مرد و خواتین کے لباس اور فیشن کی ’مکاریاں‘ : عینی خان

1
  • 118
    Shares

مجھ سمیت میرا پورا ننھیال اور ددھیال امریکہ میں مقیم ہیں۔ آۓ دن کوئی تقریب اور خاندانی اجتماع ہوتا رہتا ہے۔ بچے سکول کالج میں جینز شرٹ وغیرہ ہی پہنتے ہیں۔ مگر خاندانی تقریبات میں ٹین ایجرز تو کیا چھوٹے بچوں کو بھی زیادہ تر شلوار قمیض پہناۓ جاتے ہیں۔ لباس جتنا روایتی اور ہماری ثقافت کے قریب ہوتا ہے یہاں اُتنا ہی فیشن ایبل سمجھا اور سراہا جاتا ہے۔

چونکہ میرا سسرال پاکستان میں ہے اسلیے پچھلے چار پانچ سالوں سے شوہر کے ساتھ تقریباً ہر سال ہی پاکستان جانا ہوتا ہے۔ امریکہ میں وجہ کچھ بھی ہو کام سے زیادہ چھٹی ملنا ممکن نہیں ہوتا اسلیے ہماری پاکستان میں قیام کی مدت بہت قلیل ہوتی ہے۔

اس مدت میں جہاں ہم پاکستانی (لاہوری😊) کھابوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں وہیں کوشش ہوتی ہے کہ پاکستانی کپڑوں کی خریداری بھی کی جاۓ۔ پاکستان میں لؤڈ شیڈنگ اتنی زیادہ ہے کہ درزیوں سے کام لینا بھی ایک دردِ سر ہے اور پھر وقت کی قلت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے میں ریڈی میڈ کپڑوں کو ترجیع دیتی ہوں تاکہ درزیوں کے چکر لگانے سے بچ جاؤں۔
اب دقت یہ ہے ہے کہ جو بھی کپڑے خریدو ساتھ بازو نہیں ہوتے۔ کئی بار میرے ساتھ ایسا ہوا کے شام کو کوئی پارٹی ہے یا اچانک کہیں جانے کا پروگرام بن گیا۔ میں موسم اور موقع کے حساب سے ایمرجنسی میں ریڈی میڈ سوٹ خرید رہی ہوں جو کے مجھے سائز میں بھی پورا ہے مگر میں پہن نہیں سکتی کیونکہ بازو ساتھ نہیں لگے ہوۓ۔ عجیب بے بسی کا احساس ہوتا تھا۔

میرے خیال میں ریڈی میڈ کپڑوں کو ریڈی ٹو ویر ہونا چاہیے۔
پہلے پہل تو مجھے بہت حیرت بھی ہوئی کے وہاں امریکہ میں کبھی اپنے خاندان میں یا خاندان سے باہر کسی پاکستانی خاتون کو بغیر بازو کے شلوار قمیض پہنے نہیں دیکھا تو پاکستان میں یہ رواج اتنا فروغ کیسے پا گیا۔ لیکن پھر جب میں نے غور کیا تو مجھے پاکستان میں بھی بہت کم خواتین سلیو لس پہنے نظر آئیں ۔ اس کا مطلب ہے کہ زیادہ تعداد اُن خواتین کی ہے جو سلیو لس پہننا پسند نہیں کرتیں مگر بوتیک والے بازو لگانے سے گریز کرتے ہیں، اس لئے مجبورا بھی پہن لیتی ہیں۔

یہ صرف بوتیکس کا حال نہیں بلکہ ہر بازار میں چاہے وہ فورٹریس، لبرٹی ہو یا انار کلی اور اچھرہ، ریڈی میڈ کپڑوں کی دکانوں میں یہی حال ہے۔ خواہ وہ کسی بھی طبقے کے لیے ہوں۔ اگر بازو لگوانے ہیں تو اضافی پیسے دینے ہونگے، تو گویا بازو ایک اضافی چیز ہو گئے۔ وہ کپڑوں کا حصہ نہیں؟

میرے سامنے کی بات ہے کے سیلون میں ایک خاتون اپنی بیٹی کو کہہ رہی تھی کے بازو لگوانے درزی کے پاس جانا پڑے گا کوئی اور جوڑا خرید لو جس پر بیٹی کی ضد تھی کہ اتنی دکانیں دیکھ چکے ہیں جو سوٹ بھی مجھے پسند آتے ہیں وہ بازو کے بغیر ہیں لہذا بازو رہنے دیے جائیں، بس مجھے سوٹ یہی چاہیے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میرے خیال میں اس میں قصور اُس بچی کا نہیں تھا، اسے اس خواہ مخواہ کی کوفت نے اس عمل پر مجبور کیا تھا۔

نئی نسل کو نفسیاتی طور پر باور کروایا جا رہا ہے کے بازو اور دوپٹہ اضافی چیز ہے، اس کے ساتھ ہی بازو اور دوپٹے کے بغیر کپڑے پہننے کی طرف راغب اور مجبور کیا جا رہا ہے۔ دوپٹہ الگ سے خریدو اور بازو بعد میں لگواؤ تو یہ کس طرح کے شلوار قمیض اور کہاں کی ثقافت کو پروموٹ کیا جا رہا ہے؟
اور پھر ایک اور چیز کہ کُرتے ملتے ہیں تو پاجامے کے بغیر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور ٹائٹس کے نام پر لیگنگ کا ایسا باریک کپڑا ملتا ہے جو ہمارے بچپن میں بچوں کو بھی نہیں پہنایا جاتا تھا۔

شلوار قمیض سیتے ہوئے اگر بازو ساتھ نہ لگائے جائیں تو کئی بار بعد میں وہ واقعی ایک اضافی چیز لگنے لگتے ہیں۔ خاص کر جب اضافی پیسے بھی دو اور بازو بھونڈے طریقے اور بے دلی سے لگائے جائیں۔ جبکہ سلے ہوۓ کپڑوں سے بازو اُتارنے میں ان مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا، بچوں کے سردیوں کے کپڑے حتی کہ ویلوٹ کے فراک سب بازو کے بغیر۔
میں سلیو لس کے خلاف نہیں۔ یہ ہر انسان کی ذاتی چوائس کی بات ہوتی ہے اور فیشن انڈسٹری والوں کا کام بھی نت نئے فیشن متعارف کروانا اور اُن کی طرف مختلف طرح سے راغب کرنا ہے۔ مگر کسی بھی چیز کو اپنانے پر مجبور کرنا ٹھیک نہیں۔ جب اکثریت بازو کے بغیر کپڑے نہیں پہنتی تو پھر اپنی مخصوص سوچ کی وجہ سے بازو نہ لگا کر لوگوں کو دقت دینا غلط ہے۔ اس کے برعکس اگر بازو لگا دیے جائیں تو دس میں سے جو دو خواتین بازو اُتروانا چاہیں تو وہ درزی سے رجوع کر سکتی ہیں۔ ۔

انڈین اور پاکستانی شلوار قمیض کے انداز میں کچھ بنیادی فرق پائے جاتے ہیں جن میں سب سے نمایاں یہی بات ہے کہ انڈین شلوار قمیض میں بازو اور دوپٹہ غائب ہوتے ہیں۔ لیکن اب لگتا ہے کہ پاکستانی بھی اپنے کپڑوں کی انفرادیت کھوتے جا رہے ہیں۔ ریڈی میڈ کپڑوں کے ساتھ دوپٹہ نہیں ہوتا اس لیے الگ سے خریدنا پڑتا ہے جو کہ کئی بار مکمل طور پر کپڑوں سے میچ بھی نہیں ہوتا، اس لیے بچیاں کوفت محسوس کرتی ہیں، اور آخر کار غیر محسوس طریقے سے بازووں اور دوپٹے کے بغیر لباس پہننےکی طرف مائل ہوتی جا رہی ہیں۔

تہذیب کا تقاضا تو یہ ہے کہ اس معاملے میں اکثریت کی سہولت کو مدِ نظر رکھا جائے کیونکہ یہاں اکثریت کا رویہ اپنے مذہب اور قومیت کے بنیادی اصولوں کے مطابق ہے، اور عزیز تر بھی یہی لگتا ہے۔

ایسے ہی کچھ سالوں پہلے ریڈی میڈ لان کی ایک خاص قسم متعارف کرائی گئی، جس کا کپڑا بہت باریک تھا۔ شروع شروع میں اس کے ساتھ شمیض بھی ہوتی تھی اور پھر آہستہ آہستہ وہ غائب کر دی گئی۔ اب کپڑا تو بچ گیا مگر کپڑے پہنے کا مقصد فوت ہو گیا۔

فیشن انڈسٹری والے اپنے فیشن شوز میں پہلے ہی ڈھانچہ نما ماڈلز دکھا کر ایک غیر فطری و غیر حقیقی body image پیش کر کے نئی نسل کو احساس کمتری میں مبتلا کر رہے ہیں۔ جن بچیوں نے سخت پڑھائی کا بوجھ بھی برداشت کرنا ہے، گھر کے کاموں میں بھی ہاتھ بٹانا ہے اور پھر شادی کے بعد بچے پیدا کرنے، اُن کی صحیح دیکھ بھال اور مناسب پرورش بھی کرنی ہے۔ اور خاص کر جو خواتین جاب کرتی ہیں اور پھر گھر بھی سمبھالتی ہیں، اُن کے لیے تو دوہری ذمے داری ہے۔

ہماری بچیاں اور خواتین ڈھانچہ نما وجود کے ساتھ تمام ذمے داریاں اور فرائض کیسے نبھا پائیں گی؟ مردوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا دعوی کرنے والی عورت ڈائٹنگ کے نام پر غذائیت کی کمی اور کمزوری کے ساتھ معاشرے میں کیسے اپنا مقام بنا پاۓ گی؟ وہ بھی اُن ماڈلز کو دیکھ کر کہ جن کا اوڑھنا بچھونا اور زریعہ معاش ہی ماڈلنگ ہے خود کو لاغر و کمزور کر لینا انتہائی بےوقوفی ہے۔
اوپر سے بازو دوپٹہ اور شمیض کے بغیر کپڑے پہنے کو فروغ دیا جا رہاہے۔ اس سے شلوار قمیض جو کہ ایک روایتی و قومی لباس ہے اُس کی اصل شکل کو مسخ کیا جا رہا ہے۔ یہ فضول رواج جو زبردستی ہم پر مسلط کیا جا رہا ہے، اور باقاعدہ اس کے لئے ماحول ترتیب دیا جا رہا ہے، یہ آہستہ اہستہ ہم لوگوں کو غیر شعوری طور پر عادی کر لے گا، اگر آج ہی اس کا مکمل بائیکاٹ نا ہوا تو یہ ہی زبردستی ہمارا کلچر قرار دے دیا جائے گا۔

اس کے ساتھ اگر مردانہ فیشن کی بات کریں تو وہاں تو سمجھ نہیں آتی کے اُس پر ہنسا جائے یا رویا جائے؟ گھاگرے، شرارے، دوپٹے، شلوار قمیض میں کڑھائی سے بھرے اور بھاری بھرکم کام کے باعث اُبھرے ہوۓ سینے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بس میل ماڈلز ایک احسان کر دیتے ہیں کہ ساتھ داڑھی رکھ لیتے ہیں، گویا یہ احساس دلا رہے ہوں کہ خواتین جو کر سکتی ہیں ہم بھی کر سکتے ہیں مگر داڑھی تو صرف ہم ہی رکھ سکتے ہیں۔ مردانہ کپڑوں کی ورائٹی کا اس قدر فقدان ہو گیا ہے کہ روایتی کپڑوں میں عورت مرد کی تمیز ہی ختم کر دی گئی ہے۔

کہتے ہیں کہ عورتوں نے کسی شادی کی تقریب میں شرکت کرنی ہو تو اپنے کپڑوں کی کسی کو کانوں کانوں بھنک نہیں پڑنے دیتیں۔ اب لگتا ہے آنے والے وقت میں خواتین نقل ہونے کے ڈر سے رشتے داروں کے ساتھ ساتھ شوہر سے بھی اپنے کپڑوں کے ڈیزائنز چھپائیں گی۔

غیر حقیقی اور غیر فطری body image create کرنا نیز زبردستی اور بے بسی کو فیشن کا نام دینا ٹھیک نہیں۔ اس کی روک تھام کے کیا طریقے ہو سکتے ہیں اس سلسلے میں آپ اپنی قیمتی راۓ ضرور دیجیے۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. بلکل صحیح منظر کشی کی ہے آپ نے۔۔۔دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کے لیے گویا لباس کی بے لباسی بھی ازحد ضروری ہوگئ ہے
    زیادہ تباہی برانڈز نے مچائی ہوئی ہے جو ہزار روپے کا جوڑا پانچ ہزار میں بیچتے ہیں اور خریدنے والے پھر ان ڈھانچہ نما ماڈلز کو ہی رول ماڈل سمجھ کر کاپی کر نے میں فخر محسوس کرتے ہیں
    خواتین کے ملبوسات میں دوپٹہ ہو نہ ہو مرد حضرات کے کرتا شلوار کے ساتھ ضرور موجود ہوتا ہے

Leave A Reply

%d bloggers like this: