیم ہوچکا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: