گذارش نامہ: تقاریب میں کھانا ۔۔۔۔ شہزاد علی

0
  • 1
    Share

میں آج تک کم از کم 100 شادیوں میں شمولیت کر چکا ہوں. اور الحمداللہ بہت اطمینان کے ساتھ دوسرے لوگوں کے بعد کھانا لینے جاتا ہوں۔ اِس کے باوجود آج تک میں کبھی بھی کسی بھی شادی پر بھوکا نہیں رہا۔

لہذا آپ سب سے بھی یہی گزارش ہے کہ شادی پر کھانا شروع ہونے پر ریلکس رہیں اور بہت اطمینان کے ساتھ بغیر کوئی افراتفری مچائے باقی لوگوں کے کھانا لے لئے جانے کے بعد اٹھ کر جائیں اور پرسکون طریقے سے کھانا ڈالیں اور خصوصا یاد رکھیں کہ پہلی بار کھانا ڈالتے وقت تھوڑا سا کھانا ڈالیں، تاکہ آپ جلدی کھانا ڈال کر فری ہو جائیں اور دوسرے سب حضرات کو بھی اپنے اپنے حصہ کا کھانا پہلی ڈشز میں سے مل سکے۔

اُس کے بعد جب پہلی مرتبہ لیا گیا کھانا ختم ہو جائے تو دوسری مرتبہ جتنا دل چاہے کھانا ڈالیں اور پر سکون طریقے سے خوب پیٹ بھر کر کھائیں۔

ایک مرتبہ پھر گزارش کروں گا کہ پہلی مرتبہ خوب صبر وتحمل کا مظاہرہ کریں اور کم سے کم کھانا ڈالیں تاکہ دوسرے افراد کو بھی پہلی دفعہ لگائی گئی ڈِشز میں سے حصہ مل سکے۔ کیونکہ عموما نوٹ کیا گیا ہے کہ شروع میں تو رائتہ سلاد اور چٹنی جیسی ڈشیں موجود ہوتی ہیں، جن کو سب سے پہلے کھانا لینے والے فوری پلیٹوں میں انڈیل لیتے، اور بعد میں کھانا لینے والوں کے لئے یہ چیزیں بچتی نہیں۔

افسوس ہوتا ہے یہ دیکھ کر کہ اچھے بھلے سمجھدار لوگ کھانے پر ایسے ٹوٹ پڑتے ہیں جیسے کوئی مالِ غنیمت سمیٹنا ہو اور جس کے ہاتھ جتنا لگ جائے وہ اسی کا ہے اور بعد میں کسی کو کچھ نہیں ملے گا۔ حالانکہ بعد میں بھی کھانا آتا رہتا ہے کبھی کسی شادی میں ختم نہیں ہوتا۔

خدارا اپنے نظریات اور سوچ بدلیں اور یاد رکھیں کہ ہماری تاریخ تو یہ ہے کہ زخمی حالت میں، جنگ کے دوران پانی کی طلب ہونے کے باوجود، کان میں اپنے مسلمان بھائی کی آواز پانی پڑ جانے پر، اپنے ہونٹوں کے قریب سے پانی پیچھے کر دینا اور کہنا کہ پہلے میرے دوسرے مسلمان بھائی کو یہ پانی پلائیں اور خود پیاس کی ہی حالت میں جامِ شہادت نوش کر جانا۔ یہ ہے ہمارے اسلاف کا درس۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو بھی صحابہؓ اکرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ اجمعین جیسا اخوت و بھائی چارہ نصیب کرے آمین

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: