ماضی کی یادوں کا ایک چیک : ثمینہ ریاض

2
  • 32
    Shares

ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ سال بھی گزرتا چلا جا رہا ہے، وقت کی یہ ریت ہے اور ہمیشہ رہے گی، گزرتا ہر لمحہ کسی کے ہاتھوں میں محبت کی کنجیاں تھماتا چلا جاتا ہے تو کسی کے ہاتھوں کے پھول خشک ہو کر بکھر جاتے ہیں اور ان کی بکھری پتیوں کو چننے والا بھی کوئی نہیں ہوتا، کہیں کسی آنکھ میں ساون کی بوندوں کی طرح عشق نمی چھوڑ جاتا ہے تو کسی کی قل قل کرتی ہنسی میں نئے شگوفے چٹخنے سا سنگیت محسوس ہوتا ہے، ہر گزرتے لمحے کے ساتھ پچھلا لمحہ یاد بن جاتا ہے، اور میرے جیسے کچھ لوگ ان یادوں کے کھنڈروں پر کھڑے ہو کر، خزاں رسیدہ آنکھوں سے، ماضی کی چند نشانیوں کو تکتے چلے جاتے ہیں۔۔۔۔۔

بچپن گزرا، لڑکپن آیا، جوانی گزرتی چلی جا رہی ہے، لیکن ہم جیسے ماضی پرست لوگ نا بچپن سے انگلی چھڑا پاتے ہیں اور نا خود لڑکپن کا دامن چھوڑتے ہیں، لیکن حال ایسا بے رحم اور مستقبل ایسا دلنشین ہے کہ بچپن کی وہ یادیں اور لڑکپن کے وہ قصے کسی راستہ بھولی ہوئی لڑکی کے گرائے گئے سکوں کی طرح پیچھے ہی بہتے چلے آ رہے ہیں، پیچھے مڑ کر دیکھنے کی چاہ زور آور ہے لیکن وقت کی لہریں بس آگے دھکیلے جا رہی ہیں۔۔۔۔۔۔

گزرے کئی سالوں کی طرح اس سال بھی میں جب ماضی کی پوٹلی کھولتی ہوں تو وہ عمرو عیار کی زنبیل کی طرح اتنا کچھ الٹتی جا رہی ہے کہ دامن ان سب کو سنبھالنے میں ناکام ہو رہا ہے، اور پھر میں ایک ایک کر کے ان کو واپس ڈالنے میں نڈھال ہونے لگتی ہوں، کہ اچانک میرے ہاتھ میں تیسری کلاس کی وہ لوہے کی سلیٹ آتی ہے جس کا فریم لکڑی کا ہے، اور اس کے ساتھ بندھا دھاگہ ایک اسفنج کو صفائی کی نیت سے خواہ مخواہ ساتھ گھسیٹ رہا ہے، کہ ٹاٹ پر بیٹھے بچوں کو سلیٹ بازو سے صاف کرنے سے روکنے والا کوئی نہیں، کچی سلیٹیوں سے ان سلیٹوں پر پہاڑے بھی لکھ کر یاد کئے جاتے تھے اور تفریح کے بعد کا سست وقت گڈ اور کراس والی گیم بھی اسی پر کھیلی جاتی، کبھی ہاتھ کی اوک بنا کر دوسرے ہاتھ میں سلیٹی پکڑ کر اس اوک کے اندر کوئی لفظ لکھا جاتا اور گول دائرے کی شکل میں بیٹھے ہوئے ہم جماعتوں کی صحیح لفظ بوجھ لینے پر باری اسے دے دی جاتی۔۔۔۔۔۔ آج میں اس سلیٹ پر پھر سے کسی کا نام لکھنا چاہتی ہوں، کچھ اتنا چھپا کر کہ سوائے اس کے اور میرے کوئی تیسرا پڑھ نا سکے۔

ماضی کی پوٹلی میں ہاتھ ڈالنے سے ایک سرمے دانی ہاتھ لگی ہے، چاندی اور پیتل کی بنی یہ سرمے دانیاں شائد ہماری ماوں کے سب سے خوفناک ہتھیار تھے، جن کو وہ شوق سے اور ہم خوف سے خود پر استعمال ہوتا دیکھتے تھے، امی ایک گھٹنے پر لٹا کر دوسری ٹانگ کی ہم پر قینچی بنا کر کشتی کرتے پہلوانوں کو بھی پچھاڑتیں جب آنکھیں ایک ہاتھ کی دو انگلیوں سے زبردستی کھولتیں اور دوسرے ہاتھ سے پکڑے سرمچو سے ہماری آنکھوں کو تاک کر نشانہ بناتے ہوئے وہ کالی گھور سلاخ ہماری آنکھوں میں گھسیٹر دیتیں تو بغیر کسی تکلیف کے صرف ضد میں زور سے میچی ہوئی آنکھوں سے آنسو بہہ آتے اور نانی امی کا زم زم میں بھگویا اور بادام ڈال کر پیسا وہ آدھا سرمہ تو آنسووں کے ساتھ ہی بہہ آتا، لیکن اپنے ساتھ ہوئی یہ چشم کش واردات جب خود سے چھوٹے بہن بھائی کے ساتھ ہوتی تو دل کھلکھلا کر قاقلیں بھرتا۔۔۔۔۔۔ میں اس سرمے دانی کو اپنے ساتھ مستقبل میں لے جانا چاہتی ہوں۔

عمرو عیار کی پوٹلی ٹٹولتے یہ شائد میرے ہاتھ دادا ابو کا حقہ لگا ہے اب، تانبے کے اندر چمڑہ مڑھ کر بنائی گئی ٹینکی نما واٹر سٹوریج سے دو چمڑا چڑھی شہتوت کی نلیاں جن پر تانبے کی رنگ برنگی تاروں سے مینا کاری ہوئی ہے، جن میں ایک نلی گرم چلم رکھنے کے کام آتی ہے اور دوسری نلی سے حقے کی نے منسلک ہے، جسے دادا ابو اور ان کی چوپال میں بیٹھے سفید سفید کپڑوں میں ملبوس تمام بوڑھے اپنی اپنی باری آنے پر ایسے گڑگڑاتے جیسے جو زیادہ حقہ گڑگڑائے گا، اس کو ابھی بھی جوان ہونے کا سرٹیفیکٹ مل جائے گا۔ حقہ اچھا تازہ ہوا ہوتا تو اس دن سارا وقت چوپال میں بیٹھے وہ بوڑھے بس اچھے اور خوب کڑوے تمباکو، اور لیس دار گڑ کی باتیں ہی کرتے، اپنے قصے سناتے کہ کیسے چلم تازہ کرتے کرتے ایک دو سوٹا لگاتے خود بھی حقہ پینا شروع کیا، میں ماضی کے سفر میں اس حقے کو بھی ساتھ باندھ کر مستقبل میں لانا چاہتی ہوں۔

عمرو عیار کی یادوں کی یہ زنبیل اب بوجھل محسوس ہونے لگی ہے، اتنی بوجھل کہ جو روح پر چھا کر سانس بھی بوجھل کر دے، اب کے زنبیل ایک کنکریٹ کے بینچ کو باہر لائی ہے، جو کالج کے آخری کونے میں کھڑی ٹاہلی کے نیچے ہوتا تھا، جس بینچ پر بیٹھ کر مستقبل کے منصوبے بنائے جاتے تھے اور آج اسی مستقبل میں بے حال ہو کر اس ماضی کو یاد کیا جا رہا ہے، وہ بینچ جو دوستوں کی تمام خفیہ باتوں کا گواہ ہے، جس پر بیٹھ کر کلاس کے دوسرے ٹولوں کو تنگ کرنے کے منصوبے بنتے تھے، لنچ چوری کرنے کے ارادے سجتے تھے، جس کے ارد گرد کھڑے ہو کر کسی ایک دوست کو مل کر تختہ مشق بنایا جاتا، اور جو کبھی کوئی اپنی درگت بننے پر غصہ کرتا تو اس کے بعد اس کی زیادہ درگت بنتی، وہ بینچ جو کئی بار یک طرفہ محبت کے شکاروں کے محبوب کے نام خود میں سموئے لئے ہوتا تو کبھی پورا دن کی چبائی چیونگم کی مٹھاس دس بار بھی ختم ہونے کے بعد چھٹی سے کچھ پہلے وہاں چپکا دی جاتی، میں اس بینچ سے اپنے مستقبل کے راستوں کو سہل کرنا چاہتی ہوں۔

دنیا پیپر کرنسی کے بعد اب نو کرنسی اور ڈیجٹیل کرنسی کے بعد بٹ کوائنز تک جا رہی ہے، لیکن اگر کچھ نہیں بنا پا رہی تو ماضی کی یادوں کو محفوظ کرنے کا کوئی بینک نہیں بنا سکی، جہاں نا ہم سے پہلے ہمارے بڑے پاندان، تخت، پینگیں اور بیل گاڑیاں محفوظ کر سکے، نا ہم اپنی تختیاں، سلیٹیں، نانیوں دادیوں کے ہاتھ کے بنے سویٹر اور یہ سرمے دانیاں محفوظ کر پائیں گے، نا ہی اگلی نسلوں کو ان یادوں کے چیک کاٹ کر دے پایا کریں گے، ہاں مگر چند لفظ لکھ کر مدح سرائی ہی سہی۔۔۔۔۔ اور شائد میں بھی یہ لکھ کر ایک ماضی بینک بنا چکی ہوں، آئیں سب اپنا اپنا چیک کاٹیں۔

Leave a Reply

2 تبصرے

  1. سمیرا عابد on

    واہ, ثمینہ ریاض احمد… آپ کی زنبیل میں تو بہت قیمتی خزانہ نکلا… اور لفظوں میں ڈھل کے قیمتی تر ہو گیا. بہت خوب

Leave A Reply

%d bloggers like this: