متوسط طبقہ کے بچوں کی زندگی کا المیہ: مدثر احمد

4
  • 301
    Shares

ہم نے اپنے بچّوں سے خوشیاں چھین لی ہیں اور اُن کی جھولی کتابوں سے بھر دی ہے۔ میرے بچے ایک نجی سکول سے سہ پہر گھر واپس آ کر کپڑے تبدیل کرتے ہیں۔ کھانا کھاتے ہیں اور پڑھنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ پڑھائی آدھی رات تک وقفے وقفے سے جاری رہتی ہے۔

میں ایک SELF MADE آدمی ہوں۔ میں نے مشکلات اور مسائل دیکھے ہیں۔ میں خوشی اور تفریح کو غیر ضروری یا اتفاقیہ سمجھتا ہوں۔ میرے اندر کمتری کے احساسات ہیں۔ ہار کی داستانیں ہیں اور آنے والے دنوں کے بارے میں فکر مند بھی رہتا ہوں۔ میر ی نفسیات میرے بچوں کو مصروف رکھے ہوئے ہے۔ میں اُن کو باصلاحیت، محفوظ اور کامیاب دیکھنا چاہتا ہوں۔ یہ مقاصد بڑے اعلیٰ ہیں۔ اس کا طریقہ بھی کوئی خاص بُرا نہیں۔ صرف ایک مسئلہ درپیش ہے۔ وہ یہ کہ میرے بچوں کو بچپن میسّر نہیں۔ انہیں ہنسنا، باتیں کرنا اور کھیلنا پسند ہے لیکن میں اُن کو مصروف اور متحرک دیکھنا چاہتا ہوں۔ میں اُن کو جلدی سے بہت کچھ سکھانا چاہتا ہوں۔ زبان، سائنس، تاریخ، جغرافیہ، ادب، رسم الخط، معلومات عامہ وغیرہ۔ اس کوشش کے نتیجے میں وہ رنگوں، موسموں، تتلیوں، غباروں، جگنوئوں اور ستاروں سے نا آشنا ہوتے جا رہے ہیں۔ میرے بچے بادلوں کے ہزاروں میل کے سفر کی خبر رکھتے ہیں لیکن انہیں بارش میں بھیگنے کی اجازت نہیں پاتے۔ ان کے نزدیک رنگوں کا مطلب Pencil Box میں پڑی Colour Pencils ہیں۔ قوس قزح کیا رنگ بکھیرتی ہے یہ ان کے شعور اور ذوق سے ماورا منزلیں ہیں۔ کرکٹ کی Terminologies سے واقف ہوتے جا رہے ہیں لیکن گلی میں کھیلتے بچّوں کو کھڑکی سے دیکھ کر محض ہاتھ ہلا سکتے ہیں۔ میں اُن کو بچو ںکے ادب کے ماہانہ رسائل لا کر دیتا رہتا ہوں لیکن پڑھنے پر زور نہیں دیتا کیونکہ سکول کے Exams اور Assesment کی تیاری کے لیے Corriculum Books کے تقاضے ہی پورے نہیں ہو پاتے۔

میں نے کبھی سمجھنے کی کوشش نہیں کی کہ ہر بچہ ایک مکمل شخصیت ہے۔ ہر بچہ ایک خاص صلاحیّت لے کر دنیا میں آتا ہے۔ اس کی کچھ محدودات ہیں اور الگ الگ ذہنی میلانات ہیں۔ بچہ ہر مضمون پر یکساں دلچسپی نہیں لے سکتا۔ اس کی دلچسپیوں اور ترجیحات کا ٹھیک سے اندازہ نہیں لگایا جاتا۔ اس کے جذبات یا تو نظر انداز ہوتے رہتے ہیں یا محض ثانوی حیثیت پاتے ہیں۔ مجھے یہ لگتا ہے کہ عہد حاضر میں متوسط طبقے کے افراد کے لیے آگے بڑھنے کے امکانات abnormality اور Extremism سے جڑے ہوئے ہیں۔ اگراس طبقے کے لوگ ایک متوازن اندازِ زندگی اختیار کر لیتے ہیں جس میں زندگی کے عملی پہلوئوں کے ساتھ ساتھ جذباتی ضرورتوں کے لیے بھی گنجائش پیدا کر لی جائے۔ تفریح اور آرام کو جائز اہمیت دی جائے۔ ادب، شاعری اور رومان بھی ساتھ ساتھ چلیں تو زمانے کے بے رحم مقابلے میں کامیابی کے امکانات اور بھی کم ہوتے جائیں گے۔ اولاد کے ساتھ ہمارا رویہ ہماری نفسیاتی پیچیدگیوں، تلخ تجربوں اور زندگی کی ناہمواری اور نا پائیداری پر مبنی ہمارے تجزیوں کا پرتو ہے۔

میں اپنی غلطی کا اعتراف کرتا ہوں لیکن اپنے روّیے پر نظرّ ثانی کرنے کے لیے تیّار نہیں ہوں۔

زیر نظر تحریر مصنف کی نئی کتاب ’سوچ کے پیوند‘ سے لی گئی ہے۔ متوسط طبقہ کے بچوں کی زندگی کا المیہ

Leave a Reply

4 تبصرے

  1. محمد نوید یعقوب on

    ہم جس دور میں زندگی گزارنے کے عمل سے گزر رہے ہیں اس میں درپیش معاشی، اور معاشرتی ناہمواری نے مُستقبل سے وابستہ تحفظات ہمارے اذہان میں پیوست کر رکھے ہیں٠ ہمارے تجربات ہماری نئی نسل کے لئے زندگی کو فطری انداز سے گزارنے کی سکت حاصل کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ بن رہے ہیں٠آپ کی تحریر حقیقت کا آئینہ اور معاشرتی پہلو کا گہرا نفسیاتی تجزیہ ہے ٠

  2. عطا محمد تبسم on

    کل پارک میں ایک گلہری کو دیکھ کر میں وہیں بنچ پر بہٹھ گیا اور دیر تک اس کی پھرتی اچکنا لپکنا دوڑنا دیکھتا رہا خوب گلہری تھی وہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: