فحاشی کا مداوا کیونکر ممکن ہے؟ ظفر اللہ

0
  • 175
    Shares

بونوں کے معاشرے میں سلیم احمد، اردو کے عظیم ادیب کو “پورا آدمی” کی تلاش تھی. معلوم نہیں وہ پورا آدمی ان کو مل سکا یا نہیں!! مگر ملک میں جو بدتہذیبی اور اخلاقی انارکی بپا ہے اس کو دیکھ کے یوں لگتا ہے کہ اس ملک کی مائیں بھی’پورا آدمی’ پیدا کرنے سے معذور ہیں. پورا آدمی تہذیبیں پیدا کرتی ہیں مگر ہمارے ہاں تہذیب کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں. شائستگی منہ چھپاتی پھرتی ہے. اس ملک میں اب صرف ایک کو چھوٹ ہے اور وہ “بےحیائی” ہے۔ ہر طرف حیائی ننگا ناچ رہی ہے. چاہے وہ میڈیا ہو چاہے وہ سماج ہو یا تعلیمی ادارے سب کا ایک ہی حال ہے. ایسے میں یہ خواہش رکھنا خام ہی ہے.

پشاور کی کسی یونیورسٹی میں آرٹ کی حوصلہ فزائی، اور ٹیلنٹ کی آبیاری کے نام پہ کچھ لڑکیوں کے ڈانس کی ویڈیو گردش میں ہے اور اس پر ملے جلے ردعمل کا اظہار دیکھنے کو مل رہاہے. سرعام کسی کا یوں ناچنا کسی طور جائز نہیں کہا جاسکتا. کجا کہ اس کو یوں میڈیا میں اچھالا جائے…

علم کے متوالوں کے لئے یہ ذھنی اور روحانی ہر دو جا موت ہی کہلائے گی. اس کو جو اخلاق باختگی باور کرارہے ہیں وہ بالکل درست بات کہتے ہیں یہ کسی ایک یونیورسٹی کی بات نہیں اب تو ایسا لگنے لگا ہے کہ ہر یونیورسٹی اپنے جلو میں بے حیائی کا طوفان لئے آتی ہے. یونیورسٹیز علم کا گہوارہ کم اور بے حیائی کو فروغ دینے والے آڈے ذیادہ لگنے لگی ہیں. یہ معاشروں کے لئے زہر ہلاہل سے کم نہیں.

ایسے موضوعات پر جب بھی مکالمہ کیا جاتا ہے تو کچھ لوگ اپنے تھیلے میں جھانکنا شروع کرتے ہیں کہ کچھ مواد ایسا لایاجائے کہ جس سے اس “فعل شنیع” کے لئے جواز گھڑا جاسکے. گھڑنے اور تاڑنے والے بھی قیامت کی نظر رکھتے ہیں ان کے پاس ایسے حشرسامانیوں کا پورا پورا البم پڑا ہوتا ہے. اس مسئلہ کو تحریک انصاف اور ن لیگ کا مسئلہ بنانے والوں کی ذھنی معذوری پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے. کوئی بھی اس مسئلہ کی حساسیت اور نوعیت کا احساس نہیں کررہا. ہم میں سے ہر کوئی بطور فرد اور بطور جماعت، بے حیائی کے اس امڈتے سیل بد کے آگے بند باندھنے کی ذمہ داری سے بھاگ رہا ہے۔ اگر کچھ کرنے کا جذبہ بھی ہے تو وہ عملی کم، سوشل میڈیا میں باتوں میں زیادہ بگھارا جارہا ہے.

ہمیں تہذیب و تمدن کو موضوع بحث بنانا ہوگا. بھولی بسری سنہری تہذیب کا احیاء یہ وقت کا سب سے بڑا چیلنج ہے. اسی سے سماج میں “پورا آدمی”کا وجود ممکن ہے.

سلیم احمد نے اس طرح کے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے ان کے ضمیر کو جگانے کا کیا نرالا انداز اپنایا ہے ذرا پڑھیں..!!!

“شرافتوں کی بات نہ کرو. تمہارے منہ سے نکلتے ہوئے بدبو کے بھبکارے تمھیں جھوٹا ثابت کرنے کےلئے کافی ہیں.جاؤ! پرانی نجابتوں کو آبرو باختہ لڑکیوں کی طرح سڑکوں اور چوراہوں پر اپنے چھپائے جانے والے اعضاء کی نمائش کرتے دیکھو.کیا تمھیں معلوم نہیں ہے کہ صدیوں سے بچا کر رکھی جانے والی عصمتوں پروقت کی گھناؤنی اور فحش مہریں ثبت کی جاچکی ہیں اور ہر وہ چیز جو کبھی عظمت کہلاتی تھی.چند کھوٹے ذلیل سکّوں کے عوض اس کا نیلام اٹھایا جاچکا ہے.کل رات بوڑھی صداقتوں کو سنگسار کرنے کے بعد جب ننگی صلیبوں ہر لٹکایا جارہاتھا، تو اس وقت تم کہاں سو رہے تھے؟ تم نے ندامت کا بوجھ اٹھانے سے بھی انکار کردیا اور اسٹاک ایکس چینج میں صرف اپنے مفادات کے گرتے چڑھتے ہوئے بھاؤ کا حساب لگانے میں مصروف رہے. پھر قدروں کو زندہ کرنے کے لئے کیا خدا آسمان سے اپنے فرشتے اتارے گا؟ انسان ایک ذمہ داری کا نام ہے افسوس کہ تم نے، میں نے اور ہر اس شخص نے جو روٹی کھانے کے بعد آرام کی نیند سو سکتا ہے. ریاکاری کو ذمہ داری کا بدل سمجھ رکھا ہے.”

کسی بھی قوم کی تباہی کے پیچھے یہی عوامل کارفرما ہوتے ہیں. قرآن مجید سے لیکر عام انسانی تاریخ تباہی اور بربادی کی یہی تفہیم کراتے نظر آتے ہیں. فحاشی چاھے چھوٹے پیمانے پر ہو یا بڑے کینوس پر یہ معاشرے کی بنیادیں ہلا دیتی ہے. تعلیمی اداروں کو اس کا پابند بنانا چاھئے کہ وہ سماج میں اعلی و ارفع اقداروں کو فروغ دیں نہ کہ بچی کچھی روایات کو ختم کرنے میں اپنا تعاون شامل کریں. سماج کے آگے ایک بڑا سوال کھڑا کیا جا چکا ہے بس ہمیں اپنی ذمہ داریوں کے تعین کی ضرورت ہے. ہمیں یاد رکھنا چاھئے کہ اس سوال کا جواب ڈھونڈنا ہمارا فرض ہے. ہمیں تہذیب و تمدن کو موضوع بحث بنانا ہوگا. بھولی بسری سنہری تہذیب کا احیاء یہ وقت کا سب سے بڑا چیلنج ہے. اسی سے سماج میں “پورا آدمی” کا وجود ممکن ہے.بباقی جو کچھ ہے خیالی پلاؤ ہے، شیخ چلی پن ہے اور سیاست ہے.

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: